خاوند چاہتا تھا کہ نرگس ابھی اور ناچے

 آج اس نرگس کے بعض واقعات لکھ رہا ہوں ، جس کے بولڈ ڈانسز نے اسٹیج ڈرامے کو موت کی نیند سلا دیا تھا، اس ’’نیک کام‘‘ میں وہ اکیلی نہیں تھی، اس کی تقلید میں بہت ساریوں نے اس جیسے مکالمے بولنا شروع کر دیے تھے اور اس جیسا لباس اوڑھنا شروع کر دیا…

Read more

حسن، شباب اور کراچی

میں خوش نصیب ہوں کہ میں اس زمانے میں دو بار کراچی شہر میں رہا جب ایم کیو ایم اور بعض اس جیسی دوسری متشدد تنظیموں نے جنم نہیں لیا تھا، اس دور کے شہر کے بارے میں راوی چین ہی چین لکھا کرتا تھا، کراچی کا سماجی، سیاسی اور ثقافتی ڈھانچہ لاہور سے مختلف…

Read more

ظہیر کشمیری: عظمت انسان کا علمبردار

آج کا کالم پیرزادہ غلام دستگیر کے نام موسوم کرتا ہوں، جنہیں آپ ظہیر کاشمیری کے نام سے جانتے ہیں۔ مجھے نہ صرف ان کی ماتحتی میں بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا بلکہ وہ میرے ساتھ تحریک آزادی صحافت کے دوران سنٹرل جیل میں اسیر بھی رہے۔ کہتے ہیں کہ آدمی کی اصلیت کا…

Read more

بدمعاشی کی سیاست، مولانا مودودی، عنایت حسین بھٹی اور میں

یہ کہانی تو ہے گجرات سے تعلق رکھنے والے ایک ان پڑھ اور ان گڑھ نوجوان کی، لیکن آپ تھوڑا سا غور فرما لیں تو پتہ چلے گا کہ یہ تو شاید پاکستانی سیاست کی داستان ہے اور اگر آپ مزید گہرائی میں چلے جائیں تو اسی کہانی میں امریکہ، روس اور دوسری بڑی عالمی…

Read more

اداکار کی لاش کہاں پہنچانی ہے؟

یہ کہانی نہیں میری شرمندگی کی داستان ہے، لوگ مجھے ایک بہادر آدمی سمجھتے ہوں گے لیکن اس واقعہ نے مجھ پر ثابت کر دیا تھا کہ میں کتنا کمزور اور بے بس شخص ہوں،کاش اس دن جب یہ واقعہ رونما ہوا تھا، اس دن کا سورج ہی نمودار نہ ہوتا، کاش میں اس دن…

Read more

لوگ منکر نکیر ہوتے ہیں

یہ بات ہے اس زمانے کی جب پاکستان میں آزادی صحافت کے لئے دنیا کی سب سے بڑی جنگ لڑی گئی تھی۔ 1977-1978ء میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی قیادت منہاج برنا اور نثار عثمانی جیسے بے باک اور دوٹوک صحافیوں کے ہاتھوں میں تھی۔ کارکن صحافیوں کی ملک گیر فوج ظفر موج اپنے…

Read more

ایک بگڑے ہوئے عسرت زدہ فلمی ہیرو کی کہانی

وہ اب مر چکا ہے، مرنے سے ایک سال پہلے مجھے اس کے فون آنا شروع ہوئے، اوئے مجھے مل لو، میں بیمار ہوں، تمہارا باپ میرا بھی باپ تھا، وہ ایسے مکالمے بولتا اور پھر رونا شروع کر دیتا، سمجھ نہیں آتا تھا کہ کون ہے وہ؟ وہ مجھے اپنا نام بتانے سے بھی گریز کر رہا تھا، ایک دن میں نے اس کے پاس جانے کا ارادہ کر ہی لیا، میں اس کے دروازے پر کھڑا تھا، اندر سے آواز تو آ رہی تھی لیکن کوئی دروازہ نہیں کھول رہا تھا

Read more

ایک ماڈل بننے کی شوقین لڑکی کی کہانی

ماڈلنگ آج سینکڑوں، ہزاروں لڑکیوں کے لئے پسندیدہ ترین شعبہ بن چکا ہے، بے شمار ایسی بچیاں بھی دکھائی دیتی ہیں جن کا ماڈل گرلز کی شان و شوکت کے حوالے سے خبریں پڑھ پڑھ اور دیکھ دیکھ کر پڑھائی سے بھی جی اکتا گیا ہے، کئی طالبات تو ایسی بھی دیکھی گئی ہیں جو تعلیم ادھوری چھوڑ کر راتوں رات ماہرہ خان، مہوش حیات، عمیمہ ملک، مومل شیخ، ونیزہ احمد اور آمنہ حق جیسی کامیاب ماڈلز کی صف میں کھڑی ہونا چاہتی ہیں، ایسا کیوں نہ ہو۔

Read more

1947 ء کی جنگ کشمیر

بھارت اپنی خباثت کا مظاہرہ کرتے ہوئے لداخ، جموں اور مقبوضہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرکے اسے اپنی اکائی بنا چکا ہے، 15 اگست تک اور خطرناک خبریں بھی سامنے آ سکتی ہیں، خدشہ یہ ہے کہ دوسرے مرحلے میں کشمیر سے کشمیریوں کو بے وطن کر دیا جائے گا، کشمیر کی جنگجو،…

Read more

جب ایک ”ہیرو“ کی فلم سٹوڈیو میں اصلی پٹائی ہوئی

ایک سینئیر موسٹ اور بین الاقوامی شہرت کی حامل خاتون فیشن ڈیزائنر کی والدہ کسی زمانے میں فلموں میں چھوٹے موٹے رول کیا کرتی تھیں، میں نے اس خاتون کو پہلی بار 1968 ء میں باری اسٹوڈیوز میں دیکھا، وہ فلور فائیو میں ایک گھنٹہ دورانیہ کی ڈاکومنٹری فلم“ مقدس امانت“ میں ایک معمولی سے رول کے لئے بلوائی گئی تھیں، اس مزدور فنکارہ کی دس بارہ سال کی بیٹی بے بی بھی اسی فلم میں ایک اہم رول ادا کر رہی تھی، میرا کردار اس فلم میں مرکزی نوعیت کا تھا، رنگیلا میرے باپ اور ناصرہ ماں کے کردار میں تھے، ایک دن اس بوڑھی ایکسٹرا فنکارہ نے مجھے بتایا کہ وہ نعیم ہاشمی صاحب کی 1957 ء میں ریلیز ہونے والی فلم۔

Read more