روٹی سے محتاج قومی ہیرو

پچھلے کالم میں ہم نے لکھا تھا کہ نواز شریف مارچ دوہزار بیس سے پہلے پہلے رہا ہو جائیں گے، لیکن نواز شریف کی اچانک علالت اتنی شدید نظر آ رہی ہے کہ ’’قدرت‘‘ کی طرف سے ماہ مارچ سے پانچ مہینے پہلے یعنی اکتوبر کی رخصتی کا بھی انتظار کئے بغیرسر پر کھڑا دکھائی…

Read more

’’نواز شریف رہا ہو رہے ہیں‘‘

بعض دوسرے ’’خاموش سیاسی مبصرین‘‘ کی طرح میری صحافیانہ چشم بھی میاں نواز شریف کو اکتیس مارچ دو ہزار بیس سے پہلے جیل سے باہر آتے دیکھ رہی ہے،،،( خاموش سیاسی مبصرین سے مراد ’’پولیٹیکل انٹلکچوئلز‘‘ کا وہ گروپ ہے جسے عوام نہ تو نیوز چینلز کے حالات حاضرہ کے پروگرامز میں اپنی اپنی نظریاتی…

Read more

اپوزیشن تحریک کی نئی ، صحافی پر تشدد کی پرانی کہانی

آج کل اہم ترین موضوع گفتگو مولانا فضل الرحمان کا کراچی سے اسلام آباد تک امن مارچ اور ممکنہ دھرنا ہے، مولانا کو اپنی اس ’’جدوجہد‘‘ میں پہلی بڑی کامیابی یہ ہوئی کہ حکومت ’’ مذاکرات‘‘ پر آمادہ ہوچکی ہے۔ جبکہ مولانا نے بات چیت کے لئے بھی استعفیٰ ساتھ لے کر آنے کی شرط…

Read more

لاپتہ ساتھی ، ذاتی ڈائری کا ایک ورق

میں نے اس دور میں روزانہ ڈائری لکھنا شروع کی تھی جب واقعتاً صحافت پابہ زنجیر تھی مگر زندہ تھی اور محب وطن صحافی آزادی صحافت کے لئے جہد مسلسل میں مصروف تھے۔ آج اگرآزاد صحافت اورآزاد صحافی کا تصور ختم ہو رہا ہے یا ختم کیا جا رہا ہے تو یہ عمل ایک سال…

Read more

اجمل نیازی کی علالت اور حکومتی بے حسی

اک شخص جزیرہ رازوں کا اور ہم سب اس میں رہتے ہیں اک گھر ہے تنہا یادوں کا اور ہم سب اس میں رہتے ہیں میرا ایک بھائیوں جیسا دوست ایسا بھی ہے جو دوستیوں اور محبتوں میں مجھ سے چار قدم آگے ہے۔ یہ میں نے بارہا عملی طور پر دیکھا ہے کہ وہ جب بھی کہیں بھی میرے ساتھ ہوتا ہے تو لوگوں کا رخ اس کی جانب ہوجاتا ہے۔ یہ بات میرے لئے قابل فخر بن جاتی ہے کہ میرے اس دوست کو لوگ کتنا چاہتے ہیں۔ پاکستان میں ہی نہیں، بیرونی ممالک میں بھی اس کی مقبولیت کا یہی عالم ہے، میرے اس دوست کا نام ہے ڈاکٹر اجمل نیازی۔

Read more

امتیاز راشد بھی اک یاد بن گئے

انیس سو ستر میں جب پہلے عام انتخابات ہونے جا رہے تھے، اس وقت میں اس اخبار میں کام کر رہا تھا جو شیخ مجیب الرحمان اور ان کی جماعت،، عوامی لیگ،، کا ترجمان تھا، یہ شعبہ صحافت میں میری پہلی جاب تھی، مغربی پاکستان میں عوامی لیگ کی ،، مقبولیت،، کا یہ عالم تھا…

Read more

مٹی کے کھلونے اورلنگرخانے

مجھے اعتراض مولانا فضل کے آزادی مارچ یا دھرنا پر نہیں، خوف یہ ہے کہ جب ملک بھر سے دینی مدارس کے طالبان سڑکوں پر نکلیں گے تو انہیں واپس بھجوانا مشکل ہوجائے گا، پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن والے بھی شاید اسی خدشے کی بنیاد پر مولانا کے ساتھ چلنے یا نہ…

Read more

جنرل ٹکا خان کی ’فراست ‘: بی بی شہید کے پہلے دور کا ایک واقعہ

جنرل ضیاء الحق نے اقتدار سنبھالتے ہی جو دو چار بڑے اقدامات کئے تھے، ان میں سے ان کا نمایاں ترین ’’کارنامہ‘‘ صحافیوں اور اخباری کارکنوں میں نفاق ڈالنا اور یونین (پی ایف یو جے) کا بٹوارہ کرنا تھا۔ اس کام کے لئے انہیں سارے لوگ لاہور سے ہی مل گئے تھے۔ لاہور کی مٹی…

Read more

اپنے شہر کے لوگوں کی باتیں

جب ہم نے شہر گردی شروع کی،لاہور اس وقت تک آلودہ نہیں ہوا تھا، سارا شہر گھر کی مانند تھا۔ ایک دوسرے پر اعتماد کا عالم یہ کہ اگر کوئی مہمان دروازے پر کھڑا ہو کر اندر آنے کی اجازت طلب کر لیتا تو گھر والے برا مناتے، اسے کہا جاتا کہ تم کوئی غیر…

Read more

بیوی کا بھی ماموں

منو بھائی مرحوم سے اکثر مجالس میں یہ سوال پوچھ لیا جاتا تھا کہ،، آپ کی بیگم آپ کو کیا کہہ کر مخاطب کرتی ہیں؟ وہ ہمیشہ بے ساختہ اور برجستہ جواب دیتے،، منو بھائی،، آج میں شہر کی ایک اور مقبول عام اور ہر دلعزیز ہستی سے آپ کو ملواتا ہوں جو جگت ماموں…

Read more