یہ اکانومی کا نہیں، پولیٹیکل اکانومی کا بحران ہے

یہ معیشت کا سادہ معاملہ نہیں۔اس کا تعلق سیاسی معیشت سے ہے۔ یہ 'پولیٹیکل اکانومی‘ ہے جناب! معاشی سرگرمی، فرد اور معاشرے کے باہمی تعلق، حکومتی پالیسی اور سماجی روایات سے آزاد نہیں ہے۔ روپے کی قدر محض بازار سے وابستہ ایک معاشی عمل نہیں، اس کا تانا بانا عالمی سیاست کے ساتھ ساتھ، مقامی…

Read more

روپیہ بے لگام ہے یا پھر…؟

روپے کی باگ اب حکومت کے نہیں، مارکیٹ کے ہاتھ میں ہے۔ سامنے ڈھلوان ہے اور روپیہ بھاگ رہا ہے۔ ایسی بے بسی ہم نے کب دیکھی تھی؟ سنجیدہ حلقوں میں حکومت کی نا اہلی اب کوئی مشتبہ بات ہے نہ اختلافی۔ آئے دن شواہد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ عمران خان صاحب کی معلومات…

Read more

پاکستانیوں کے مغالطے: ناقابل اشاعت کالم

خبر تو ٹی وی نے چھین لی۔ اخبار کے دامن میں اگرچہ حروفِ مطبوعہ کی کمی نہیں مگر قابلِ مطالعہ تحریروں کے لیے انتخاب کر نا پڑتا ہے۔ عام طورپر لوگ، ایک تجربے کے بعد پسندیدہ لکھاریوں کی ایک فہرست بنا لیتے ہیں۔ ایسی ہی ایک فہرست میں نے بھی بنارکھی ہے۔

میں اخبارات میں لکھنے والوں کو دوحصوں میں تقسیم کر تا ہوں :کالم نگار اور راقم الحروف۔ اپنی سہولت کے لیے میں کالم اور مضمون کے فرق کو نظر انداز کرتا ہوں کہ بہت سے تحریروں کی جنس مشتبہ ہے۔ ایک نظرسے دیکھیے تو مضمون دکھائی دیتا ہے اور دوسری نظر سے کالم۔ مضمون اور کلام دونوں مذکر ہیں مگر پڑھنے کے بعد، لازم نہیں کہ آپ لغت کے فیصلے سے اتفاق کریں۔ دانا چونکہ گوہر پہ نظر رکھتے ہیں، اس لیے صدف پر وقت ضائع نہیں کرتے۔ میں بھی جنس کے تعین کا تردد نہیں کرتا۔ (یاد رہے کہ یہ کالم اور مضمون کا ذکر ہو رہا ہے۔)

Read more

رویتِ ہلال کا مسئلہ

ہر رمضان میں ہم شاخیں کاٹتے ہیں۔ اگلے برس پھر اُگ آتی ہیں۔ کیا کاروبارِ چمن یوں ہی چلتا رہے گا؟ اصل مسئلہ رویتِ ہلال نہیں ہے۔ یہ تو اس ابہام کی ایک فرع ہے جس کا تعلق مذہب اور ریاست کے باہمی تعلق سے ہے۔ جب تک یہ ابہام باقی ہے، شاخیں اگتی رہیں…

Read more

مذہب پر کون بات کرے؟

سوال یہ ہے کہ کون ہے جسے مذہب پر اذنِ کلام ہونا چاہیے؟ میڈیا سر تا پا انٹرٹینمنٹ ہے: تفریح۔ مولانا وحید الدین خان کے الفاظ میں انٹرٹینمنٹ دو طرح کی ہوتی ہے: مذہبی اور سیکولر‘ ٹی وی چینلز کے مذہبی پروگرام دراصل مذہبی انٹرٹینمنٹ کی فراہمی کا ایک ذریعہ ہیں۔ مذہب اگر تفریح اور…

Read more

قیدی لوٹ گیا مگر امید کے چراغ روشن کر گیا

اُدھر نواز شریف جیل کی طرف روانہ ہوئے، اِدھر نون لیگ شاہراہِ سیاست پر رواں ہو گئی۔ پہلا روزہ افطار ہوا تو ساتھ ہی نواز شریف کی خاموشی کا روزہ بھی ٹوٹ گیا۔ زبانِ قال سے نہ سہی، وہ زبانِ حال سے بول اٹھے۔ نون لیگ کے کارکنوں کو اسی کی ضرورت تھی۔ مقامی سطح…

Read more

مدارس اور ریاست – مکمل کالم

آج حالات کے جبر نے ریاست کو وہاں لا کھڑا کیا ہے جہاں اسے احساس ہوا کہ مدارس میں دی جانے والی اس تعلیم وتربیت کو، مزید سیکوریٹی پیراڈائم کا حصہ نہیں بنا یا جا سکتا۔ یہ ریاست کے مفادات سے متصادم ہے۔ اس کے لیے مدارس میں اصلاحات کا ایک پروگرام ترتیب دیا گیا۔ ”پیغام ِ پاکستان“ اس کی ایک کڑی ہے اور حالیہ پیش رفت بھی جس کا ذکر ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس میں ہوا۔

فوج کی طرف سے اصلاحات کے اس پروجیکٹ کا اعلان، اس کا اظہار ہے کہ یہ کام اب سول حکومت کے بس میں نہیں رہا۔ یہ انٹرسٹ گروپ اتنا مضبوط ہو چکا کہ کوئی حکومت اس کی ناراضی یا مزاحمت کا خطرہ مول نہیں لے سکتی۔ یوں بھی سیکورٹی پیراڈائم کا حصہ ہونے کے باعث، حکومت سے زیادہ ان کا تعلق سلامتی کے اداروں سے رہا ہے۔ اسی وجہ سے ”پیٖغام ِپاکستان“ کا پروجیکٹ بھی ان اداروں کو اپنے ہاتھ میں لینا پڑا۔ وہی اس پر قادر تھے کہ اہلِ مذہب کو کسی ایک فتوے پر متفق کر سکیں۔

Read more

بیسویں صدی کارل مارکس کے نام ٹھہری

بیسویں صدی اگر کسی مفکر کے نام سے منسوب ہو سکتی ہے تو وہ بلا شبہ کارل مارکس ہیں۔ کیا اکیسویں صدی میں بھی اسی طرح ان کے افکارکی آب و تاب بر قراررہ سکتی ہے؟ 5۔ مئی کو دنیا بھر میں مارکس(1818-1883) کا یومِ پیدائش منایاگیا۔ زمانی اعتبار سے ان کا تعلق انیسویں صدی…

Read more

نون لیگ میں نئی صف بندی: کیا نئی سیاسی زندگی ممکن ہے؟

نون لیگ میں نئی صف بندی، کیا اس کے لیے حیاتِ نو کا پیغام بن سکتی ہے؟ خاموشی یا ابہام... انتخابات کے بعد ن لیگ کی سیاست ان دو الفاظ سے عبارت رہی۔ اس نے پارٹی کے وابستگان میں ایک اضطراب کو جنم دیا۔ یہ اضطراب پہلی صف سے لے کر آخری صف تک سرایت…

Read more

کم سنی کی شادی

برادرم علی محمد کو غلط فہمی ہوئی ہے۔شادی کی عمر کا تعلق شریعت سے نہیں، سماج اور عرف سے ہے۔ نظمِ اجتماعی اس باب میں قانون سازی کر سکتا ہے۔ شریعت سے اس معاملے کا تعلق بالواسطہ ہے۔ شریعت نام ہے قرآن و سنت کا۔ اس کے سوا جو کچھ ہے، وہ استنباط ہے، شرح…

Read more