جو میں نے 2018 کے تجربے سے سیکھا!

ہار جیت اور پسند نا پسند سے بلند ہو کر، اس تجربہ سے سیکھنا چاہیے جو 2018ء کے انتخابات میں کیا گیا۔ چند نتائج، میرے نزدیک ظاہر و باہر ہیں: 1۔ سماجی تبدیلی اوپر سے نہیں، نیچے سے آتی ہے۔ عمران خان صاحب کے بارے میں ہم اگر یہ فرض کر لیں کہ وہ ایک…

Read more

تبدیلی کا سفر اور اس زادِ راہ کے ساتھ؟ – مکمل کالم

تبدیلی کا سفر اور اس زادِ راہ کے ساتھ؟

کاغذ کے پھول سر پہ سجا کرچلی حیات
نکلی برونِ شہر تو بارش نے آ لیا

تحریکِ انصاف پرحکومت کی تہمت باقی ہے، اقتدار تو جا چکا۔ کچھ دیرکے لیے خوشی ہوئی کہ میرا تجزبہ غلط نہیں تھا مگر بہت جلد آزردگی نے آ لیا۔ دکھ اور ملال آجائیں تو جلد جانے کا نام نہیں لیتے۔ مہمانوں نے خانۂ دل میں اس طرح ڈیرہ لگا یا ہے جیسے مستقل قیام کا ارادہ ہے۔ یہ آزردگی ایک سوال میں ڈھل گئی ہے : یہ ملک کب تک بازیچۂ اطفال بنا رہے گا؟

عمران خان دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں : کیا اس کا نام حکومت ہے؟ کیا ملک اس طرح تبدیل ہوتے ہیں؟ اعجاز شاہ، فردوس عاشق اعوان، حفیظ شیخ، اعظم سواتی، فواد چوہدری؟ کیا یہ تحریکِ انصاف کی حکومت ہے؟ کیا پیپلز پارٹی اور مشرف دور کے احیا کا نام تبدیلی ہے؟ کیا ان خواتین و حضرات میں کوئی قدرِ مشترک تلاش کی جا سکتی ہے؟ کیا وزارتِ عظمیٰ کی ٹوپی پہننا اتنا ضروری تھا کہ اس کے لیے بیس کروڑ افراد کا مستقبل داؤ پر لگا دیا جائے؟

Read more

قصور کس کا؟

نیا مقدمہ یہ ہے کہ نو ماہ کی ناکامیوں کا انتساب سابقہ حکومت کے نام ہے۔ سابق حکمران معیشت کے پاؤں میں قرض کی وہ بیڑیاں ڈال گئے ہیں کہ چند قدم چلنا دشوار ہے۔ ہم نے تو مہمیز دینے کی کوشش کی مگر رخشِ حکومت ہے کہ مانتا نہیں۔ یہ اعترافِ عجز ہے، اعترافِ…

Read more

حنیف عباسی: اسیری اور رہائی

حنیف عباسی گھر لوٹ آئے۔ ساتھ ہی تاریخ کا ایک باب بھی رقم ہو گیا۔انہوں نے جتنے دن جیل میں گزارے، مؤرخ اپنے کام سے غافل نہیں رہا۔ شب و روز کی رودار قلم بند ہوتی رہی۔ وہ دن یقینا آئے گا جب تمیزالدین کیس اور بھٹو کیس کی طرح، ان کا مقدمہ بھی پاکستان…

Read more

بلیک ہول – سائنس اور مذہب

جو نا قابلِ دید تھا، سائنس نے اسے قابلِ دید بنا دیا۔
سائنس دان کی آنکھیں مسرت سے بھیگ گئیں جب اس نے پہلی بار بلیک ہول کی تصویر دیکھی۔ ”ہم نے وہ کچھ حاصل کر لیا ہے جسے ایک نسل پہلے نا ممکن سمجھا جاتا تھا“ سائنس دان نے انکشاف کیا۔

اہلِ سائنس کہتے ہیں کہ کہکشاؤں کے مرکز میں کہیں خلا ہوتا ہے۔ جو شے اس کے قریب جاتی ہے، اس کا رزق بن جاتی ہے۔ فطرت کے سب اصول اس مقام پر بے بس ہو جاتے ہیں۔ اس خلا۔ ”بلیک ہول“ کے ارد گرد ایک دائرہ ہے۔ یہاں سے گزرنے والی کوئی شے اس کی کشش کی تاب نہیں لا سکتی اور اس خلا کی وسعتوں میں گم ہو جاتی ہے۔ کوئی ایسی دور بین، اب تک ایجاد نہیں ہو سکی جو اس کو دیکھ سکے۔ آٹھ طاقت ور ترین دور بینیں ایک ساتھ استعمال ہوئیں تب کہیں اسے دیکھنا ممکن ہوا۔ یہ بلیک ہول دنیا سے پچاس کروڑ کھرب کلو میٹر کی دوری پر ہے۔ اس کی لمبائی چار سو ارب کلو میٹر ہے۔ یہ زمین کے حجم سے تیس لاکھ گنا ہے۔ اہلِ سائنس اس کامیابی پر سرشار ہیں۔ دنیا والوں کو اس کی خبر دی گئی تو واشنگٹن، برسلز، شنگھائی اور ٹوکیو سمیت آٹھ مقامات پر بیک وقت پریس کانفرنس کی گئی۔

Read more

مذہبی جنگوں کا امکان؟

''وہ کون تھے جنہوں نے افغانستان، شام اور یمن میں مقتل آباد کیے‘‘؟ ''یورپ اور امریکہ... وہ دولت مند اسلحہ فروش ریاستیں جو اپنے ہتھیاروں کی فروخت کے لیے آدم کی اولاد کا لہو بہاتی ہیں۔ بچوں کو قتل کرتی ہیں اور آنگن اجاڑتی ہیں۔ ہر وہ ملک جو ہتھیار بناتا اور بیچتا ہے، اس…

Read more

کیا یہ نظام ناکام ہو گیا؟

اضطراب ہے اور بہت گمبھیر۔ ماضی میں کوئی حکومت ایسی نہیں گزری ہے جو محض آٹھ نو ماہ میں یوں بے دست و پا دکھائی دی ہو۔ شاید ہی کسی کو اس بات سے اختلاف ہو، الا یہ کہ کوئی غبی ہو یا انتہا درجے کا مفاد پرست۔

زندگی کبھی اضطراب سے خالی نہیں رہتی۔ کبھی پچھتاوا، کبھی اندیشہ۔ پچھتاوا ماضی کا، اندیشہ مستقبل کا۔ اللہ نے اپنے نیک بندوں کے بارے میں کہا کہ ان کے لیے حزن ہے نہ خوف۔ مولانا امین احسن اصلاحی نے تفسیر کی کہ یہ جنت کی تعبیر اور بشارت ہے۔ ورنہ دنیا میں کون ہے جسے حزن و ملال اور اندیشوں سے مفر ہو۔ زندگی اسی کا نام ہے۔ لہٰذا اضطراب کا ہونا کوئی انہونی نہیں۔ سوال دوسرا ہے : کیا ہم اضطراب سے نکلنے کی صلاحیت اور عزم رکھتے ہیں؟

Read more

ناقابلِ اشاعت: کیا مولانا علی میاں امتِ مسلمہ سے نکل گئے؟

مولانا سید ابوالحسن علی ندوی، المعروف علی میاں سے کون واقف نہیں؟ بیسویں صدی میں اسلام کے جوجلیل القدر علما پیدا ہوئے، ان میں نمایاں تر۔ وہ محض عالم نہیں تھے، راہِ سلوک کی مسافر بھی تھے۔ علم و زہد کے تمام مروجہ پیمانوں پرپورا اترتے تھے۔ مولاناعلی میاں بھارت کے شہری تھے۔ تقسیم کے بعد ہندوستان ہی میں رہنے کا فیصلہ کیا اورتادمِ مرگ وہاں کے شہری رہے۔ بعض لوگوں کی تعبیر کے مطابق بھارت مشرکین کا ملک ہے اور ایک مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ مسلمانوں کا ملک ہوتے ہوئے، مشرکین میں رہنے کا فیصلہ کرے۔ کیا بھارت کا شہری ہونے کے باعث ان کا امتِ مسلمہ سے کوئی تعلق نہیں؟

مولاناکے پاس تمام اسباب مو جود تھے کہ وہ پاکستان ہجرت کرجا تے یا کسی دوسرے مسلمان ملک میں جا بستے۔ اس میں کوئی مبالغہ نہیں کہ سعودی عرب سمیت، ہر ملک انہیں اپنی شہریت کی پیشکش کرتا اور اسے اپنا اعزاز سمجھتا۔ عرب ملکوں میں شاید ہی کسی عجمی عالم کا وہ احترام ہو جو مولانا کا تھا۔ اس کے باوجود انہوں نے ہندوستان ہی میں رہنے کا فیصلہ کیا۔ کیا کوئی مسلمان اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر یہ کہہ سکتا ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ، مولانا علی میاں سے بری ہیں؟

دارالعلوم دیوبند، مظاہر العلوم، مدرسۃالاصلاح، بریلی کی درس گاہ، ندوۃ العلما، سمیت بھارت کے بے شماردینی ادارے ہر سال ہزاروں علما تیار کرتے ہیں جوتفسیر، حدیث اور فقہ سمیت کئی دینی علوم کے ماہر ہوتے ہیں۔ یہ سب نسلوں سے ہندوستان میں رہ رہے ہیں۔ یہی نہیں جماعت اسلامی سمیت بہت سی دینی جماعتیں بھارت میں فعال ہیں۔ کیا ان کا امتِ مسلمہ سے کوئی تعلق نہیں؟

Read more

’اسلامی‘ صدارتی نظام

پہلے بت گری، پھر بت شکنی۔ کبھی افراد کا بت، کبھی نظاموں کا بت۔ ستر برس سے ایک کاروبار جاری ہے۔ آج ہمارے سامنے پتھروں کا ایک ڈھیر ہے۔ سنا ہے اب نئے بت تراشے جائیں گے۔ خسارے کی یہ تجارت آخر کب تک؟

مذہب، اخلاق اور صدیوں کا تعامل۔ کوئی چاہے تو انہیں چیلنج کر سکتا ہے۔ دنیا میں ملحد ہیں اور اباحیت پرست بھی۔ نئے تجربات کا شوق بھی انسان کی سرشت میں ہے۔ ایک بات البتہ ثابت ہے۔ چراغ وہی جلے ہیں جو روایت کے روغن سے روشن ہوئے۔ روایت جوہڑ نہیں، انسانی تجربات کا بہتا دریا ہے۔ خوبی اس کی یہ ہے کہ روایت ماضی اور حال کو ایک لڑی میں پرو دیتی ہے۔ سائنس بالخصوص طبیعات تو نام ہی نئے افق دریافت کرنے کا ہے۔ اس سفر میں لیکن نیوٹن، آئن سٹائن کو نظر انداز کر کے کوئی پیش قدمی ممکن نہیں۔

اجتماعی امور میں مذہب کی راہنمائی کیا ہے؟ صدیوں کا انسانی تعامل کیا ہے؟ یہ انفرادی بصیرت سے اجتماعی بصیرت کی طرف سفر ہے۔ ختمِ نبوت نے مذہب کے مقصود کو بیان کر دیا۔ امتِ مسلمہ سے مخاطب ہوتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے اپنی آخری کتاب میں اعلان کر دیا کہ اب تم پیغمبر اور بنی آدم کے مابین واسطہ ہو! ”رسول تم پر گواہ ہیں اور تم انسانوں پر گواہ ہو“۔ تاریخ کا سبق یہ ہے کہ اس نے آمریت سے جمہوریت کی طرف سفر کیا ہے۔ اب فیصلے فرد نہیں، افراد کرتے ہیں۔ افراد نہیں، اجتماعی رائے اب وقیع شمار ہوتی ہے۔

Read more

عمران خان کے دعوے اور ان کی حقیقت

آٹھ ماہ میں عمران خان صاحب کے نظریات اور دعووں کے سامنے کئی سوالیہ نشان کھڑے ہو چکے ہیں‘ اور ان میں ہر روز اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ عمران خان صاحب کے نظریات اور دعوے وقت نے مسترد کر دیے۔ جب انہیں تجربات کے ترازو پر پرکھا گیا، وہ کم وزن نکلے۔ مثال…

Read more