امریکہ کے بعد، کیا اگلی باری بھارت کی ہے؟

عوام جب ٹرمپ جیسے حکمران کا انتخاب کرتے ہیں تو ملک ایسے ہی المیوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ، پاپولزم، کی سیاست امریکہ میں اپنے نتائج دکھا رہی ہے۔ اس کے انڈے بچے نکل رہے ہیں۔ فساد گلیوں اور چوراہوں تک پھیل گیا ہے۔ اگر امریکی اداروں میں جان ہو گی تو ملک اس بحران سے نکل آئے گا لیکن قومی وجود تو گھائل ہو چکا۔ یہ زخم کتنے جلدی بھرتے ہیں، اس کا انحصار پھر عوام پر ہے جنہوں نے اسی سال ایک نئے صدر کا انتخاب کرنا ہے۔

پاپولزم کی سیاست کیا ہے؟ یہ عوامی جذبات سے کھلواڑ کا دوسرا نام ہے۔ پاپولر سیاستدان نفرت کو ابھارتے ہیں۔ تضادات کو نمایاں کرتے ہیں۔ عوام کو سبز باغ دکھاتے ہیں۔ مسائل کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں اور ان کا انتہائی سادہ حل بتاتے ہیں۔ دائیں بازو کے ہوں گے تو نسلی تفاخر کو بنیاد بنائیں گے۔ بائیں بازو کے ہوں گے تو طبقاتی تقسیم کو نمایاں کریں گے۔ دونوں عوام کو تقسیم کریں گے اور نفرت کو فروغ دیں گے۔

Read more

نواز شریف ماڈل یا عباس شریف ماڈل؟ خصوصی تحریر

شہباز شریف صاحب کو اب فیصلہ کرنا ہے :
زندگی کے ایک ایک لمحے کا خراج دینا ہے یا جواں مردوں کی طرح جینا ہے؟ آزادی کے ایک ایک دن کی بھیک مانگنی ہے یا مرد حر بننا ہے؟ اپنی زندگی گزارنی ہے یا کرائے کی؟ عمر نے تو ایک دن تمام ہونا ہے۔ طبعی عمر کے پیمانے سے، وہ زیادہ گزار چکے اور کم باقی ہے۔ لیکن آدمی ایک زندگی پس مرگ بھی گزارتا ہے۔ اس کا انحصار اس طبعی عمر کے ماہ و سال پر ہے۔ یہ انتخاب شہباز شریف صاحب کو کرنا ہے کہ باقی رہ جانے والی عمر کیسے گزارنا چاہتے ہیں۔

Read more

ایٹمی دھماکے اور خبرِ واحد

تاریخ واقعات کا نام ہے، نادر اقوال کا نہیں۔ یہی سبب ہے کہ اس باب میں خبرِ واحد کو حجت نہیں مانا جاتا۔خبرِ واحد کیا ہے؟ ایک واقعہ سرِ عام ہوا مگر اسے ایک دو سے زیادہ افراد نے روایت نہیں کیا۔ اس کے برخلاف خبرِ متواتر ہے۔ ایک واقعے کو اتنے لوگ روایت کریں…

Read more

یومِ تکبیر اور تاریخ کا انکار

28 مئی یوں گزرا جیسے یہ 16 دسمبر ہو۔ مسرت و اطمینان پر حزن و ملال کا غلبہ رہا۔ یومِ تکبیر اور یومِ سقوطِ ڈھاکہ کا فرق باقی نہیں رہا۔ کیا اس لیے کہ ہمارے ایٹمی پروگرام کے پہلے سرے پر ذوالفقارعلی بھٹو اور آخری پر محمد نوازشریف کھڑے ہیں؟ سیاست دانوں کی نفی کرتے…

Read more

وہ کس کی بیوی تھی؟ خصوصی تحریر

واقعہ اہم نہیں ہوتا۔ اہم انسانی شعور ہے جو اس کی تعبیر کرتا ہے۔
تاریخ کبھی علم یقین تک رسائی نہیں دیتی۔ زیادہ سے زیادہ گمان۔ مورخ واقعات نقل کر دیتا ہے جس طرح سنتا ہے، صحت و ضعف کا حکم لگائے بغیر۔ جیسے طبری۔ کچھ اس کی زحمت اٹھاتے اور روایت کے کمزور یا مستند ہو نے کے بارے میں اپنا فیصلہ سناتے ہیں۔ یہ فیصلہ بھی ظاہر ہے کہ ظن سے زیادہ کا فائدہ نہیں دیتا۔ تاریخ کے علم میں ایک شعبہ وہ بھی ہے جو جرح و تعدیل کی ذمہ داری اٹھاتا ہے۔ ایک واقعے کی روایات کو جمع کر تا اور ان کے بارے میں اپنی ترجیح بیان کرتا ہے۔ اس کی کاوش کا ثمر بھی گمان کے سوا کچھ نہیں۔

Read more

کیا اخلاقیات کی انفرادی تعریف ممکن ہے؟

چند جملے بہت کثرت کے ساتھ سننے اور پڑھنے کو ملتے ہیں :
٭ میرے نزدیک فحاشی یہ ہے کہ لوگوں کے سر پر چھت اور بدن پر کپڑا نہ ہو۔
٭ میرے نزدیک اخلاقیات کا تعلق عورت کے لباس اور مرد کے حلیے سے نہیں ہے۔
٭ میرے نزدیک۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وغیرہ وغیرہ۔

اس، میرے نزدیک، کی بہت اہمیت ہو سکتی ہے اور یہ اقوال زریں کچھ دیر کے لیے نگاہوں کو خیرہ کر سکتے ہیں، یقیناً یہ مجھ جیسے طالب علموں کے لیے غور و فکر کے کئی نئے در وا کرتے ہوں گے۔ اس اعتراف کے باوجود، ایک سوال ہے جو ان جملوں سے جھانکتا اور جواب طلب نظروں کے ساتھ میری طرف دیکھتا ہے : کیا انفرادی سطح پر اخلاقیات کی تعریف ممکن ہے؟ میں اس جملے کی شرح کرتا ہوں تاکہ اپنی بات مزید واضح کر سکوں۔

Read more

سجدہ سہو سے پہلے اور بعد۔ ۔ ۔ خصوصی تحریر

ہم فرض کرتے، جیسے کہانیوں میں کیا جاتا ہے۔
جیسے :ایک دفعہ کا ذکر ہے۔ ۔ ۔ ہم جانتے ہیں یہ ایک خیالی دنیا کا قصہ ہے مگر پھر بھی شوق سے سنتے ہیں۔ خیالی دنیا کی باتیں، کہانی کے علاوہ، ایک فرضی قضیے کی صورت میں بھی بیان ہو تی ہیں۔ جیسے منطق میں ہوتا ہے۔ یا جیسے انسانی ذہانت کے کسی امتحان میں۔ آج ایسا ہی ایک پرچہ آپ کے سامنے ہے۔ یہ آپ کی ذہانت کا امتحان ہے۔

فرض کیجیے کہ ایک ملک کا جمہوری بادشاہ ایک مشکل سے دوچار ہے۔ جمہوری اس لیے کہ ملک کو جمہوریہ کہا جاتا ہے۔ اقتدار بظاہر کئی اداروں میں منقسم ہے۔ جیسے مقننہ، جیسے عدلیہ۔ اختیار کا قانونی مرکز ایک نہیں۔ وہ بادشاہ اس لیے ہے کہ ترقی پذیر جمہوریتوں میں جمہوری حکمران بھی بادشاہ ہوتے ہیں یا بننا چاہتے ہیں۔

Read more

کورونا اور نئی تقویم

وقت پہلے تین ادوار میں منقسم تھا۔ ماضی، حال اور مستقبل۔ ادوار اب بھی تین ہی ہیں مگرکہتے ہیں ان کی صورت بدل گئی ہے۔ اب یہ قبل از کورونا، دوران کورونا اور بعد از کورونا ادوار میں تقسیم ہو گئے ہیں۔ اس نئی تقسیم کو سمجھنے کے لیے، چند سوالات کے جواب اہم ہیں :

1۔ کورونا کا دورانیہ کتنا ہے؟
2۔ کورونا کے اثرات کیا صنعتی انقلاب جیسے ہوں گے؟
3۔ کورونا کے اثرات، کیا ساری دنیا پر یکساں ہوں گے؟

Read more

کالم نگاروں کا سجدہ سہو

عمران خان صاحب کا رومان تمام ہوا اور نواز شریف صاحب کا بھی۔ اب کیا کیا جائے؟

گزشتہ چند دنوں میں، دو نامور کالم نگاروں کی نگارشات نظر سے گزریں۔ صف اول کے ان لکھاریوں نے کئی سال اپنی قلمی توانائیاں یہ ثابت کرنے میں صرف کر ڈالیں کہ عمران خان کی صورت میں وہ مسیحا آ گیا ہے جس کا اس قوم کو انتظار تھا۔ اب انہوں نے واضح الفاظ میں بتا دیا کہ وہ خان صاحب سے کسی کارنامے کی توقع نہیں رکھتے۔ یہ ان کی طرف سے اعلان عام ہے کہ اب بھی کوئی انہیں مسیحا سمجھنا چاہے تو اپنی ذمہ داری پہ سمجھے۔

Read more

فضائل کا مذہب؟

سترہ رمضان ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہؓ کا یومِ وفات تھا۔ اکیس رمضان امیرالمومنین سیدنا علیؓ کا یومِ شہادت ہے۔ ہر سال اخبارات ایڈیشن شائع کرتے ہیں۔ ٹی وی چینلز بھی حسبِ توفیق اپنے وقت کا انفاق کرتے ہیں۔ دونوں کا موضوع ایک ہی ہوتا ہے: فضائل۔ دونوں شخصیات کی عظمت کے باب میں کیا…

Read more