چھ فٹ کے فاصلے سے محبت

عالم کا فتویٰ ہے کہ وبا کے دنوں میں رسمِ عبادت بدل جاتی ہے۔ اب عبادت آن لائن بھی ہو سکتی ہے۔ عبادت کی ایک اساس محبت ہے۔ ایک محبوب ہستی اور منعمِ حقیقی کے لطف و عنایت سے جنم لینے والا احساسِ تشکر، جو اظہار چاہتا ہے۔ یہی احساس مجسم ہوتا ہے تو مناسکِ…

Read more

فرقہ پرستی کا وائرس – خصوصی تحریر

کچھ وائرس کورونا سے بھی زیادہ خطرناک ہیں۔ کورونا نے بہت سوں کو خدا یاد دلا دیا۔ یہ وائرس مگرخدا کی یاد نہ دلا سکے۔ ایسا ہی ایک وائرس فرقہ پرستی ہے۔ عام مسلمان خدا کے حضور میں سربسجود ہے۔ گریہ کر رہا ہے۔ مگرکچھ کو ان لمحوں میں بھی فرقہ وارانہ شناخت کی فکر ہے۔

ایک گروہ ایران سے لوٹنے والے زائرین کو بنیاد بناکر اپنے فرقے کا علم لہرا رہا ہے اور دوسرا تبلیغی جماعت کے مسافروں کوتختہ مشق بنائے ہوئے ہے۔ اس معاملے میں مذہب سب کچھ ہے۔ تجارت ہے، عصبیت ہے، شہرت ہے، دولت ہے۔ سیاست ہے۔ اگر نہیں ہے توخدا خوفی نہیں ہے۔ لوگوں کو اپنے اپنے فرقے کی فکر ہے، اپنے اخلاق کی نہیں۔

یہ تجارت کیسے ہے؟ مقدس مقامات کاسفر اب ایک کاروبار ہے۔ مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ سے لے کر نجف و کر بلا تک، سارا سال قافلے رواں دواں رہتے ہیں۔ ان اسفار کو منظم کرنے کے لیے کاروباری ادارے ہیں۔ حج میں ان کا حصہ ہے۔ حکومت ساٹھ فیصد حجاج کا انتظام کرتی ہے۔ چالیس فیصد نجی منتظمین کے لیے ہے۔ یہاں بھی اہلِ مذہب اور اہلِ تجارت کا گٹھ ہے۔ اگر عام حج چھ لاکھ کا ہے تو ایک مقدس مذہبی شخصیت کے ساتھ وہی حج کم و بیش دس لاکھ کا ہوتا ہے۔ کیا اس میں زیادہ ثواب ملتا ہے؟ ایک سادہ مسلمان یہی سمجھتا ہے اور یہ کاروباری اور مذہبی گروہ مل کر اس کا استحصال کرتے ہیں۔

Read more

خود پسندی کا وائرس

عمران خان صاحب کو قدرت نے ایک موقع اوردیا کہ وہ وزیراعظم سے لیڈربن جائیں۔محسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے اسے بھی گنوادیا۔ بڑا آدمی وہی ہے جو اپنی ذات سے بلند ہو جائے۔ خود پسند اپنے آپ کو اس تمام خیر سے محروم کرلیتا ہے جو اس کے گردوپیش میں پھیلادیا گیاہے۔ وہ خیال…

Read more

حکومت، علما اور اسلامی نظریاتی کونسل کی ناکامی

ایک نازک مرحلے پر حکومت، علما اور اسلامی نظریاتی کونسل عوام کی راہنمائی کرنے میں ناکام رہے۔ سب کا موقف ابہام کے دھند میں لپٹا ہوا ہے۔ یہ دھند ایوان ہائے اقتدار سے اٹھی اور پھر اس نے سب کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ میں جب یہ سطور لکھنے بیٹھا ہوں تو حسبِ معمول چاروں طرف سے خطبات جمعہ کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں یا اجتماعی دعا کی۔ یہ آوازیں بتا رہی ہے کہ نمازِ جمعہ کے بارے میں کوئی اتفاقِ رائے پیدا نہیں ہو سکا۔

Read more

وبا کے دنوں میں زندگی

وبا کے موسم میں سب کچھ کس سرعت کے ساتھ بدل جاتا ہے، جان کر حیرت ہوتی ہے۔ انسان جو مسافت صدیوں میں طے کرتا ہے، وبا کے دنوں میں، یہ لمحوں میں سمٹ آتی ہے۔ اہلِ قلم نے اس کی کہانیاں لکھی ہیں۔ جناب آصف فرخی نے ایک عمدہ مضمون میں، اس ادب کا…

Read more

کورونا اور دین و دنیا کے نیم حکیم

کیا اربابِ اقتدار، کیا سماجی طبقات‘ ملک معلوم ہوتا ہے کہ اتائیوں کے حوالے ہو گیا ہے۔ حکومت کے بارے میں کچھ کہنا تحصیلِ حاصل ہے۔ اس کی کارکردگی ایک کھلی کتاب کی طرح ہے۔ عمران خان صاحب کے کٹر حامی بھی جانتے ہیں کہ ان کے دفاع میں کچھ کہنا محال ہے۔ اب ایک…

Read more

کورونا کیا عذابِ الٰہی ہے؟

ختمِ نبوت کا ایک مفہوم یہ ہے کہ اب نہ کوئی نبی آئے گا اور نہ انکار کی صورت میں کوئی عذاب۔ تنبیہات باقی ہیں اور تا صبحِ قیامت باقی رہیں گی۔ عقیدہ اس لیے نہیں ہوتا کہ منکرین کو ایذا پہنچانے کے لیے اُسے ہتھیار بنا لیا جائے۔ عقیدے کے انسانی علم اور عمل…

Read more

بچوں پر جنسی تشدد کیوں؟

آپ کا بچہ ایک مجرمامہ ذہنیت کے حصار میں ہے؟ کیا آپ کو اس کا ادراک ہے؟ بچوں کا جنسی استحصال خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے۔ خاندان، تعلیمی ادارہ، محلہ، کوئی جگہ ایسی نہیں جو اس ذہنیت کی گرفت میں نہ ہو۔ رشتے دار، استاد، محلے دار، آپ نہیں جانتے کہ مجرم کس روپ…

Read more

دکھ، آسودگی کے ساتھ!

دکھ موت کا فطری نتیجہ ہے لیکن کوئی موت ایسی بھی ہوتی ہے جو دکھ کے ساتھ آسودگی لاتی ہے۔ یہ آسودگی مگر عندالطلب ملتی ہے۔ یہ محبت اور توفیق کے بغیر ارزاں نہیں ہوتی۔میں اُس کیفیت کو سمجھ سکتا ہوں، جس نے ان دنوں برادرم بابر اعوان کا حصار کر رکھا ہے۔ گیارہ برس…

Read more

کالم نگاری کا جواز

”میری وفات“ جناب اظہارالحق کے کالموں کا نیامجموعہ ہے جو ان کے ایک کالم کا عنوان بھی ہے۔ میں قندِ مکرر کا مزہ لے چکا تو خیال ہوا کہ آپ کو بھی اپنے تاثر میں شریک کروں۔

اظہارالحق قادرالکلام شاعر ہیں۔ جاندار شاعری کے دولوازم ہیں :افتادِ طبع اورسازگارماحول۔ رحجان تو ساتھ لے کرآئے۔ فطرت نے مشاطگی کایوں اہتمام کیا کہ ایک علم دوست گھرانے میں ورود ہوا۔ گزشتہ دو نسلوں کو تو میں خود جانتا ہوں۔ ان کے دادا میرے والدِ گرامی کے گہرے دوست تھے کہ اصلاً علم دوست تھے۔ ابا جان کے ورثے میں اُن کا ذکرِ خیراور کچھ خطوط بھی شامل ہیں۔ یوں زمانی بُعد کے باوصف میں ان کو جانتا ہوں۔

Read more