ایک شوہر کی ڈائری سے کچھ اقتباسات

(آخری صفحہ، عنوان: شادیِ مرگ سے پہلے اور بعد) لکھتے ہوئے قدرے شرمندگی محسوس ہو رہی ہے لیکن کیا کروں اپنے جیسے کئی معصوم بھلے مانسوں کے لیے مجھے ہی قلم کا سہارا لینا پڑا۔ کل رات کو ٹی۔ وی پر ایک گانا دیکھ رہا تھا۔ نشے سی چڑھ گئی اوئے کُڑی نشے سی چڑھ…

Read more

یہ دنیا عورتوں کی ہے، ایک مظلوم مرد کی بپتا

میں آج صبح اٹھا تو جسم درد سے ٹوٹ رہا تھا، شدت سے خواہش اٹھی کہ آج آفس نہ جاؤں لیکن کیسے نہ جاتا آفس میرے ابا جان کا تو تھا نہیں، غیروں کا تھا اور یہاں تو ابھی اپنوں کی خدمت کرنی تھی تو باہر والوں کی بے حسی پر کیا روتا۔ اپنی قسمت کو کوستا بستر سے نکلا، انڈے ابلنے رکھے اور نہانے دھونے باتھ روم میں گھس گیا۔ واپس آ کر بچوں کو اٹھایا، گو کہ ہر باپ کی طرح میں بھی اپنے بچوں سے بہت پیار کرتا ہوں لیکن یہی بچے جب رات کو سونے سے پہلے میری پِدّی نکلواتے اور صبح اٹھنے میں کسلمندی کا بھرپور مظاہرہ کرتے تو کبھی کبھی مجھے بے تحاشا غصہ آتا ہے لیکن یہ سوچ کر کہ باقی گھر والے کہیں گے کہ اپنے پیدا کردہ ہی نہیں سنبھالے جا رہے، میں زبردستی کی مسکراہٹ لیے بچوں کو دلار کرتا واش روم لے جاتا ہوں۔

Read more

جنونیت کے مزار پر تبدیلی کا دھمال

تقریباً سات ماہ سے سیاسی لیبر روم میں حکومت اور اسٹیبلشمنٹ لیب کوٹ اور دستانے پہن کر ملک کی معیشت کے ساتھ امید ڈیلیور کرنے کی کوششیں کر رہی تھی اور دروازے کے باہر ہاتھ پاؤں پُھلائے بے چین کھڑی عوام دعائیں مانگتے ہوئے کسی خوش خبری کی منتظر تھی کہ کب سرجن عمران خان باہر آتے ہیں اور عوام کو تبدیلی کی جھلک دکھاتے ہیں۔گو کہ اب تک ملکی معیشت کو تو خاطر خواہ سہارا نہیں مل سکا لیکن وزیراعظم عمران خان نے پچھلے دنوں انڈیا کی جنونی جارحیت کے جواب میں جو ہوش مندانہ پیش رفت کی ہے اس سے ان کی ہیرو مافق امیج میں دنیا بھر میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہاں تک کہ قومی اسمبلی میں ان کو امن کا نوبل انعام دینے کی قرارداد تک پیش کی جا چکی ہے۔ میں بذات خود تحریک انصاف کی سپورٹر نہیں رہی ہوں لیکن عمران خان اپنی حرکتوں سے ہمیشہ ہی متاثر کر دیتے ہیں۔ ایک تو اللہ نے بندے کو پرسنیلٹی دی ہے دوسرا جس اعتماد سے کیمرے کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر یہ بندہ وطن سے مخلص ہونے کا یقین دلاتا ہے، بھلا کون انکار کر سکتا ہے؟

Read more

قائد ڈے پر 50 % سیل اور قائد اعظم کے احسانات کا بدلہ

میری تو آنکھیں پھٹی رہ گئیں بھائی۔ تمام برانڈز پر قائد کے دن کے حوالے سے اتنا ڈسکاؤنٹ دیکھ کر سب سے پہلے شکرانے کے نوافل ادا کیے کہ اگر قائد اعظم پیدا نہ ہوتے تو ہم پچیس دسمبر دن کی اس لوٹ سیل سے فائدہ اٹھانے اور انھیں خراج تحسین پیش کرنے کے قابل بھلا کس طرح ہوسکتے تھے؟

مجھے تو لگتا ہماری قوم نے آہستہ آہستہ قائد اعظم کے احسانات کا بوجھ اتارنا شروع کردیا ہے اور لگتا ہے کہ 50 % فی صد تک ہم کامیاب بھی ہو چکے ہیں۔ حالات آپ سب کے سامنے ہیں۔ آج قائداعظم کے نام کے ڈسکاؤنٹ مل رہے ہیں پاکستانیوں کو پورے ملک میں۔ اور کیا چاہیے؟ کیا اسی لیے انھوں نے ہمیں یہ ملک نہیں دیا تھا کہ ہم اپنی مرضی سے اپنی الگ ریاست میں سانس لے سکیں؟ اپنی مرضی سے کپڑے بنا سکیں اور اپنی ہی مرضی سے خرید بھی سکیں؟

Read more

قوم کے مسائل ایک کراری تقریر کی مار ہیں

پرانا پاکستان تو جب سے بنا تھا اس وقت سے ہی نازک دور میں تھا لیکن نیا پاکستان بنتے ہی عوام سمجھنے لگی تھی کہ بس آنا“ فانا“ اب ملک کی قسمت بدلنے والی ہے۔ کچھ بڑے شہروں کے لوگ تو الیکشن کے اگلے دن ہی یہ سوچ کر آنکھیں ملتے ہوئے اٹھے تھے کہ صبح باہر نکلیں گے تو ہر دیوار پر عامل بنگالی اور مردانہ کمزوریوں کے اشتہارات کے بجائے ”یہ دو دن میں کیا ماجرا ہوگیا کہ جنگل کا جنگل ہرا ہو گیا“ لکھا نظر آئے گا۔ لیکن پھر لوگ ذرا حواسوں میں آئے کہ میاں دو دن میں یہاں جنگل ہرے تو نہیں ہو سکتے، دو دن میں جنگلوں میں بس آگ لگ سکتی ہے۔

Read more

لان کے جوڑوں اور محرم کے تقدس پر سیل لگ گئی ہے

بھولا نہیں میں آج بھی آداب جوانی میں آج بھی اوروں کو نصیحت نہیں کرتا قتیل شفائی 2001 میں وفات پا چکے لیکن اس شعر میں جو کہہ گئے وہ دراصل آج کل کے سوشل میڈیائی دور سے بہت مطابقت رکھتا ہے۔ میں کم ہی کسی کو نصیحت کرتی ہوں کہ ایک تو ابھی نصیحت…

Read more

ایک تو کراچی کے اوپر سے مڈل کلاس

پچھلے ایک بلاگ میں ہم نے مڈل کلاسیوں کے المیئے بیانکیے تھے اور اب پیش خدمت ہیں کراچی کے متوسط طبقے کے المیئے جن کا نام لیوا اور پانی دیوا کوئی نہیں۔ بچپن میں ریڈیو پر گانا سنتے تھے کہ ”بندر روڈ سے کیماڑی میری چلی رے گھوڑا گاڑی بابو ہو جانا فٹ پاتھ پر۔…

Read more

اب تشریف لاتے ہیں استاد عمران خان صاحب

ہمارے ایک خشک مزاج ٹیچر تھے، انٹر میں میتھس پڑھایا کرتے تھے۔ الجبرا کی ہر مشق کروانے کے بعد پوچھتے تھے ”بات سمجھ آتی ہے؟“ اب ٹیچر مرد ہو اور رعب دار بھی ہو، تو ”یس سر“ کے علاوہ کوئی کیا کہے گا بھلا؟ اور چلو کسی ایک نکمے لڑکے نے کسی کونے سے نفی…

Read more

مڈل کلاسیوں کے المیے

وہ محاورہ سنا ہوگا آپ نے ”تین میں نا تیرہ میں“ یہ ہم مڈل کلاسیوں کے لئے بنا تھا۔ یعنی ایک قسم امیروں کی ہوتی ہے اور ایک غریبوں کی اور ان کے بیچ کی ایک ٹائپ ہوتی ہے عجیبوں کی۔ بلکہ آپ عجوبے بھی کہہ لیں تو کوئی مضائقہ نہیں۔ ہم مائنڈ نہیں کریں…

Read more

گجنی فلم اور ریحام خان کی کتاب

گجنی فلم دیکھی ہے آپ نے؟ اس کا ایک دلچسپ سین تھا کہ جس میں ہیروئن اپنی مشہوری کے لئے ایک فرضی کہانی بناتی ہے اور ہر ایرے غیرے ملنے والے کو فخریہ اپنی بپتا من و عن سنانے لگتی ہے کہ کس طرح ہوائی سفر کے دوران کامیاب موبائل کمپنی کا خوبرو مالک اس…

Read more