بدقسمتی تو دیکھیں !

بھارت میں عام انتخابات کا مرحلہ وار آغاز ہوچکا ہے تقریباً نوے کروڑ سے زائد رجسٹرڈ وٹرز ہیں اور اکیس مئی کو عام انتخابات سات مرحلے طے کرکے مکمل ہوگا۔ تئیس مئی کو حتمی نتائج سامنے آئے گے۔ دنیا کی تاریخ میں یہ سب سے بڑا انتخاب ہوگا۔ وزیراعظم عمران خان نے بیان دیا کہ اگر بی جے پی جیت جاتی ہے تو امید ہے کہ مسئلہ کشمیر کے پرامن حوالے سے کوئی بات چیت ہوسکے۔وزیراعظم عمران خان کا بیان سرحد کے دونوں طرف اہل علم کے لیے حیران کن تھا کیونکہ بھارتی جنتاپارٹی کی ساری الیکشن کمپین پاکستان مخالف تھی۔ بھارتی وزیراعظم اپنے ہر جلسے میں یہی راگ الا پتے رہے

Read more

نواز شریف کے بعد اگلی باری کس کی !

ضمانت، ڈھیل یا ڈیل اور ٹائم فریم، پچھلے چند ہفتوں میں ن لیگ کے سربراہ اور سابق وزیراعظم نواز شریف کی ضمانت سے چند دن پہلے سے ہی حکومتی وزراء نے یہ راگ الاپنا شروع کردیا تھا کہ نواز شریف کی قسمت کا فیصلہ عدالت نے کرنا ہے حکومت انہیں باہر جانے کی اجازت نہیں دے سکتی۔ اس دوران وزیراعظم عمران خان نے بھی صحافیوں سے طویل بات چیت کی۔ اور واشگاف الفاظ میں کہا کہ حکومت کسی قسم کی ڈیل یا ڈھیل نہیں دے گی۔ اور سب یہ جانتے تھے کہ چھبیس مارچ کو نواز شریف کی ضمانت کے حوالے سے اپیل پہ سماعت ہونی ہے۔ کہنے والے تو یہ بھی کہتے ہیں کہ حکومت نے نواز شریف کی ضمانت ہو جانے کی صورت میں اپنی فیس سیونگ کے لئے پہلے سے سیاسی پوائنٹ سکورنگ کی۔ اور حکومتی جماعت نے اپنے کارکنان کو یہ تاثر دیا کہ وہ نواز شریف کے ساتھ کوئی ڈیل نہیں کرے گے اور نہ ہی کسی قسم کی ڈھیل دی جائے گی۔

Read more

غریب بزدار کی ناکامی

دنیا میں کسی بھی معاشرے میں جب کوئی چیز میرٹ پہ نہیں ہوتی یا کسی غلط جگہ پہ فٹ ہوتی ہے یا پھر یوں کہہ لیں کہ جیسے عثمان بزدار کو وزیر اعلی پنجاب بنا دیا گیا ہو! تو آپ ننانوے فیصد منفی نتائج ہی دیکھیں گے۔ ایک فیصد کا مارجن اس لے رکھا، کہ معجزات بھی دنیا میں ہو جاتے ہیں۔ اب یہاں وزیر اعلی پنجاب کا کوئی مسئلہ نہیں، کیونکہ ان کو تو دائیں، بائیں رہنے والوں کو مطمئن کرنے کے لئے لگایا گیا اور لودھراں ٹو بنی گلا کی فلائیٹ لینے والوں کو بھی راضی کرنا تھا۔ اس لیے ریموٹ کنٹرول بندہ چاہیے تھا۔ اور پھر عثمان بزدار کی بھی قسمت اچھی تھی کہ وہ سرکاری جہازوں، کاروں اور بڑے بڑے پروٹوکول ان کے نصیب میں تھے۔ یہاں عمران خان صاحب کی مجبوری نے بزدار صاحب کی قسمت چمکا دی۔

Read more

ایک تحریر۔۔۔ نجم سیٹھی کے نام

یہی مارچ کا مہینہ تھا، لیکن تاریخ تین مارچ سنہ 2009 تھی، میرا طالبعلمی کا زمانہ تھا۔ فارمن کرسچن کالج کے گراونڈ میں اپنے کچھ کلاس فیلوز کے ساتھ کھٹرا تھا۔ خوشگوار صبح تھی، ایف سی کالج کی ہریالی ہر سو چھا ہوئی تھی۔ تقریباً نو بجنے کے قریب تھا۔ اچانک زوردار دھماکوں اور فائرنگ…

Read more