عریاں تصاویر کے ذریعے سوشل میڈیا پر کردار کشی اور بلیک میلنگ

(عریاں تصاویر کے ذریعے سوشل میڈیا پر کردار کشی اور بلیک میلنگ)
ندیم خالد

وہ بہت پریشان تھا، میرے ایک دوست کامران خان کے توسط سے ملنے آیا تھا۔ میں اسے جانتا نہیں تھا، لیکن وہ مشکل میں تھا اس کو مدد کی ضرورت تھی، اس کا دکھ اور درد حقیقی تھا۔ وہ بات بتانے سے ڈر رہا تھا۔ میں نے اسے حوصلہ دیا، اسے یقین دلایا کہ وہ اعتماد کرسکتاہے، کامران خان نے بھی اسے دلاسا دیا۔ لیکن وہ پھر بھی جھجک رہا تھا، وہ شرما رہا تھا۔

میں حیرانی سے کامران خان کا منہ دیکھ رہا تھا کہ کامران ہی بات بتا دے تاکہ معلوم ہوسکے کہ مسئلہ کیا ہے، کامران نے یہ سارا چپ کا سلسلہ توڑا، کامران نے کہا کہ بات یہ ہے، بھائی پیشہ کے لحاظ سے ڈاکٹر ہے، اس کی بہن میڈیکل کالج کی طالبہ ہے، اس نے کچھ تصاویر لے کر اپنے جی میل اکاؤنٹ میں رکھی تھی جو کسی نے وہاں سے نکال کر فیس بک پر قابل اعتراض حد تک ایڈٹنگ کے بعد نیا اکاؤنٹ بنا کر پوسٹ کر دی ہیں۔

دوست کی بہن کی عزت پورے کالج میں جو گئی سو گئی، مگرجس ذہنی اذیت سے اس کا خاندان گزر رہا ہے اس کو لفظوں میں بیان کرنا اس کے لیے مشکل ہے۔ یہ دوست خود کو بہت بے بس محسوس کر رہا ہے۔ یہ صرف اس شخص کا پتہ لگا کر اس کے خلاف قانونی کارروائی چاہتا ہے۔ لیکن سمجھ نہیں آرہی کہ کیا کرے؟

ایک دوسرا کیس ایک ڈاکٹر کا کیس ہے، جس نے مجھے حقیقت میں ہلا کر رکھ دیا، یہ صاحب لاہور میں انگریزی ٹائپ بڑے سکولوں کی ایک چین کے چئیرمین ہیں اور سابق بیوروکریٹ بھی، اس شخص نے اپنی بیوی کو طلاق دی اور طلاق کے بعد بیوی کے فیس بک اکاؤنٹ اور جی میل اکاؤنٹ کو ہیک کر کے سابقہ بیوی کی نازیبا تصویریں پوسٹ کر دیں، کیا کوئی شخص اس قدر نیچ حرکت کی بھی کرسکتا ہے اور وہ اس عورت کے ساتھ جو سابقہ بیوی ہو اور اس سے دو بچے بھی ہوں؟

Read more