نصیر احمد ناصر: نظم کی دریافت

نصیر احمد ناصر سے میرا تعلق ایک منفرد شاعر اور انفرادیت پسند مداح کا ہے جو یوں تو اتنا قدیم ہے جتنی خود نظم لیکن اس کا ادراک یا انکشاف 2005 ء میں ہوا جب میں پنجاب یونیورسٹی میں تھی۔ تب سے اب تک یہ بغیر کوئی بڑی تبدیلی دیکھے یونہی چلتا آ رہا ہے۔…

Read more

ایک ٹیچر کا خوف: یہ کون ہے؟

میں ساٹھ پینسٹھ بالغ با شعور نوجوانوں کی کلاس میں کھڑی ہو کر ہر ایک کے دین کے معیار پہ کیسے پوری اتروں؟ رولنمبر ایک سرکاری کالج سے پڑھ کے آیا ہے۔ رولنمبر دو نے مہنگے پرائیویٹ آزاد لبرل کالج سے یہاں قدم رکھا ہے۔ کونے والی بچی برقعے میں ہے۔

دائیں ہاتھ پہ ٹانگ پہ ٹانگ رکھ کے بیٹھنے کی عادی جینز میں ایزی رہتی ہے۔ وہ سامنے والا مدرسے سے پڑھا عالم ہے، انگریزی کا پرچہ دے کر بی اے کے برابر ہے اور یونیورسٹی میں بیٹھا ہے۔ ایک بچی مجالس پڑھتی ہے۔ تیسری رو میں بیٹھی سیدھی گردن اور چھوٹے بالوں والی پچھلے سیزن مس ویٹ پاکستان کے تیسرے راؤنڈ تک گئی تھی۔

دو عمرے پہ گئی ہیں چھٹی پہ ہیں۔ جو سب سے صاف لہجے میں سوال کرتی ہے اس نے کھرے الفاظ میں پوچھا ہے کہ خدا کیوں ضروری ہے؟ اس کے ساتھ بیٹھی مطمئن نظر آتی حافظہ ہے۔ اس کے نانا مفسر تھے۔ انجینئر بھی تھے۔ میں زنبیل میں سے مذہب کے نام پہ کون سا شعبدہ نکالوں کہ ان سب کو مبہوت نہ سہی مطمئن تو کرے!

Read more

کالج سے گھر کا راستہ

یہ دو ہزار تین یا چار کی بات ہے۔ میں اور ثمرین کالج سے پیدل نکل کر گھر کے لئے چل پڑے تھے۔ حالانکہ گھر دور تھا، وہ کافی زیادہ راستہ بھی تھا۔ یہ راستہ طے کرنے میں ثمرین کا فارمولا کام آتا تھا۔ فارمولا یہ تھا کہ کینٹین سے سموسے پکوڑے اور ایک آدھ…

Read more