حیرانی تو بنتی ہے!

پورا پاکستان حیران ہے اور حیرانی کی وجہ نیوزی لینڈ کی خاتون وزیراعظم ہیں جن کی مسجد پر ہونے والے حملوں کے بعد کی تصویروں نے جہاں پوری دنیا کو متاثر کیا ہے وہیں انہوں نے پاکستانیوں کو اس سے زیادہ حیران کیا ہے۔ اس ٹریجڈی کے درد کو کم کرنے میں نیوزی لینڈ کی…

Read more

چولستان کا دکھ !

یزمان‘ تحصیل بہاولپور میں وہاں کے مقامی لوگوں سے زمینیں چھیننے‘ ان کے گھرجلانے اور ان پر شدید تشدد کے مناظر دیکھ کر سولہ برس پہلے کی ایک سٹوری یاد آئی جو شاہین صہبائی کے ویب اخبار کے لیے فائل کی تھی ۔ وہ ایسی سٹوری تھی جس نے ملک میں تہلکہ مچادیا ۔انہیں وہ…

Read more

کوٹ سلطان کا جام کرم الٰہی

ضلع لیہ کے شہر کوٹ سلطان سے کچھ فاصلے پر گائوں میں ہر طرف گندم کی سرسبز فصل اور مالٹوں کے باغات میں گھرے خوبصورت گھر کے باہر جام اقبال، جام حسنین اور جام خالد کے ساتھ اپنے سکول کے زمانے کے استاد جام کرم الٰہی کی فاتحہ کے لیے ہاتھ اوپر اٹھائے تو دل…

Read more

بس ذرا گوجرانوالہ تک

پھر وہی پرانا مسئلہ درپیش تھا جس سے میری جان جاتی ہے۔ گوجرانوالہ کے ریجنل پولیس افسر طارق عباس قریشی کا میسج تھا۔ وہ ’پولیس اور عوام کے درمیان اچھے تعلقات کیسے تعمیر کیے جا سکتے ہیں‘ کے موضوع پر سیمینار کرانا چاہتے تھے۔میری سیمینار میں شرکت اور لیکچرز دینے سے جان جاتی ہے۔ شاید سرائیکی ہونا بھی وجہ ہے۔ ہمارا گھر سے باہر جانے کو دل نہیں چاہتا۔ ہم سرائیکیوں کے بارے میں مشہور ہے کہ ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں چلے جائیں تو بھی پردیس میں پہنچ جاتے ہیں اور مونجھ آنا شروع ہو جاتی ہے۔ ہم سرائیکیوں کو اس مونجھ نے کہیں کا نہیں چھوڑا۔ ہماری ترقی کی راہ میں رکاوٹ مونجھ بھی ہے۔ لندن میں بھی یہ مسئلہ مجھے درپیش تھا۔ سب دوست کہتے : یہیں رہ جاؤ۔ میں کہتا: میں تو رہ لوں گا لیکن مونجھ نہیں رہنے دے گی ’سنبھالو اپنا لندن۔

Read more

نواز شریف کہاں غلطی کرگئے؟

وزیر اعظم ہاؤس میں دو درجن کے قریب اینکرز اور صحافیوں کے ساتھ وزیر اعظم کی جب گفتگو ختم ہو گئی تو مجھے محسوس ہوا، جب یہ سب باتیں باہر نکلیں گی تو سب کہیں گے کہ یہ باتیں تو سابق وزیر اعظم نواز شریف بھی کرتے تھے۔ اس بار نیا کیا ہے؟

پاک بھارت معاملات پر عمران خان صاحب تقریباً وہی گفتگو کر رہے تھے جو سابق وزیر اعظم نواز شریف کرتے تھے۔ وہ بھی ہمیں یہی سمجھاتے تھے : دنیا بدل رہی ہے، اب ہمیں دنیا کے ساتھ کھڑا ہونا ہے اور نان سٹیٹ ایکٹرز کو ختم کرنا ہے، ہم دنیا سے کٹ کر نہیں رہ سکتے۔

Read more

کھایا پیا کچھ نہیں گلاس توڑا بارہ آنے

شاہد بھائی بھی اسلام آباد کے چند گنے چنے مہمان نواز دوستوں میں سے ایک ہیں۔ دوستوں کو ہوسٹ کرنے پر ہر دم تیار۔ شاہد بھائی کی بیگم صاحبہ کمال کا چینی کھانا بناتی ہیں اور ہمیں برداشت کرتی ہیں۔ ڈاکٹر ظفر الطاف، عامر متین، میجر عامر، طارق پیرزادہ، ارشد شریف اور اب شاہد بھائی، ہم خوش قسمت ہیں کہ اسلام آباد جیسے شہر میں آدھ درجن ایسے لوگ ہیں جو دوسروں کو کھلانے پلانے پر یقین رکھتے ہیں، ورنہ اس شہر میں جو آتا ہے وہ کھا پی کر دوبارہ اپنے اپنے علاقوں، شہروں اور گھروں کو رفوچکر ہو جاتا ہے۔ارشد شریف ابھی ابھی اس جگہ سے رپورٹنگ کرکے لوٹے تھے جہاں بھارت نے حملہ کرکے انفراسٹرکچر تباہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ ان سے پوری کہانی سنی۔

Read more

لمبے ناک والے کی تلاش

وزیر اعظم جناب عمران خان کی پارلیمنٹ میں کی گئی غیرمعمولی تقریر نے اس خطے میں چھائے جنگ کے خطرات کو کسی حد تک دور کر دیا ہے۔ انہوں نے بھارتی پائلٹ کو رہا کر کے بڑی سمجھداری سے بال بھارت کے کورٹ میں پھینک دی ہے۔کئی برس پہلے مجھے عمران خان صاحب کے حوالے…

Read more

تاریخ کے قیدی …(3)

لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو اندازہ نہ تھا کہ پشاور میں پاکستان کے حق میں اتنی بڑی تعداد میں لوگ اکٹھے ہو جائیں گے۔ دلی سے روانہ ہونے سے پہلے اسے علم تھا کہ پنجاب اور سرحد دو اہم صوبے ہیں‘ جہاںمسلمان بڑی تعداد میں ہیں اور مسلم لیگ یہ مطالبہ کر رہی ہے کہ ان…

Read more

تاریخ کے قیدی ۔۔۔ 2

آسام کے مندر کا سوامی آنند کافی دیر تک سوچتا رہا ۔ ہندوستان کی آزادی کا زائچہ بنانے کے بعد اس کے اندر گھبراہٹ بڑھ گئی تھی ۔ کوئی قوت اسے مجبور کر رہی تھی کہ وہ فوراً کچھ کرے‘ وائسرائے ہند لارڈ مائونٹ بیٹن کو روکے۔ آسمانی قوتوں کے زیر اثر اس اندرونی آواز…

Read more

ماؤنٹ بیٹن، ہندوستان کی آزادی اور جوتشیوں کی پریشانی

ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ کے بڑھتے خطرات پر ایک شاندار کتاب Freedom at Midnightکا ایک باب یاد آیا۔ جب وائسرائے ہند لارڈ ماؤنٹ بیٹن سے ایک پریس کانفرنس میں سوال کیا گیا کہ وہ ہندوستان کو تقسیم کرنے کی کون سی ڈیڈ لائن ذہن میں رکھ کر برطانیہ سے آئے ہیں؟

وائسرائے کے جواب نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ اور تو اور اس تاریخ کا پتہ برطانوی وزیراعظم ایٹلی اور اس کی کابینہ کو بھی نہ تھا۔لارڈ ماؤنٹ بیٹن ہندوستان کے دوسرے وائسرائے تھے جنہوں نے پریس کانفرنس کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ یہ ماؤنٹ بیٹن کی پہلی اور آخری پریس کانفرنس تھی۔ اس وقت ہال میں تین سو صحافی موجود تھے‘ جن میں امریکہ‘ روس‘ برطانیہ ‘ چین اور یورپ سے آئے ہوئے صحافی بھی شامل تھے ‘جو نئے وائسرئے کو سننا چاہتے تھے۔

Read more