بینظیر بھٹو اور جنرل فیض چشتی کا راز

ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے خاتمے کے مرکزی کردار اور جنرل ضیا کے قریبی جنرل فیض علی چشتی نے بات ہی ایسی کہہ دی تھی کہ انور بیگ کو لگا ان پر بم گر گیا ہو۔ ”میں بینظیر بھٹو سے ملنا چاہتا ہوں اور آپ میری ملاقات کرائیں“ فیض چشتی نے حیران پریشان انور بیگ سے کہا۔

بینظیر اکتوبر 2007 ء میں پاکستان لوٹی تھیں اور اب نومبر میں فیض چشتی انور بیگ سے کہہ رہے تھے کہ وہ بینظیر بھٹو سے خفیہ ملاقات کرائیں۔ جنرل چشتی سے انور بیگ کی ملاقات 1977 ء میں اسلام آباد ہوئی تھی۔ بیگ نے شہر اقتدار میں نیا نیا گھر لیا تھا۔ جنرل ضیا بھٹو کا تختہ الٹ کر انہیں جیل میں ڈال چکے تھے۔ چشتی صاحب کو مارشل لاء کا آرکیٹیکٹ سمجھا جاتا تھا۔ انور بیگ نے کہا: فیض صاحب، بھلا میں کیسے ملاقات کرا سکتا ہوں؟

Read more

کچھ نہ کچھ تو کیا ہو گا!

کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ آپ لوگ میرے کالموں میں ڈاکٹر ظفر الطاف کا بار بار ذکر پڑھ کر بور ہو جاتے ہوں گے۔ اگر ہوتے ہیں تو معذرت، لیکن کیا کروں۔ اُن کو فوت ہوئے پانچ برس ہونے کو ہیں لیکن مجال ہے کوئی دن گزرا ہو، جب وہ یاد نہ آئے ہوں…

Read more

دنیا پیتل دی او یار

اس وقت میں تین الجھنوں کا شکار ہوں۔پہلی الجھن یہ ہے کہ مجھے وزیر داخلہ بریگیڈیئر اعجاز شاہ کی باتیں یاد آرہی ہیں جو میری موجودہ حالت پر پوری اترتی ہیں۔ دوسری الجھن یہ ہے کہ میری بیوی میری موجودہ حالت پر خوش ہے۔ اس کے مطابق میری سوشل میڈیا پر درست ٹھکائی ہو رہی…

Read more

موت کا فرشتہ

موت کا فرشتہ

آج کل میں اپنے چھوٹے بیٹے کی منت سماجت کر کے اس سے دو کام کراتا ہوں۔

کئی برس قبل ادبیات نے بچوں کا ادب کے نام سے سینکڑوں کہانیاں اور افسانے چھاپے تھے۔ یہ ادبیات کی بڑی خدمت تھی۔ ادبیات کے اس شمارے میں سے روز ایک کہانی وہ اونچی آواز میں پڑھ کر مجھے سناتا ہے۔ شروع میں وہ کچھ دن بہانے تراشتا تھا۔ تھکا ہوا ہوں۔ دل نہیں چاہ رہا۔ بابا کل نہ کر لیں؟ وعدہ ’کل دو کہانیاں پڑھ لوں گا۔

اسے فلم ڈائریکٹر پروفیشن اپنانے کا شوق ہے تو اسے یہ بھی لالچ دی بیٹا جی ’اچھے پروڈیوسر اور ڈائریکٹر کے لیے اچھا فکشن پڑھنا کتنا ضروری ہے۔ میں نے کہیں پڑھ رکھا تھا‘ انسان کو کوئی بھی نئی عادت اپنانے یا پرانی عادت ترک کرنے کے لیے اکیس دن کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ اگر اکیس دن مسلسل ضد کر کے وہی کام کرتا رہے تو بائیس دن بعد خود بخود نیا کام کرنا شروع کر دے گا یا پھر پرانی عادت مستقلاً چھوٹ جائے گی۔

Read more

اگر آپ کے لیڈر عظیم ہیں

وقت کے ساتھ ساتھ سیاستدان یہ سیکھ جاتے ہیں کہ کیسے مشکل سوال یا کمنٹ پر بھی مسکراتے رہنا ہے۔ یہ جمہوریت کی خوبیوں میں سے ایک ہے کہ آپ ہر ایک کو جوابدہ ہوتے ہیں، لہٰذا تلخ سوالات کا سامنا کرتے کرتے آپ صبروتحمل سیکھ جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں کیونکہ عوام سے ووٹ لینا ہے تو پھر عوام سے عزت سے بھی پیش آنا پڑتا ہے ؛ اگرچہ آج کل یہ رواج ختم ہوگیا ہے اور اب جو وزیر یا سیاستدان سب سے زیادہ کھلا ڈلا بول سکے، وہی اعلیٰ عہدوں اور ٹی وی چینلز کے شوز میں پر بیٹھنے کا حقدار ٹھہرتا ہے۔

ابھی ایک نئے وزیر کی جب وزیر اعظم سے ملاقات ہوئی تو انہیں یہی کہا گیا کہ میڈیا سے ڈرنا نہیں بلکہ لڑنا ہے اور اگر ڈر گئے تو آپ کی خیر نہیں۔ وزیراعظم کے ایک اور سپیشل اسسٹنٹ نے بھی ترجمانوں کی محفل میں یہی شکایت کہ فلاں فلاں ترجمان یا وزیر ٹی وی چینلز پر پوزیشن نہیں لیتے۔ پوزیشن نہ لینے سے ان کی مراد ہے کہ وہ کھل کر مخالفوں پر زبانی کلامی حملہ آور نہیں ہوتے اور مہذب انداز میں بات کرتے ہیں۔ کوئی شک نہیں کہ چینلز نے ہمیں بڑی حد تک بے صبرا کر دیا ہے۔

Read more

ایک ہیرو، ایک ولن

کبھی کبھی مجھے لگتا ہے شاید ہم انسانوں کے اندر اچھے لوگوں کی قدر نہیں ہوتی۔ شیکسپیئر یاد آتا ہے کہ انسان کے مرنے کے ساتھ ہی اس کی اچھائیاں دفن ہو جاتی ہیں جبکہ برائیاں پیچھے دنیا میں رہ جاتی ہیں۔ آپ کچھ بھی کر لیں لوگ پھر بھی بے پروا رہتے ہیں۔ انہیں فرق نہیں پڑتا کہ آپ نے ان کی خاطر کیا قربانی دی، آپ نے سٹینڈ لیا، آپ نے بیوی بچوں اور خاندان کے مفادات پر معاشرے کے مفادات کو ترجیح دی۔ جن کے لیے آپ لڑ رہے تھے شاید انہیں پتہ ہی نہ ہو کہ کس وقت کون ان کے لیے کھڑا تھا اور اگر وہ سٹینڈ نہ لیتا تو شاید وہ سب مارے جاتے۔ جنہوں نے ان کی جانیں بچانے کے لیے سٹینڈ لیا وہ اپنے کیریئر تباہ کر بیٹھے، سزائیں بھگتیں اور نوکریوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

Read more

کرپشن پر سب کا حق ہے!

یاد پڑتا ہے پیپلز پارٹی کی حکومت تھی اور یوسف رضا گیلانی وزیر اعظم تھے۔ مظفر گڑھ سے پیپلز پارٹی کے ایم این اے قیوم جتوئی وزیر تھے۔ پیپلز پارٹی کو پروا نہیں تھی کتنی کرپشن ہو رہی ہے۔ جب پوری حکومت صدر زرداری کے چھ ارب روپے کی منی لانڈرنگ بچانے میں مصروف تھی تو پھر بھلا کس نے کسی وزیر کو روکنا تھا۔ فری فار آل تھا۔ جب بادشاہ کسی باغ کا مفت میں سیب کھائے گا تو فوج پورا باغ اجاڑ دے گی۔ وہی ان دنوں ہو رہا تھا۔

جب پیپلز پارٹی کی حکومت کے آخری دو تین ماہ بچ گئے تھے تو یوں لگتا تھا جیسے اسلام آباد غیر ملکی فوج کے نرغے میں آ گیا ہے۔ جس کے ہاتھ جو لگا وہ سمیٹ رہا تھا۔ ای سی سی اجلاس دو دن تک مسلسل ہوئے۔ ان اجلاسوں میں تیس نکات والے ایجنڈے پر بات ہوئی اور زیادہ تر ایجنڈا زرداری کے قریبی ڈاکٹر عاصم حسین کی سمریاں تھیں۔ ان اجلاسوں میں کس نے کیا کمایا وہ الگ کہانی ہے۔ اور تو اور اس وقت کی سپیکر قومی اسمبلی نے، جو پہلے ہی چوراسی کروڑ روپے بینک قرضہ معاف اور چالیس لاکھ روپے اپنے کینسر کے علاج پر امریکہ میں عوام کی جیب سے خرچ کرا چکی تھیں، سوچا ہو گا، اب آخر میں اور کیا ہو سکتا ہے؟

Read more

حکمرانوں کے طفیلیے

اسلام آباد ایسا سرکس ہے جہاں آپ کو روز نیا کرتب دیکھنے کو ملتا ہے۔ ایسے ایسے سیاسی مداری اور کھلاڑی ملتے ہیں، آپ حیران ہو جاتے ہیں کہ ایسی چنگاری بھی یا رب اپنی خاکستر میں تھی۔

جو نئی حکومت آتی ہے وہ اپنے ساتھ نئے طفیلیے (پیراسائٹس) لاتی ہے جن کا نام آپ نے کبھی نہیں سنا ہوتا۔ مشیروں اور سپیشل اسسٹنٹس کی تعداد سولہ سے بڑھ چکی۔ اکثر ذاتی دوست یا پارٹی کے تنخواہ دار ملازم تھے۔ آپ حیران ہوتے ہیں، فلاں صاحب کون اور کہاں سے ٹپک پڑے، پس منظر کیا ہے اور حکمرانوں سے کیا تعلق ہو سکتا ہے یا ملک کے لیے ایسی کیا خدمات تھیں جو نظروں سے اوجھل رہیں؟ یہ دراصل وہ لوگ ہوتے ہیں جو سیاستدانوں اور حکمرانوں پر سرمایہ کاری کرتے رہتے ہیں۔

Read more

حکمران یاد رکھیں کہ جرم مرتا نہیں!

بعض دفعہ کوئی بندہ ایسی بات کر دیتا ہے کہ آپ کی سوچ ہی بدل جاتی ہے۔ میرے ساتھ بھی یہی ہوا۔ ایف آئی اے کے افسر سے بات ہو رہی تھی۔ میں نے کہا: آئی پی پیز رپورٹ میں ندیم بابر اور رزاق داؤد بارے کہا گیا ہے کہ ان کے بجلی گھروں نے تگڑا مال بنایا، اب وہ رپورٹ دبا لی گئی ہے۔ اس پر کسی نے تبصرہ کیا تھا: یہ رپورٹ میڈیا پر لیک ہو گئی تھی، سب کو پتہ چل گیا کہ کس نے کتنا مال بنایا اور کس وزیر اور مشیر نے کتنے لمبے ہاتھ مارے ہیں۔

اب سرکاری رپورٹ چھپے یا نہ چھپے۔ میں نے کہا: نہیں، جب حکومت یہ فیصلہ کر لیتی ہے کہ اس رپورٹ کو پبلک نہیں کرنا تو مطلب ہے حکومت اونرشپ نہیں دے رہی اور کوئی ادارہ کارروائی نہیں کر سکتا۔ جس نے جو کچھ کھانا تھا، لوٹ مار کرنی تھی، وہ کر لی۔ وہی لوگ وزیر اعظم کے مشیر اور وزیر ہیں جن پر گندم، شوگر، ادویات اور اب بجلی گھروں کے نام پر اربوں کی لوٹ مار کے الزامات لگے ہیں۔ انہوں نے ہی اب بجلی گھروں والی رپورٹ دبوا دی ہے۔ حمودالرحمن کمیشن رپورٹ سے ایبٹ آباد کمیشن تک سب رپورٹس باہر نہ نکلیں۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ دونوں رپورٹس بیرون ملک میڈیا نے چھاپ دیں، لیکن ہمارے حکمرانوں نے وہ رپورٹس عوام کو براہ راست نہ پڑھنے دیں۔

Read more

عمران خان اور اپنی آنکھ کا شہتیر

دنیا میں کسی کو بھی خامی بتائی جائے اسے اچھا نہیں لگتا۔ مجھے بھی نہیں لگتا۔
یہاں روز حکومت کی خامیاں بتانی ہوتی ہیں تو بھلا کیسے آپ کسی کو اچھے لگ سکتے ہیں۔

پاکستانی میڈیا پر اس وقت تین بڑی پارٹیاں سخت ناراض ہیں۔ تینوں نے تنخواہ دار ملازم رکھے ہوئے ہیں جنہوں نے جعلی ٹویٹر اکاؤنٹس بنا کر گالی گلوچ بریگیڈز اپنے اپنے مخالفین پر چھوڑی ہوئی ہیں۔ اس وقت میڈیا کو کہیں سے سپورٹ نہیں مل رہی۔ وہ عوام جن کے لیے میڈیا حکمرانوں کی نظروں میں برا بنتا ہے وہ بھی حکمرانوں کے گیت گاتے ہیں۔ ان سیاستدانوں کو داد دینی پڑے گی کہ جن عوام کے وسائل لوٹتے ہیں انہی کو اپنے دفاع پر بھی لگا رکھا ہے۔

Read more