وزیر ہوابازی اور زلفی بخاری میں محاذ آرائی

قومی اسمبلی کے حالیہ اجلاس کا آخری دن تھا۔ ایک دن پہلے خبر آئی جس کے مطابق وزیر موصوف بھی نیب کے ریڈار پر آ گئے تھے۔ ڈسٹرکٹ کلکٹر سے وزیر صاحب کے علاوہ ان کی صاحبزادی سمیت جملہ اہل خانہ کے اثاثوں کی تفصیلات طلب کر لی گئی تھیں۔ اجلاس کے اس آخری روز وہ اس پر برہم تھے ؛ تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ کسی احتساب سے نہیں ڈرتے، احتساب ہو اور ہم سب کا ہو، اور ان کا بھی ہو جو تین تین بار وزیر رہے (ظاہر ہے ان کا اشارہ اپنے روایتی حریف چودھری نثار علی خاں کی طرف تھا) اس موقع پر حزب اختلاف کی نشستوں سے ایک طنزیہ فقرے پر وہ آپے سے باہر ہو گئے۔ امجد خاں نیازی چیئر پر تھے لیکن وزیر صاحب نے انہیں مخاطب کرنے کے بجائے براہ راست حزب اختلاف کی طرف رخ کیا اور دونوں بازو لہرا کر دعوت مبارزت دینے لگے۔

Read more

”زبان دراز“ فردوس عاشق اعوان

اقتدار کے ایوانوں میں باہم رسہ کشی بھی ہوتی ہے۔ ایک ہی ٹیم کے ارکان کے درمیان سرد جنگ بھی رہتی ہے۔ ”باس“ کے قریب تر ہونے کے لیے، کسی دوسرے کو پیچھے کھینچنا بھی پڑتا ہے۔ وہ جو شاعر نے کہا تھا ؎

جو بھی آوے ہے ترے قدموں میں جا ڈھونڈے ہے
میں کہاں تک ترے پہلو سے سرکتا جاؤں

باس کانوں کا کچا ہو تو خوشامدیوں اور چاپلوسوں کا کام آسان تر ہو جاتا ہے، اور کسی کے خلاف باس کے کان بھرنا مشکل نہیں ہوتا۔ جناب عمران خان کا پرائم منسٹر ہاؤس بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔ سنا ہے، آج کل وزیر قانون اور قانون و پارلیمانی امور کے مشیرکی آپس میں نہیں بنتی۔ فردوس عاشق اعوان رخصت ہو چکیں۔ یہ رخصت رضاکارانہ نہیں، جبری تھی، اس کے باوجود ہمارے فواد چودھری کا کلیجہ ٹھنڈا نہیں ہوا۔ ویسے دیکھا جائے تو فواد چودھری کا غصہ بنتا بھی تھا۔

Read more

18 ویں ترمیم۔ ۔ ۔ کیا مسئلہ نواز شریف کی چوتھی باری ہے؟

کورونا کرائسس پر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے اجلاس (اور ان میں حکومت اور اپوزیشن کے رویے ) اور سمارٹ لاک ڈاؤن سے ہوتی ہوئی، گفتگو 18 ویں ترمیم پر آ گئی تھی۔ میزبان کا استفسار تھا کہ اپنی تمام تر توجہ اور توانائیاں اس بدترین بحران اور سخت ترین چیلنج پر مرکوز کرنے اور قومی اتفاق رائے کا اہتمام کرنے کے بجائے کیا 18 ویں ترمیم جیسے حساس اور نازک مسائل اٹھانا ضروری ہے؟ ہوابازی کے وفاقی وزیر غلام سرور خاں کی سادگی دیدنی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ خود حیران ہیں کہ ایسے حساس مسائل اٹھانے کا یہ کون سا موقع اور محل ہے؟ جبکہ اس مسئلے پر پی ٹی آئی کی کور کمیٹی میں بات ہوئی، نہ ہی پارلیمانی پارٹی یا کابینہ میں یہ مسئلہ زیر بحث آیا، پھر میڈیا میں یہ بحث کیوں شروع ہو گئی؟ یہاں میزبان مختلف ٹاک شوز میں ایک سے زائد وزرا اور سرکاری ترجمانوں کی گفتگو اور ان کے ٹویٹس کا حوالہ دے سکتے تھے، لیکن اختصار کے پیش نظر صرف اسد عمر کا نام لیا (جن کا ستارہ ایک بار پھر چمک دمک رہا ہے اور وہ عملاً ڈپٹی پرائم منسٹر لگ رہے ہیں ) غلام سرور خاں نے پینترا بدلا۔

Read more

لاک ڈاؤن میں نرمی، قومی اسمبلی کا اجلاس اور دہشت گردی

قومی اسمبلی کے ورچوئل اجلاس کی بجائے اپوزیشن کے اصرار پر باقاعدہ اور باضابطہ اجلاس کے انعقاد کا فیصلہ ہو گیا۔ سوموار کے سہ پہر تین بجے شروع ہونے والا، ہفتے بھر کا اجلاس عملاً تین دن ہو گا۔ ۔ ۔ سوموار، بدھ اور جمعہ۔ ۔ ۔ اور تینوں دن سہ پہر تین بجے سے شام چھ بجے تک۔

سوموار کی سہ پہر اڑھائی بجے تک (جب یہ کالم لکھا جا رہا ہے ) قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف لاہور ہی میں تھے۔ گویا افتتاحی سیشن میں ان کی شرکت کا کوئی امکان (اور ارادہ) نہ تھا۔ بدھ اور جمعہ کے اجلاسوں میں بھی ان کی شرکت کے متعلق یقین سے کچھ کہنا مشکل ہے۔

Read more

”احتساب ویکسین“ اور چودھریوں کو نئے نوٹس

احسن اقبال کی رگ ظرافت پھڑکی: دنیا بھر میں سائنسدان کورونا وائرس کے لیے ویکسین کی تیاری کے تجربات میں مصروف ہیں اور ہمارے ہاں وزیراعظم صاحب نے اس کے لیے ”احتساب ویکسین“ کے استعمال کا فیصلہ کیا ہے۔ بدھ کی سہ پہر لاکھوں، کروڑوں پاکستانیوں کی نظریں ٹی وی سکرینوں پر لگی تھیں، جنہیں…

Read more

جنرل عاصم سلیم باجوہ کی واپسی

جنرل راحیل شریف سعودی عرب کی سرپرستی والی اسلامی اتحاد فوج کے سربراہ بنے تو کسی نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ ڈال دی کہ شاہ سلیمان بن عبدالعزیز نے جنرل صاحب کو اسلامی اتحاد فوج کے لیے دستیاب ساز و سامان کی تفصیل بتانے کے بعد پوچھا، کوئی چیز رہ گئی ہو، کسی اور…

Read more

مولانا طارق جمیل کے حوالے سے میرا دکھ

مولانا طارق جمیل کے حوالے سے میرا دکھ اور ہے۔ دلوں کے بند دروازوں پر دستک دینے اور پھر دلوں میں گھر کر جانے والے ایک موثر اور پرتاثیر مبلغ کے طور پر مولانا کی شہرت عام ہو چکی تھی، لیکن مجھے ان سے پہلی ملاقات کا شرف جدہ کے سرور پیلس میں حاصل ہوا،…

Read more

شہباز ، نیب آنکھ مچولی اور بیانیے کا مسئلہ

شہباز شریف اور نیب میں آنکھ مچولی جاری ہے۔ وہ 22 اپریل کو بھی پیش نہیں ہوئے۔ اس سے پہلے انہیں 17 اپریل کو طلب کیا گیا تھا لیکن انہوں نے کورونا کی آئسولیشن کے باعث جسمانی حاضری سے معذرت کر لی اور پیش کردہ سوالنامے میں مطلوبہ معلومات، ضروری دستاویزات کے ساتھ ارسال کر…

Read more

شہباز شریف اور اندیشہ ہائے دور دراز

نواب زادہ صاحب شعر پڑھا کرتے تھے ؎ سبو اپنا اپنا ہے جام اپنا اپنا کئے جاؤ میخوارو کام اپنا اپنا کورونا کی برپا کی ہوئی سنگین صورتحال میں بھی نیب اپنے کام میں مصروف ہے۔ نیب چیئرمین کا یہ قول صادق ان کی ہر تقریر کا جزو لازم بن چکا کہ ہم ”فیس“ نہیں،…

Read more

ہمارے ’’مولوی‘‘ سعید اظہر

یوں بھی ہوتا ہے کہ کہنے والے کوکہنے کا اور سننے والے کو سننے کا یارا نہیں ہوتا۔ جمعرات کی دوپہر بھی یہی کیفیت ہوئی۔ شعیب بن عزیز کی کال تھی۔ یوں لگا‘ وہ بات کہنا چاہ رہے ہیں لیکن کہہ نہیں پا رہے‘ جیسے ان کی تمام تر قادر الکلامی دھری کی دھری رہ…

Read more