سبو اپنا اپنا ہے، جام اپنا اپنا

بلاول بھٹو زرداری کا افطار ڈنر ایک اہم پولیٹیکل ایونٹ تھا، جسے حکومت اور پی ٹی آئی کے ردِ عمل نے اہم تر بنا دیا تھا۔ کہتے ہیں، سیاست اعصاب کی جنگ ہے، بلاول کے اس افطار ڈنر کو حکومت نے اپنے سر پر سوار کر لیا تھا اور اعصاب باختگی کی کیفیت چھپائے نہ…

Read more

’’وہ‘‘ جنگ اور ’’یہ‘‘ جنگ…میجر عامر کا خط

روس کے خلاف افغان جہاد میجر عامر کیلئے ایک جذباتی موضوع ہے۔ جہاد کے اُن برسوں میں وہ آئی ایس آئی اسلام آباد کے چیف تھے اورجہاد کا اساطیری کردار ۔14مئی کے جمہور نامہ پر ان کا خط موصول ہوا‘ لیکن اس سے پہلے ایک ضروری پیغام کہ دسمبر2013ء میں او آئی سی نے 15رمضان…

Read more

نورانی میاں کی دستارِ فضیلت جیالوں میں یوں تقسیم ہوئی جیسے داتا صاحب کا لنگر ہو

پنجاب یونیورسٹی میں فارسی کے استاد ڈاکٹر سلیم مظہر سے پوچھا‘ گوگل پر سرچ کی لیکن فارسی کے اس خوبصورت شعر کے خالق کا نام معلوم نہ ہو سکا: تازہ خواہی داشتن گر داغ ہائے سینہ را گاہے گاہے باز خواں ایں قصۂ پارینہ را ''اگر تو چاہتا ہے کہ تیرے سینے کے داغ تازہ…

Read more

روس کے خلاف، وہ پاکستان کی جنگ تھی

آئین میں 26 ویں ترمیم کے بل پر قومی اسمبلی میں خواجہ محمدآصف کا خطاب جذبات سے بھرپور تھا۔ یہ بل خیبر پختو نخوا اسمبلی میں فاٹا کی نشستوں میں اضافے کے لیے ہے۔ انضمام کا فیصلہ ہوا تو صوبائی اسمبلی میں فاٹاکی نشستوں کی تعداد 16قرار پائی۔ اب ان نشستوں کو16سے24کرنا مقصود ہے‘انضمام کے…

Read more

….اور پی ٹی آئی بنام مریم نواز

''حکومت کرنا مشکل ہے یا اپوزیشن؟‘‘ اخبار نویس کے اس غیر متوقع سوال پر وزیر اعظم کے جواب میں کالم آرائی کے لیے خاصا سامان تھا۔ فرمایا، حکومت کرنا بہت آسان ہے۔ یہ ایک اور Slip of Tongue تھی، پُر اعتمادی کا اظہار تھا، حالات کی سنگینی سے لا علمی و بے پروائی تھی یا…

Read more

پھر وہی کنجِ قفس…

منگل، سات مئی، سپریم کورٹ سے ضمانت پر چھ ہفتے کی رہائی کا آخری دن تھا۔ محکمہ داخلہ کی طرف سے شام پانچ بجے تک کوٹ لکھپت جیل پہنچ جانے کی ہدایت پر رانا ثناء اللہ کا جواب تھا، رہائی شب بارہ بجے تک ہے تو پانچ بجے شام کیوں سرنڈر کریں۔ آج پہلا روزہ…

Read more

آدھا سچ اور یونیورسٹی اساتذہ کے انتخابات

مولانا ظفر علی خاں نے کہا تھا ؎ نکل جاتی ہو سچی بات جس کے منہ سے مستی میں فقیہ مصلحت بیں سے وہ رندِ بادہ خوار اچھا لیکن جناب گوہر ایوب خان نے یہ سچی بات ایک ٹی وی انٹرویو میں بقائمیٔ ہوش و حواس کہی کہ اگر 1965ء کا صدارتی انتخاب بالغ رائے…

Read more

بلوچستان‘ دہشتگردی کی نئی لہر اور وفاقی کابینہ میں ردو بدل

دو درجن کے لگ بھگ مہمانوں کے ساتھ یہ ظہرانہ‘ شہر کے سینئر مدیرانِ جرائد ‘ کالم نگاروں اور تجزیہ کاروں کا نمائندہ اجتماع بن گیا تھا۔ شامی صاحب کی عمرہ سے واپسی پر یہ اہتمام نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے سیکرٹری شاہد رشید نے کیا تھا۔ کبھی اس طرح کی مبارک باد ی تقریبات کا…

Read more

سراج الحق کا دوسرا دورِ امارت

پشاور سے آئے ہوئے ایک اخبار نویس کا سوال تھا: آج آپ نے اپنی امارت کی دوسری (پنج سالہ) ٹرم کا حلف اٹھایا۔ کیا جماعت نے آپ کی امارت کے گزشتہ پانچ سال کا گوشوارہ بھی مرتب کیا کہ اس دوران کیا کھویا، کیا پایا؟ جناب سراج الحق کا جواب تھا ''اس دوران جماعت اسلامی…

Read more

طیارہ ہائی جیکنگ اور ایفی ڈرین کیس۔ ۔ ۔ ایک مماثلت

یہ بہار مسلم لیگ (ن) کے سیاسی چمن میں کئی پھول کھلا گئی۔ میاں نواز شریف کی ضمانت پر رہائی، حمزہ شہباز کے لیے انہی دنوں عدالتِ عالیہ سے تیسرا ریلیف، انٹرپول کا حسین نواز کے ریڈوارنٹ جاری کرنے سے انکار (کہ اس کے لیے حکومت پاکستان کے فراہم کردہ ”شواہد“ قابلِ اعتبار نہیں ) شہباز شریف کا ای سی ایل سے اخراج (جس کے بعد وہ حمزہ کی زیر علاج نوزائیدہ بیٹی اور سلمان کے نومولود بیٹے کو دیکھنے کے لیے لندن میں ہیں ) اور اب حنیف عباسی کی ضمانت اور عمر قید کی سزا کی معطلی، تازہ پھول ہے، جس کی خوشبو شہر راولپنڈی کے غم زدوں کے لیے بطورِ خاص وجۂ قرار بنی۔ جیسے خوشبوئے زلفِ بہار آ گئی، جیسے پیغامِ دیدارِ یار آ گیا۔

53 سالہ حنیف عباسی، ان سطور کی اشاعت تک لاہور کی کیمپ جیل سے رہا ہو چکا ہو گا۔ سنا ہے، پنڈی والے اپنے جیدار اور جانباز فرزند کے استقبال کو تاریخی بنانے کا عزم کیے ہوئے ہیں۔ حنیف عباسی 2002 ء میں سیاست کے قومی افق پر ابھرا، جب اس نے راولپنڈی میں شیخ رشید کی خالی کردہ قومی اسمبلی کی نشست پر (ضمنی انتخاب میں ) شیخ صاحب کے بھتیجے کو شکست سے دوچار کیا تھا۔ یہ پنڈی والوں کا فرزندِ لال حویلی سے انتقام تھا۔

Read more