کرونا اور ایک سرکاری دفتر کی پریشانیاں

میں صبح سویرے اُٹھ کر تیار ہو رہا تھا کہ ثانیا کی آنکھ کھل گئی اور وہ حیرت کے تاثرات کے ساتھ تیوری پر بل لاتے ہوئے پوچھنے لگی، ”اجی اتنی صبح کہاں جا رہے ہو تیار ہو کے؟ “ معنی خیز مسکراہٹ چہرے پر لاتے ہوئے میں نے جواب دیا، ”آفس جا رہا ہوں بیگم صاحبہ“ تو پھر سوالوں کی بوچھاڑ شروع ہو گئی، ”ہر دفعہ تو اتنی جلدی نہیں جاتے؟ اور 15 دن پہلے ہی تو گئے تھے، ابھی مہینہ پورا بھی نہیں ہوا۔ “

”ہاں، بتانا بھول گیا تھا، معظم صاحب کا فون آیا تھا رات کو، آنے کی گزارش کر رہے تھے، میں نے بھی سوچا کہ بھئی اتنے دنوں سے باہر نہیں نکلا، تازہ دم ہو کر آ جاؤں گا۔ “ یوں کہہ کر اس کو ماتھے پہ بوسا دیا اور گاڑی کی چابیاں لیتے ہوئے گھر سے نکلا۔ گاڑی پر نظر پڑتے ہی خیال آیا، ”3 سال پہلے کا ماڈل ہے، کیا مصیبت ہے کہ اب بڑی گاڑی رکھنے میں بھی خطرہ! لعنت ہو اس نیب پر کہ جس نے جینا حرام کر دیا ہے۔ “

Read more