جانے کہاں گئے وہ دن

آج سے تین، چار دہائی پہلے ہم انسان اپنے محدود آمدنی و وسائل میں بھی اپنی طرز زندگی سے نا صرف مطمئن تھے بلکہ ہماری زندگیوں میں اطمینان و سکون تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب ہمیں انٹرنیٹ اور کیبیل کی سہولتیں بھی میسر نا تھیں۔ گھر میں صرف ایک کمانے والا ہوتا تھا مگر پھر بھی پرسکون زندگی گزاری جاتی تھی۔

رشتہ دار و محلہ دار عزیز، اقارب ایک دوسرے کے دکھ، درد، اور خوشیوں کے دائمی ساتھی ہوتے تھے۔ محلہ میں کسی کا انتقال ہوجائے تو آس پڑوس کے لوگ ہی پیش پیش ہوتے تھے۔ میت والے گھر کو پتا ہی نہیں چلتا تھا کہ کس نے کب جاکر قبر کا انتظام کروا دیا اور کس نے کفن کا بندوبست کردیا۔ سب پلک جھکتے ہو جایا کرتا تھا۔ رشتے دار اور محلہ دار سوگواران کے لیے اپنے گھر سے کھانا پکاکر لاتے اور ان کو اپنے سامنے بٹھا کر کھلاتے تھے۔

Read more

صحافی اور ادیب نسیم شاد مرحوم کی چند باتیں

‎ آج بارہ جون ہے اور آج سینئر صحافی و ادیب نسیم شاد مرحوم کی برسی ہے۔ جو میرے والد بھی تھے۔ ان کو ہم سے بچھڑے آج انیس برس ہو گئے۔ نسیم شاد مرحوم 20 جنوری 1942 کو بھارت کے شہر انبالہ میں پیدا ہوئے۔ بچپن وہ ایک ذہین اور زیرک شخص تھے۔ ان کی ذہانت کا اندازہ آپ اس طرح لگاسکتے ہیں کہ تقسیم ہند سے قبل ہندوستان میں کچھ تنگ نظر ہندوں کا مسلمانوں کے ساتھ تعصب اس قدر تھا کہ وہ ان کو اچھوت سمجھتے تھے۔ اور ان کے ساتھ کھانا پینا بھی نہیں کرتے تھے۔

Read more

عمران خان کے وعدے اور حقیقت

‏‎بلا شبہ عمران خان کا شمار دنیا کے بہترین کرکٹرز میں ہوتا ہے اور وہ پاکستان کے بہترین کپتان بھی رہ چکے ہیں۔ مگر 25 سال کے طویل سیاسی تجربہ کے باوجود عمران خان ابھی تک سیاسی نا بالغ لگتے ہیں۔ ‏‎ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ کچھ طاقتور قوتوں کی جانب سے عمران خان نیازی کو کرکٹ کے میدانوں سے نکال کر سیاسی اکھاڑے میں دھکیلا گیا۔ ‏‎عمران خان نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز تو 1997 میں ہی کردیا تھا مگر مقبولیت ان کو 2011 کے مینار پاکستان کے جلسے میں ملی۔

Read more

رمضان نشریات

رمضان المبارک رحمتوں، برکتوں اور اللہ پاک کی بے شمار نعمتوں والا مہینا ہے۔ یہ مقدس مہینا ہم سب کو صبر کا درس دیتا ہے، کہ کس طرح ہم صبر کر کے اور اپنی نفسانی خواہشات پہ قابو پا کر، اللہ پاک کی خوش نودی حاصل کر سکتے ہیں۔ یعنی ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں، یہ اللہ پاک کا قرب اور خوش نودی حاصل کرنے کا مہینا ہے۔ ویسے تو ہم پورا سال عبادات کرتے ہی ہیں لیکن اس مبارک ماہ میں عبادت کا ثواب کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔

Read more

صحافتی جدوجہد

جنرل ضیا الحق کے بدترین مارشل لاء دور میں جب ہر طرف ظلم و بربریت کا بازار گرم تھا۔ جنرل ضیا نے الیکٹرانک میڈیا کو زنجیروں میں جکڑ دیا تھا۔ کسی کو سر اٹھانے کی جرات نہیں تھی۔ کوئی قلمکار اپنے قلم کی نوک سے اس بدترین بربریت کے خلاف لکھنے کی جرات نہیں کرسکتا تھا۔ ان ہی مخدوش حالات میں جہاں خوف و ہیبت کی فضا قائم تھی وہاں آزادی صحافت کی مہم شروع کی گئی اس سخت ترین آزادی صحافت کی جنگ میں ملک کے نامور ادیبوں، شاعروں، اور صحافیوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ انھوں نے اس دور میں بھی اپنے قلم کی نوک سے ضیاء الحق کہ تِخت حکومت کو اچھالا اور جواب میں ان کو اس کی بھاری قیمت بھی چکانی پڑی۔

Read more