وہ سائٹس جو ڈاکٹروں کے لیے سودمند ثابت ہوسکتی ہیں

سوشل میڈیا ہر شعبہ زندگی سے وابستہ افراد کے لیے وسیع تر امکانات رکھتا ہے۔ اس حوالے سے اگر شعبہ طب سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی بات کی جائے تو ہمارا مشاہدہ ہے کہ اکثر ڈاکٹر اس فکر میں مبتلا نظر آتے ہیں کہ سوشل میڈیا کو کس طرح اپنی پریکٹس کے سلسلے میں سودمند طریقے سے استعمال کیا جائے۔ دوسری طرف ڈاکٹروں کو اس پریشانی کا سامنا رہتا ہے کہ امراض میں مبتلا افراد اور دیگر لوگ فرصت کے لمحات میں بھی انھیں چین نہیں لینے دیتے۔

ایسے لوگ سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس پر ڈاکٹروں کو میسیج کرکے اور اپنے صحت کے مسائل سے متعلق سوالات کرکر کے ڈاکٹروں کا ناک میں دم کردیتے ہیں۔ یہاں ہم ڈاکٹروں کی سہولت کے لیے کچھ قاعدے اور ضابطے تحریر کر رہے ہیں، جن پر عمل کرکے وہ سوشل میڈیا کو پیشہ ورانہ طور پر اپنے لیے سودمند بناسکیں گے اور خود کو ہونے والی پریشانی سے نجات دلاسکیں گے۔ ان مشوروں اور تجاویز پر عمل کرنے سے مختلف امراض میں مبتلا افراد کو بھی فائدہ ہوگا۔

Read more

سوشل میڈیا کا شہرِطلسم

اکیسیویں صدی میں ہم سوشل ویب سائٹس کے شہرِ طلسم میں جی رہے ہیں۔ ہم روز بروز سماجی ویب سائٹس کے سحر میں جکڑے چلے جارہے ہیں اور غیرمحسوس طور پر ان کی ذہنی غلامی میں مبتلا ہوچکے ہیں۔ سوشل ویب سائٹس جہاں لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لائی ہیں، وہیں یہ ایسی زمینیوں…

Read more

بھارتی فوج میں خواتین کی بطور سیکس ورکر بھرتی کا انکشاف

مقبوضہ کشمیر میں ستمبر 2009 میں جب بھارتی فوجیوں میں خودکشی کرنے والوں کی تعداد میں خطرناک اضافہ ہوا تو ”را“ کی طرف سے ایک شیطانی پلان ترتیب دیا گیا، جس کے تحت بھارتی فوج میں خاتون فوجیوں کو بڑی تعداد میں بھرتی کیا گیا، جنھیں سرحدی گارڈوں کے طور پر نوکری دی گئی۔

افسوس کا مقام یہ ہے کہ ان خواتین کو بھارت سرکار کی فوجی ضرورتوں کے تحت نہیں بلکہ سیکس ورکر کے طور پر بھرتی کیا گیا تھا، جس کا مقصد کشمیر میں موجود فوجیوں کو تفریح فراہم تھا۔ سوچنے کا مقام یہ ہے کہ جس معاشرے میں عورت کو نحس وجود تصور کیا جاتا ہو وہ ملک اچانک ایک بڑی تعداد میں خاتون فوجیوں کو کیسے بھرتی کرسکتا تھا۔ معاملہ یونہی چلتا رہتا لیکن صورتحال اس وقت ابتر ہوگئی جب ایک خاتون فوجی جنسی زیادتی کے بعد حاملہ ہوگئی اور حمل ضائع کرنے کی سہولیات سے محروم ہونے کے باعث اسے اسی حالت میں ڈیوٹی انجام دیتے ہوئے پایا گیا، جس کے بعد معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا گیا اور اس کے نتیجے میں یہ دل دہلانے والی حقیقت سامنے آئی کہ بارڈر پر اپنے فرائض انجام دیتی 178 خاتون فوجیوں میں سے 63 غیر محفوظ جنسی سرگرمیوں کی وجہ سے سنگین طبی مسائل کا شکار ہیں۔

لیفٹیننٹ جرنل راج کمار اس کمیٹی کے ہیڈ تھے جس کی سفارشات کے نتیجے میں فوجی خواتین کو سیکس ورکر کے طور پر فورس میں تعینات کیا گیا تھا، تاکہ وہاں موجود مرد فوجیوں کو خوش کیا جاسکے۔ اس سارے منصوبہ کو سابق آرمی چیف دیپک کمار کی سرپرستی حاصل تھی۔ اس حوالے سے انھوں نے وزیردفاع سے مشاورت کو بھی ضروری ن سمجھا۔ اس انسانیت سوز اقدام کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ 2008 میں فوجیوں کی خودکشی اور اپنے ساتھیوں پر تشدد کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا، جس کے باعث اب تک 151 خودکشی کے واقعات سامنے آچکے ہیں۔

Read more

مولانا سمیع الحق کا قتل۔ کس کی سازش؟

میں نوحہ کیسے لکھوں کہ لفظ میرا ساتھ نہیں دے رہے۔ یوں تو پورا پاکستان ہی دہشت اور وحشت کے ہرکاروں کی زد میں ہے، اس پر یہ سانحوں کا سلسلہ ہے کہ ختم ہونے ہی میں نہیں آتا۔ المیے ہیں کہ رکنے کا نام ہی نہیں لیتے۔ دہشت گردی کے عفریت نے ہمارے ملک…

Read more

جب لڑکوں کا ریپ ہوتا ہے

جنسی زیادتی کا نشانہ لڑکا بنے یا لڑکی، دونوں کی شخصیت ٹوٹ پھوٹ جاتی ہے، لیکن حیرت اور افسوس کا مقام ہے کہ لڑکوں پر ہونے والے اس ظلم کو قانوناً ریپ سمجھا ہی نہیں جاتا۔ تفصیل میں جانے سے پہلے میں اس معاملے کے کچھ پہلوؤں پر بات کرنا چاہوں گی۔ لڑکوں کا ریپ کرنے والے یا تو ’گے‘ ہوتے ہیں جنھیں صرف مردوں میں دل چسپی ہوتی ہے یا پھر ہو وہ مرد ہوتے ہیں جو کہ مرد اور عورت دونوں سے ہی اپنی جنسی خواہش کی تکمیل میں تسکین محسوس کرتے ہیں۔

یہ نہایت تشویش کی بات ہے کہ ہم اب بھی مردوں کے سیکچول ابیوز پر بات نہیں کرتے اور نہ ہی اس حوالے سے ہمارے ملک میں خاطر خواہ قوانین موجود ہیں جن کی بنیاد پر انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا جاسکے۔

ہمارے آس پاس کتنے ہی ایسے معزز افراد شرافت کا چولا پہنے موجود ہیں جو اس قبیح فعل میں ملوث ہیں لیکن وہ یہ جانتے ہیں کہ لڑکوں کے معاملے میں غیرت کا پہلو اتنا اہم نہیں لہٰذا ایسا کرنے میں انھیں کوئی دقت محسوس نہیں ہوتی اور نہ ہی وہ ایسے گھناؤنے فعل کو گناہ گردانتے اور شرمندہ ہوتے ہیں۔

عموماً دیکھا گیا ہے کہ جو مرد ریپ کا شکار ہوتے ہیں وہ اس بات سے انکار کرتے ہیں اور اپنے آپ کو دنیا کے سامنے نہیں آنے دیتے۔ ہاں اگر ایسی صورت حال میں جب کوئی بری طرح زخمی ہوجائے تب ہی طبی مدد لی جاتی ہے۔ گھر والوں کے علم میں اگر یہ بات آبھی جائے تو اسے چھپایا جاتا ہے۔ زیادہ سے زیادہ کوئی اقدام کرنا مقصود ہی ہوتو متاثرہ لڑکے کو اس شخص سے دور کردیا جاتا ہے جس کی وجہ سے یہ لڑکا اس حالت میں پہنچا ہے۔

Read more

غریب بچے جن رہا ہے یا غلام

بس غلاموں کی منڈیاں نہیں لگ رہیں، ورنہ کمسن غلاموں اور لونڈیوں کی خریدوفروخت آج بھی جاری ہے۔ جہاں چند ٹکوں کے عوض ان کی زندگیاں خرید لی جاتی ہیں ان کے جسم پر حکومت کرکے آقا بننے کے شوقین نفسیاتی مریض خوراک کے نام پر چند ٹکڑے ان کے سامنے پھینکتے ہیں۔ اپنی تمام…

Read more

آزادیِ اظہار کا قتل

تاریخ گواہ ہے کہ عوام کے جاننے اور اظہارِ کے حق پر پاپندی سے معاشرے ذہنی طور پر مفلوج ہو جاتے ہیں۔ اگر عوام سے حکومت کے اقدامات اور سرگرمیوں کی آگاہی چھین لی جائے تو معاشرے میں ان کا کردار منجمد ہوجاتا ہے۔ لیکن بد قسمتی سے جمہوری معاشرہ ہو یا بادشاہی نظام حکومت،…

Read more

اسلامی اتحاد کا پول کھل گیا

سعودی عرب اور امریکہ دوستی ارینج میرج کی طرح ہے، نظریہ ضرورت کو مدِنظر رکھتے ہوئے پہلے تعلقات قائمکیے گئے اور پھر باقاعدہ معاہدوں کی صورت میں اِسے جائز نام دے دیا گیا۔ اب دونوں کا ایک دوسرے کو بھگتا مجبوری کے سواء کچھ نہیں۔ سعودی عرب اور امریکہ اپنے اپنے مفادات کے لئے جس…

Read more

وہ ”پال“ رہے ہیں یا خود اب تک ”پالنے“ میں ہیں

میرے دادا شہاب الدین غوری قیامِ پاکستان کے وقت مسلم لیگ کے اہم رہنما تھے۔ انہوں نے پاکستان حاصل کرنے کی جدوجہد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ پاکستان سے محبت کا عجیب عالم تھا۔ سب کچھ اپنے وطن پر قربان کردیا۔ پاکستان کے قیام کے وقت اپنی جائیداد چھوڑ کر اپنے ملک کی محبت…

Read more

رومی، یونانی، ایرانی اور ہندی تہذیبوں میں عورت کی غلامی

حسینہ ایک عام سی گھروں میں کام کرنے والی عورت ہے۔ جس کی زبان میٹھی سرائیکی بولی بولتی ہے۔ پہلے اپنی ایک سال کی بیٹی کو ساتھ لے کر گھر سے کام کرنے نکلتی تھی۔ اب اُس کی وہ بیٹی اُس کے شوہر کی پہلی بیوی کے ساتھ گھر میں رہتی ہے کیوں کہ حسینہ…

Read more