کیا اہل کشمیر دو ریاستوں کے مہرے ہیں؟

نامور امریکی اسکالر و بین الاقوامی امور خارجہ کے ماہر Max Boot اپنی کتاب Invisible Armies میں لکھتے ہیں کہ سال 2019 میں کشمیر کے اندر جاری مسلح تحریک کے تیس سال مکمل ہوجائیں گے۔ بھارت کے خلاف کشمیریوں کی مسلح جدوجہد دنیا میں ان تک لڑی جانے والی گوریلا جنگوں میں سے اپنی نوعیت…

Read more

کرتار پور کے بعد شاردا مندر راہ داری مطالبہ

گزشتہ سال نومبر میں حکومت پاکستان کی طرف سے جذبہ خیر سگالی کے تحت سکھوں کی سب سے بڑی عقیدت گاہ گوردوارہ کرتارپور صاحب راہداری کھولنے کے اقدام کو پوری دنیا نے سراہا۔ خیرسگالی کے اس اقدام کے بعد بھارت سے آنے والے سکھ یاتریوں کو ویزے کے بغیر کرتارپور گردوارے میں رسومات ادا کرنے…

Read more

عسکریت، کشمیر اور عبدالمجید ڈار

جولائی 2000 میں کشمیر میں سرگرم سب سے بڑی عسکری تنظیم حزب المجاہدین نے جنگ بندی کا اعلان کیا۔ جنگ بندی کا اعلان حزب المجاہدین کے سابق چیف آپریشنل کمانڈر شہید عبدالمجید ڈار نے کیا۔ جنگ بندی کے منصوبے کو عبدالمجید ڈار سمیت متنازعہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ جنگ بندی کے فیصلے کے پیچھے کی کیا کہانی تھی؟ اس پر تبصرہ بعد میں پہلے عبدالمجید ڈار کے نظریات اور تحریکی کردارکے پس منظر پر سرسری نگاہ ڈالتے ہیں۔

عبدالمجیدڈار کا جنم 1955 میں ضلع بارہمولہ کی تحصیل سوپور میں ہوا یہیں سے انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم بھی حاصل کی۔ انٹر کرنے کے بعد نامسائد حالات کی وجہ سے وہ اپنا تعلیمی سفر جاری نہ رکھ سکے اور جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر کے معروف اخبار (اذان) سے منسلک ہوئے۔ جماعت اسلامی کے نظریاتی نقطہ نظر اور با الخصوص جماعت اسلامی کے لٹریچر نے ڈار صاحب کے ذہن و قلب پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ 75۔ 1974 میں جب اندارا عبداللہ اکارڑ پر دستخط ہوئے تو جموں وکشمیر کے طول عرض میں عوامی احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا۔ جماعت اسلامی نے سید علی شاہ گیلانی کی قیادت میں ایک مضبوط موقف اختیار کیا۔ گیلانی صاحب اس وقت ریاستی اسمبلی کے ممبر تھے اور انہوں نے احتجاجی تحریک کو منظم کرنے کے لئے جماعت کے ہی دیے گئے روڈ میپ پر اپنی سرگرمیاں تیز کردیں۔

Read more