کتا، ٹومی، میڈیا اور ہم

لگ بھگ سن 100 ق م میں چین میں کاغذ کی ایجاد نے نشر و اشاعت کی دنیا میں ایک انقلاب برپا کر دیا لیکن کُتب کی تحریر و اشاعت انسانی ہاتھوں تک محدود رہی۔ اس کے لگ بھگ 1500 برس بعد جوہانس گُٹن برگ نے پہلا پرنٹنگ پریس بنایا تو کُتب کی اشاعت بڑے پیمانے پر آسان ہو گئی اور معلومات نہ صرف باآسانی محفوظ ہونے لگیں بلکہ زیادہ سے زیادہ مقدار میں کی کھپت پر بھی پورا اترنا ممکن ہو گیا۔ پھر سترہویں صدی کے اوائل میں پہلا اخبار منظرِ عام پر آیا لیکن کم خواندگی کے باعث قارئین کی تعداد انتہائی محدود تھی۔اٹھارویں صدی کے اوائل تک دی ٹائمز آف لندن جیسے اخبارات بہت بڑی سرکولیشن کے ساتھ قارئین کی ایک بڑی تعداد رکھتے تھے۔ مورخین کے مطابق پرنٹنگ پریس کی ایجاد اور ترقی نے ہی عوامی آگاہی اور شعور، معلومات تک آسان رسائی اور مسائل کی نشاندہی کی شکل میں دنیا کی شکل بدل کر رکھ دی۔ میڈیا کے باعث ہی عام آدمی کی رائے کو اہمیت حاصل ہوئی اور رفتہ رفتہ بڑی بڑی بادشاہتیں سفر کرتے کرتے جمہوری ریاستوں میں بدل گئیں اور یوں دھیرے دھیرے محض خبر دینے والا شعبہ جدید جمہوری ریاستوں میں ریاست کا چوتھا ستون بن گیا اور آج بھی دیگر ستونوں کی طرح اپنا مضبوط تعمیری کردار ادا کرتا نظر آتا ہے۔

Read more

جمہوریت مخالف بیانیے اور زمینی حقائق

ہم اکیسویں صدی کے 19 ویں برس اور آزادی کے ساتویں عشرے میں داخل ہو چکے ہیں مگر بد قسمتی سے ہمارے ملکی مسائل وقت کے ساتھ ساتھ حل ہونے کی بجائے روز بروز بڑھ رہے ہیں۔ پوری دنیا آج ایک واضح آئینے کی طرح ہمارے سامنے کھڑی ہے۔ انسانی تاریخ، مسائل، جدوجہد اور نتائج…

Read more