ایلان مسک (Elon Musk) کے خواب

کسی بھی خواب کی تعبیر کے لیے تخلیقی صلاحیت، بے انتہا جذبہ اور ان تھک محنت کی ضرورت ہوتی ہے۔ وباء کے زمانے میں ایک اہم اور اچھی خبر اس وقت سامنے آئی جب 30 مئی کو امریکی خلائی ادارے ناسا اور ایلان مسک (Elon Musk) کے پرائیوٹ ادارے SPACE X نے ایک نئی تاریخ…

Read more

تحریر میں تاثیر کیسے آتی ہے؟

زندگی میں ہم بہت سے خواب دیکھتے ہیں لیکن تعبیر صرف چند ایک کی ملتی ہے۔ میں نے پہلے کسی کالم میں یونیورسٹی آف کینیڈا میں اپنے ایک پروفیسر Joe کا ذکر کیا تھا‘ جس نے ہمیں Curriculum کا کورس پڑھایا تھا۔ پروفیسر جو کی کلاس میں میرا بہت سی کتابوں سے تعارف ہوا تھا…

Read more

جلیانوالہ باغ کا شعلۂ آزادی۔ ۔ ۔ (آخری حصہ)۔

جلیانوالہ باغ میں اس روز قیامت کا سماں تھا، ہر طرف چیخ و پکار تھی۔ اس کی آنکھوں کے سامنے بچے، بوڑھے اور جوان فرنگیوں کی گولیوں سے کٹے ہوئے درختوں کی طرح گر رہے تھے۔ اس کے دل میں نفرت اور غصے کا طوفان امڈ آیا تھا۔ اس نے جلیانوالہ کی خون آلود مٹی کو مٹھی میں بند کیا اور اپنی پوری قوت جمع کر کے چیخ کر کہا تھا: میں اس خون ناحق کا بدلہ لوں گا۔ اس کا نام ادھم سنگھ تھا۔ وہ 26 دسمبر 1899 ء کو پنجاب کے ایک گاؤں سونم میں پیدا ہوا تھا۔

ماں اس کی پیدائش کے دو سال بعد ہی فوت ہو گئی تھی۔ جب وہ آٹھ سال کا ہوا تو والد بھی انتقال کرگئے۔ یوں وہ اس بھری دنیا میں اکیلا رہ گیا۔ نہ کوئی گھر نہ ٹھکانہ۔ اسے اس کے بھائی کے ہمراہ ایک یتیم خانے میں چھوڑ دیا گیا۔ زندگی کی تلخیوں سے یہ اس کا پہلا تعارف تھا۔ اس یتیم خانے میں اس کے ہمراہ رہنے والے بچے بھی اس کی طرح اپنے والدین کھو چکے تھے۔ یتیم خانے میں اس کا نام شیر سنگھ کے بجائے ادھم سنگھ رکھ دیا گیا۔

Read more

جلیانوالہ باغ کا شعلۂ آزادی۔ ۔ ۔ ( 2 )۔

کرنل ڈائر نے ایک بار پھر جلیانوالہ باغ میں جمع لوگوں پر نگاہ ڈالی۔ یوں لگتا تھا آج پورا امرتسر جلیانوالہ باغ میں امڈ آیا ہے۔ مرد، عورتیں، بچے، بوڑھے اور جوان۔ وہ سب آنے والے لمحے سے بے خبر اپنی دھن میں مگن تھے۔ اس ایک لمحے میں ڈائر کے ذہن میں کتنے ہی خیال آئے لیکن اسے پنجاب کے گورنر اوڈائر کو یہ باو رکرانا تھا کہ وہ کس حدتک اس کے احکامات کا وفادار ہے۔ اگلے ہی لمحے اس نے چلا کرگورکھا فوجیوں کو آرڈر دیا ”فائر“ ۔

Read more

جلیانوالہ باغ کا شعلۂ آزادی

ہندوستان میں فرنگیوں کی حکومت کے خلاف مزاحمت کی ایک طویل تاریخ ہے جس میں مسلمانوں، سکھوں او رہندوؤں نے مل کر غیر ملکی تسلط کے خلاف آواز بلند کی۔ فرنگی حکومت نے تاج برطانیہ کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو دبانے کے لیے ظلم اور جبر کے سارے ہتھکنڈے استعمال کیے۔ 1857 ء کا سال انگریزوں کے خلاف عوامی مزاحمت کا نقطہ عروج تھاجس نے ایسٹ انڈیا کمپنی کی حکومت کی بنیادیں ہلا دی تھیں۔ جنگ آزادی میں ناکامی کے بعد ہندوستان کے باشندوں کو فرنگی انتقام کا سامنا کرنا پڑاجس میں حریت پسندوں کو چن چن کر نشان عبرت بنایا گیاتاکہ آئندہ کسی کے دل میں مزاحمت کا خیال نہ آئے لیکن آزادی تو ایک آدرش، ایک خیال اور ایک جذبے کا نام ہے۔

Read more

گلابی نمک اور وقت کا دریا

وقت کا دریا بھی کیسا دریا ہے، مسلسل سفر میں رہتا ہے ہر دم اپنی گزرگاہیں بدلتا رہتا ہے اور جہاں سے بھی گزرتا ہے اپنی نشانیاں چھوڑ جاتا ہے۔ پوٹھوہار کی قدیم دھرتی پر جہاں پرانے قلعے، مسجدیں، مندر، سکھوں کی عبادت گاہیں اور بدھ مت کی یادگاریں ہیں، وہیں معدنیات کے کچھ ایسے خزانے بھی ہیں جنہوں نے اس علاقے کی اہمیت کو اور بڑھا دیا ہے۔ انہی میں سے ایک گلابی نمک کی کان ہے۔ کہتے ہیں یہ دنیا بھر میں نمک کا دوسرا بڑا ذخیرہ ہے۔

Read more