داغِ دل ہم کو یاد آنے لگے

بعض اوقات تصور کی سواری ہمیں کہاں سے کہاں لے جاتی ہے۔ اس روز بھی ایسا ہی ہوا۔ شام کا وقت تھا سٹریٹ لائٹس ابھی ابھی روشن ہوئی تھیں اور میں راولپنڈی کی مال روڈ سے ہو کر پشاور روڈ پر چلتے چلتے رک گیا تھا۔ ایک قدیم یاد نے میرے قدم روک لیے تھے۔…

Read more

تعلیم ہماری ترجیح کب بنے گی؟

پچھلے دنوں وزیر تعلیم شفقت محمود نے ایک ٹی وی انٹرویو میں بتایا کہ جب انھیں تعلیم کی وزارت ملی تو کچھ دوستوں کی طرف سے انھیں افسوس کے پیغامات موصول ہوئے۔ بات ہنسی میں ختم ہو گئی لیکن اس واقعے سے پاکستانی معاشرے میں تعلیم کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ قیامِ پاکستان سے…

Read more

کراچی، دو دریا اور چائے کے ڈھابے

یہ سفید دودھیا پرندے ہیں یا اڑتی ہوئی روشنیاں جو رات کی تاریکی کو منور کیے ہوئے ہیں۔ یہ کراچی ہے اور میں دو دریا میں واقع سمندری جہاز کی شکل کے ایک ریستوران میں بیٹھا ہوں۔ کراچی آنا ہو تو یہاں ضرور آتا ہوں۔ لکڑی کے بنے ہوئے اس ریستوران میں سمندری جہاز کی…

Read more

جَوتی: گوگل کیمپس کی مہربان روشنی

بعض دفعہ زندگی کے سفر میں کوئی ہمیں کچھ دیر کے لیے ملتا ہے لیکن اس کی شخصیت کا طلسم ہمیشہ کے لیے ہمیں اپنا اسیر کر لیتا ہے۔ جَوتی بھی مجھے یوں ہی ملی تھی ،اچانک، کچھ دیر کے لیے ،لیکن یوں لگتا ہے اس کا سایہ ابھی تک میرے ساتھ چل رہا ہے۔…

Read more

آنند بخشی اور پنڈی کا عشق

کہتے ہیں زندگی کے سفر میں خواب اور درد کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ ایک کے بغیر دوسرے کا تصور نامکمل ہے۔ آج راولپنڈی کے محلے قطب الدین میں آنند بخشی کے آبائی گھر کو جاتے ہوئے مجھے اس بات کا شدت سے احساس ہوا۔ ہفتے کا دن ہے اور مری روڈ پر ٹریفک…

Read more

بے نظیر بھٹو: دلوں کی حکمران۔ ۔ ۔ (2 )

اندھیرے میں گھات لگائے بے نظیر پر حملے کا منتظر کوئی اور نہیں بے نظیر کی اپنی پارٹی کا رکن فاروق لغاری تھا جسے بے نظیر نے صدرِ پاکستان کے عہدے کے لیے منتخب کیا تھا ’لیکن سچ کہتے ہیں سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا۔ صدر فاروق لغاری نے 58۔ 2 / 13…

Read more

بے نظیر بھٹو: دلوں کی حکمران

یہ گڑھی خدا بخش میں بھٹو خاندان کا آبائی قبرستان ہے۔ کسی زمانے میں یہ عام قبرستان ہو گا لیکن اب یہاں مزار کی پُرشکوہ عمارت تعمیر کی گئی ہے۔ مزار کا سفید گنبد دور سے نظر آتا ہے۔ یہاں زائرین کی چہل پہل سال کے بارہ مہینے رہتی ہے۔ ایک عرصے سے یہاں آنے…

Read more

مانچسٹر اور بہاولپور کی اُجلی سپہر

سردیوں کی دھوپ بہت قیمتی ہوتی ہے لیکن بہت مختصر۔ پتہ ہی نہیں چلتا اور دن تمام ہوجاتا ہے ۔ آج نومبر کی اُجلی دھوپ میرے چاروں طرف پھیلی ہوئی ہے اور میں بہاولپور میں ایک خوبصورت مقام پر ہوں۔ یہ ایک بلند جگہ ہے جہاں ایک طرف پانی‘ اونچے لمبے درخت اور پہاڑیاں ہیں۔…

Read more

بلراج ساہنی اور پنڈی کی پرندوں والی سڑک

یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں گورڈن کالج میں ایم اے انگلش کر رہا تھا۔ گورڈن کالج کے پچھلے گیٹ سے جب ہم کالج روڈ پر آتے تو ایک نئی دنیا ہمارا انتظار کر رہی ہوتی۔ یہاں پر زم زم ہوٹل، شبنم ہوٹل، قیصر ہوٹل اور لاہوری سموسے ہمارے ٹھکانے ہوتے۔ ذرا آگے…

Read more

ڈھاکہ کتنا قریب اور کتنا دور

بعض اوقات ایسا ہوتا ہے آپ کا محبوب منظر آپ کے سامنے ہوتا ہے لیکن آپ اس کا حصہ نہیں بن سکتے ’آپ اسے صرف محسوس کر سکتے ہیں لیکن چھو نہیں سکتے‘ اُس روز بھی ایسا ہی ہوا۔ وہ 2011 ء کا سال تھا اور جو ن کے مہینے کے ابتدائی دن تھے ’میں…

Read more