لودھراں، منیر نیازی اور پروین شاکر

یہ80 کی دہائی کا آخر آخر تھا‘ دسمبر کا خنک مہینہ تھا جب مجھے تربیتِ اساتذہ کے ایک پروگرام میں بطورِ ریسورس پرسن ملتان جانا پڑا۔ اسی سال میں یونیورسٹی آف مانچسٹر سے تدریس انگریزی میں ڈگری لے کر واپس آیا تھا اور ہر نئے گریجویٹ کی طرح میرے اندر بھی ایک مثبت بے قراری…

Read more

کشمیر: میرے تن کے زخم نہ گِن ابھی

دنیا میں جہاں جہاں استعمار نے جبر کا استعمال کیا وہاں وہاں اسے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ انسان آزاد پیدا ہوا ہے اور یہ اس کی جبلت میں شامل ہے کہ وہ غلامی کے خلاف مزاحمت کرے۔ کشمیر میں اس وقت مزاحمت کی طویل ترین تاریخ رقم کی جا رہی ہے۔ یہ مزاحمت سیاسی…

Read more

کشمیر: ہرنیوں نے چوکڑی بھرنی تو ہے

یہ ایک تصویر ہے۔ ایک کشمیری نوجوان کی تصویر ۔ یقیناً سوشل میڈیا پر آپ نے بھی دیکھی ہو گی۔ میں نے اسے دیکھا تو دیکھتا ہی رہ گیا۔ اس کے دل میں حریت کا چراغ جلتا تھا۔ وہ سری نگر میں اپنے گھر سے نکلا تو اس کے ہاتھ میں پاکستان کا سبز ہلالی…

Read more

کشمیر: ہرنیوں نے چوکڑی بھرنی تو ہے

یہ ایک تصویر ہے۔ ایک کشمیری نوجوان کی تصویر۔ یقیناً سوشل میڈیا پر آپ نے بھی دیکھی ہو گی۔ میں نے اسے دیکھا تو دیکھتا ہی رہ گیا۔ اس کے دل میں حریت کا چراغ جلتا تھا۔ وہ سری نگر میں اپنے گھر سے نکلا تو اس کے ہاتھ میں پاکستان کا سبز ہلالی پرچم…

Read more

کشمیر: حادثہ ایک دم نہیں ہوتا

پانچ اگست کوکشمیر کی تاریخ میں ایک سیاہ دن کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ اس دن مودی سرکار نے آرٹیکل 370 اور 35۔ Aکو منسوخ کر کے کشمیر کو دیے گئے خصوصی سٹیٹس کو ختم کر دیا۔ آرٹیکل 35۔ Aجموں اور کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کو اختیار دیتا تھا کہ وہ…

Read more

معاشرہ، استاد اور دانشور

تعلیم اور تبدیلی کا باہم گہرا رشتہ ہے۔ کسی بھی معاشرے میں تبدیلی کے لیے تعلیم ایک مؤثر کردار اد ا کر سکتی ہے۔ تبدیلی کے اس سفر میں اساتذہ کا کردار ہراول دستے کا ہے۔ یہ اساتذہ ہی ہیں جو نوجوان ذہنوں کی آبیاری کر سکتے ہیں، جہانِ تازہ کی نمود کے لیے افکارِ…

Read more

ٹیکسی نمبر 614

اس روز ٹورنٹو میں خوب برف پڑی۔ سڑکیں سائیڈ واکس اور چھتیں برف کی سفید چادر میں چھپ گئی تھیں۔ ان دنوں میں یونیورسٹی آف ٹورنٹو سے پی ایچ ڈی کر رہا تھا۔ یونیورسٹی کے طلبا کے لئے ڈاؤن ٹاؤن میں دو بلند و بالا عمارتیں بنائی گئی تھیں۔ 30 چارلس اور 35 چارلس سٹریٹ…

Read more

برطانوی راج: جب شاعری مزاحمت بن گئی

ادب روایتی طور پر خوشی اور مسرت حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے، جو معاشرے کی خوبصورتیاں کشید کر کے پڑھنے والوں کے لئے دلچسپی کا سامان مہیا کرتا ہے۔ یوں ادب معاشرے میں خوشیاں بکھیرنے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ ادب کے حوالے سے یہ اعتقاد اس مکتبِ فکرسے تعلق رکھنے والے لوگوں کا ہے جو ادب برائے ادب کے قائل ہیں۔ یہ مکتب ِفکرالفاظ، فن اور مہارت سے ایک ایسی خیالی دنیا (Utopia) کی تخلیق کرتاہے جس کا حقیقی دنیا کے مسائل اور مصائب سے دور دور کا تعلق نہیں ہوتا۔

Read more

رفعت عباس: سرائیکی ادب کا تابندہ ستارہ

اس روز حبس کا عالم تھا۔ دِن ڈھل چکا تھا لیکن میں حسبِ معمول آفس میں بیٹھا تھا۔ میں نے کھڑکی سے پردہ ہٹا کر باہر دیکھا۔ سربلند درخت چپ چاپ کھڑے تھے۔ ہوا بند تھی اور پتوں میں ہلکی سی لرزش بھی نہیں تھی۔ گائوں میں جب اس طرح کا منظر ہوتا تو بڑے…

Read more

پاکستان اور تعلیمی ترقی کا دشوار ہدف

یہ ستمبر 2015 کی بات ہے جب پائیدار ترقی کے حوالے سے ہونے والی ایک میٹنگ میں اقوام متحدہ کے تمام ممبر ممالک کے ارکان نے ایک اہم دستاویز پر دستخط کیے‘ جو اس بات کا عہد تھا کہ وہ مل کر اگلے پندرہ سال میں سترہ اہداف کے حصول کی کوشش کریں گے۔ پائیدار…

Read more