شکیل عادل زادہ اور کراچی کی مہکتی سہ پہر

اس دن مجھے احساس ہوا کہ کیسے بات سے بات نکلتی ہے اور پھر تصور کا جادو کیسے وقت اور سرحدوں کی طنابیں کھینچ لیتا ہے۔ میں ایک روز کے لیے کراچی آیا تھا۔ ارشد حسین اور راحیلہ بقائی کی دعوت پر آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کی ایک تقریب میں مجھے پاکستان کے تعلیمی منظر نامے…

Read more

بنگال، دسمبر اور میں

جب بھی دسمبر کا مہینہ آتا ہے وقت کی راکھ میں چھپی یادوں کی چنگاریاں پھر سے روشن ہو جاتی ہیں۔ ان میں سے ایک یاد ’جسے میں بھلا دینا چاہتا ہوں‘ 16 دسمبر کی ہے۔ جب مشرقی پاکستان ہم سے جدا ہو گیا تھا ان دنوں میں سکول میں پڑھتا تھا لیکن مجھے اپنے…

Read more

شانتی نکیتن، تعلیم اور آزادی

پاکستان کے مختلف شہروں میں طلبا اس تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں جو گھٹن کی پیداوار ہے‘ جس میں تقلید (Confirmity) تعلیمی عمل کا محور ہے‘ جس میں تخلیق یا نئی سوچ کے بجائے یادداشت کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے‘ جس میں طلبا کی تخلیقی صلاحیتوں کو ابتدائی عرصہ میں ہی…

Read more

صادق گڑھ: جہاں تاریخ مر رہی ہے!

کیا سماں ہو گا جب صحرا کے وسط میں ایک سفید دودھیا محل آباد ہوا ہو گا۔ دور دور تک اس کے تذکرے ہوتے ہوں گے۔ جو اس کو ایک بار دیکھتا ہو گا اس کے حسن کا اسیر ہو جاتا ہو گا۔ یہ سفید محل بہاولپور کا صادق پیلس ہے ’جسے صادق گڑھ بھی…

Read more

1987ء اور کرکٹ کا جنون

1987 ء کے سال سے میری کرکٹ کی بہت سی یادیں جڑی ہوئی ہیں۔ وہ کرکٹ کے جنون کے دن تھے۔ کرکٹ کی محبت کا آغاز میرے بچپن ہی سے ہو گیا تھا۔ مجھے یاد ہے میں پہلی یا دوسری کلاس میں تھا جب انعام بھائی کے ساتھ راولپنڈی کلب میں ٹیسٹ میچ دیکھنے گیا…

Read more

اقبال، تعلیم اور مدرسہ

اقبال تعلیم کی اہمیت سے پوری طرح آگاہ تھے۔ انہیں معلوم تھا کہ عہدِ حاضر میں ذہنوں کو مغلوب کرنے کا سب سے موثر ہتھیار تعلیم ہے۔ اقبال کے بقول: سینے میں رہے رازِ ملوکانہ تو بہتر کرتے نہیں محکوموں کو تیغوں سے کبھی زیر تعلیم کے تیزاب میں ڈال اس کی خودی کو ہو…

Read more

زندگی کے میلے

زندگی کے میلے یوں ہی رواں دواں رہتے ہیں‘ لوگ آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں لیکن یہ گرمئی بازار یوں ہی رہتی ہے۔ ہمارے گائوں میں مذہبی تہواروں کے علاوہ جس چیز کا ہمیں شدت سے انتظار ہوتا تھا‘ وہ گائوں کا میلہ تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ٹیلی ویژن اور موبائل فون…

Read more

پاکستان چیئرز: ایک دہائی کا انتظار

پوری دنیا میں طاقت کا تصور بدل رہا ہے۔ طاقت کا مرکز اب روایتی جنگی ہتھیار نہیں بلکہ علم کی تحقیق ہے۔ اس کے نتیجے میں جو ممالک علم کے میدان میں آگے ہوں گے وہی ترقی کی دوڑ میں بھی بازی لے جائیں گے۔ اسی طرح بالا دستی کا تصور بھی سافٹ پاور سے…

Read more

راولپنڈی کی مال روڈ

بعض اوقات ہمارے گردوپیش کی چیزیں ہماری آنکھوں سے اوجھل ہو جاتی ہیں لیکن وہ ہمارے دل کے نہاں خانوں میں زندہ رہتی ہیں۔ پھر کوئی ایک لمحہ، کوئی ایک ساعت ،کوئی ایک منظر انھیں جگمگا دیتا ہے اورہم تادیر اس اجالے کے سحر میں گرفتار رہتے ہیں۔ راولپنڈی کی مال روڈ سے میری شناسائی…

Read more

لال بینڈ: مزاحمت اور آگہی کا سفر

وہ 2004ء کے اکتوبر کا ایک روشن دن تھا جب میں نے لمز (LUMS) میں پڑھانا شروع کیا۔ فیکلٹی آف ہیومینیٹینز اور سوشل سائنسز میں اس زمانے میں گنے چنے لوگ تھے۔  انہیں میں ایک نوجوان استاد تیمور رحمن بھی تھا۔ ایک جوشیلا مگر بے حد مؤدب نوجوان جس کی کلاس میں طالب علم شوق…

Read more