کراچی لٹریچر فیسٹیول اور تعلیم کا چیلنج

کراچی اور اسلام آباد میں آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کے زیرِ اہتمام ادبی میلے کا ہر سال اہتمام کیا جاتا ہے جہاں کتابوں اور کتابیں لکھنے والوں سے ملاقات رہتی ہے۔ کراچی میں یہ لٹریچر فیسٹیول کا گیارہواں سال ہے۔ آج سے گیارہ سال پہلے کراچی لٹریچر فیسٹیول کا آغاز کارلٹن ہوٹل سے ہوا تھا اور…

Read more

بجھتے چلے جاتے ہیں چراغ

وقت بھی نٹ کھٹ بچے کی طرح ہوتا ہے۔ جہاں سے چیز اٹھاتا ہے وہاں واپس نہیں رکھتا۔ اب میں پیچھے مڑ کر دیکھوں تو ان منظروں کی یاد آتی ہے جو کبھی روشن تھے پھر دھندلے ہوتے ہوتے، آنکھوں سے اوجھل ہو گئے اور اب یوں لگتا ہے جیسے وہ زمانہ کوئی خواب تھا…

Read more

بازگشت

کہتے ہیں پہاڑوں اور کھنڈرات میں آوازیں ٹھہر جاتی ہیں اور پھر دیر سے ان کی بازگشت ہم تک پہنچتی ہے۔ آج بھی ایسا ہی ہوا تھا۔ میں دوستوں کے ہمراہ ایک عرصے کے بعد ٹیکسلا کی قدیم ترین یونیورسٹی جولیاں کے کھنڈرات دیکھنے آیا تھا۔ ٹیکسلا، اسلام آباد اور راولپنڈی سے تقریباً 32 کلومیٹر…

Read more

اکیسویں صدی کے تعلیمی تقاضے : ہم کہاں کھڑے ہیں

اکیسویں صدی کا آغاز ہو چکا ہے۔ کہتے ہیں یہ صدی مقابلے کی صدی ہے جس میں وہی افراد کامیاب ہوں گے جن کے پاس اکیسویں صدی میں زندہ رہنے اور آگے بڑھنے کی مہارتیں (Skills) ہوں گی۔ اکیسویں صدی اس لحاظ سے بھی ایک اہم صدی ہے کہ اس میں معلومات (Information) کا ایک…

Read more

ہماری منزل تو ہمارے دل کے اندر ہے

تلاش کا سفر بھی کیسا سفر ہے خواب، آرزو اور آدرش کو پانے کی خواہش کا سفر‘ جو ہمیں زندگی کے پُر پیچ راستوں پر دوڑائے پھرتی ہے اور شانتی کی تتلی کے پیچھے بھاگتے بھاگتے ہماری سانس پھولنے لگتی ہے اور ہمارے پائوں شل ہو جاتے ہیں‘ تب اچانک ایک دل کشا لمحہ ہم…

Read more

تاجِ برطانیہ، سرحدی علاقے اور مزاحمت

بر صغیر میں ایسٹ انڈیا کمپنی اور پھر برطانیہ کے عہدِ جبر کی ایک طویل تاریخ ہے جس نے اس خطے کی معیشت، معاشرت، اور تہذیب پر منفی اثرات مرتب کیے۔ عہدِ غلامی کے اس تاریک دور میں مزاحمت کے چراغ یہاں وہاں جلتے رہے۔ بعض اوقات لوگوں کا جذبۂ مزاحمت کی تحریکوں میں ڈھل…

Read more

تعلیم اور معاشرتی انصاف

پاکستانی معاشرے کو درپیش مسائل میں ایک اہم مسئلہ دہشت گردی کا ہے جس کا شکار عام‘ عوام ہیں؛ جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔ تشویش کی بات یہ ہے کہ ان حملوں کا دائرہ کار تعلیمی اداروں اور مذہبی عبادت گاہوں تک پھیل گیا ہے۔ دہشت پسندی کا خمیر انتہا پسندانہ سوچ…

Read more

یاد نہ جائے بیتے دنوں کی: راولپنڈی کا نغمہ نگار شیلندر

پرانے دنوں کے راولپنڈی کی تلاش میں نکلیں تو کیسے کیسے لعل و جواہر کی یاد آتی ہے۔ وہ جو راولپنڈی سے چلے گئے لیکن جن کے دلوں سے راولپنڈی کبھی نہ جا سکا۔ انہیں ناموں میں ایک نام شیلندر کا ہے۔ وہی شیلندر جو راولپنڈی کے ایک چھوٹے سے گھر میں پیدا ہوا اور…

Read more

زیرِ آسماں کی کہانی

زندگی کی لکیر سیدھی نہیں ٹیڑھی میڑھی ہے۔ بالکل زگ زیگ۔ چلتے چلتے ایک موڑ آتا ہے جہاں ایک نیا رستہ ہمارا منتظر ہوتا ہے۔ ہماری توقع کے برعکس۔ جو ہمیں اَن دیکھے منظروں میں لے جاتا ہے اور سچی بات تو یہ ہے کہ زندگی کا یہی غیر متوقع پن اس کا حسن ہے۔…

Read more

رؤف کلاسرا : پکچر ابھی باقی ہے میرے دوست

اپنی مٹی کی مہک بھی انوکھی ہوتی ہے ہم اس سے کتنے ہی دور چلے جائیں، یہ ہمیں اپنی طرف بلاتی رہتی ہے۔ کبھی صبح کے وقت، کبھی شام ڈھلے، کبھی رات کی تنہائیوں میں۔ کبھی ہلکے ہلکے دھیمے سروں میں اور کبھی اس کی آواز ایک کُوک بن جاتی ہے جو بھرے شہرمیں ہمیں…

Read more