مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے

گزشتہ چالیس منٹوں سے وہ ڈاکٹر محمد علامہ اقبال، ان کی فکر، سوچ اور شاعری کے حوالے سے بلا تکان بول رہا تھا۔ اس کے ساتھی بھی اس کی ہاں میں ہاں ملائے جا رہے تھے۔ وہ اقبال کے کلام کو چربہ اورسرقہ قرار دیتے دیتے دینے لگا۔ پھر ان کی شاعری ک کے سقم بیان کرنے کے بعد بولا۔ ”وہ مفکر تھا نہ دانشور، وہ ایک کنفیوزڈ آدمی تھا۔ جس کا ہیرو کبھی مارکس تھا تو کبھی مسولینی۔ وہ ملکہ و کٹوریہ کے قصیدے لکھتا تھا۔ اس نے جارج پنجم سے نائٹ ہڈ کا خطاب لیا تھا، سر کا خطاب حاصل کرنے کے لئے انگریزوں کی منتیں کیں۔ مسلمانوں کی جنگی فتوحات کو عظمت کہتا تھا اور ان کے زوال کو نشاط ثانیہ کا آغاز۔ خود تنقیدی اس کے مزاج میں نہیں تھی۔ شراب پیتا تھا مگر اندر سے کٹر مولوی تھا، آج کے جہادی اس کی وجہ سے دہشتگرد دبنے ہوئے ہیں۔ “

Read more

اکیسویں صدی میں خواتین کا کردار

دُنیا مجموعی طور پر تین بڑے ادوار سے گزری ہے۔ پہلے قبیلوں کی صورت میں لوگ منظم ہوئے۔ اِن میں احساسِ ملکیت پیدا ہوا اور پانی وزمین کے علاوہ اِنسانوں کی ملکیت کا احساس بھی انسان میں اُجاگر ہوا۔ چراگاہوں اور پانی کے حصول کے سلسلے میں دنگے، فساد، قتل و غارت گری ایک پیشہ…

Read more

دی الکیمسٹ: تحیّرِ عشق

برازیل کے شہرہٴ آفاق ناول نگار پاوٴلو کوئلہو کا ناول ”دی الکیمسٹ“ اب پڑھ کر مکمل کیا ہے۔ 1988 ء میں پرتگیزی زبان میں لکھے گئے اور بعد ازاں انگریزی میں ترجمہ شدہ ناول کو 2019 ء میں پڑھنا، خود کو ادب کے نالائق شاگردوں میں شمار کرنے لائق ہے۔ مگر کیا کیا جائے کہ…

Read more

جمیل الدین عالی اوران کی بیگم طیّبہ

جمیل الدین عالی جو اَب ایک عہد، ایک تہذیب اور ایک تاریخ کا نام ہے، اور شاید ایسی ہی معتبر شخصیات کے لیے سرور بارہ بنکوی نے لکھا تھا کہ: جن سے مِل کر زندگی سے عشق ہو جائے وہ لوگ آپ نے دیکھے نہ ہوں شاید، مگر ایسے بھی ہیں جمیل الدین عالی صاحب…

Read more

میاں نواز شریف کا برساتی نظریۂ انقلاب

آخرکار میاں نواز شریف اور ان کی صاحبزادی پاکستان تشریف لے ہی آئے۔ یہ ”آنی“ بڑی بامعنی تھی/ہے۔ سیاست سے دلچسپی رکھنے والا ایک طبقہ انہیں، ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بےنظیر ثانی ثابت کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا تھا۔ اس حوالے سے وجاہت خان نے جب آصف علی زرداری سے…

Read more

پیر، میر، سردار اور بھوتار کسی کے نہیں ہوتے

میرا تعلق اس بد نصیب نسل سے ہے جن کے بچپن کو ضیا نامی آسیب کی دہشت چاٹ گئی۔ غالباً یہ 1977ء یا 1978ء کا زما نہ تھا۔ اسکولوں میں منادی ہوچکی تھی کہ تمام لڑکیاں سروں پہ اسکارف باندھ کر یا چادریں لپیٹ کر آئیں۔ بڑی سراسیمگی کا عالم تھا۔ چادر کون اوڑھے گا؟…

Read more

نیلی بار: میرا دیس نیلوں نیل

کہانی نے آبِ حیات چکھی ہوئی ہے۔ وہ ازل سے زندگیوں کے ساتھ ہونے والی وارداتوں کی امانت دار ہے.... کہانی کرنے والے، کہانی لکھنے والے .... اور کہانی ہونے والے سارے کردار مرتے رہتے ہیں مگر کہانی جیتی رہتی ہے۔ قریہ قریہ، کوچہ کوچہ، یُگ یُگ پھرنے والی کہانی نے بے شمار روپ بدلے۔…

Read more

بلاول بھٹو زرداری، سبز یونیورسٹی اور زرد تنقید

ذوالفقار علی بھٹو صاحب یونیورسٹی آف کیلیفورنیا (برکلے) اور یونیورسٹی آف آکسفورڈ میں پولیٹیکل سائنس، تاریخ اور قانون کے طالب علم تھے اور یونیورسٹی آف ساؤتھ ہیمپٹن میں قانون کے استاد۔ رہے۔ ان کے لکھے ہوئے خطوط، سوشلزم پر دئے گئے لیکچرز کی سیریزاور کتابوں میں انگریزی ادبیات کا وسیع مطالعہ جھلکتا ہے ۔ بھٹو…

Read more

محبت، بغاوت اور نظمیں پرانی نہیں ہوتیں

اگر آپ سامراجی ہتھکنڈوں اور مظلوم و محکوم عوام کے غضب شدہ حقوق کا مطالعہ کرتے رہے ہیں تو آپ نسیم سیّد کی کتاب ’’یوروپئین نوآبادیات کے ایبوریجنل ادب پر اثرات‘‘ کو نئے دور کا وہ صحیفہ کہیں گے جس کا لفظ لفظ خود کو ، آپ سے بار بار پڑھوائے گا۔ آپ اِس کتاب…

Read more

ایک سندھی علی نواز چانڈیو کا خط

میں حلفیہ کہتا ہوں کہ میرا نام علی نواز چانڈیو ہے اور میں ضلع دادو کے ایک گوٹھ میں رہتا ہوں۔ بہت زمانے پہلے ہمارے بزرگ ہجرت کر کے سندھ آ گئے تھے اور پھر سندھ کی محبت نے کہیں جانے نہ دیا۔ اب میرا جینا مرنا سندھ دھرتی کے ساتھ ہے۔ میرے پانچ بچے…

Read more