وہ لڑکا ملتا ہی نہیں

انیسواں سال ہے مگر وہ بارش خیالات کی وادی میں اب بھی جھل تھل ایک کیے ہے۔ شہر کے گرد پہاڑ دھند کی سفید چادر اوڑھے تھے اور وہ جھڑی کے جو لگی ہی رہتی۔ نوجوانی کی دہلیز سے بس ابھی پار اترا وہ کھلنڈرالڑکا کلاس روم کی کھڑکی سے باہر فضاوں میں نظریں جمائے تھا۔ ہوا کے ساتھ برف کے آوارہ گالے دیکھے تو اس کا دل بھی مچل پڑا۔ لیدر کی جیکٹ میں اندرونی جیب سے اونی ٹوپی نکال کر سر پر چڑھائی اور اس کی جگہ ڈائری کو رکھا، زپ بند کرتے پچھلے دروازے سے نکل پڑا۔

Read more