پردے کی ضرورت کسے ہے؟

چند روز قبل ہری پور میں محکمہ تعلیم کی ایک ضلعی ایجوکیشن آفیسر برائے فی میل نے ایک حکم نامہ جاری کیا جس کہ تحت تمام اسکولز آنے والی تمام طالبات کے عبایا پہننا لازمی قرار دیا گیا۔ اس نوٹیفیکیشن میں یہ مؤقف اپنایا گیا کہ یہ بچیوں کی پروٹیکشن کے لیے گیا گیا۔ نوٹیفیکشن…

Read more

کشمیر کے مسئلے پر پاکستان کی عالمی تنہائی کی وجوہات

2004 کے دو واقعات پاکستان کی خارجہ پالیسی میں بنیادی تبدیلی کا باعث بنے اور سوالات پیدا ہوائے کہ آئندہ ملک کو درپیش خارجہ امور سے متعلق چیلنجز سے پاکستانی خارجہ پالیسی چلانے والی اسٹیبلشمنٹ کیسے نمٹے گی اور خارجہ پالیسی کی راہ میں حائل مشکلات کو ملک کے اندر کس رنگ میں پیش کیا جائے گا؟ اس حوالے سے یہ بنیادی تبدیلی کا نکتہ آغاز تھا۔

Read more

ریاستی تشدد اور اس کا جواز

پاکستانی ریاست کو اپنے ’اختیار‘ کے حوالے سے سلامتی کے داخلی محاذ پر دو چیلنجوں کا سامنا ہے۔

سرفہرست معاملہ اس ’جواز‘ کی مکمل ’اجارہ داری‘ کا ہے جس کے تحتریاست ’جبر‘ ، ’تشدد‘ یا ’طاقت‘ کو بطور ہتھیار استعمال کرتی ہے لیکن نکتہ یہ ہے کہ اس طاقت کے استعمال کے ’جائز‘ یا ’قانونی اختیار‘ پر اس کی مکمل ’اجارہ داری‘ نہیں۔ دوسری جانب وہ غیرریاستی عناصر موجود ہیں جو ’تشدد‘ یا ’طاقت‘ کے استعمال میں اتنے ہی موثر ہیں۔ ان میں سے بعض گروہ بشمول طالبان، بلوچ علیحدگی پسند اور کالعدم عسکری تنظیمیں ایسی ہیں جو پاکستان کے شہری علاقوں میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہیں۔

Read more

اپنا جواز کھوتا ہوا نظام

ہر اس نظام کا زمین بوس ہونا مقدر ہے جسے عوام جائز اور حلال تسلیم نہ کریں۔ کسی بھی سیاسی نظام کی بقاءکا دارومدار اس کا سیاسی طور پر جائز ہونا ہے۔ جدید سیاسی نظریہ میں سیاسی نظام کا جائز ہونا بنیادی اہمیت رکھتا ہے، یہ اتنا ہی ضروری ہے جیسے انسانی جسم میں دوڑتا خون۔ انسانی تاریخ کے مختلف مواقع پر مہم جوئی سے کئی جتھوں نے طاقت سلب کرلی۔ اقتدار پر قبضے کا جواز کبھی مذہب کو بنایا گیا تو کبھی قبائل کے معاہدے سے اسے حلال قرار دینے کی جستجو ہوئی، یا سیاسی یا فوجی اتحادوں کو سند جواز بنانے کی کوشش ہوئی۔ لیکن اقتدار کے یہ تمام جواز تسلیم نہ کیے گئے اور وقت کے ساتھ ایسے تمام جتھے حق حکمرانی کا جواز کھوبیٹھے۔

Read more

پاکستان اور بھارت کے تعلقات ایک نتیجہ خیز مرحلے میں ہیں

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے سیاسی وسفارتی حلقوں کی اکثریت وزیراعظم عمران خان کے تہنیتی پیغام پر بھارتی وزیراعظم کے جواب کو مثبت پیشرفت کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ بھارتی وزیراعظم کے جواب میں بنیادی تجویز یہ نکتہ ہے کہ دونوں ممالک کی قیادت کے درمیان اعتماد سازی ہو۔ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اس ضمن میں کہا ہے کہ ”مسلمہ سفارتی طریقہ کے مطابق بھارتی وزیراعظم اور وزیرخارجہ نے پاکستان کے اپنے ہم مناصب کے تہنیتی پیغامات کا جواب دیا ہے“ ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ”اپنے پیغامات میں اس امر کو نمایاں کیاکہ بھارت پاکستان سمیت اپنے ہمسایوں کے ساتھ معمول کے اور تعاون پر مبنی تعلقات کا خواہاں ہے۔“ بھارتی وزیراعظم کا کہناہے کہ ”اس مقصد کے حصول کے لئے یہ اہم ہے کہ اعتماد، دہشت، تشدد اور دشمنی سے پاک ماحول پیدا کیاجائے“ ۔

Read more

عام معاشرے سے فوج کی دوری کیوں ضروری ہے؟

زمانہ قدیم سے ہی طاقتور ریاستیں اپنی افواج اور عوام میں واضح حد بندی رکھتی آئی ہیں۔ اس مقصد کے لئے قدیم زمانے میں دیواریں تعمیر کی جاتی تھیں تاکہ فوج کو عام عوام سے دور رکھاجائے۔ بعض فوجی ماہرین کے مطابق عوام اور فوج کو ایک دوسرے سے الگ تھلگ رکھنے کا یہ تصور اتنا ہی قدیم ہے جتنا خود فوج کا ادارہ۔ اس سوچ کی بنیادی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ فوج کو معاشرے کے ناہموار اثرات سے بچایا جاسکے۔ ان دونوں میں دوری اگر نہیں ہوگی تو معاشرے میں موجود اَن گنت سماجی، سیاسی اور مذہبی تنازعات فوج کے ادارہ جاتی نظم میں منعکس ہوں گے۔ ہر معاشرے میں اپنی نوع کے ایسے تنازعات اور تضادات موجود رہتے ہیں جو جو فوج کی یکجائی پر اثرانداز ہونے کا احتمال پیدا کرسکتے ہیں۔ اسی خدشے کی بناءپر ازمنہ قدیم سے ریاستی فوج کو ایسے مقام پر رکھا جاتا رہا ہے جہاں وہ عام معاشرتی اثرات سے قطعی الگ رہے۔

Read more

پاکستان میں ریاستی طاقت کے کردار پر غور کی ضرورت

ریاست کی عملداری قائم کرتے ریاستی ادارے طاقت کے استعمال سے آبادی کو محکوموں کے جتھے میں کب بدل کر رکھ دیتے ہیں۔ ریاستی عملداری کب آبادی کی آزادی یا شہری آزادیوں کو نگل جاتی ہے، امتیاز کرنا ممکن نہیں رہتا؟پرانے وقتوں ریاست کا بنیادی تصور ہی طاقت، قوت اور جبر سے عبارت تھا۔ ایسی ریاست کا تصور محال تھا جو جبر اور طاقت کا استعمال کرنے والی مشینری کے وجود سے پاک ہو۔ کسی ریاست کے حاشیہ خیال سے ہی یہ بات ماورا تھی کہ اس کے وجود کے جائز ہونے کا معیار اور دارومدار عوام کی خدمت اور ان کو سہولیات بہم پہچانے پر ہے۔ ریاست اور شہری میں معاہد نہایت سادہ تھا۔ یعنی ریاستی حدود میں آباد شہری اپنی آمدن کا ایک حصہ ریاست کو ٹیکس کی صورت ادا کرے گا اور اس کے بدلے ریاست اس کی حفاظت کرے گی۔ ریاست ایک طرح سے اس بدمعاش گروہ کی مانند تھی جو پیسہ لے کر لوگوں کو تحفظ دے۔

Read more

اسٹیبلشمنٹ نے اختلافی آوازوں کے بارے میں درشت رویہ کیوں اپنایا؟

پاکستان میں اختلاف رائے خواہ علمی اور خالصتا تحقیقی بنیادوں ہی کیوں نہ ہو، اگر آپ یہ جسارت کریں تو فوری الزام یہ لگے گا آپ بے ایمان اور بدعوان ہیں، یا پھر ’لفافہ صحافی‘ ، ’بکاؤ مال‘ کا تمغہ تھما دیا جائے گا۔ ورنہ ’ملک دشمن‘ ، ’غدار‘ قرار دیا جانا تو کوئی مسئلہ ہی نہیں۔ پاکستان میں اب ریاستی موقف یا بیانیہ سے اختلاف یا اس پر سوال سہل نہیں رہا۔ سادہ الفاظ میں ’اختلاف رائے‘ کا ”ثمر“ آپ دیکھ تو سکتے ہیں، چکھ نہیں سکتے۔

Read more

آئی ایس آئی ہیڈکوارٹر اور صحافی کا خوف

آئی ایس آئی ہیڈکوارٹرز اسلام آباد سے فون تھا، ”کیا آپ آسکتے ہیں؟ ہمارے افسر آپ سے ملنا چاہتے ہیں؟ ، “ یہ غالبا اپریل 1998 کے دوسرے ہفتے کی بات ہے۔ کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا اور خوف بھی تھا۔ جواں عمری کے ساتھ صحافت میں بھی نووارد تھا۔ 1992 ءمیں صحافت شروع کرنے کے بعد میں نے ایسی بہت سی کہانیاں سن رکھی تھیں کہ کیسے انٹلی جنس والے اسلام آباد شہر کے صحافیوں کی خاطر داری کرتے ہیں۔ صحافی ہوکر اگر آپ اس طرف نہیں جس طرف انٹلی جنس ہے توپھر تشدد، ہراساں کیاجانا اور بدسلوکی آپ کی منتظر ہوسکتی ہے۔

Read more

اِک بھرم تھا سو وہ بھی گیا

لبرل جمہوریت کا پاکستان میں رواج تو خیر کبھی بھی نہیں رہا۔ یہ ایسا پھل رہا ہے جسے پاکستانی عوام کو دور سے دکھایا تو ضرورگیا لیکن وہ ان کے ہاتھ کبھی نہیں آیا اور نہ ہی وہ اس کاحقیقی مزہ ہی کبھی چکھ سکے۔ جوں جوں مغربی ممالک میں رائج اس نظام کی کرتا دھرتا سیاسی وعسکری قیادت کا ہماری سیاسی اشرافیہ سے میل میلاپ بڑھنے لگا تو ہمارے حکمرانوں نے ان جمہوری اقدار کے لئے اپنی قدرافزائی کا اظہار بھی شروع کردیا جو محض زبانی جمع خرچ تک ہی رہا۔ عملی طورپر وہ ان اقدار سے کنارہ کش ہی رہے جو مغربی معاشروں میں رائج تھیں۔

مغربی اقدار کے لئے یہ فریفتگی ہم نے تب بھی دیکھی جب بے نظیر بھٹو نے وزارت عظمی کا قلمدان سنبھالنے کے بعد ’نیو لبرل ایجنڈا‘ اپناتے ہوئے ریاست کی ملکیت صنعتی اداروں اور سرکاری کاپوریشنوں کی نجکاری شروع کردی۔ یہ مغربی لبرل جمہوریتوں میں شامل شخصیات سے روابط کا شاخسانہ تھا جنہوں نے 1980 کے بعد حکومتی حجم میں کمی لانے کے اقدام کی کھل کر حمایت شروع کردی تھی۔ ضیا دور کے بعد اگرچہ پاکستان کی سیاسی اشرافیہ تقریر اور اظہار کی آزادی کی جمہوری اقدار کے ساتھ رسمی طورپر وابستگی اور ان پر یقین کا اظہار کرتی تھیں لیکن اس کے باوجود یہ حقیقت بہرحال اپنی جگہ ہے کہ ضیا دور کے بعد سیاسی حریفوں کی پکڑ دھکڑ اور انہیں جیل میں ڈالنے کا رجحان مسلسل کم ہوتا گیا۔

Read more