حکایت ِ جنوں

اس کائنات کے اندر جتنی بھی انواع و اقسام کی مخلوقات بستی ہیں، ان میں انسان کو یک گونہ فضیلت اور شرف حاصل ہے کہ جس کے سبب وہ اشرف ا لمخلوقات کہلوائے جانے کے قابل ٹھہرا۔ یہ رتبہ جس صفت کی بدولت حاصل ہواس کی بناء دو چیزیں ہیں اعنی عقل جو پیدائشی ودیعت…

Read more

قومی بیداری اور عصبیت

کرہ ارض پہ آباد انسان کسی نہ کسی معاشرے اور قوم سے تعلق رکھتا ہے۔ تاہم اگر تمام اقوام کو پرکھا اور جانچا جائے تو معلوم پڑتا ہے کہ ان سب کے اندر جو قدر مشترک ہے وہ ہے انسانیت۔ اعنی اگر بنظر ِ غائر دیکھا جائے تو انسانیت ہی وہ لڑی ہے کہ جس کے اندر ان سب کو پر و کر یکجا کیا جا سکتا ہے۔ تاہم تاریخ کے صفحات الٹنے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اس قدر مشترک کے باوجود انسان نے انسان کا خون روا رکھا، اور اپنی عددی یا مالی برتری کو ثابت کرنے کے واسطے کسی جائز اور ناجائز چیز کی پرواہ نہ کی۔ دنیا کے اندر ان بسنے والی تمام اقوام کا اپنا تمدن، اپنی زبان اور اپنی روایات ہیں، جس پہ وہ بلا شبہ ناز کرنے کی مجاز ہیں۔ مگر ان میں سے کسی بات کو لے کر دوسری اقوام کی تضحیک اور ان کے امن و امان کو پائمال کرنا بھلا کیسے درست مانا اور کہا جا سکتا ہے۔

Read more

قفس سے فریاد

جیسے جیسے اس انسان دنیا میں نشوونما کے مختلف مراحل طے کیے جاتا ہے، ویسے ویسے اُس کی عقل کی بھی تربیت ہوتی جاتی ہے۔ مگر یہ عقل کس چشمہ سے سیراب ہوکر ترقی کے زینے طے کرتی ہے، یہ ایک مختلف چیز ہے جو انسانی زندگی کی جہت کا مقصد متعین کر کے یا تو اُسے اعلیٰ و ارفع انسان بنادیتی ہے یا جانور سے بھی بدتر مقام کہ جہاں ماسوائے ذاتی اغراض کی تکمیل کے کوئی دوسرا مقصد کارفرما نہیں ہوتا۔ یہ چشمہ کہ جہاں سے عقل کو حیات ِ جاودانی یا قعر ِ مذلت ملتی ہے، دراصل معاشرے کے مجموعی تائثر کی آئینہ دار ہوتی ہے، کہ ایک انسان جس معاشرے میں آنکھ کھولتا ہے وہ اُسی کے رواج و تہذیب کے سائے تلے پروان چڑھ کر ہی اپنی زندگی کی ترجیحات کا تعین کرتا ہے۔ یہ ترجیحات کس قسم کی ہیں، اور اُن کا مال کیا ہے، اس کو سمجھنا اور پھر اس کے اندر موجود مفاسد کو الگ کرنا ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں۔

Read more