محبوب کے نام ادھورا خط۔ خود کلامی

سنو میرے چاند! کل دوستوں کی محفل میں اچانک سے خوشبووُں کا تذکرہ ہونے لگا۔ یقین مانو میرے ذہن میں تمہاری خوشبو کے علاوہ کسی خوشبو کا گماں بھی نہ آیا تھا۔ میرا خوشبووُں اور خوشیوں سے معطر چہرہ تمہاری اچانک یاد آ جانے سے زرد پرچکا تھا۔ کیا تمہارے بھی ذہن میں وہ دن…

Read more

محبوبہ کے نام ایک خط

سنو جاناں! یہ جو تم خواہشات کی چادر اوڑھے ننگے پیر اس کٹھن صحرائی سفر پر نکل چکی ہو، جانے سے پہلے اپنے سے متعلقہ چند لوگوں کو اپنے سفر اور منزل کی معلومات دیتی جاوُ۔ اس تھکادینے والے سفر میں بیچ راستے سے مایوسی لے کر پلٹنا کیسا غضب ناک ہے۔ میں تو اس…

Read more

دو بستر اور ایک چادر

نومبر کی ابتدائی راتیں اپنے جوبن پر تھیں۔ عاشر رات کے اس پہر میں اپنے کمرے میں کھڑکی کے راستے داخل ہونے والی مدھم چاندنی سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔ چاند کو پہروں تکتے رہنا اور اس کی ٹھنڈک کو اپنے وجود میں اتارنا اس کا مشغلہ تھا۔ سردیوں کی راتیں اس کا اور…

Read more

خواب اور نومبر

نبیلہ اپنا سردونوں بازوؤں میں ٹکا کر چھت پربیٹھی تھی شام کے وقت گھر کو لوٹتے پرندے۔ سورج کے غروب ہونے کے منظر۔ ہر بار اس کی آنکھوں میں جمی اداسی کو مزید گہرا کر کے اس کے جسم میں اتار دیتا تھا وہ بھی تو اس سورج کی طرح ہر گزرتے دن کے ساتھ…

Read more

محبت کا اقرار نامہ

میری بات تو سنو! اے سخن ور وجیہ مرد، نہ جانے تمہارا ساتھ نصیب ہوئے کتنے ہی دن، ہفتے، مہینے گزر گئے۔ میں ازلوں سے حساب کی کچی عورت محض باتیں بنانے کے فن سے ہی واقف ہوں۔ تمہارے آجانے کے بعد تو شاید اس میں مزید بہاؤ آگیا ہے۔ جب کوئی توجہ سے سننے…

Read more

مقبوضہ کشمیر کی حالت زار

سوا تیرا ہزار مربع کلومیٹر کے رقبے پر پھیلا جموں کشمیر کا خطہ 24 اکتوبر 1947 کو وجود میں آیا۔ کشمیر جو کہ ایک نیم خودمختار ریاست ہونے کے باوجود اقوام متحدہ ہ کا ممبر نہ بن سکا۔ پچھلے ساٹھ سالوں سے اس توقع پر بھارتی فوج کے ظلم و بربریت کا شکار ہو رہا…

Read more

کیوں کہ ساس بھی کبھی بہو تھی

بے بسی سے بے حسی کا فاصلہ طے کرنے والی ایک عورت جو بیک وقت ظالم بھی ہے اور مظلوم بھی۔ ہر عورت اپنی انا، عزت نفس کی بحالی اور نفس کی تسکین کے لئے نہ چاہتے ہوئے بھی ایک ایسی ظالم عورت کا روپ دھاڑ لیتی ہے جس کی تمام خوبیوں اور خامیوں سے…

Read more

افسانہ انتخاب

تمام دن سورج اپنے جوبن پر چمکنے کے بعد اب اپنی آخری پھیکی کرنیں ہر سو پھیلا رہا تھا۔ ایک اور دن اختتام پزیر تھا۔ تنہائیوں، آنسوؤں اور کرب سے بھرپور ایک اور رات زہریلی مسکراہٹ اپنے چہرے پہ سجائے بانہیں پھیلا کر اس کی منتظر تھی۔ رات اسے ہمیشہ ہی دہشت میں مبتلا کردیتی…

Read more