کالم کہانی: میاں صاحب باہر جا رہے ہیں؟

”شیدے! “ ”بول میدے۔ “ ”میاں صاحب جاسی؟ “ ”اردو میں بول ناں۔ “ ”تینوں تے پتا اے، مینوں اردو نئیں آؤندی۔ “ ”اور مجھے پنجابی نہیں آتی۔ “ ”میں پوچھ ریاں آں۔ میاں صاحب جا رہے ہیں؟ “ ”جا رہے ہیں۔ “ ”کب؟ “ ”بس دو ایک دن میں۔ “ ”واپس آنے کے لیے؟…

Read more

حضورِاکرمﷺ اور سندھ

سندھ کو ”باب الاسلام“ کہہ کر جان چھڑانے والے یہ نہیں جانتے، یا دوسروں کو نہیں جاننے دینا چاہتے، کہ اس خطّے میں اسلام کا ظہور عربوں کے حملے سے بہت پہلے ہی ہو چکا تھا، جس کی متعدد دلیلوں میں سے ایک واضح دلیل بھنبھور میں واقع ایشیاء کی سب سے پرانی مسجد ہے،…

Read more

سعید میمن۔ جدید سندھی ادب کے نمائندہ، جواں مرگ شاعر

ویسے تو ہر نفس کی موت کا ایک دم مُعیّن ہے، مگر سندھی ادب ماضی قریب میں یکے بعد دیگرے جن شخصیات کے داغ ہائے مفارقت سے دو چار ہوا ہے، اُن شخصیات کے خلا بھرنے میں طویل مُدّتیں درکار ہوں گی۔ پچھلے چند ایک برس میں جہاں ڈاکٹرموتی پرکاش، مقصودگل، عبدالواحد آریسر، منیرسولنگی، بشیرسیتائی،…

Read more

عقيدہ

”بابا!“ ”جی بیٹا!“ ”بابا، بہت ٹھنڈ لگ رہی ہے۔“ ”بیٹا! الله کو پُکارو!“ ”پھر سردی نہیں لگے گی بابا؟“ ”ہاں بیٹا! پھر ٹھنڈ اتر جائے گی۔“ ”تو پھر کیا بارش بھی بند ہو جائے گی؟“ ”ہاں بیٹا! بارش بھی رُک جائے گی۔“ ”اور بابا! ہماری جھونپڑی کے اندر بارش کا پانی بھی نہیں آئے گا؟“…

Read more

شاہ عبد اللطیف بھٹائی ؒ کا دو سال قبل تخلیق شدہ مجسمہ

ایک دور تھا، جب مجسمہ سازی کو دنیا کے باقی خطّوں کی طرح دُنیا کے یہاں بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا، اور قیامِ پاکستان سے قبل موجودہ پاکستان کی جغرافیائی حدُود میں آنے والے کئی شہروں کے چوراہوں پر مختلف شعبہ ہائے زندگی میں اپنی نمایاں خدمات انجام دینے والی شخصیات کو…

Read more

چار دُشنام [ سندھی افسانے کا اردو ترجمہ ]۔

( افسانہ نگار: جبّار آزاد منگی | ترجمہ: یاسر قاضی ) آج مجھے دو جرائم کا فیصلہ سُنانا ہے۔ آج مجھے انصاف کرنا ہے۔ ایک قتل کا جرم، جس جرم میں ایک غریب کسان ملزم ہے، جس کے بیل کی ٹکر سے گاؤں کے سرغُنے کا بیٹا ہلاک ہو گیا ہے۔ ملک کے قانون نے…

Read more

اندر میں ابلیس

وہ بہت معزز، شریف اور نیک مرد کے طور پر پہچانا جاتا تھا۔ مُحلّے کی مسجد کا پیش امام تھا۔ اس کے چہرے پر سیاہ ریش کے زیادہ تر بال کچھ سفید بالوں کے ساتھ نمایاں تھے۔ سر پر سفید جالی والی ٹوپی پہنتا تھا، جبکہ اس کے کندھوں پر رومال رکھا ہوتا تھا۔ پڑوس کے لوگ دین کے تمام معاملات و مسائل اسی سے پوچھنے آیا کرتے تھے۔ جمعے کی نماز سے پہلے والی اس کی تقریر اکثر طویل ہُوا کرتی تھی، جس میں وہ اکثر جنّت اور دوزخ کے موضوع کا ذکر کیا کرتا تھا۔ حاضرین اس کی تقریر سے بیحد متاثر ہوا کرتے تھے۔ اس کا کردار بظاہر ایک بزرگ اور معلم والا تھا۔ ہر کوئی اس پر اندھا اعتماد کیا کرتا تھا۔

Read more

جنابِ والا، ٹُول بکس خالی ہے

18  اگست 2018ء سے لے کر ہم عوام کو اور بھلے انگنت مصائب و مسائل و مشکلات کا سامنا رہا ہو، جِینا اجیرن ہو گیا ہو، تنخواہ میں گزارا ہونا مشکل ہوگیا ہو، کئيوں کے روزگار تک چِهن گئے ہوں، یا اور کسی معاشی یا معاشرتی افتاد کا سامنا ہو، مگر ایک مزہ ضرور ہے…

Read more

بہرُوپیا

( سندھی افسانے کا اردو ترجمہ ) تحریر: ڈاکٹر ایاز قادری ترجمہ: یاسر قاضی شکیلہ کا ہاتھ آہستہ آہستہ اپنے بالوں کی طرف بڑھا۔ اس کی چوٹی میں گلاب کا تازہ کِھلا ہوا پُھول ظلمات میں نُور کی کرنوں کی طرح چمک رہا تھا۔ اس نے اپنے بالوں سے گلاب کو کھینچ کر نکالا۔ آہستہ آھستہ…

Read more

پیرپَٹھوؒ

برِصغیر ہندوپاک، بزرگانِ دین کی آماجگاہ رہا ہے۔ یہاں اسلام ہی نہیں، بلکہ دیگر کئی مذاہب کے بزرگان، صدیوں سے نیکی کے پیغام کو عام کرنے کے لئے اپنی زندگیاں وقف کرتے رہے۔ افسوس ہے کہ ہمارے پاس اپنے خطے میں جنم لینے والے یا باہر سے آکر یہاں وفات پانے اور مُستقل طور پر…

Read more