“جیو” کہتا ہے، جیو یا مرو ہمیں کیا ؟

میں یہ سب اپنی اخلاقی برآت کے لئے لکھنا چاہتا ہوں تاکہ کل اس ادارے پر تنقید کرنی پڑے تو کوئی یہ نہ کہے کہ دیکھا جب تک وہاں تھے، ان کا دم بھرتے تھے اور آج انہی کو کوسنے دے رہے ہیں جنہوں نے پندرہ برس (میں نے جیو نیوز دو ہزار چار میں…

Read more

کارل مارکس اور بیماری کی تشخیص

جنوبی پنجاب کے متوسط درجے کا ایک گھر جہاں تازہ قلعی کی خوشبو ایک بوڑھی عورت کے غمزدہ نقوش، دانائی سے بھری آ نکھوں والے ایک دانشور کی تصویر اور لوہے کی تپائی پر پڑا خط کمرے کی بے سکون خاموشی میں مسلسل اضطراب پیدا کر رہے ہیں۔ اس بوڑھی عورت کے بیٹے کے لیے…

Read more

علی ظفر نہیں، دیوی روئی ہے !

کچھ دیر پہلے علی ظفر جیو نیوز کے ایک شو، نیا پاکستان، میں رو پڑے اور گڑگڑا کے میشا شفیع کے حضور یہ استدعا کی اب وہ بس کر دے اور اس جھگڑے کو ختم کر دے اور ظاہر ہے علی ظفر ایک معتبر شخصیت ہے جیسا کہ شیکسپیئر کے ڈرامہ جولیس سیزر میں بروٹس…

Read more

عمران اور میانداد دونوں درست ہیں

میانداد عمران خان کے خلاف کریز پر آ گئے کیونکہ وہ ڈیپارٹمنٹل کرکٹ کے اور عمران شہروں کی کرکٹ کے حامی ہیں۔ جہانگیر خان جو اسکواش کے بے تاج بادشاہ اور اصلاح الدین جو ہاکی کے عظیم ترین کھلاڑی ہیں ڈیپارٹمنٹل سپورٹس کی طرف داری کر رہے ہیں۔ ابھی بہت سے اور بھی سامنے آ ئیں گے جو گھسی پٹی لکیر پیٹیں گے اور جواز ہو گا۔ نوکریاں۔ اصولی طور پر تو یہ بات درست ہے کہ کرکٹ، ہاکی یا کسی بھی سپورٹس کے کھلاڑی کو جب مختلف ڈیپارٹمنٹ، ملٹی نیشنل، بزنس گروپس اپنی ٹیموں میں جگہ دیں گے تو وہ ساری زندگی پیسے پیسے کا محتاج ہو کر کھیل کو نہیں پالے گا بلکہ عام کرئیر بنانے والوں کی طرح اپنا کرئیر بنائے گا۔

Read more

عمران خان ایک خطرناک بیماری کا شکار ہیں !

عمران خان پر طرح طرح کے گھناؤنے الزام لگائے گئے۔ عمران خان ایک خطرناک بیماری کا شکار ہیں، وہ کبھی شادی نہیں کریں گے۔ (سرفراز نواز ) عمران خان میرے بیڈ روم میں لڑکیاں لے کر آتا تھا۔ (انبساط یوسف ) عمران خان نے مجھے بتایا کہ ایک بار اس نے ہیجڑے کے ساتھ ہم…

Read more

بائیں بازو کے خواب

میں اپنی زندگی میں پہلی بار جس بڑے آدمی سے ملا وہ عابد حسن منٹو ہیں۔ بائیں بازو کی جماعتوں کا خانیوال میں ایک اکٹھ تھا اور سب لوگ ہمارے گھر چائے پینے آئے تھے۔ ، تارا یونین والے مرزا ابراہیم صاحب، حبیب جالب صاحب، جناب نعیم شاکر، سیف الملوک صاحب اور سی آر اسلم صاحب بھی تھے۔ منٹو صاحب کی آنکھوں سے ٹپکتی ذہانت، متانت اور باوقار انداز گفتگو نے مجھے بہت متاثر کیا اور یقین کیجیے مجھے پہلی بار اپنے سوشلسٹ ہونے پر فخر محسوس ہوا ورنہ سوشلسٹ ہونا تو گویا ایک کلنک تھا یعنی سکول ہو یا کرکٹ گراؤنڈ، ٹیوشن سنٹرز ہوں یا نئے دوستوں کی آزمائش ہر طرف ہم سے پہلے ہمارے افسانے گئے اور یہ سارے افسانے رسوائی کے تھے۔”تم لوگ جب مر جاتے ہو تو جنازہ ہوتا ہے؟ “، ”سب روزے رکھتے ہیں تو تم کیا کرتے ہو؟ “، ”جب دل دکھتا ہے تو کسے پکارتے ہو؟ “، ”اسلامیات کیسے پڑھ لیتے ہو“، ”انقلاب نے خود ہی آنا ہے تو تم اپنی عاقبت خراب کیوں کرتے ہو؟ “، ”شادیاں کرتے ہو یا ویسے ہی کام چلا لیتے ہو“، ”مذہب کے خانہ میں کیا لکھتے ہو؟ “، ”اپنے مردوں کو دفناتے ہو یا کچھ اور کرتے ہو“، ”نام مسلمانوں والا کیوں رکھا ہوا ہے؟ “، ”روس سے اتنی محبت ہے تو وہاں دفع کیوں نہیں ہو جاتے؟ “۔

Read more

کیا صرف مودی ننگا ہوا ہے ؟

جب سے جنگی جنون کی کالک برسنا شروع ہوئی ہے بہت سے ذی شعور جنگ کہ تباہی کاریوں سے متنبہ بھی کر رہے ہیں۔ ایسے میں خیالات میں ایک محشر برپا ہے اور نبض ہستی کچھ اس انداز سے چل رہی ہے گویا شب کی رگ رگ سے لہو پھوٹ رہا ہو۔ ولادی میر لینن بہت بڑا آدمی تھا اور صرف ایک بات پر کرینسکی کی قلابازی لگوا دی کہ وہ جرمنی کے ساتھ جنگ جاری نہیں رکھے گا جبکہ کرینسکی جنگ جاری رکھنا چاہتا تھا اور روسی عوام جنگ سے تنگ آئے ہوئے تھے۔لینن نے کیا اچھی بات کہی تھی کہ جنگیں بہت خوفناک ہوتی ہیں لیکن خوفناک حد تک منافع بخش بھی۔ زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ بھارت میں اٹھتر فی صد لوگ جنگ چاہتے ہیں اور بائیس فیصد بالکل جنگ نہیں چاہتے اور وہ بائیس فی صد بھارت کی افواج ہیں گوکہ ان کا نیول چیف کہتا ہے کہ ہر لحاظ سے تیار ہے لیکن مجھے یقین ہے ان کی فضائیہ کے چیف نے بھی نندن کو بھیجنے سے پہلے یہی کہا ہو گا۔ ہم دونوں اتنے سیانے ضرور ہیں کہ جنگ نہیں کریں گے لیکن صرف جنگی جنون پیدا کر کے اور جنگ کی فضا بنا کر بھی بہت کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے۔

Read more

ن م راشد کی کہانیاں اور تمثیلیں

ہمارے ہاں ن م راشد نظم کے سب سے بڑے شاعر ہیں لیکن فخر الحق نوری اور ڈاکٹر ناصر عباس نیر کے سوا کسی نے راشد صاحب پر خاطر خواہ کام نہیں کیا۔ میں کوئی نقاد تو نہیں لیکن ادب کا ادنیٰ سا طالب علم ہوں اور میں راشد صاحب کے تصور آدم نو وغیرہ پر بھی بات نہیں کرنا چاہتا کیونکہ ایسی تنقید خالص ادب کے طلباء کے لئے ہوتی ہے۔ راشد صاحب کی فکری جہات اور کرافٹ کا لطف اٹھانے کے لئے ضروری ہے کہ ان کی شاعری کو گایا جائے، سنا جائے، محسوس کیا جائے اور اگر ہمت ہو تو پڑھا بھی جائے۔

اگر انہیں پڑھ کر جمالیاتی حظ اٹھانا آسان ہوتا یا ان کے نظام فکر کو گرفت میں لینا سہل ہوتا یا انہیں فیس بک پر درج کر کے اپنی جمالیاتی و شعوری بالیدگی کا ثبوت پیش کرنا آسان ہوتا تو فیض اور ناصر کی طرح دھڑا دھڑ نظموں کے ٹکڑے چسپاں ہو رہے ہوتے۔ انقلاب کے نعرے، محبت کی بازی، حسن کے قصیدے، ہجر و وصال کے گیت راشد کے ہاں روایتی انداز سے موجود نہیں اور نہ ہی ان کی شاعری کوئی سستا نشہ ہے کہ ہر للو بھٹیار چار مصرعے یاد کر کے اپنے تئیں ابوالکلام بن جائے گا۔

Read more

ویلنٹائنز ڈے پر کھونٹوں کی تلاش !

ویلنٹائنز ڈے آ رہا ہے اور جیسے فیض صاحب کہتے تھے، " دل عشاق کی خبر لینا / پھول کھلتے ہیں ان مہینوں میں" محبت کے مارے اظہار کے مختلف حربے اپنائیں گے۔ حربے اس لئے کہا کہ فقیہہ شہر مے کی اجازت کیا دے گا کہ چاندنی کو بھی حضرت حرام کہتے ہیں۔ ادھر…

Read more

گاؤدی اینکروں کے تو وارے نیارے ہیں!

خبرناک اپنی مقبولیت کی بلند ترین سطح پر ہے اور مجھ سمیت اس سے وابستہ ان لوگوں کی تنخواہوں میں کٹوتی ہو گئی ہے جو ایک خاص حد سے زیادہ تنخواہ لے رہے تھے۔ جو لوگ یہاں سے گئے وہ تنخواہوں کے دیر سے آنے کے باوجود جانا نہیں چاہتے تھے اور اس کی وجہ…

Read more