ویلنٹائنز ڈے پر کھونٹوں کی تلاش !

ویلنٹائنز ڈے آ رہا ہے اور جیسے فیض صاحب کہتے تھے، " دل عشاق کی خبر لینا / پھول کھلتے ہیں ان مہینوں میں" محبت کے مارے اظہار کے مختلف حربے اپنائیں گے۔ حربے اس لئے کہا کہ فقیہہ شہر مے کی اجازت کیا دے گا کہ چاندنی کو بھی حضرت حرام کہتے ہیں۔ ادھر…

Read more

گاؤدی اینکروں کے تو وارے نیارے ہیں!

خبرناک اپنی مقبولیت کی بلند ترین سطح پر ہے اور مجھ سمیت اس سے وابستہ ان لوگوں کی تنخواہوں میں کٹوتی ہو گئی ہے جو ایک خاص حد سے زیادہ تنخواہ لے رہے تھے۔ جو لوگ یہاں سے گئے وہ تنخواہوں کے دیر سے آنے کے باوجود جانا نہیں چاہتے تھے اور اس کی وجہ…

Read more

شمیم بھائی نے عمران خان کو کیا وارننگ دی؟

کوئی بھی بلاگ شروع کرنے سے پہلے سوچتا ہوں کہ اپنی یادوں کو کسی بڑے آدمی سے جوڑ دوں تا کہ چھاپنے والے پر یہ بوجھ نہ بنے کہ مجھ جیسے عام آدمی کی کہانیوں میں کوئی کیوں دلچسپی لے گا لیکن مجھے بڑے لوگ نظر ہی عام اور غیر معروف لوگوں میں آتے ہیں۔ اب تک زندگی کا سب سے بڑا اور سب سے خوبصورت حصہ ریلوے کی برٹ کالونی لاہور میں گزارا۔ یہاں کرکٹر محمد یوسف جو اس وقت یوسف یوحنا تھے بھولے شری کانت کے ہاتھوں پٹے کیونکہ ایک لاگت بازی کے میچ میں رن آؤٹ ہو گئے تھے جسے بھولا جی نے جان بوجھ کر رن آؤٹ ہونے پر محمول کیا لیکن بات صرف رن آؤٹ ہونے کی نہیں تھی۔

Read more

جب بابا حیدر زمان کا اکسایا ہوا ہجوم ہمیں مارنے پر تل گیا

بظاہر ٹی وی پروڈکشن ایک بے ضرر، دلچسپ اور آسان سا کام ہے لیکن بعض اوقات اس میں موت کو قریب سے دیکھنا پڑتا ہے۔ آپ پرسکون اور معمول کے مطابق گزرتی زندگی کو چھوڑ کر ایک دم آگ میں چھلانگ لگاتے ہیں اور جسمانی طور پر بچ بھی جائیں تو نفسیاتی طور پر ایک شدید اضطراب سے گزرتے ہیں۔ پچھلے دنوں جب میں اوورکوٹ پہن کر ریکارڈنگ میں بیٹھا ہوا تھا تو میرے ڈی او پی نوید حیات نے کہا کہ آپ وہ نہیں رہے جو آج سے پانچ سات سال پہلے تھے۔ اس ایک فقرے نے گویا یادوں کے دریچے کھول دیے۔

صوبہ ہزارہ کی تحریک زوروں پر تھی اور لوگ سڑکوں پر اپنا صوبہ مانگ رہے تھے جبکہ زرداری اور نواز شریف تیسری بار وزیراعظم بننے کی راہ ہموار کرنے کے بدلے سرحد کو خیبر پختونخوا نام دے رہے تھے یعنی کھلم کھلا دھاندلی ہو رہی تھی ہزارہ والوں خلاف۔ بابا حیدر زمان جو ہمیشہ نواز شریف کے خلاف الیکشن ہارتا تھا ہزارہ والوں کا ہیرو بنا ہوا تھا۔ عبدالرؤف صاحب ( ہمارے استاد، باس اور پچاس منٹ کے اینکر) نے کہا کہ ہزارہ جا کر پروگرام کرتے ہیں۔

Read more

عورت، آئیڈیل اور بھیڈو

ہماری کالونی میں ایک نعیم بھیڈو صاحب رہا کرتے تھے۔ ذرا قد کاٹھ نکالا تو سوچا کسی پر عاشق ہوا جائے۔ ساتھ والے بنگلے میں ایک دوشیزہ رہتی تھیں جن کا نخرہ آسمان پر تھا اور ہونا بھی چاہیے تھا کیونکہ کسی نے انہیں بہت خوبصورت اور سنگدل ہونے کا احساس دلایا ہوا تھا۔ نعیم بھیڈو صاحب نے آؤ دیکھا نہ تاؤ انہیں پروپوز کر دیا۔ خاتون سنگدل ہونے کے ساتھ ساتھ سمجھدار بھی تھیں۔ انہوں نے سوچا اگر فتراک میں ایک اور نخچیر کا اضافہ ہو جائے تو کیا برا ہے۔ جو سب سے اچھا ”پیس“ ہو گا ان کے لیے حلف وفاداری اٹھا لیں گی۔ بس جھٹ سے کہہ دیا، ”نعیم تم سی ایس ایس کر لو پھر میں تمہاری ہو سکتی ہوں“۔

بھیڈو صاحب جو کہ انڈر میٹرک تھے اور کتاب پڑھتے ان کی آنکھوں میں پانی آجاتا کہا کرتے، ”اللہ ایک بار جیون ملا اور وہ بھی آنکھیں کالی کرنے میں ضائع ہو جائے گا۔ وہ کیسے خوش قسمت ہیں جو منہ کالا کر لیتے ہیں لیکن وقت ضائع نہیں کرتے“ بھاگم بھاگ ہمارے پاس آئے۔ انہیں بتایا گیا کہ بھائی بہت سی چیزیں ازبر کرنی پڑتی ہیں، وقت دینا پڑتا ہے۔ ڈنگر کر ساتھ ڈنگر ہونا پڑتا ہے۔ ہمارے ایک دوست کا خیال تھا کہ ڈنگروں کا امتحان ہی ایسے ہوسکتا ہے۔ سوچنے سمجھنے والوں کا نہیں۔ خیر نعیم بھیڈو چلا گیا۔
خاتون نے جب اسے چپ دیکھا تو ایک دن بلا کر پوچھا، ”تمہارا جذبہ کیا ہوا؟ “۔ بھیڈو بولا اگر سول سرونٹ بن گیا تو تم ہی رہ گئی ہو شادی کرنے کے لیے۔ بھیڈو صاحب چاہتے تھے کہ ان میں چھپا گوہر شادی سے پہلا تلاش کیا جائے اور ایسے ہی گوہر تلاش کرنے کے مواقع انہیں دیے جائیں تاکہ ایک دوسرے کو سمجھنے میں کوئی کسر نہ رہ جائے۔ چاہے گوہر مٹی ہو جائے۔

Read more

میرا ایمان خراب نہ کر یار !

نظریہ کیسا اچھا لفظ ہے لیکن سنتے ہی دماغ میں غلاظت کا ڈھیر امڈ آتا ہے۔ نظریہ کا مطلب تو ظاہر ہے زندگی سے متعلق ایک خاص زاویہ نظر ہوتا ہے لیکن ہمارے سکول میں شکور محمد عاصی صاحب ( اللہ انہیں جنت اور غلمان نصیب کرے ) چھوٹے بچوں کے ساتھ بد فعلی کے لیے مشہور تھے۔ ہو سکتا ہے آج کل کچھ دانشور حضرات اس سرگرمی کو بد فعلی کہنے پر اعتراض کریں اور اپنا بھونڈا سا لبرل ازم گھسیڑیں لیکن بہر حال عاصی صاحب اردو اور مطالعہ پاکستان پڑھاتے تھے لہذا یہ امیج کسی طرح لفظ نظریہ کے ساتھ جڑ گیا۔

اسی طرح لفظ ایمان اپنے معانی کے بر خلاف ہمارے دوست باجوہ صاحب کا تنا ہوا چہرہ، ابلتی آنکھیں اور چوڑے چوڑے دانت سامنے لے آتا ہے۔ میں حسن کی تعریف کیے بغیر نہیں رہ سکتا چاہے وہ کوئی تصویر ہو یا مجسمہ، تحریر ہو یا ”مصورہ“ اور عموماً میں ہی غافل دوستوں کو سڑک پر چلتے، کلاس میں آتے، بس سے اترتے، سیڑھیاں چڑھتے حسن کی طرف توجہ دلاتا۔ سب لوگ بڑے خضوع و خشوع سے متوجہ ہوتے سوائے باجوہ صاحب کے جو مجھے تقریباً پیٹنے والے ہوتے بل کہ ایک دو بار تو مجھے ان سے ٹھڈا پڑا بھی۔ ایسا نہیں تھا کہ باجوہ صاحب حسن پرست نہیں تھے لیکن انہیں اپنا ایمان خراب ہونے کا دھڑکا لگا رہتا تھا۔ وہ یہی کہتے رہتے کہ، ”اوئے میرا ایمان خراب نہ کرو، ایمان خراب نہ کرو“۔ بس کسی ناہنجار نے کہہ دیا، ”باجوہ صاحب! آپ نے ایمان پتلون میں رکھا ہوا ہے؟ “

Read more

!سرائیکی صوبہ نہیں بن سکتا، مینا کہیں زیادہ مقبول ہے

میں ایک ڈاکیومنٹری بنانے کے سلسلے میں ایک بار ڈی جی خان گیا اور وہاں کے ایک درمیانے درجے کے زمیندار میاں صاحب کا مہان بنا۔ میاں صاحب سرائیکی اور اردو ادب سے بہت شغف رکھتے تھے اور ہر بات کو زبردستی فلسفہ کا رنگ دینے کی کوشش کرتے گو کہ انہیں فلسفہ کی ذرا شد بد نہیں تھے۔ ہمارے ہاں بھی ایسا ہی ہوتا ہے جو جتنی احمقانہ بات کرے اسے اتنا ہی بڑا فلسفی کہہ کر یہ اقرار کر لیا جاتا ہے ہم اس کی یاوہ گوئی کے سامنے ہتھیار پھینک رہے ہیں۔

دوسری بات بزرگوار میں یہ تھی کہ اچھے خاصے کھاتے پیتے گھرانے سے تعلق کے باوجود غریب معتقدوں کو غیر شعوری طور پر یہ احساس دلاتے رہتے تھے کہ وہ سب پنجابی استعمار کے غلام ہیں اور ان کے دکھ اسی استعمار کی وجہ سے ہیں مثلاً کسی نے محفل سے اٹھنے کی کوشش کی تو میاں صاحب بولے، ”کدھاں ویندے ہے جے؟ “ اور وہ صاحب بولے، ”چھوٹی دھی بھکی ہو سی۔ گھر کے شے کو نا۔ ویندا پیاں“ اور میاں صاحب نے ایک دلدوز چیخ نما انداز میں کہا ”ہائے اساں قیدی تخت لہور دے“ اور سب کے دل شدت غم سے ڈوبنے لگے ۔

Read more

ڈاکٹر سلیم اختر اور نشان جگر سوختہ

ڈاکٹر سلیم اختر چل بسے۔ خاموش طبع لیکن ملنسار آدمی تھے۔ برسوں پہلے جب ان کی والدہ کا انتقال ہوا تو میں اور ڈاکٹر عثمانی صاحب ان سے اظہار افسوس کے لیے گئے۔ کہنے لگے چلے تو سب نے جانا ہے لیکن مجھے افسوس بس ایک ہے کہ اب مجھے ”سلیم“ کہہ کر بلانے والا کوئی نہیں رہا۔

میں نے کہا ڈاکٹر صاحب آپ کے بارے میں یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ آپ ادیب بڑے ہیں، نقاد یا نفسیات دان۔ کہنے لگے کہ انہیں کرداروں کے فیصلوں پر اثرانداز ہونے والے محرکات میں شروع ہی سے دلچسپی تھی بس اسی کی کھوج میں شعور اور لاشعور کی گہرائیاں ماپنے لگے۔ ان کی ایک کتاب ہے شعور اور لاشعور کا شاعر۔ غالب۔ ڈاکٹر صاحب نے غالب کا مطالعہ ڈیفنس میکانزم تکنیک پر کیا ہے اور انہوں نے سمجھایا کہ کسی بھی اہم موقع پر انسان لاشعوری طور پر زندگی کے سامنے سات مختلف طریقوں سے رد عمل دکھاتا ہے جن میں نرگسیت بھی ایک ہے اور پھر وہ غالب کے اس شعر کو نرگسیت کی سب سے بڑی مثال کہتے ہیں، ”چپک رہا ہے بدن پہ لہو سے پیراہن / ہمارے جیب کو اب حاجت رفو کیا ہے“۔

Read more

عورت کے خلاف لبرلز کی سازش کا جواب الجواب

ایک موضوع پر بار بار بات کرنا بہت بورنگ ہوتا ہے لیکن ڈاکٹر عاکف خان صاحب نے میرے بلاگ "عورت کے خلاف لبرلز کی سازش " پر بے رحمانہ تنقید کر دی گو کہ دوسری کئی جگہوں پر تو برا بھلا بھی کہا۔ ایک تو میں ان کا شکر گذار ہوں کہ تحریر کے ہی…

Read more

عورت کے خلاف لبرلز کی سازش

جب تک عورت کے استحصال، جنسی گھٹن اور جذباتی توڑ پھوڑ کے خلاف آواز نہ اٹھائی جائے آپ لبرل نہیں کہلا سکتے اور ہمارے ہاں اب دو ہی طبقات رہ گئے ہیں جو ہر معاملہ میں واضح طور پر غیر حقیقت پسندانہ اور طے شدہ خیالات رکھتے ہیں اور ہر واقعہ کو اپنے سطحی سے…

Read more