لفظوں کی لفاظی

یہ بات بار بار دہرائے جانے کے قابل ہے کہ کوئی بھی زندہ زبان جامد اور متعیّن شکل میں قائم نہیں رہ سکتی۔ عالمی سیاست کی ہلچل، مقامی سیاست کی اکھاڑ بچھاڑ، عالمی سطح پر آنے والے تہذیبی انقلاب اور مقامی سطح پر ہونے والی چھوٹی موٹی ثقافتی سرگرمیاں یہ سب عوامل ہماری زبان پر اثر انداز ہوتے ہیں یعنی ہمارا واسطہ نئے نئے الفاظ سے پڑتا ہے یا پُرانے لفظوں کا ایک نیا مفہوم ابھر کر سامنے آتا ہے۔ ہر زندہ زبان اِن تبدیلیوں کو قبول کرتی ہے اور اپنا دامن نئے الفاظ و محاورات سے بھرتی رہتی ہے۔ انہی تبدیلیوں کے دوران بعض زیرِ استعمال الفاظ و محاورات متروک بھی ہو جاتے ہیں۔ گویا جس طرح ایک زندہ جسم پُرانے خلیات کو ختم کر کے نئے بننے والے خلیات کو قبول کرتا ہے اسی طرح ایک زندہ زبان میں بھی ردّوقبول کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ Read more

امریکی صدر ٹرمپ نے افغان طالبان پر پوری قوت سے حملہ کرنے کا اعلان کر دیا

This entry is part 2 of 2 in the series اردو زبان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغان طالبان پر مکمل قوت سے حملہ کرنے کا اعلان کر دیا۔ امریکی صدر کا کہنا ہے کہ پچھلے چار دنوں میں پہلے سے زیادہ بھرپور طاقت سے دشمن کو نشانہ بنایا ہے اور یہ عمل جاری رہے گا، جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی بات نہیں کر رہا تاہم دشمن کے ساتھ وہ ہوگا جو کبھی نہیں ہوا۔ تفصیلات کے مطابق نائن الیون حملوں کے 18 سال مکمل ہونے پر وائٹ ہاوس میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان میں پھر سے بھرپور قوت سے حملہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ٹرمپ کا کہنا ہے کہ میں نےافغانستان حملےمیں امریکی اہلکارکی ہلاکت کی خبرسنتےہی وہ مذاکرات منسوخ کردیے تھے۔ طالبان نے سمجھا تھا کہ اس حملے سے وہ اپنی طاقت ظاہر کریں گے لیکن انھوں نے تو اپنی کمزوری ظاہر کی۔ دوسری جانب افغان طالبان نے امریکہ کی جانب سے مذاکرات منسوخ کئے جانے پر امریکہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کی منسوخی پر امریکہ پچھتائے گا کیونکہ اس نے غلطی کی ہے۔

ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے غیر ملکی خبر رساں ادارے الجزیرہ کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ افغانستان میں قیام امن کے لیے ان کے پاس جہاد اور مذاکرات کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے۔ انہوں نے افغانستان میں جہاد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکہ مذاکرات کے لیے راضی نہیں تو وہ غیر ملکی فوجوں کے خلاف مسلح جنگ جاری رکھیں گے۔

طالبان کے ترجمان نے خبردار کیا کہ مذاکرات کی منسوخی پر واشنگٹن پچھتائے گا۔ بات چیت ہو یا لڑائی، مقصد غیر ملکی افواج کو افغانستان سے نکالنا ہے۔ امریکہ نے بات چیت کا راستہ بند کیا، اب لڑائی کا راستہ ہی ۔۔

Read more