یہ لڑکیاں ہی کیوں حرامی ہوتی ہیں؟

This entry is part 1 of 4 in the series اطفال کشی

ایدھی مرحوم کے متعلق ایکسٹرا متقی حضرات کی جانب سے یہ اعتراض اٹھایا جاتا تھا کہ وہ حرامی بچوں کی پرورش کرتے ہیں اور ایدھی سینٹرز پر رکھے ہوئے پنگھوڑے اس بات کی ترویج کرتے ہیں کہ معاشرے میں رشتہ مناکحت کے بغیر سیکس پھیلے۔ کیونکہ متقی حضرات بات کہہ رہے ہیں تو اس میں ضرور وزن ہو گا۔ ہم خود معاشرے کا بگاڑ دیکھ رہے ہیں کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ ملک کی حالت بری ہوتی جا رہی ہے۔ اقبال بھی اسی صورت پر مایوس ہو کر فرما گئے ہیں کہ خداوندا یہ تیرے سادہ دل بندے کدھر جائیں، کہ درویشی بھی عیاری ہے سلطانی بھی عیاری۔ بگاڑ بڑھ رہا ہے حالانکہ متقی حضرات بھرپور کوشش کر رہے ہیں کہ ایسا کوئی نومولود بچہ زندہ نہ بچ پائے تاکہ معاشرے سے ظلم و فساد کا خاتمہ ہو۔

کچھ عرصہ قبل کوئی شخص مسجد کی سیڑھیوں پر ایک نومولود بچہ چھوڑ کر ایک نہایت متقی امام صاحب کو مشکل میں ڈال گیا۔ خیر انہوں نے فیصلہ کیا کہ یہ بچہ شکل سے ہی حرامی لگتا ہے اور اسے سنگسار کر دینا چاہیے۔ ان کے مقلدین نے بچے کو پتھر مار مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ ایک دن ایدھی والوں کو ایک گمنام فون آیا کہ فلاں کوڑے کے ڈھیر پر ایک بچی کی لاش پڑی ہے، لے جائیں۔ ایدھی کے رضاکار گئے۔ وہاں واقعی ایک نومولود بچی کی لاش پڑی ہوئی تھی۔ اس کا گلا کاٹ دیا گیا تھا۔ ایک بچے کی عمرصرف چھ دن تھی لیکن اس کو جلا کر پھینک دیا گیا تھا۔ لیکن عام طور پر ایسا ظلم نہیں کیا جاتا کیونکہ ہمارے ملک میں بہت کم انسان اتنے شقی القلب ہوتے ہیں۔ عموماً بچے کا یا تو دم گھونٹ کر مارا جاتا ۔۔

Read more

یہ کس کا بچہ ہے؟

This entry is part 2 of 4 in the series اطفال کشی

عدنان کاکڑ کا کالم ” لڑکیاں ہی کیوں حرامی ہوتی ہیں ‘‘ ان کے اپنے مخصوس انداز میں لکھا گیا تھا۔ جس کا محرک ایدھی کے جھولے میں ملنے والے وہ بچے ہیں جن میں زیادہ تعداد لڑکیوں کی ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہی ہے کہ انسانوں کی جانب سے نسوانی جسم کچھ بچیوں کے لیے ناجائز کر دیا جا تا ہے، اور سزا کے طور پر انہیں ایدھی کے جھولے میں ڈال دیا جا تاہے۔ اورکبھی کبھی الٹرا ساؤ نڈ سے لڑکی کا علم ہو تے ہی اسے پیٹ میں ہی ضائع کروا دیا جا تاہے۔

نامساعد حالات، معاشی کسمپرسی یا میاں بیوی کی چپقلش میں بعض اوقات ارمانوں سے پیدا کیے گئے بچے بھی وقت گزرنے کے ساتھ ناجائز ہو جا تے ہیں۔ کوئی خاتون، شوہر کی موت یا علیحدگی کے بعد اگر اپنے بچوں کی کفالت کے لیے نوکری کرنا چا ہے تو کم سن بچوں کی گھر میں دیکھ بھال مسئلہ بن جا تی ہے۔ وہ اپنے بچوں کو زندہ اور صحیح سلامت بھی دیکھنا چا ہتی ہے۔ ایک طرف اس کی خودار فطرت دوسری طرف ایسوں کے ہمدرد بھی اپنی زندگی ڈھونے کی مشقِ بے مشقت میں نڈھال، کس سے مدد طلب کرے ایسے میں چھپ کر رات کے اندھیرے میں اپنی جائز بچی کو اپنی مجبوری کے ہاتھوں رات کے اندھیرے میں ایدھی کے جھولے میں ڈال آتی ہے۔ غریب عورت کا غربت سے واسطہ ہوتا ہے، عزت سے اس کا کیا لینا دینا۔ چھوٹے موٹے القابات، پیٹھ پیچھے سیٹیاں اور آوازیں۔ یہ تو غریب عورت کی کانوں کی بالیوں کی طرح اس کے ساتھ لٹکے ہوتے ہیں۔ اسے کیا معلوم کہ اسے ہراساں کرنا بولتے ہیں۔ غریب عورت کی زبان سے تو یہ لفظ ہراسانی بھی صحیح طرح ادا ۔۔

Read more

سالانہ ہزاروں ’ناجائز بچوں‘ کا خفیہ قتل

This entry is part 3 of 4 in the series اطفال کشی

پاکستان میں سالانہ ہزاروں کی تعداد میں نومولود بچوں کو ’ناجائز‘ قرار دیتے ہوئے خفیہ طور پر قتل کر کے دفن کر دیا جاتا ہے۔ کوڑے کے ڈھیروں پر بچوں کی ایسی لاشیں بھی ملتی ہیں، جن کے جسم کے حصے جانور کھا چکے ہوتے ہیں۔

صوبہ پنجاب کے شہر گوجرانوالہ کی تحصیل نوشہرہ ورکاں کے ایک میٹرنٹی ہوم میں کام کرنے والی نرس رضیہ الیاس ( نام تبدیل کر دیا گیا ہے) کہتی ہیں، ”میں نے اب نوزائیدہ بچوں کو قتل کرنا چھوڑ دیا ہے۔ ان کی ماؤں کو خود انہیں مارنا چاہیے۔ کسی کے گناہوں کا بوجھ میں کیوں اٹھاؤں؟ ‘‘

آپ تصور کریں ایک بچہ ابھی پیدا ہی ہوا ہے۔ کسی کو بھی یہ فکر نہیں ہے کہ اسے نہلانا ہے۔ جسم پر ابھی خون کے نشانات باقی ہیں، بے ترتیب بال آپس میں جڑے ہوئے ہیں اور ناف کی نالی بھی بس کاٹ کر چھوڑ دی گئی ہے۔ ماں کے سینے میں دودھ اتر چکا ہے، روتے ہوئے بچے کی چیخیں ماں کے دل کو چیرتی جا رہی ہیں۔ ان دیکھے خوف اور محبت کی وجہ سے اس کے آنکھوں کا کاجل اور آنسو دوپٹے پر گرتے ہوئے خودکشی کرتے جا رہے ہیں۔ تین کلوگرام کے اس بچے کو ہاتھ کی ہتھیلی میں اٹھایا جا سکتا ہے۔ ماں کے لرزتے اور کانپتے ہاتھ بچے کے نرم اور نازک گلے تک پہنچتے ہیں۔ تہذیب یافتہ دنیا میں آنے والے اس بچے کی شہہ رگ پر ہلکا سا دباؤ پڑتا ہے۔

تیس منٹ کے بعد بچے کے رونے کی سکت پہلے ہی کم ہو چکی ہے۔ شہ رگ پر انگوٹھے کا دباؤ بڑھتا جا رہا ہے، کمزور آواز بند ہوتی جا رہی ہے، بچے کا جسم نیلا ہو چکا ہے۔ تقریبا 45 منٹ پہلے اس دنیا ۔۔

Read more

پاکستان میں ناجائز بچے، کوڑے کے ڈھیروں پر

This entry is part 4 of 4 in the series اطفال کشی

دونوں بچوں کے چہرے انتہائی معصوم ہیں۔ ان کی تدفین سے پہلے ان کو آخری غسل دیا جا رہا ہے۔ پاکستان کے جنوبی شہر کراچی میں ان کو کوڑے کے ڈھیر پر مرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا تھا۔

سماجی کارکن محمد سلیم ان دونوں چھوٹی چھوٹی لاشوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتاتے ہیں، ”دونوں بچے ایک یا دو دن کے ہوں گے۔ ‘‘ دوسری طرف ان کے ساتھی انتہائی احتیاط سے ان دونوں نومولود بچوں کو غسل دینے میں مصروف ہیں۔ پاکستان مسلم اکثریتی آبادی والا ایک قدامت پسند ملک ہے، جہاں شادی سے پہلے بچوں کی پیدائش کی مذمت کی جاتی ہے۔ اسلامی قوانین کی تشریحات کے تحت بدکاری کے جرم میں موت کی سزا بھی ہو سکتی ہے۔ لیکن اس کے باوجود پاکستان میں ایسے واقعات میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

پاکستان میں ایدھی فاؤنڈیشن کے اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ برس ایک ہزار سے زائد نومولود بچوں کو یا تو قتل کر دیا گیا یا پھر انہیں کوڑے کرکٹ کے ڈھیروں پر پھینک دیا گیا۔ اس فاؤنڈیشن کے مطابق ہلاک ہونے والے بچوں میں زیادہ تر نومولود بچیا‌ں تھیں۔ فاؤنڈیشن کے مطابق یہ اعداد و شمار صرف پاکستان کے اہم شہروں سے جمع کیے گئے ہیں۔ بنیادی طور پر دیہی علاقوں میں اس سے بھی زیادہ ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں، جن کے بارے میں معلومات حاصل کرنا ناممکن ہے۔

اس فلاحی امدادی تنظیم کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس صرف دسمبر کے مہینے میں اس کے کارکنوں کو 40 نومولود بچوں کی لاشیں گندے نالوں، جوہڑوں اور کوڑے کے ڈھیروں سے ملی تھیں۔ کراچی میں ایدھی فاؤنڈیشن کے مینیجرانور کاظمی بتاتے ہیں کہ سن 2009 میں ان کے ادارے کو مجموعی طور پر 999 نومولود بچوں کی لاشیں ۔۔

Read more