پاک فضائیہ نے ایک سائیکل مکینک سے جدید ترین طیارہ ٹھیک کروایا

This entry is part 1 of 5 in the series ایوان اقتدار کے مشاہدات

گوہر ایوب خان کی کتاب
Glimpses into the corridors of Power
ایک ایسے شخص کا تاثر دیتی ہے جس کے ہمراہ آپ کسی باغ میں ٹہل رہے ہوں اور وہ آپ کو اپنے تجربات و واقعات سے سرسری طور پر آگاہ کر رہا ہو۔ کبھی وہ سیاست پر آجاتا ہے تو کبھی ذاتی واقعات پر تو کبھی لطائف پر تو کبھی دوسروں کی خاکہ آرائی پر اتر آتا ہے۔

ان میں سے بہت سے واقعات تصدیق اور تحقیق کا تقاضا کرتےہیں اور سیاسی تنازعات و سیاستدانوں سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔

گوہر ایوب خان کا جھلک نامہ

کھانے کا بل

ایک جگہ گوہر ایوب لکھتے ہیں کہ والد کے صدر بننے کے بعد جب بھی میں اور میری بیوی زیب ایوانِ صدر جا کر ان کے ساتھ کھانا کھاتے تو ہم دونوں کو اس کا بل پیش کردیا جاتا۔ اگر صدر کمپٹرولر آفس سے کوئی شے منگواتے چاہے وہ سافٹ ڈرنکس ہی کیوں نہ ہوں تو اس کا بل صدر کو پیش کیا جاتا۔

امریکی ناراضگی کا خوف

یا یہ واقعہ کہ ’والد صاحب چراٹ ( صوبہ سرحد) میں فوجی کمانڈوز ایس ایس جی کے دستے کی تشکیل و تربیت کرنا چاہتے تھے۔ وہ ایک جرمن کمانڈو آفیسر کرنل اوٹو سکورزینی سے بہت متاثر تھے جس نے نہایت دلیری کے ساتھ ایک پہاڑی قلعے میں قید اطالوی آمر مسولینی کو ایک ہلکے طیارے میں نکالا تھا اور برلن میں ہٹلر کے روبرو کھڑا کردیا تھا۔ والد نے پتہ چلایا کہ کرنل سکورزینی سپین میں ریٹائرمنٹ کی زندگی گزار رہے ہیں۔ اسے ایس ایس جی کی تربیت کے لیے پاکستان آنے کی دعوت دی گئی۔ لیکن پھر والد کو احساس ہوگیا کہ شاید امریکیوں کو یہ بات پسند نہ آئے۔ چنانچہ لیفٹیننٹ کرنل ابوبکر مٹھا کو ایس

۔۔
Read more

جب ایک فوجی نے بھٹو کی پٹائی کر دی

This entry is part 2 of 5 in the series ایوان اقتدار کے مشاہدات

جب ایک فوجی نے بھٹو کی پٹائی کر دی

انیس سو اکہتر کے اوائل کی بات ہے جب کراچی کے ایک مشہور ہوٹل ’لا گورمے‘ میں زلفی ( ذوالفقار علی بھٹو) اپنے ایک دوست کے ہمراہ بیٹھے پی رہے تھے اور بیلے رقص سے بھی لطف اندوز ہورہے تھے۔ اس دوران لیفٹیننٹ کرنل شمس الزماں داخل ہوئے اور زلفی کے برابر والی میز پر بیٹھ گئے۔ تھوڑی دیر میں شمس اور زلفی نے بیلے ڈانسر پر تبصرے اور پھر ایک دوسرے پر پھبتیاں کسنی شروع کردیں۔ زلفی نے جاتے جاتے شمس سے کہا کہ مجھے اقتدار میں آنے دو پھر تمھیں دیکھ لوں گا۔

شمس کا قد اگرچہ چھوٹا تھا لیکن اس نے غالباً اچھی خاصی پی ہوئی تھی اور ویسے بھی غصے کا تیز تھا۔ اس نے زلفی سے کہا کہ اتنا انتظار کیوں کرتے ہو مجھ سے ابھی ابھی نمٹ لو۔ یہ کہتے ہوئے شمس نے زلفی کے جبڑے پر مکہ جڑ دیا۔ زلفی فرش پر گرگیا اور جب اٹھا تو غصے سے کانپتے ہوئے کہا کہ اب تو میں یقیناً تمہیں اقتدار میں آ کر نہیں چھوڑوں گا۔ اس پر شمس نے دو گھونسے اور جڑ دیے اور زلفی دوبارہ گر پڑا۔ جس جس نے بھی یہ منظر دیکھا وہ سکتے میں آ گیا۔ زلفی اپنے کپڑے جھاڑتا ہوا چلا گیا اور شمس بیٹھا رہا۔ شمس بھٹو کے اقتدار میں آنے کے بعد بھی فوج میں برقرار رہا۔

وزیراعظم ہاؤس کی کراکری، تلوار کا نشان

بھٹو کا خیال تھا کہ وہ کم ازکم بیس برس ضرور وزیرِاعظم رہے گا۔ اس نے وزیرِاعظم ہاؤس کے لیے جو نئے برتن اور کٹلری منگوائی ان سب پر وزیرِاعظم کا سرکاری نشان ثبت کروانے کے بجائے تلوار کا نشان ثبت کروایا۔ چنانچہ بھٹو کی معزولی کے بعد

۔۔
Read more

جونیجو کی بدمعاشی اور نصرت بھٹو کی خواہش

This entry is part 3 of 5 in the series ایوان اقتدار کے مشاہدات

صرف میں ہی ایک بدمعاش

جب اٹھائیس مئی انیس سو اٹھاسی کو جونیجو حکومت ڈسمس کردی گئی تو صدر ضیا الحق نے جونیجو کو ڈنر پر مدعو کیا اور بتایا کہ ان کی کابینہ کے چند وزرا کو نئی کابینہ میں بھی لیا جائے گا۔ اس پر جونیجو نے کہا تو کیا کابینہ میں صرف میں ہی ایک بدمعاش تھا۔ اس پر ضیا الحق نے کوئی جواب نہیں دیا۔

صدر، فوج کے سربراہ اور امریکہ

اکتوبر انیس سو نوے کے انتخابات کے بعد جب میں قومی اسمبلی کا سپیکر بنا تو میں نے نواز شریف سے کہا کہ میں آپ سے عمر میں بڑا ہوں اور اپنے والد کے زمانے سے سیاسی گرم و سرد دیکھتا آرہا ہوں۔ میرا مشورہ ہے کہ اگر آپ کامیاب رہنا چاہتے ہیں تو صدر، فوج کے سربراہ اور امریکہ سے بہتر تعلقات رکھیں اور بھارت کے خلاف کبھی اعلانِ جنگ نہ کریں۔ اس پر نواز شریف نے میری کلائی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ بڑی اچھی گھڑی باندھی ہوئی ہے۔

نصرت بھٹو کی خواہش

دسمبر انیس سو نوے میں ایک پارلیمانی وفد میری سربراہی میں آسٹریلیا گیا جس میں بیگم نصرت بھٹو بھی شامل تھیں۔ دورے کے آخر میں سڈنی ہاربر میں لنچ کے دوران میں نے بیگم صاحبہ سے پوچھا کہ آنے والے دنوں کے تعلق سے ان کی کیا خواہش ہے۔ بیگم صاحبہ نے چند لمحے کے لیے آنکھیں بند کیں اور کہا کسی یورپی ملک میں سفارت۔
میں نے کہا سمجھ لیں ہوگیا۔

تم مذاق کر رہے ہو نا۔
نہیں میں بالکل مذاق نہیں کر رہا آپ ملک کا نام بتائیں۔
فرانس۔ میں فرانس جانا چاہوں گی۔
ہوگیا۔ آپ تیاری کریں۔

پاکستان واپسی پر میں نے وزیرِاعظم نواز شریف سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ

۔۔
Read more

ایک بھارتی وزیراعظم کے والد پاکستانی دستور ساز اسمبلی کے رکن نکلے

This entry is part 4 of 5 in the series ایوان اقتدار کے مشاہدات


بھارتی وزیراعظم کے والد پاکستانی دستور ساز اسمبلی کے رکن تھے

جب میں نواز شریف کے دوسرے دور میں وزیرِ خارجہ کی حیثیت سے غیر جانبدار تحریک کی کانفرنس میں شرکت کے لیے دلی گیا تو ایک استقبالیے کے دوران میں نے وزیرِ خارجہ اندرکمار گجرال کو بتایا کہ پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی کے دس اگست انیس سو سینتالیس کے روسٹر پر کسی گجرال صاحب کے بھی دستخط ہیں۔ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ یہ کون گجرال صاحب تھے۔ آئی کے گجرال کی آنکھوں میں ایک چمک آئی۔ وہ میرے والد تھے۔ یہ سنتے ہی میں اٹھا اور انہیں گلے لگا لیا۔ ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔

نواز شریف کی دوست نوازی

واشنگٹن میں رہنے والے ایک پاکستانی تاجر احمد سعید کی نواز شریف سے بہت گہری دوستی ہے۔ انہیں ہمیشہ وی وی آئی پی سٹیٹس دینے کی ہدایات تھیں۔ نواز شریف نے ضد کرکے انہیں ڈپلومیٹک پاسپورٹ دلوایا اور واشنگٹن میں اعزازی قونصل جنرل بھی بنا دیا حالانکہ ایک فعال سفارتخانے کی موجودگی میں اس کیقطعاً ضرورت نہیں تھی۔

چیف جسٹس کو جیل بھیجنے کا خواہش

جب سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سجاد علی شاہ اور وزیرِاعظم کی چپقلش عروج پر پہنچ گئی تو وزیرِاعظم نے مجھے قومی اسمبلی میں اپنے چیمبر میں آنے کو کہا۔ میں پہنچا تو وہ بہت سے لوگ بیٹھے تھے۔ اس کے بعد وزیرِاعظم نے کہا کہ میں ان کے ساتھ وزیرِاعظم ہاؤس چلوں۔ راستے میں انہوں نے اپنا ہاتھ میرے گھٹنے پر رکھتے ہوئے کہا۔ گوہر صاحب مجھے کوئی ایسا راستہ بتائیں کہ میں ایک رات کے لیے چیف جسٹس کو گرفتار کرکے جیل بھیج سکوں۔ میں نے کہا کہ خدا کے واسطے ایسا سوچیں بھی نہیں ورنہ پورا نظام ہل جائے گا۔ اس

۔۔
Read more

بھارتی ایٹمی دھماکہ، کارگل اور نواز شریف

This entry is part 5 of 5 in the series ایوان اقتدار کے مشاہدات


جب گیارہ مئی انیس سو اٹھانوے کو بھارت نے ایٹمی دھماکہ کیا تو اگلے روز کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب کرلیا گیا۔ اجلاس میں چوہدری نثار علی خان نے پاکستان کی جانب سے جوابی جوہری تجربے کی مخالفت کی۔ سرتاج عزیز، مشاہد حسین اور بیگم عابدہ حسین کے بھی یہی خیالات تھے۔ میری رائے یہ تھی کہ اگر ہم نے بھارت کا جواب نہ دیا تو لوگ سڑکوں پر آجائیں گے۔ اگلے روز کابینہ کی ڈیفنس کمیٹی کے اجلاس میں بری فوج کے سربراہ جنرل جہانگیر کرامت نے کہا کہ ہماری تیاری مکمل ہے لیکن فیصلہ سیاسی قیادت کو کرنا ہے۔ طے پایا کہ اس معاملے میں حزبِ اختلاف کو بھی اعتماد میں لیا جائے۔

دو روز بعد پھر ڈیفنس کمیٹی کا اجلاس ہوا۔ نواز شریف کا کہنا تھا کہ وہ جوہری دھماکے کے حق میں نہیں ہیں۔ جب میں نے دوبارہ جوہری تجربے کے حق میں بات کی تو وزیرِاعظم کا چہرہ غصے سے لال ہوگیا انہوں نے ایک گہرا سانس بھرتے ہوئے کہا کہ میں اس بارے میں سب کی رائے سننا چاہتا ہوں۔ اس کے بعد وزیرِاعظم کے پرنسپل سکریٹری سعید مہدی اور مشیر انور زاہد تک سب ہی نے دھماکے کی وکالت کی۔ وزیرِاعظم کو جیسے ہی صورتحال کا اندازہ ہوا تو انہوں نے کہا کہ میری باتوں کا غلط مطلب نہ لیا جائے ہم دھماکہ کریں گے۔

کارگل آپریشن کے بارے میں وزیرِاعظم کو آپریشن شروع ہونے سے پہلے بریف کیا گیا۔ پہلی میٹنگ میں جنرل پرویز مشرف اور ان کی ٹیم کے علاوہ جنرل ریٹائرڈ مجید ملک، سرتاج عزیز، چوہدری شجاعت حسین، مشاہد حسین، راجہ ظفر الحق اور سکریٹری دفاع جنرل ریٹائرڈ افتخار علی خان موجود تھے۔ جبکہ دوسری میٹنگ آئی ایس آئی کے ہیڈ کوارٹر میں ہوئی جس میں

۔۔
Read more