جانور راج: تبدیلی کا خواب

This entry is part 1 of 23 in the series جانور راج

جارج آرویل کا مشہور ناول اینیمل فارم دوسری عالمی جنگ کے دوران لکھا گیا تھا اور 1945 میں شائع ہوا۔ یہ ایک فارم ہاؤس پر لکھا گیا ہے جس کے جانور باشعور ہو جاتے ہیں اور انسانوں کی ظالمانہ حکومت کے خلاف تبدیلی لانا چاہتے ہیں۔ یہ ناول روسی بالشویک انقلاب کے واقعات اور کرداروں کو جانوروں کے اس فارم میں سمو دیتا ہے۔ ناول میں ایک انقلاب کے خواب، اس کی جدوجہد، کامیابی کے لئے مختلف حربوں، اسے برقرار رکھنے کے لئے قربانیوں اور آخر میں انقلاب کی کامیابی کے بعد پرانے ساتھیوں سے پیچھا چھڑانے کے حالات کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ ناول بہت سی انقلابی تحریکوں پر فٹ بیٹھتا ہے اور اسی وجہ سے اسے عالمی ادب کا ایک فکر انگیز شاہکار قرار دیا جاتا ہے۔

جانور راج، تبدیلی کا خواب

(جارج آرویل کے ناول اینیمل فارم کا ترجمہ)
مصنف: جارج آرویل، مترجم: آمنہ مفتی۔

’ آدم باڑے ‘ کا مالک جانی، اس رات اس قدر مدہوش تھا کہ دڑبے تو بند کر دیے مگر دڑبوں اور باڑے کی کواڑیاں بھیڑنا بھول گیا۔ مدہوشی میں قدم رکھتا کہیں تھا، پڑتا کہیں تھا، ہاتھ میں پکڑی لالٹین کی روشنی کا دائرہ اس کے ساتھ ساتھ جھوم رہا تھا۔ صحن سے یوں ہی جھومتے ہوئے گزرا، پچھلے دروازے پہ جوتے اتارے، کھرے میں دھرے بئیر کے پیپے سے شراب کا آخری گلاس چڑھایا اور بستر پہ جا پڑا جہاں ’ بیگم جانی ‘ پہلے ہی پڑی سنا رہی تھیں۔

جیسے ہی خواب گاہ کی بتی گل ہوئی، باڑے کی تمام عمارتوں میں بیداری اور پھڑ پھڑاہٹ کی لہر سی دوڑ گئی۔ یہ بات تو دن ہی میں پھیل چکی تھی کہ بوڑھے انعام یافتہ گلابی سور میجر نے پچھلی رات ایک عجیب خواب دیکھا تھا اور ۔۔

Read more

جانور راج: میجر کی انقلابی تقریر

This entry is part 2 of 23 in the series جانور راج

قسط نمبر 2۔

”مگر کیا یہ قدرت کے منصوبے کا حصہ ہے؟ کیا یہ سب اس لئے ہے کہ ہماری دھرتی ماں ایسی کنگلی ہے کہ اپنی کوکھ کے پلے بیٹوں کو، ایک باعزت زندگی بھی نہیں دے سکتی؟ نہیں کامریڈز! ایک ہزار بار نہیں۔ انگلستان کی زمین زرخیز ہے، اس کی آب و ہوا خوشگوار ہے، یہ اتنی خوراک پیدا کر سکتی ہے کہ جتنے جنے ہم اب ہیں اس سے کئی گنا زیادہ جانور اس پہ پل سکتے ہیں۔ یہ ایک ہمارا فارم ہی، ایک درجن گھوڑوں، بیس گائیوں، سینکڑوں بھیڑوں، کو پال سکتا ہے۔ اور وہ بھی ایسی موج اور مزے میں کہ آج ہم اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ تو پھر اس بے چارگی کی حالت میں کیوں جیا جا رہا ہے؟ کیونکہ، قریباً ہماری محنت کا سارا ہی پھل آدم زاد، چرا لیتے ہیں۔ یہ، کامریڈز یہ ہے جواب ہماری ساری مشکلوں کا۔ ایک ہی لفظ میں سب سما جاتا ہے۔ انسان! انسان ہی ہمارا حقیقی دشمن ہے۔ انسان کو منظر سے ہٹا دو تو بھوک اور مشقت کی بنیادی وجہ ہی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم کی جا سکتی ہے۔

” انسان ہی وہ واحد مخلوق ہے جو کچھ بھی پیدا کیے بغیر سب کچھ ہڑپ کر رہی ہے۔ وہ نہ دودھ دیتا ہے، نہ ہی انڈے، وہ اتنا کمزور ہے کہ ہل تک نہیں کھینچ سکتا، نہ اتنا تیز دوڑ سکتا ہے کہ خرگوش ہی پکڑ لے۔ پھر بھی وہ سب جانوروں کا آقا ہے۔ وہ ان کو کام میں جھونکتا ہے اور جواب میں ان کو فقط اسی قدر ملتا ہے کہ وہ فاقے سے نہ مر جائیں اور باقی اپنے لئے اٹھا رکھتا ہے۔ ہماری محنت دھرتی کا سینہ چیرے، ہمارا گوبر اسے زرخیزی بخشے اور پھر ۔۔

Read more

جانور راج ؛ وحوشِ انگلستان کا ترانہ

This entry is part 3 of 23 in the series جانور راج


” اور اب کامریڈز! میں آپ کو اپنے شبِ گذشتہ کے خواب کے بارے میں بتاتا ہوں۔ میں اس خواب کو آپ کے سامنے بیان ہی نہیں کر سکتا۔ یہ ایک ایسی سر زمین کا خواب ہے، جہاں سے انسان، غائب ہو چکا ہو گا لیکن اس سے مجھے ایک بھولی بسری بات یاد آگئی۔

سالوں پہلے جب میں ایک منا سا سور کا بچہ تھا، تب میری ماں دوسری سورنیوں کے ساتھ، ایک ایسا گیت گاتی تھیں، جس کے انہیں فقط دھن اورمکھڑے کے تین لفظ ہی آتے تھے۔ مجھے یہ اپنے چھٹپن سے ہی یاد تھی مگر مدت ہوئی کہ میں اسے بھلا بیٹھا تھا۔ مگر کل یہ کہیں سے میرے خواب میں آگیا اور نہ صرف آیا بلکہ ایسا آیا کہ اس گیت کے بول بھی، جو کہ مجھے یقین ہے گئے وقتوں کے جانور گاتے رہے تھے اور کئی نسلوں کو بھولے رہے تھے، وہ بھی یاد آ گئے۔ کامریڈز! اب میں وہ گیت گاؤں گا۔ میں بوڑھا ہوں، میری آواز بیٹھ چکی ہے مگر جب میں تم کو اس کی دھن سکھا دوں گا تو تم اسے خود ہی کہیں بہتر گا لو گے۔ اسے ’وحوشِ انگلستان کا ترانہ‘ یا ’انگلستان کے جانوروں کا ترانہ ‘ کہا جاتا تھا۔ ‘‘

بوڑھے میجر نے کھنکھار کے گلا صاف کیا اور گانا شروع کیا۔ جیسا کہ اس نے کہا تھا، اس کی آواز بیٹھی بیٹھی سی تھی، مگر اس نے خاصا ہی گا لیا اور بھئی کیا گرما دینے والی دھن تھی، کچھ کچھ، ’ ایہہ پتر ہٹاں تے نئیں وکدے ‘ اور ’ دیو انہاں نوں دھر رگڑا ‘ کے درمیان کی سی دھن، ایک کھوئی ہوئی انقلابی طرز۔ بول کچھ یوں تھے :

وحوشِ آئرش اور سارے انگریزی درندے
ہماری سب زمینوں اور ۔۔

Read more

جانور راج : انقلاب آ گیا

This entry is part 4 of 23 in the series جانور راج

تیسری رات، میجر، سوتے سوتے، سکون سے فوت ہوگیا۔ اس کی نعش، پھلوں کے باغ کے پائینتی دفن کر دی گئی۔ یہ اوائلِ مارچ کے دن تھے۔ اگلے تین ماہ میں خوب خفیہ کارروائیاں جاری رہیں۔ میجر کی اس تقریر نے باڑے کے ذہین جانوروں پہ زندگی کی ایک بالکل نئی جہت وا کر دی تھی۔ وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ جس انقلاب کی میجر نے بشارت دی تھی، کب آئے گا۔ گو یہ سوچنا کہ انقلاب ان کی زندگیوں میں ہی آ ئے گا، قرینِ قیاس تھا، لیکن انہیں صاف نظر آ رہا تھا کہ اس تبدیلی کے لئے تیار رہنا ان کا فرض ہے۔

دوسروں کی تربیت اور تنظیم کا کام، قدرتی طور پہ سؤروں کے سر پڑا، جو کہ جانوروں میں عمومی طور پہ سب سے سیانے سمجھے جاتے تھے۔ سؤروں میں سب سے نمایاں دو جوان سؤر، نپولین او ر سنو بال تھے، جنہیں جانی صاحب، بیچنے کے لئے پال رہے تھے۔ نپولین، ایک لمبا چوڑا، ذرا غصیل سا چتکبرا سؤر تھا۔ پورے باڑے میں وہ ایک ہی چتکبرہ سؤر تھا۔ زیادہ بولنے بالنے والا تو نہیں تھا لیکن اپنی دھن کا پکا تھا۔

سنوبال، نپولین کی نسبت زیادہ ہنس مکھ تھا۔ بول چال میں تیز ترکھا اور جدت پسند تھا، لیکن اس کا کردار نپولین والی گہرائی کا حامل نہیں سمجھا جاتا تھا۔ باڑے پہ باقی سارے نرسؤر کاٹو مال تھے۔ ان میں ایک چربایا ہوا، کلے پہ کلا چڑھا، ٹھگنا، پھرتیلا، باریک آواز اور چمکتی آ نکھوں والا سؤر، چیخم چاخ، بڑا معروف تھا۔ وہ کمال کا مقرر تھا اور جب وہ کسی ادق موضوع پہ بحث رہا ہوتا تھاتو، ایک ادائے خاص سے دم ہلاتے ہوئے ادھر سے ادھر پھدکتا تھا اور یہ ادا، مخاطب کو قائل کر کے ہی ۔۔

Read more

جانور راج۔ تبدیلی کا سات نکاتی منشور

This entry is part 5 of 23 in the series جانور راج

پہلے چند منٹ تو جانور اپنی خوش بختی پہ یقین ہی نہ کر پائے۔ سب سے پہلے تو وہ ایک جلوس کی شکل میں پورے باڑے کی حدوں کے ساتھ ساتھ دوڑتے پھرے اور یہ پتا لگایا کہ کہیں کوئی آدم زاد تو نہیں چھپا ہوا؟ پھر وہ دڑکی لگا کے باڑے کی عمارتوں میں گھسے تاکہ، جانی صاحب کے نفرت انگیز دور کی یادگاروں کے آخری نشان بھی مٹا دیں۔ اصطبلوں کے آخر میں بنے، سازو رخت رکھنے کے کمرے کا دروازہ توڑا گیا، مہمیز، نکیلیں، کتوں کی زنجیریں اور وہ سفاک چھریاں جن سے، جانی صاحب، سوؤروں اور میمنوں کو آختہ کرتے تھے، سب کی سب، کنوئیں میں غرق کر دی گئیں۔ باگیں، پٹے، اندھیاریاں اور ذلت بھرے توبڑے، صحن میں جلتے کوڑے کرکٹ کے ڈھیرپہ پھینک دیے گئے۔ اور سانٹے بھی۔ سانٹوں کو جلتا دیکھ کے تمام جانور خوشی سے کدکڑے لگانے لگے۔ سنوبال نے، وہ موباف بھی جلتی آگ میں دے مارے جنہیں، منڈی لے جاتے ہوئے، گھوڑوں کی ایالوں اور دموں میں گوندھا جاتا تھا۔
” موباف‘‘ اس نے کہا، ”لباس کی طرح ہی ہیں، جو کہ انسانیت کی علامت ہے۔ سب جانور ننگے پنگے رہیں گے ‘‘۔

باکسر نے جب یہ سنا تو اس نے اپنا تنکوں سے بنا، ٹوپ، جو وہ گرمیوں میں مکھیوں کو کانوں میں گھسنے سے روکنے کے لئے پہنا کرتا تھا، لا کر باقی سب چیزوں کے ساتھ نذر آتش کر دیا۔
ذرا ہی دیر میں جانوروں نے جانی صاحب کی یاد دلانے والی ایک کی ایک چیز تباہ کر ڈالی۔ پھر نپولین ان کو دوبارہ، بھنڈار تک لے گیا، جہاں ان سبھوں کو، مکئی کا دگنا راشن ملا اور ہر کتے کو دو دو بسکٹ ملے۔ پھر انہوں نے، ’ وحوشِ انگلستان کا ترانہ ‘ کوئی ۔۔

Read more

جانور راج: ”اب سب جانور کامریڈز ہیں“۔

This entry is part 6 of 23 in the series جانور راج

جئی کی کٹائی میں انہوں نے کیسے اپنا خون پسینہ ایک کیا، نہ ہی پوچھیں تو بہتر ہے۔ مگر ان کی کوششیں رنگ لائیں اور جھاڑ ان کی امیدوں سے کہیں بڑھ کر آیا۔ کبھی، کام پہاڑ بن جاتا تھا، اوزار تو انسانوں کے لئے بنے تھے، جانوروں کے لئے نہیں اور ایک بہت بڑی کمی یہ تھی کہ کوئی بھی جانور ایسا کوئی اوزار استعمال کرنے کے قابل نہیں تھا جس کے لئے پچھلی دو ٹانگوں پہ کھڑا ہوا جا سکے۔ لیکن، سؤر ایسے سیانے تھے کہ ہر مشکل کا حل ڈھونڈھ نکالتے تھے۔ گھوڑوں کا یہ تھا کہ، زمین کے چپے چپے سے واقف تھے اور جانی صاحب اور اس کے بیلداروں سے کہیں زیادہ بہتر طریقے سے کٹائی اور گیہائی کرنا جانتے تھے۔

سؤروں نے خیر سے تنکا بھی دہرا نہ کیا، ہاں دوسرے جانوروں کو ہدایات ضرور دیتے رہے۔ ان کی علمی بر تری کے باعث، ان کا لیڈر بن جانا، ایک قدرتی عمل جیسا ہی تھا۔ باکسر اور کلوور، خود ہی ساز واز پہن کر، پنجالی یا کٹائی والا آلہ کمر پہ ڈال کے ( ان دنوں نکیلیں اور باگیں نہیں ہوا کرتی تھیں ) بڑی ثابت قدمی سے، کھیت میں، چکر پہ چکر لگاتے، جبکہ ایک آدھ سؤر موقعے کی مناسبت سے، ان کے پیچھے، ‘ ہیا! ہیا! کامریڈ! ‘ یا ’ ہش ہش کامریڈ! ‘کرتا پھر رہا ہوتا۔ اور کمزور ترین جانور تک، جئی کو کاٹنے اور برداشت کرنے میں لگے ہوئے تھے۔

حد یہ کہ بطخیں اور مرغیاں تک، تیز دھوپ میں، اپنی چونچوں میں، جئی کے سٹے تھامے، باڑے کی طرف آتی جاتی دکھائی دیتی تھیں۔ آخر کار، انہوں نے یہ کٹائی دو دن میں مکمل کر لی، اس سے کہیں کم وقت میں جو جانی صاحب کے آدمیوں ۔۔

Read more

جانور راج- قیادت کے لئے کھانے پینے کی اہمیت

بہت سوچ بچار کے بعد، سنو بال نے اعلان کیا کہ سات نکات کو ایک واحد نعرے میں سمویا جاسکتا ہے، یعنی، ’چار لاتیں اچھی ہیں، دو لاتیں بری ہیں‘ ۔ یہ، اس نے کہا کہ حیوانیت کے حقیقی اصول کا حامل ہے۔ جو کوئی اسے مکمل طور پہ سمجھ لے گا، انسان کے شر سے محفوظ رہے گا۔ پرندوں نے پہلے تو احتجاج کیا کیونکہ انہیں لگا کہ ان کی بھی دو لاتیں ہیں مگر سنو بال نے ثابت کیا کہ ایسا نہیں ہے۔ پرندوں کو سنو بال کی طولانی تقریر تو سمجھ نہ آئی مگر انہوں نے اس کی وضاحت کو قبول کر لیا اور تمام بھولے جانور، نئے نعرے کو رٹنے میں جت گئے۔ ’چار لاتیں اچھی ہیں، دو لاتیں بری ہیں‘ ، گودام کی آخری دیوار پہ سات نکات سے اوپر مزید جلی حروف میں لکھ دیا گیا۔ جب ایک بار انہوں نے اسے رٹ لیا تو بھیڑوں کو یہ قول ایسا بھایا کہ اکثر جب وہ کھیتوں میں سستا رہی ہوتی تھیں تو سب کی سب اکٹھی ممیانا شروع کردیتی تھیں، ’چار لاتیں اچھی ہیں، دو لاتیں بری ہیں! چار لاتیں اچھی ہیں، دو لاتیں بری ہیں‘ اور گھنٹوں تک بنا اکتائے دہرائے چلی جاتی تھیں۔ Read more

جانور راج! تبدیلی کی ہوا چل پڑی

موسمِ گرما کے آخر تک آدھے ملک میں خبر پھیل چکی تھی کہ جانوروں کے باڑے پہ کیا ہوا۔ ہر روز، نپولین اور سنو بال کبوتروں کی ٹکڑیاں بھیجا کرتے تھے، جنہیں ہدایات دی جاتی تھیں کہ پڑوسی مزرعوں کے جانوروں میں گھل مل جائیں، انہیں انقلاب کی داستان سنائیں اور ’وحوشِ انگلستان‘ کے ترانے کی دھن سکھائیں۔ یہ وقت، جانی صاحب نے زیادہ تر، ڈھپئی میں چھجو کے چوبارے کے دارو والے کمرے میں جمے، ہر کس و ناکس سے اپنے ساتھ، کسی نہ جوگے جانوروں کے ہاتھوں اپنی جائیداد سے بے دخل ہونے والی عظیم نا انصافی پہ شکوہ کناں گزارا۔ دوسرے کسانوں نے اصولی طور پہ تو اس سے ہمدردی جتائی مگر ابتدأ میں اس کی کوئی خاص مدد نہ کی۔ درونِ دل، ان میں سے ہر کوئی یہ خواہش پال رہا تھا کہ وہ جانی کی بد قسمتی کو اپنے فائدے میں کیسے بدل سکتا ہے؟ یہ بھی خوش قسمتی تھی کہ جانوروں کے باڑے سے لگواں دونوں مزرعوں میں پکی دشمنی چلی آرہی تھی۔ Read more

جانور راج! انسانوں سے پہلی جنگ

اکتوبر کے اوائل میں، جب مکئی کی کٹائی ہو کے ڈھیریاں لگ چکی تھیں اور کچھ مکئی گاہ بھی لی گئی تھی، کبوتروں کی ایک ٹکڑی، ہوا میں ڈولتی، ہڑبڑائی ہوئی باڑے کے چوگان میں اتری۔ جانی صاحب اور اس کے گماشتے، ’بوہڑ والا‘ اور ’خالصہ کلاں‘ کے قریبا نصف درجن انسانوں کے ساتھ بڑے پھاٹک سے اندر داخل ہو کے بڑی وٹ کی طرف گامزن تھے جو سیدھی باڑے میں پہنچتی تھی۔ سبھوں نے ماسوأ جانی کے لاٹھیاں پکڑی ہوئی تھیں، جانی بندوق لئے سب سے آگے دندناتا آرہا تھا۔ ظاہر ہے وہ فارم پہ دوبارہ قبضہ کرنے کے چکر میں آئے تھے۔ اس واردات کا عرصے سے اندیشہ تھا اور سب تیاریاں کر لی گئی تھیں۔ سنو بال، جس نے جولیس سیزر کی مہمات پہ ایک پرانی کتاب پڑھی تھی، جو اسے رہائشی مکان سے ملی تھی، دفاعی مہم کا منتظم تھا۔ اس نے سرعت سے احکامات جاری کیے اور دو ہی منٹوں میں ہر جانور نے اپنی پوزیشن سنبھال لی۔ Read more

جانور راج۔ جنگ کے بعد

سب انسان دفعان ہوگئے ماسوائے ایک کے۔ پیچھے، صحن میں، باکسر اپنے کھر سے، لید اٹھانے والے لڑکے کو سیدھا کرنے کی کوشش کر رہا تھا جو منہ کے بل، کیچڑ میں گرا پڑا تھا۔ لونڈا نہ ہلا۔ ” یہ مر چکا ہے۔ “ باکسر نے تاسف سے کہا۔ ”میرا یہ مقصد نہیں تھا۔ میں بھول گیا تھا کہ میرے نعل ٹھکے ہوئے ہیں۔ کون مانے گا کہ میں نے یہ جان بوجھ کر نہیں کیا؟ “ ” جذباتیت نہیں کامریڈ! “ سنو بال چلایا جس کے زخموں سے ابھی تک خون ٹپک رہا تھا۔ ”جنگ، جنگ ہوتی ہے، واحد اچھا انسان، ایک مردہ انسان ہے۔ “ ” میں کسی کی جان نہیں لینا چاہتا، حد یہ کہ ایک انسان کی جان بھی۔ “ باکسر نے آنسو بھری آنکھوں سے دہرایا۔ ” مولی کہاں ہے؟ “ کسی نے پوچھا۔ Read more