میں نے عاصمہ آپا کو کیسا پایا؟ (1)

This entry is part 7 of 41 in the series عاصمہ جہانگیر

1969 ء میں اسکول کی کچھ لڑکیاں مارشل لاء حکام کے خلاف احتجاج کرنے لاہور کی گورنر ہاؤس پر جمع ہوئیں۔ ان میں سےایک دھان پان سی لڑکی اس مینشن کی دیوار پر چڑھ گئی اور اس پر احتجاج کا سیاہ پرچم لہرا دیا۔ اس طالبہ کو اس کےاسکول، کانونٹ آف جیزز اینڈ میری نے اس وقت تو معطل کر دیا مگر آگے چل کر وہ لڑکی جبر کے خلاف ہر محاذ پر جدوجہد، انسانی حقوق اور شہری آزادیوں کے انتھک دفاع کانہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں استعارہ بن گئی۔ وہ لڑکی عاصمہ جہانگیر تھی جو پاکستان کا ضمیر اور پنجاب کی وہ شیردل کارکن تھی جس نے انسانی حقوق کے کارکنوں، سیاسی ورکروں، وکلاء اور انسان دوستوں کی دو نسلوں کو اپنے فکر و عمل سے متاثر کیا۔

عاصمہ جہانگیر کے والد ملک غلام جیلانی پارلیامان کے رکن تھے اور پاکستان کے فوجی حکمرانوں فیلڈ مارشل ایوب خان اور جنرل یحییٰ خان پر کڑی تنقید کیا کرتے تھے۔ ان کا تعلق شیخ مجیب الرحمٰن کی عوامی لیگ سے تھا اور مجموعی طور پر سات سال قید میں رہے۔ وہ اس وقت بھی قید میں تھے جس کے خلاف عاصمہ جہانگیر و دیگر طالبات احتجاج کر رہی تھیں۔ انہیں فروری یا مارچ 1969 کو رہا کیا گیا۔ ادھر شیخ مجیب کو بھی رہا کردیا گیا اور ایوب خان کی بلائی ہوئی ایک گول میز کانفرنس میں راولپنڈی آنے کی دعوت دی گئی۔ مگر شیخ مجیب راولپنڈی جانے سے پہلے لاہور پہنچے اور ملک غلام جیلانی کے ہاں قیام کیا اور لائحہ عمل طے کیا۔ اس سے تین سال پہلے شیخ مجیب نے ملک غلام جیلانی ہی کی قیام گاہ پر اپنے مشہور چھ نکات کا اعلان کیا تھا۔ گول میز کانفرنس لا حاصل رہی اور پایانِ

۔۔ Read more