لوہے کا کمر بند (1)

This entry is part 1 of 3 in the series لوہے کا کمربند

​بہت عرصہ گزرا کسی ملک میں ایک سوداگر رہتا تھا۔ اس کی بیوی بہت خوبصورت تھی۔ اتنی کہ اس کی محض ایک جھلک دیکھنے کے لئے عاشق مزاج لوگ اس کی گلی کے چکر لگایا کرتے تھے۔ یہ بات سوداگر کو بھی معلوم تھی اس لئے اس نے اپنی بیوی پر سخت پابندیاں عائد کر رکھی تھیں۔ اس کی اجازت کے بغیر وہ کسی سے مل نہیں سکتی تھی۔ اس کے قریب قریب تمام ملازم دراصل اس سوداگر کے خفیہ جاسوس تھے جو اس کی بیوی کی حرکتوں پر کڑی نظر رکھتے تھے۔ سودا گر کو کبھی بھی دو دو تین تین سال کے لئے دور دور کے ممالک میں بیوپار کے سلسلے میں جانا پڑتا تھا۔ کیونکہ سفر میں کئی سمندر بھی حائل ہوتے تھے جنہیں عبور کرتے وقت کئی بار بحری قزاقوں سے بھی واسطہ پڑ جاتا تھا۔​

ایک بار وہ ایسی ہی ایک تجارتی مہم پر روانہ ہونے والا تھا۔ گھر چھوڑنے سے ایک رات پہلے وہ اپنی بیوی کی خواب گاہ میں گیا اور بولا۔​

“جان من! تم سے جدا ہونے سے پہلے میں تمہیں ایک تحفہ دینا چاہتا ہوں۔ مجھے یقین ہے یہ تحفہ تمہیں ہمیشہ میری یاد دلاتا رہے گا کیونکہ یہ تمہارے جسم کے ساتھ ہمیشہ چپکا رہے گا۔”​

یہ کہہ کر سوداگر نے اپنی بیوی کے چاندی سے بدن پر کمر کے نچلے حصے کے ساتھ لوہے کا ایک کمر بند جوڑ دیا اور کمر بند میں ایک تالا بھی لگا دیا۔ پھر تالے کی چابی اپنے گلے میں لٹکاتے ہوئے بولا۔​

“یہ چابی میرے سینے پر ہر وقت لٹکی رہے گی۔ اس کی وجہ سے میں بھی تمہیں یاد کرتا رہوں گا۔”​

سوداگر کی بیوی نے لوہے کے کمربند کو غور سے دیکھا تو سمجھ گئی کہ

۔۔ Read more

لوہے کا کمر بند (2)

This entry is part 2 of 3 in the series لوہے کا کمربند

سوداگر کی بیوی بولی​

“بس، بس میں سمجھ گئی تم کیا کہنا چاہتے ہو لیکن آئندہ ایسی بات زبان پر کبھی مت لانا۔ سمجھ لو میں اپنے شوہر کی پاک دامن بیوی ہوں۔ اس کے علاوہ میں کسی بھی دوسرے کا خیال اپنے دل میں نہیں لاسکتی لیکن تمہارے جذبات کی میں اس حد تک ضرور قدر کروں گی کہ تم کبھی کبھی یہاں آ کر مجھے اپنے گیت سنا جایا کرو کیونکہ اس سے تمہارے جذبات کو تسکین حاصل ہو گی۔ ایسی تسکین یقیناً مجھے بھی حاصل ہو گی کیونکہ تمہارے گانے کی وجہ سے میرے دل میں میرے شوہر کی یاد تازہ رہے گی۔ جب میرا شوہر واپس آ جائے گا تو اسے یہ معلوم ہو گا کہ اس کی غیر حاضری میں تم نے اپنی موسیقی کے ذریعے میرے دل میں اس کی محبت کو ہمیشہ جگائے رکھا ہے تو وہ بہت خوش ہو گا۔ بہت ممکن ہے اس خدمت کے عوض وہ تمہیں انعامات و کرامات سے بھی نوازے۔”​

سوداگر کے ملازم جو ان کی باتیں پردوں کے پیچھے سے سن رہے تھے۔ اب پوری طرح مطمئن ہو گئے کہ ان کی مالکن اپنے شوہر کی محبت میں مکمل طور پر سرشار ہے۔ اس سے بے وفائی کی توقع رکھنا اب بے کار ہو گا۔ چنانچہ جب مغنی نے سوداگر کی بیوی کی پیش کش قبول کر لی تو پھر اس کے آنے جانے پر کسی قسم کی پابندی نہ لگائی گئی۔ مغنی قریب قریب روز ہی آنے لگا اور اب وہ بڑی آزادی سے سوداگر کی بیوی سے تنہائی میں بھی مل لیتا تھا انہیں اس طرح ایک دوسرے سے ملتے ہوئے ایک سال کا عرصہ گزر گیا لیکن دونوں نے ابھی تک ایک دوسرے کو نہیں چھوا تھا۔ مغنی اسی غم

۔۔ Read more