یوول نوح حراری: اکیسویں صدی کے 21 سبق (قسط نمبر 1)۔

باب نمبر 1: فریب نگاہ تاریخ کے اختتام کو موخر کردیا گیا ہے انسان حقائق، اعداد یا حسابی مساوات کی بجائے کہانیوں میں سوچتا ہے۔ ہر شخص، گروہ اور قوم کی اپنی کہانی اور دیو مالا ہوتی ہے۔ لیکن بیسویں صدی کے دوران نیویارک، لندن، برلن اور ماسکو جیسی عالمی اشرافیہ نے تین بڑی کہانیوں…

Read more

یوول نوح حراری: مچھر مارنے سے خیالات کے قتل تک (قسط نمبر 2 )۔

مچھر مارنے سے خیالات کے قتل تک نظام زندگی میں ٹیکنالوجی کی تیزی سے بڑھتی ہوئی دراندازی کی وجہ سے بدحواسی اور سر پر منڈلاتی موت کا خوف بڑھ گیا۔ لبرل سیاسی نظام صنعتی دور میں بھاپ سے چلنے والے انجن، تیل صاف کرنے کے کارخانے اور ٹیلی ویژن کے انتظام و انصرام سنبھالنے کے…

Read more

اکیسویں صدی کے اکیس سبق – آزاد پرندہ (قسط 3)۔

ایسا پہلی بار نہیں ہو رہا ہے کہ لبرل سٹوری کو اعتماد کے فقدان کا سامنا ہے۔ انیسویں صدی کے آخری حصے میں جب سے اس کہانی کو عالمی اثرورسوخ حاصل ہوا ہے، اس کہانی کو بحران کا سامنا ہے۔ گلوبلائزیشن اور لبرل ازم کے پہلے دور کا خاتمہ (جب شاہی طاقت کی سیاست نے عالمی ترقی کے عمل میں رکاوٹ پیدا کی) پہلی جنگ عظیم کی خون ریزی کے ساتھ ہوا۔ آنے والے دنوں میں ’آرچ ڈیوک فرانز فرڈیننڈ‘ کے قتل نے یہ حقیقت عیاں کردی کہ بڑی طاقتیں لبرل ازم کی بجائے امپیریل ازم پر یقین رکھتی ہیں۔

اس لیے انہوں نے آزاد او ر پرامن تجارت کے ذریعے پوری دنیا کو متحد کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی۔ بلکہ وہ دنیا کے ایک بڑے حصے کو ظالمانہ طریقے سے طاقت کا استعمال کر کے فتح کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ تاہم لبرل ازم نے فرانز فرڈیننڈ تحریک کو زندگی بخشی اور اس ظالمانہ بھنور کے اندر سے پہلے کی نسبت طاقتور ہو کر باہر نکلی اور دنیا کو نوید سنائی کہ یہ جنگ تمام جنگوں کا خاتمہ کردے گی۔ مبینہ طور پر اس بے مثال قتل و غارت نے انسان کو سامراجیت کی خوفناک قیمت کا سبق سکھایا اور اب دنیا مکمل طور پر آزادی اور امن کی بنیاد پر ایک نئی دنیا تخلیق کرنے کے لیے تیار کیا۔

Read more

جب آپ جوان ہوں گے تو آپ کے پاس کوئی روزگار نہیں ہوگا

ہمیں اس امر کا بالکل بھی اندازہ نہیں ہے کہ 2050 میں جاب مارکیٹ کی صورتحال کیا ہوگی۔ عام طور پر اس بات سے اتفاق ممکن ہے کہ مشین لرننگ اور روبوٹ دہی بنانے سے لے کر یوگا کی تعلیم دینے تک تقریباً ہر کام کی صورتحال کو بدل کر رکھ دیں گے۔ تاہم اس تبدیلی کی نوعیت اور اس کے وقوع پذیر ہونے کے بارے میں متضاد نظریات موجود ہیں۔ کچھ کا خیال ہے کہ صرف ایک یا دو دہائی کے اندر ہی اربوں افراد معاشی طور پر بے کار ہوجائیں گے، جب کہ دوسرے لوگوں کا خیال ہے کہ طویل عرصے تک خود کار طریقے سے سب کے لیے ملازمتیں اور خوشحالی کے اسباب پیدا ہوتے رہیں گے۔

لہذا کیا ہم ایک خوفناک تبدیلی کے دہانے پر کھڑے ہیں یا پھر ایسی پیشین گوئیاں ’لڈائیٹ ہسٹیریا‘ کی ایک اور مثال ہے۔ فی الحال یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے۔ یہ خدشہ کہ آٹومیشن سے بڑے پیمانے پر پھیلنے والی تباہی ہمیں واپس انیسویں صدی میں لے جائے گی۔ صنعتی انقلاب کے آغاز کے بعد کم از کم ہر اس شخص کے لیے نوکری پیدا کی گئی جو مشین آنے سے بیکار ہوگیا تھا۔ اس کی بدولت اوسط معیار زندگی میں ڈرامائی طور پر اضافہ ہوا۔ لیکن یہ بات غور و فکر کرنے سے تعلق رکھتی ہے کہ اب کی بار کہانی مختلف ہے کیونکہ مشین لرننگ حقیقت میں گیم چینجر ثابت ہوگی۔

Read more

اکیسویں صدی کے اکیس سبق: موزارت بمقابلہ مشین

کم ازکم فی الحال مصنوعی ذہانت اور روبوٹ ٹیکنالوجی سے ساری صنعتوں کے مکمل طور پر ختم کرنے کا امکان نہیں ہے۔ صرف چند ایک نوکریاں جنہیں چلانے کے لیے خاص مہارت کی ضرورت ہوتی ہے بس انہیں ہی خود کار کیا جا ئے گا۔ لیکن انسانوں کو معمول کی ایسی نوکریوں میں مشینوں سے…

Read more

یوول نوح حراری: اکیسویں صدی کے اکیس سبق (قسط نمبر6)۔

آرٹ سے لے کر ہیلتھ کیئر تک ہر فیلڈ میں روایتی ملازمتوں کو جزوی طور پر نئی انسانی ملازمتوں کی تخلیق سے پورا کیا جائے گا۔ آج جو میڈیکل ڈاکٹر بیماریوں کی تشخیص اور ان کے علاج پر توجہ دیتے ہیں، شاید ان کی جگہ مصنوعی ذہین ڈاکٹر لے لیں۔ خاص اسی امر کی بدولت انسانی ڈاکٹروں اور لیب معاونین کو اہم تحقیقات کرنے، نئی ادویات کی تیاری اور جراحی کے جدید طریقہ کار وضع کرنے کے لیے زیادہ رقم دستیاب ہوگی۔

مصنوعی ذہانت مختلف انداز میں نئی انسانی ملازمتیں پیدا کرنے میں مدد کر سکتی ہے۔ اس لیے ہمیں مصنوعی ذہانت سے مقابلہ کرنے کی بجائے، اس سے خدمات لینے اور فائدہ اٹھانے پر توجہ دینی چاہیے۔ مثال کے طور پر ڈرون کی وجہ سے بہت سے انسانی پائلٹوں کی ملازمت ختم ہو گئی ہے، لیکن ڈرونوں کی مرمت کرنا، انہیں ریموٹ کنٹرول سے قابو کرنا، ان کے مہیا کیے گئے ڈیٹا کا تجزیہ کرنا اور سائبر سکیورٹی سمیت دیگر شعبوں میں ملازمت کے بہت سے مواقع پیدا ہوچکے ہیں۔

امریکی مسلح افواج کو شام میں اڑنے والے ہر بغیر پائلٹ ’پرڈیٹر‘ یا ’ریپر ڈرون‘ کو چلانے کے لیے تیس افراد کی ضرورت ہے، جبکہ دستیاب

Read more

روبوٹکس ٹیکنالوجی اور روز گار کا بحران

مسئلہ کے حل کی تین ممکنہ صورتیں ہو سکتی ہیں۔ پہلی، یہ فیصلہ کرنا کہ نوکریاں کھونے سے بچنے کے لیے کیا کرنا ہے؟ دوسری، مزید نئی ملازمتوں کو پیدا کرنے کے لیے کیا کرنا ہے؟ اور تیسری، اگر ہماری بہترین کوششوں کے باوجود ملازمتیں ختم ہونے کی رفتار نوکریوں کو پیدا کرنے کی رفتارسے…

Read more

آٹومیشن کا انقلاب غریب ممالک کو تباہ کر دے گا؟

جب لوگ عالم گیر مدد کی بات کرتے ہیں (چاہے وہ آمدنی یا خدمات کی شکل میں ہوں ) تو ان کی بات کا مطلب قومی بنیادی تعاون ہوتا ہے۔ اسی لیے ابھی تک یو بی آئی کے تمام تر اقدامات قومی یا میونسپلٹی رہے ہیں۔ جنوری 2017 میں فن لینڈ نے ایک دوسالہ تجربہ…

Read more

یوول نوح حراری: اکیسویں صدی کے اکیس سبق (قسط نمبر 9)۔

عالمی بنیادی مدد کیا ہے؟

عالمی بنیادی مدد کا مطلب انسانوں کی بنیادی ضروریات کی دیکھ بھال کرنا ہے، تاہم اس امر کے لیے کوئی قابل قبول تعریف نہیں ہے۔ خالصتاً بیالوجی کے نقطہ نظر سے ایک سیپئن کو زندہ رہنے کے لیے پندرہ سو سے دو ہزار کیلوریز کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس سے زیادہ کی طلب عیاشی ہے۔ تاہم تاریخ میں ہر ثقافت نے اس بنیادی حیاتیاتی ضرورت سے زائد خواہشات کو بھی بنیادی ضرورت کے زمرے میں شامل رکھا ہے۔ قرون وسطیٰ کے یورپ میں چرچ کی خدمات کو کھانے پینے سے زیادہ اہم سمجھا جاتا تھا۔

اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ اس نے آپ کے جسم کی بجائے آپ کی ابدی روح کا خیال رکھا تھا۔ آج کے یورپ میں تعلیم اور صحت کی دیکھ بھال کو بنیادی ضرورت سمجھا جاتا ہے۔ بلکہ کچھ لوگوں کا تو یہ بھی کہنا ہے کہ اب انٹرنیٹ تک ہر مرد، عورت اور بچے کی رسائی ضروری ہے۔ اس کرہ ارض پر موجود ہر شخص کو (ڈھاکہ کی طرح ڈیٹرائٹ میں بھی) بنیادی مدد فراہم کرنے کے لیے اگر 2050 میں متحدہ عالمی حکومت گوگل، ایمیزون، بیدو اور ٹین سینٹ کو ٹیکس دینے پر راضی کرلیتے ہیں تو وہ دو الفاظ ’بنیادی‘ اور ’ضروریات‘ کے فلسفہ کو کس طرح سے سلجھا پائیں گے؟

مثال کے طور پر بنیادی تعلیم میں کیا کیا شامل ہے؟ کیا بنیادی تعلیم میں محض لکھنا اور پڑھنا سیکھنا کافی ہے یا پھر اس میں کمپیوٹر

Read more

بریگزٹ ریفرینڈم میں یہ کیوں پوچھا گیا کہ آپ کیسا محسوس کرتے ہیں؟

لبرل کہانی انسانی آزادی کو سب سے اہم قدر کے طور پر پسند کرتی ہے۔ اس کہانی کی دلیل یہ ہے کہ تمام تر اختیارات بالآخر فرد واحد کی آزادانہ مرضی سے حاصل ہوتے ہیں، جن کا اظہار جذبات، خواہشات اور انتخابات میں ہوتا ہے۔ لہذا یہ جمہوری انتخابات کی حمایت کرتا ہے۔ معیشت کے دائرہ کار میں لبرل ازم کا ماننا ہے کہ گاہک ہمیشہ درست ہوتا ہے، اسی بنا پر یہ آزادانہ تجارت کو خوش آمدید کہتا ہے۔ ذاتی معاملات میں لبرل ازم لوگوں کو ترغیب دیتا ہے کہ وہ (جب تک دوسروں کی آزادی کی خلاف ورزی نہیں کرتاہے ) اپنی بات سنیں، اپنی ذات کے ساتھ سچے رہیں اور اپنے دل کی پیروی کریں۔ کیونکہ اس کے مطابق دوسروں کی ذاتی آزادی انسانی حقوق میں شامل ہے۔

Read more