جدید دنیا میں ہمارے لئے سیگرٹ نوشی جاری رکھنا ناممکن ہو جائے گا

افراد کے احساسات اور آزادانہ انتخاب پر لبرل بیانیے کا یقین قدرتی عمل ہے اور نہ ہی بہت قدیم بات ہے۔ ہزاروں سال سے لوگ یہ مانتے آئے ہیں کہ خود پہ اختیار انسانی دل سے نہیں بلکہ خدائی قوانین سے حاصل ہوتا ہے۔ اس لیے ہمیں انسانی آزادی کی بجائے خدا کے کلام کو…

Read more

کیا گوگل، بائیو میٹرک، جی پی ایس اور الگورتھم کی دنیا میں ہماری انفرادی شناخت گم ہو جائے گی؟  

جو عمل ادویات کے شعبہ میں پہلے ہی شروع ہوچکا ہے اب وہی عمل زیادہ سے زیادہ شعبوں میں شروع ہونے والا ہے۔ سب سے اہم ایجاد بائیو میٹرک سینسر ہے جسے لوگ اپنے جسم کے اوپر یا اندر لگا سکتے ہیں اور جو بیالوجیکل عمل کو الیکٹرانک معلومات میں تبدیل کرتا ہے۔ جس کو…

Read more

خودکار فلسفی گاڑی اپنے مالک کو قربان کرے گی یا راہگیر کو؟

لوگوں کو اس بات پر اعتراض ہو سکتا ہے کہ الگورتھم ہمارے لیے کبھی بھی اہم فیصلہ نہیں کر سکتا ہے۔ کیونکہ عام طور پر اہم فیصلوں میں اخلاقی پہلو شامل ہوتے ہیں اور الگورتھم اخلاقیات کو نہیں سمجھتے۔ اس کے باوجود یہ فرض کر لینے کی بھی بالکل کوئی وجہ نہیں ہے کہ الگورتھم اخلاقیات کے میدان میں ایک عام انسان کو مات نہیں دے سکے گا۔ پہلے ہی اسمارٹ فون اور خودمختار گاڑیوں جیسے آلات ایسے فیصلے کرتے ہیں، جو کبھی انسان کی اجارہ داری تھے۔ انہوں نے ان تمام اخلاقی مسائل کا سامنا کرنا شروع کر دیا ہے جن سے انسان کئی صدیوں سے نبرد آزما ہیں۔

مثال کے طور پر فرض کریں دو بچے گیند کے پیچھے بھاگ رہے ہیں اور اچانک سے وہ خود کار گاڑی کے سامنے جمپ لگا دیتے ہیں۔ اپنے حساب کتاب کی بنیاد پر گاڑی چلانے ولا الگورتھم یہ طے کرے گا کہ دونوں بچوں کو بچانے کا واحد راستہ مخالف سمت میں موجود گلی میں گھسنا ہے اور جبکہ دوسری طرف سے آنے والے ٹرک سے ٹکرانے کا خطرہ ہے۔ الگورتھم حساب کتاب لگاتا ہے کہ ایسی صورت حال میں کار کا مالک جو پچھلی نشست پر سو رہا ہے، اس کے مارے جانے کے ستر فیصد امکان ہیں۔ اب الگورتھم کو کیا کرنا چاہیے؟

Read more

ڈیجیٹل آمریت: اکیسویں صدی کے اکیس سبق (قسط نمبر 14)۔

جب تک روبوٹ شفیق آقاؤں کی خدمات میں لگے رہتے ہیں، یقیناً تب تک ان کی اندھی فرمانبرداری میں کوئی حرج نہیں ہے۔ یہاں تک کہ جنگ کے دوران قاتل روبوٹوں پر انحصار کرنا اس بات کو یقینی بنا سکتا ہے کہ تاریخ میں پہلی بار میدان جنگ میں جنگی قوانین پر عمل کیا جائے گا۔ انسانی فوجی کبھی کبھار اپنے جذبات سے مغلوب ہو کر قتل، لوٹ کھسوٹ اور عصمت دری جیسے اعمال کی بدولت جنگی قوانین کی خلاف ورزی کر بیٹھتے ہیں۔ عمومی طور پر ہم جذبات کو ہمدردی، محبت اور رحم دلی سے جوڑتے ہیں، لیکن اکثر جنگ کے وقت خوف، نفرت اور ظلم جیسے جذبات ہمارے اوپر حاوی ہو جاتے ہیں۔ چونکہ روبوٹ میں جذبات نہیں ہوتے ہیں، اس لیے ان پر اعتماد کیا جاسکتا ہے کہ وہ ہمیشہ سخت نوعیت کے فوجی ضابطہ اخلاق کی پابندی کریں گے اور کبھی ذاتی خوف اور نفرتوں کے زیر اثر بہہ نہیں جائیں گے۔

Read more

مصنوعی ذہانت اور قدرتی حماقت

خوشخبری کا ایک حصہ تو یہ ہے کہ کم از کم اگلی چند دہائیوں میں ہمیں مصنوعی ذہانت کے شعور حاصل کرنے اور انسانیت کو غلام بنانے یا مٹانے کا فیصلہ کرنے والی سائنس فکشن کے ڈراؤنے خوابوں سے نمٹنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم تیزی سے الگورتھم پر انحصار کریں گے، لیکن اس بات…

Read more

فیس بک اپنی ذمہ داری کا ثبوت دے

ترجمہ: زبیر لودھی کیلیفورنیا زلزلوں کا عادی ہے، لیکن دو ہزار سولہ کے امریکی انتخابات کا سیاسی زلزلہ ابھی بھی سلی کون ویلی کے لیے ایک بہت بڑا صدمہ ہے۔ کمپیوٹر ماہرین نے یہ اس حقیقت کا ادراک کرتے ہوئے کہ وہ مسئلہ کا بہتر حل تلاش کر سکتے ہیں، انہوں نے بہترین کام کیا…

Read more

آن لائن اور آف لائن کا تقابل

حالیہ برسوں میں فیس بک کو حیرت انگیز کامیابی ملی ہے۔ اس وقت، اس میں دو ارب سے زیادہ متحرک آن لائن صارفین ہیں۔ پھر بھی اس کے نئے وژن کو نافذ کرنے کے لیے آن لائن اور آف لائن کے مابین کشمکش کو ختم کرنا پڑے گا۔ ایک کمیونٹی بطور آن لائن اجتماع کے شروع ہو سکتی ہے، لیکن حقیقت میں اسے نشو و نما پانے کے لیے آف لائن دنیا میں بھی جڑیں پانا ہوں گی۔ اگر ایک دن کچھ ڈکٹیٹر اپنے ملک سے فیس بک پر پابندی لگاتے ہیں، یا اسے مکمل طور پر انٹرنیٹ سے ہٹا دیتے ہیں، تو کیا یہ آن لائن کمیونیٹی ختم ہو جائیں گی، یا پھر دوبارہ جمع ہو کر لڑیں گی؟ کیا وہ آن لائن مواصلات کے بغیر کسی مظاہرے کا اہتمام کر سکیں گی؟

مارک زکر برگ نے فروری 2017ء کے اپنے منشور میں وضاحت کی تھی کہ آن لائن کمیونٹیاں، آف لائن تعلقات کو فروغ دینے میں مدد کرتی ہیں۔ یہ کبھی کبھی سچ ہوتا ہے۔ پھر بھی بہت سے معاملات میں آن لائن تعلق، آف لائن کی قیمت ادا کرنے پر آتا ہے۔ لیکن پھر بھی ان دونوں میں بنیادی فرق ہے۔ جسمانی برادریوں میں گہرائی ہے، جس کا مقابلہ ورچوئل کمیونٹیاں نہیں کر سکتیں۔ کم از کم مستقبل قریب میں ایسا ممکن نہیں۔ اگر میں اسرائیل میں اپنے گھر کے اندر بیمار پڑا ہوں، تو کیلیفورنیا سے میرے آن لائن دوست مجھ سے بات کر سکتے ہیں، لیکن وہ مجھے سوپ یا ایک کپ چائے لا کر نہیں دے سکتے۔

Read more

جرمن اور گوریلے

جانوروں کی پرجاتیوں سے انسانی گروہوں کو ممتاز کرنا ایک دقیق عمل ہے۔ پرجاتیاں اکثر تقسیم ہوجاتی ہیں، لیکن وہ کبھی بھی ضم نہیں ہوتیں۔ لگ بھگ سات لاکھ سال پہلے چمپینزی اور گوریلوں کے مشترکہ اجداد تھے۔ یہ واحد نسلی نوع دو آبادیوں میں تقسیم ہو گئی جو آخر کار ان کے الگ الگ ارتقائی راستوں پر چل پڑی۔ ایک بار جب یہ ہو گیا تو پھر واپس جانے کی کوئی بات نہیں تھی۔ اس کی سب سے بڑی وجہ مختلف پرجاتیوں سے تعلق رکھنے والے افراد آپسی میلاپ سے زرخیز اولاد پیدا نہیں کر سکتے ہیں، لہذا انواع کبھی بھی ضم نہیں ہو سکتی۔ گوریلے چمپینزیوں کے ساتھ ضم نہیں ہوسکتے ہیں، زیبرے ہاتھیوں کے ساتھ نہیں مل سکتے ہیں اور کتے بلیوں کے ساتھ نہیں مل سکتے ہیں۔

Read more

عالمی مسائل کے عالمی جواب درکار ہیں

(یوول نوح حراری - مترجم: زبیر لودھی) یہ حقیقت عیاں ہے کہ پوری انسانیت اب ایک ہی تہذیب کی تشکیل کر رہی ہے، تمام لوگوں کو یکساں چیلنجز کا سامنا ہے اور مواقع مشترک ہیں۔ لیکن پھر بھی برطانوی، امریکی، روسی اور متعدد دوسرے گروہ قوم پرست تنہائی کی طرف کیوں رجوع کرتے ہیں؟ کیا…

Read more

جوہری چیلنج اور قوم پرستی

آئیے ہم انسانیت کے روگ یعنی جوہری جنگ سے اپنی بات کا آغاز کرتے ہیں۔ جب گل داؤدی والا اشتہار 1964 میں نشر ہوا (کیوبن میزائل بحران سے دو سال بعد ) جوہری طور پر فنا ہو جانے کا واضح خطرہ تھا۔ عام لوگوں اور پنڈتوں کا بھی یہی خیال تھا کہ انسان اتنے عقل…

Read more