یوول نوح حراری اور ماحولیاتی چیلنج

انسانیت کو آنے والی دہائی میں ایٹمی جنگ سے زیادہ ایک نئے خطرے کا سامنا ہے، جو شاید 1964ء تک سیاسی راڈار پر درج نہیں تھا اور اس خطرے کا نام ہے ماحولیاتی تباہی۔ انسان متعدد انداز میں عالمی حیاتیات کو غیر مستحکم کر رہا ہے۔ ہم ماحول سے زیادہ سے زیادہ وسائل لے رہے…

Read more

اکیسویں صدی میں تکنیکی تباہی کے امکانات

یہ مسئلہ کسی بھی قوم پرست تریاق کو خراب کر سکتا ہے۔ اکیسویں صدی کے اس تیسرے خطرے کا نام تکنیکی تباہی ہے۔ جیسا کہ ہم نے پہلے ابواب میں دیکھا ہے کہ انفوٹیک اور بائیوٹیک کے ملاپ سے قیامت کے منظرنامے کا دروازہ کھلتا ہے۔ جس میں ڈیجیٹل آمریت سے لے کر عالمی سطح…

Read more

تکنیکی تباہی: اکیسویں صدی کے اکیس سبق

یہی مسئلہ کسی بھی قوم پرست تریاق کو خراب کر سکتا ہے۔ اکیسویں صدی کے اس تیسرے خطرے کا نام تکنیکی تباہی ہے۔ جیسا کہ ہم نے پہلے ابواب میں دیکھا ہے کہ انفوٹیک اور بائیوٹیک کے ملاپ سے قیامت کے منظرنامے کا دروازہ کھلتا ہے۔ جس میں ڈیجیٹل آمریت سے لے کر عالمی سطح کے بیکار طبقے کی تشکیل تک شامل ہیں۔

اس لعنت کا قوم پرست اقوام کے پاس کیا جواب ہے؟

کسی بھی قوم پرست کے پاس اس کا جواب نہیں ہے۔ جیسا کہ آب و ہوا کی تبدیلی کی صورت میں (اسی طرح تکنیکی خلل کے ساتھ) قومی ریاست خطرے سے

Read more

سیارہ زمین: اکیسویں صدی کے اکیس سبق

جوہری جنگ، ماحولیاتی خاتمے اور تکنیکی خرابی ان تینوں مسائل میں سے ہر ایک انسانی تہذیب کے مستقبل کے لیے خطرہ ہے۔ لیکن ان سب نے مل کر غیر معمولی وجودی بحران کو مزید بڑھا دیا ہے، کیونکہ یہ ایک دوسرے کو تقویت دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر ماحولیاتی بحران انسانی تہذیب کی بقا…

Read more