کشتی، تین دوست اور برائے نام کتا

 Translation of Jerome's novel "Three Men in a Boat (Nothing to say about the Dog)". ہم تین دوست تھے۔ جارج، دیپک اور میں۔ اور تینوں کی حالت بہت پتلی تھی۔ جارج اور ولیم کو گاہے بگاہے چکر آتے تھے، اور میرا جگر ہڑتال پہ تھا۔ باقی دو کا تو معلوم نہیں لیکن مجھے اپنی علالت کا علم ”شفائے جگر“ نامی گولی کا اشتہار پڑھ کے ہوا تھا۔ اس پمفلٹ کے بغور مطالعے کے بعد میں اس نتیجے پہ پہنچا کہ اس میں ضعف جگر کی جتنی بھی علامات درج تھیں وہ سب کی سب مجھ میں بدرجہ اتم موجود تھیں۔ Read more

کشتی، تین دوست اور برائے نام کتا (قسط 2)۔

پہلی دونوں تجاویز مسترد ہونے کے بعد ہم نے سوچا کہ کیوں نہ دریائے ٹیمز میں ایک ہفتے کے لئے بوٹ سفاری پہ چلیں۔ دریا کی سیر کا ایک فائدہ تو یہ ہے کہ بحری سفر کی یکسانیت کے برعکس ارد گرد کے مناظر بدلتے رہتے ہیں اس لیے انسان بور نہیں ہوتا۔ دوسرا کشتی کھینا کافی مشقت کا کام ہے، جس سے بھوک بھی کھل جاتی ہے اور نیند بھی اچھی آتی ہے۔ اب ہم تینوں تو اس پہ متفق ہو گئے لیکن مانی کچھ زیادہ خوش نہیں تھا۔ اوہ، معاف کیجئے گا، میں مانی کا تعارف کروانا تو بھول ہی گیا۔ مانی دراصل میرے مسکین صورت کتے کا نام ہے۔ مانی دیکھنے میں اتنا مرنجاں مرنج اور شریف النفس لگتا ہے کہ اس کو دیکھ کے نیک سیرت بزرگ خواتین کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں۔ اس وقت اس کے چہرے پہ کچھ ایسا تاثر ہوتا ہے کہ جیسے اس کی روح دنیا میں ہونے والی نا انصافیوں اور ظلم و ستم کی وجہ سے بے حد مضطرب ہے اور وہ دنیا کی بہتری کے لئے کچھ نہ کچھ کرنا چاہتا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ جب مانی میرے پاس آیا نیا نیا آیا تھا تو مجھے لگتا تھا کہ لچوں لفنگوں سے بھری یہ دنیا اس فرشتہ صفت معصوم ہستی کے قابل نہیں ہے۔ اس لیے کسی وقت اچانک آسمان سے فرشتے اتریں گے اور مانی کو کسی اڑن کھٹولے میں بٹھا کے لے جائیں گے۔ لیکن آنے والے دنوں میں ٓآہستہ آہستہ مانی کے جوہر کھلنے لگے تو میں بتدریج اس فکر سے آزاد ہوتا گیا۔ مجھے بارہا اپنے Read more

کشتی، تین دوست اور برائے نام کتا(قسط 3)

اس لیے بارش میں کیمپنگ کا پروگرام مسترد ہوگیا اور یہ طے ہوا کہ کھلے موسم میں ہم کیمپنگ کریں گے جبکہ ابر آلود شامیں کسی ہوٹل یا سرائے میں گزاریں گے۔ اس فیصلے کی مانی نے بھی بھرپور تائید کی کیونکہ ہوٹلوں اور مسافر خانوں کے اندر اور ارد گرد مانی کی دلچسپی کا سامان یعنی کتے، بلیاں اور چوہے وغیرہ بکثرت پائے جاتے ہیں۔

بوٹ سفاری کے دوران شب بسری کا مسئلہ حل ہوجانے کے بعد اب صرف زاد راہ کا انتخاب کرنا باقی رہ گیا تھا۔ اس مرحلے پہ جارج نے کہا کہ آج ہم نے اپنی بساط سے کہیں زیادہ مغز ماری کر لی ہے، اس لیے اب تھکن دور کرنے کے لیے کچھ پینا چاہیے اور حسن اتفاق سے وہ قریب ہی ایک ایسی جگہ کے بارے میں جانتا ہے جہاں نہایت اعلی درجے کی وائن ملتی ہے۔ یوں باقی معاملات کل پہ چھوڑ کے ہم بار کی طرف روانہ ہوگئے۔

اگلی شام ہم سفر کی منصوبہ بندی کے لیے دوبارہ جمع ہوئے تو زاد راہ کی فہرست کی تیاری شروع ہوئی۔ انتہائی ضروری سامان کی جو پہلی لسٹ دیپک اور میں نے مرتب کی اس میں درج سامان اتنا زیادہ تھا کہ وہ دریا میں چلنے والی کشتی تو درکنار، شاید کسی بحری جہاز میں بھی نہ سما سکتا۔ اس پہ جارج نے کہا، تم لوگ کان کو الٹی سمت سے پکڑنے کی کوشش کر رہے ہو۔ ہمیں ان چیزوں کی لسٹ بنانے کی بجائے جن کی ہمیں دوران سفر ضرورت پڑ سکتی ہے، صرف ان اشیا کے بارے میں سوچنا چاہیے جن کے بغیر قطعاً گزارا نہیں ہو سکتا۔

جارج بعض اوقات ایسی پتے کی بات کردیتا ہے کہ بخدا ارسطو ثانی لگتا ہے۔ اب یہی دیکھ لیجیے، بوٹ سفاری کے حوالے سے اس نے جو کہا وہ زندگی کے سفر پہ بھی ۔۔

Read more

کشتی، تین دوست اور برائے نام کتا (قسط 4 )۔

کپڑوں کے علاوہ ذاتی استعمال کی اشیا میں ہم نے رومال، بنیانیں، زیر جامے اور جوتے وغیرہ بھی شامل کرلئے جس کے بعد خوراک کے انتخاب کی باری آئی۔ جارج روز مرہ کے معاملات میں بہت سگھڑ واقع ہوا ہے، چنانچہ اس نے بڑے سلیقے سے متوقع ضروریات کی فہرست مرتب کرنی شروع کی۔ جارج نے کہا کہ دن کا آغاز ناشتے سے ہوتا ہے لہٰذا ناشتے سے ابتدا کرتے ہیں اور اس کے لئے ہمیں چاہیے ایک عدد فرائنگ پین۔ دیپک بولا، فرائنگ پین مجھے تو ہضم نہیں ہوتا۔ اس پہ دیپک کو مجھ سے ڈانٹ پڑی کہ مسخرہ پن کسی اور وقت کے لئے اٹھا رکھے کیونکہ منصوبہ بندی سنجیدگی کی متقاضی ہے۔ Read more

کشتی، تین دوست اور برائے نام کتا قسط 5

گو ٹرین میں بہت رش تھا لیکن اس کے بعد میں اپنے کیبن میں اکیلا رہ گیا۔ جب گاڑی کسی اسٹیشن پہ رکتی تو نئے مسافر خالی نشستیں دیکھ کے میرے کیبن کی طرف لپکتے۔ ایک آواز آتی ”اس طرف آ جاؤ میری۔ یہاں بہت جگہ ہے“ ۔ کوئی پیچھے سے جواب دیتا، ”ہاں ہیری، یہاں تو ہم سب سما سکتے ہیں۔“ پھر وہ سب اپنے بھاری بھرکم بیگ سنبھالتے ہوئے بہ عجلت کیبن میں گھسنے کی کوشش کرتے تاکہ کوئی اور ان سے پہلے خالی نشستوں پہ قبضہ نہ کر لے۔ اب سب سے آگے والا جس تیزی سے کیبن میں داخل ہوتا اس سے دگنی رفتار سے واپس باہر نکلنے کی کوشش میں اپنے پیچھے آنے والوں پہ جا گرتا۔ پھر یکے بعد دیگرے سب ایک ایک کر کے کیبن میں کے اندر جھانک کے کچھ سونگھتے اور الٹے پاؤں لوٹ جاتے۔ لندن پہنچ کے میں پنیر لے کے سیدھا اپنے دوست کے گھر گیا جہاں اس کا ملازم مجھے ڈرائنگ روم میں بٹھا کے بیگم Read more

کشتی، تین دوست اور برائے نام کتا قسط 6

میں نے ذہن بہت پہ زور دیا لیکن یاد نہ آیا کہ ٹوتھ برش رکھا تھا یا نہیں۔ طوہاً و کرہاً سوٹ کیس دوبارہ کھول کے ایک ایک چیز پھر باہر نکالی۔ اس کے بعد ہر کپڑے کو جھاڑا، سوٹ کیس کے تمام خانوں کو درجنوں بار ٹٹولا۔ پھر سوٹ کیس کو الٹا کے زور زور سے ہلایا جلایا۔ جارج اور دیپک کے ٹوتھ برش مجھے اس دوران بیسیوں دفعہ ملے لیکن اپنا کہیں نظر نہ آیا۔ بالآخر تقریباً دو گھنٹے کی تلاش کے بعد مجھے وہ کمبخت ایک جوتے کے اندر سے ملا۔

اب سکھ کا سانس لے کے بیٹھنے لگا تو احساس ہوا کہ اب تک کی ساری محنت اکارت ہو چکی تھی کیونکہ سوٹ کیس باکل خالی تھا اور سارے کمرے میں سامان بے ترتیبی سے بکھرا پڑا تھا جس کو اب نئے سرے سے پیک کرنا تھا۔ ناچار سب کچھ دوبارہ پیک کیا تو صابن باہر رہ گیا۔ الغرض سوٹ کیس بار بار کھلتا اور بند ہوتا رہا حتی کہ رات کے دس بج گئے۔ اس موقع پہ سوٹ کیس کو آخری مرتبہ بند کرتے ہوئے میں نے اعلان کیا کہ، ”اب جو اس کے باہر ہے وہ تا قیامت باہر ہی رہے گا اور اس کے بعد اگر کسی نے سوٹ کیس کی طرف اشارہ بھی کیا تو میں سوٹ کیس سمیت پورے گھر کو اور یہاں سے فارغ ہوکے سارے لندن کو آگ لگا دوں گا۔“

اس مختصر تقریر دلپذیر کا سامعین پہ میری توقع سے کہیں زیادہ اثر ہوا اور وہ دونوں اپنی نشستوں سے اٹھتے ہوئے بولے، سوٹ کیس کو دفع کرو اور آرام سے بیٹھو۔ ابھی سارے برتن اور خورونوش کا سامان پیک کرنا رہتا ہے اور پہلے ہی کافی دیر ہو چکی ہے۔ باقی کام ہم کرلیتے ہیں کیونکہ صبح جلدی نکلنا ہے۔

گویا اب تماشا دیکھنے کی میری باری ۔۔

Read more

کشتی، تین دوست اور برائے نام کتا (قسط 7)

ہم نے جارج کا لحاف کھینچ کے ایک طرف پھینکا اور اس کی بغلوں میں ہاتھ ڈال کے اس کو بستر سے اٹھا کے فرش پہ کھڑا کر دیا۔ دیپک نے کہا، ”جاگ جا میرے پیارے چرسی، تم نے ہمیں ساڑھے چھے بجے جگانا تھا، اور اب دس بجنے والے ہیں۔“ جارج نے دوبارہ بستر میں گھسنے کی کوشش کی لیکن ہم نے اپنی گرفت ڈھیلی نہیں کی۔ چند لمحے ٹھنڈے فرش پہ ننگے پاؤں کھڑے رہ کے نیند کا خمار اترا تو اس نے بغیر کسی خفت کے ہمیں ڈانتے ہوئے کہا، ”حد ہے۔ اتنی دیر کردی۔ ۔ ۔ تم لوگ بھنگ پی کے سوئے تھے؟ فوراً ناشتہ کرو اور نکلو“ ۔

ہم جلدی جلدی تیار ہو کے ناشتے کی میز پہ بیٹھے تو دیپک نے اخبار اٹھا لیا اور چن چن کے ہمیں کشتیوں کے حادثات اور ان میں ہونے والی ہلاکتوں کی خبریں سنانے لگا جس سے ناشتے کا لطف دوبالا ہوگیا۔ جارج نے اخبار اس سے چھین کے موسم کا حال دیکھا تو معلوم ہوا کہ اگلے چند روز میں قیامت کے علاوہ ہر ممکنہ مصیبت کی توقع ہے، یعنی دوپہر کے بعد تیز جھکڑ چلیں گے، شام کو گرج چمک کے ساتھ بارش یقینی ہے اور رات کو ژالہ باری بھی ہو سکتی ہے۔ چونکہ موسم ہمیشہ محکمہ موسمیات کی پیش گوئیوں کے الٹ چلتا ہے اس لئے یہ رپورٹ پڑھ کے ہمیں اطمینان ہو گیا کہ آنے والے دنوں میں شاندار دھوپ نکلے گی اور موسم نہایت خوشگوار رہے گا۔

ناشتے سے فارغ ہوکے ہم نے سامان اٹھایا اور باہر نکل کے بگھی کا انتظار کرنے لگے۔ سارا سامان ایک جگہ اکٹھا ہوا تو حیرت ہوئی کہ اتنا سب کچھ ہم نے کیسے جمع کر لیا۔ ہمارے سامان میں ایک بڑا سوٹ کیس، چند چھوٹے بیگ، خیمہ، دو ٹوکرے، پانچ چھتریاں، چار اوور کوٹ ۔۔

Read more