ایک عام لڑکی کی ڈائری ( 1 )

ہیلو ڈائری کیسی ہو؟ آج سے مجھے ایک نیا دوست بنانا ہے جس سے میں اپنے جذبات کھل کے بتا سکوں۔ ایسا نہیں ہے کہ میرے دوست نہیں ہیں مگر مسئلہ یہ ہے کہ ہر کسی سے کسی نہ کسی وجہ سے مجھے جج کیے جانے کا خطرہ رہتا ہے۔ کسی کی شکل مجھ سے اچھی ہے تو کسی کی عقل، کسی کے ابا کی تنخواہ میرے ابا سے زیادہ ہے تو کسی کی الماری میں میرے کپڑوں سے زیادہ جدید انداز کے کپڑے ہیں مسئلہ یہ ہے کہ کچھ ایسی ہیں جن کی الماری میں مجھ سے زیادہ باحجاب کپڑے بھی ہیں۔ اب تم سوچو گی کہ مسئلہ کیا ہے میرے ساتھ مجھے جدید کپڑوں کا بھی ڈر ہے اور باحجاب کپڑوں کا بھی۔ تو ڈئیر ڈائری یہی تو مسئلہ ہے کہ مجھے دونوں قسم بلکہ ہر قسم کی دوستوں سے تحفظات ہیں، مجھے اپنا آپ ہر کسی سے کم ہی لگتا ہے۔ امی کہتی ہیں تمہارے تو رونے ہی ختم نہیں ہوتے آج بھی تو ایسا ہی ہوا تھا۔

Read more

ایک عام لڑکی کی ڈائری ( 2 )

مورخہ اتوار بائیس نومبر انیس سو بانوے آج ڈائری لکھتے لکھتے ہفتہ ہو گیا پورا۔ مجھے اب واقعی لگنے لگا ہے کہ کم از کم کوئی ایک ہے جو مجھے اچھی طرح جانتا ہے۔ جو میرے منہ سے نکلے ہر لفظ پہ ٹوکتا نہیں۔ میرا دل چاہتا ہے اپنی عمر کی لڑکیوں جیسی بے فکری…

Read more

رشتوں میں دیواریں اینٹ پتھر کی، یا اصولوں کی ایک عام لڑکی کی ڈائری ( 3 )

مورخہ پانچ دسمبر انیس سو بانوے بروز اتوار 05/12/1992 افف پیاری ڈائری کیا بتاؤں تھکن سے حالت بری ہے۔ تمہیں تو پتا ہے پورے ہفتے سے ابو نے ہم دونوں بہن بھائیوں کو اوپر والی منزل کی صفائی پہ لگایا ہوا تھا۔ دو دن صفائی میں لگے پھر شگفتہ پھپھو کا سامان سیٹ کروایا۔ تم…

Read more