افسانے کی حقیقی لڑکی

اپنی زندگی کی افسانویت اور حقیقت میں پھنسی لڑکی جو کہیں نہ کہیں ہر لڑکی جیسی ہے۔

”جب تک ہم عورتیں اپنے حقوق کے لئے آواز نہیں اٹھائیں گی کوئی ہمیں ہمارا حق نہیں دے گا بلکہ ممکن ہے کہ ہم سے سانس لینے کا حق بھی چھین لیا جائے“

معروف سماجی رہنما بختاور احمد کا عورتوں کے عالمی دن کے موقعے پہ تقریب کے شرکاءسے خطاب

اس نے یہاں تک خبر پڑھ کر تاسف سے سر ہلایا اور اخبار سائیڈ میں رکھ دیا۔

”کاش کوئی ان عورتوں کو سمجھا سکتا کہ عورت کی اصل بادشاہت تو اس کا گھر اور بچے ہوتے ہیں۔ نہ اپنا گھر سنبھلتا ہے نہ دوسروں کا بسنے دیتی ہیں“

اسے اس قسم کی مرد مار جنگجو ٹائپ عورتوں سے سخت چڑ تھی

٭٭٭ ٭٭٭

بسمہ نے سیاہ ناگن جیسی ساحر آنکھوں پہ آئی لائنر لگایا اور پلکیں جھپکا کر ان کے مناسب حد تک قاتلانہ ہونے کا یقین سا کیا۔ آنکھوں کی ہی طرح سیاہ گھٹاؤں سے چمکیلے سلکی بالوں کو آج کلپ کی قید سے آزاد کھلا چھوڑا ہوا تھا۔ ”ریڈ ایمبرائڈڈ ڈزائینر کرتی“ کے ساتھ ”بلیک ٹراؤزرز“ اور ”بلیک اینڈ ریڈ اسٹالر“ جو اس نے اسٹائل سے گلے کے گرد ڈالا ہوا تھا۔ ایک نظر خود کو دوبارہ آئینے میں دیکھ کر جلدی جلدی لپ اسٹک شائنر، ہیر برش اور باڈی اسپرے ہینڈ بیگ میں ڈالا، نازک سی کالی سینڈل دودھیا پیروں میں پہنی اور دوپٹے سے ذرا بڑی کالی چادر پہن کر باہر نکل آئی۔ آج وہ بہت دل لگا کے تیار ہوئی تھی تقریبا تین ماہ سے اسکول کی سہیلیوں کے ساتھ مل کر فئیرویل پارٹی کی تیاریاں ہورہی تھیں اور خدا خدا کر کے وہ دن آہی گیا وہ بہت پرجوش ہو رہی تھی، وہ آج اسکول میں اپنا آخری دن ”یادگار“ بنانا چاہتی تھی۔

اس نے کلائی پہ ۔۔

Read more

زبردستی کی شادی رومانوی ہوتی ہے کیا؟

افسانے کی حقیقی لڑکی قسط 2

اصل ارمغان اس کے لیے ”عام سا اسلم“ تھا اور بسمہ کو اُس سے بلاوجہ چڑ تھی۔

اس کا بلاوجہ دل چاہتا کہ اسلم کے بارے میں کسی سے باتیں کرے۔ مگر کیا؟ بس یہ سوچ کے رہ جاتی کہ سب کچھ تو اس کے تخیل میں تھا اسی لیے کبھی اپنی قریب ترین دوستوں، فائزہ اور گل بانو سے بھی کچھ نہیں کہہ پائی۔ دوسرا مسئلہ یہ تھا کہ اسے پتا تھا کہ دونوں کا ردِعمل کیا ہوگا۔ فائزہ تو فورا اظہارِ عشق کا مشورہ دے دے گی اور گل بانو ایک لمبا سا لیکچر، عورت اور حیا پہ سنائے گی۔ سچی بات یہ ہے کہ اگر کوئی اور لڑکی اسے ایسا کچھ بتاتی تو وہ بھی شاید ایسا ہی کوئی لیکچر دیتی جس میں عموماً باتیں امی اور دادی کی باتوں کا کاپی پیسٹ ہوتیں۔

وہ اور گل بانو خیالات میں کافی حد تک ایک جیسی تھیں۔ دونوں لڑکوں سے دور دور رہتی تھیں۔ لڑکوں کے اسکول میں ساتھ پڑھنے کے باوجود دونوں بہت ضروری بات ہی لڑکوں سے کرتی تھیں۔ دونوں نے اپنا بڑا سادوپٹہ کھول کے اوڑھا ہوتا اور سر پہ اسکارف بندھا ہوتا جو اسکول آنے سے لے کر چھٹی تک ٹس سے مس نہ ہوتا۔ انہیں ہر وقت یہ لگتا کہ ہر کوئی انہیں پرکھ رہا ہے، ان کی حیا اور شرافت کا ترازو لے کر، اور ان کی کوشش ہوتی کہ ہر ایک کے حیا اور شرافت کے معیار پہ وہ کسی نہ کسی طرح پورا اتریں۔

چاہے کچھ بھی کیوں نہ کرنا پڑے۔ اور اپنے انہی اصولوں کی وجہ سے بسمہ مزید الجھن کا شکار تھی۔ فائزہ البتہ ان دونوں سے کافی الگ تھی۔ جو دل میں آیا منہ پہ بول دیا۔ دوپٹہ سر پہ لے کر نکلتی مگر کب وہ دوپٹہ سر سے اتر جاتا ۔۔

Read more

گل بانو کی بچپن میں اچانک شادی, افسانے کی حقیقی لڑکی قسط 3

اسکول جانے کی ہمت تو کیا ہوتی اسے تو بستر سے اٹھنا ہی مشکل لگ رہا تھا۔ سب سے پہلا خیال یہ آیا کہ اب تو امی کو پتا چل جائے گا کہ وہ واقعی پریشان ہے اور شاید وہ اپنے سخت رویئے پہ شرمندہ ہوں۔ اس نے تھوڑا سا سر گھما کے دیکھا دادی حسب معمول فجر کی نماز کے بعد تسبیح پڑھتے پڑھتے سوگئی تھی۔ وہ اس کے اسکول جانے کے وقت عموما سو رہی ہوتی تھیں سب کے جانے کے بعد امی اپنے اور ان کے لئے چائے نکالتیں تب دادی ٹھیک سے جاگتی تھیں۔

وہ انتظار کرنے لگی کہ امی کو کب احساس ہو کہ وہ اسکول کے لئے تیار ہونے نہیں اٹھی۔ اسد ویسے تو اُسی اسکول جاتا تھا مگر اسے بھی پتا نہیں چلتا کہ بسمہ کب اسکول گئی، کب نہیں۔ جب سے اسے لگنے لگا تھا کہ وہ بڑا ہوگیا ہے اسے بسمہ کے ساتھ اسکول جانے میں شرمندگی ہوتی تھی۔ وہ اپنے کسی دوست کے ساتھ بائک پہ اسکول چلا جاتا تھا۔

بسمہ کافی دیر آنکھیں موندے انتظار کرتی رہی کہ امی کب پریشان ہوکے اسے دیکھنے آئیں۔ بخار اتنا تیز تھا کہ وہ آدھی سوئی جاگی سے کیفیت میں یہ بھی بھول گئی کہ آج اتوار تھا۔ کافی دیر بعد امی اپنی اور دادی کے چائے لے کر کمرے میں آئیں تو ان کی نظر بسمہ پہ پڑی جو اس وقت غنودگی میں تھی، دیکھتے ہی اندازہ ہورہا تھا کہ اس کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے اس کا چہرہ تپتا ہوا محسوس ہورہا تھا اور خشک ہونٹ نیم وا تھے جس سے وہ گہرے سانس لے رہی تھی۔ امی نے چائے کے کپ سائیڈ ٹیبل پہ رکھ کر پہلے دادی کو ہلایا۔

”اماں دیکھیں تو بسمہ کی طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی“

دادی ہڑبڑا کے اٹھیں ”ہیں کیا ہوا رات تو ۔۔

Read more

محبت کرنے اور اپنی نمائش لگانے میں فرق ہے

گھر پہ شادی کی بات نکلتی تو وہ الجھنے لگتی۔ ایک دو دفعہ تو اس نے کہہ بھی دیا کہ امی مجھے ابھی شادی نہیں کرنی آپ لوگوں کے پاس رہنا ہے آپ کا اور ابو کا خیال رکھنا ہے۔ دوسری طرف اسکول جاتی تو جان بوجھ کر اسلم کے سامنے جاتی وہ اب چاہنے لگی تھی کہ اسلم اس سے کچھ کہے کسی طرح اسے اس ذہنی اذیت سے نکال لے۔ اس ماحول سے دور لے جائے۔ کبھی کبھی وہ سوچتی اسلم نہیں تو ارمغان ہی سہی۔ مگر زبردستی کی شادی نا ہو۔ پھر خود ہی خیال جھٹک دیتی، اتنی عام سی صورت والے بندے کے ساتھ پوری زندگی گزارنا اسے بہت مشکل لگتا تھا۔ Read more

گل بانو کی شادی کی پہلی رات اور اسپتال

اب جو کچھ ہونے والا تھا وہ رومینس ہرگز نہیں کہا جاسکتا۔ ہاں اسے زبردستی کہا جاسکتا ہے اور اس لفظ ”زبردستی“ نے اسے اندر تک جھنجھوڑ دیا اسی سے بچنے کے لیے تو وہ سب کرنے کے لیے تیار تھی مگر اس سب میں یہ بھی ہوگا اس نے سوچا بھی نہیں تھا۔ وہ گھبرا کر مڑی

”فائزہ والے میرا انتظار کر رہے ہوں گے۔ “
اسلم نے کلائی سختی سے پکڑ لی
”اتنی جلدی کیا ہے جس کام سے آئی ہو وہ تو پورا کرلیں۔ “
”اسلم مجھے تم سے کوئی کام نہیں تھا تمہیں ہی کوئی بات کرنی تھی جو کرنے کی بجائے تم بدتمیزی کر رہے ہو۔ “

بسمہ کا لہجہ سخت ہوگیا۔
بسمہ کو دکھ، ڈر اور گھبراہٹ سب ایک ساتھ محسوس ہورہا تھا۔ دکھ اسلم کے سطحی رویے کا، ڈر کہ پتا نہیں اسلم کیا کرنے والا ہے اور گھبراہٹ کہ کوئی اور انہیں ساتھ نا دیکھ لے۔ وہ ایک دم جیسے کسی نیند سے جاگی تھی اب اسے خود پہ حیرت ہورہی تھی کہ وہ جو بھری کلاس میں لڑکوں سے بات کرتے میں گھبراتی تھی وہ خالی کلاس میں اسلم سے ملنے اکیلی آگئی تھی۔ اس کی کلائی ابھی تک اسلم کی سخت گرفت میں تھی پہلی والی نرمی مفقود تھی۔

”محترمہ جتنی معصوم تم خود کو ثابت کرنا چاہ رہی ہو اگر اتنی ہی ہوتیں تو میرے پیچھے پیچھے اکیلے کمرے میں نا آتیں۔ بچی تو نہیں ہو کہ یہ نا پتا ہو کہ جوان لڑکا، جوان لڑکی کو اکیلے کمرے میں کیوں بلاتا ہے“

۔ جوان لڑکی۔ وہ جو ابھی تک اسکول کی بچی کہلاتی تھی اسلم اسے جوان لڑکی کہہ رہا تھا۔ ابھی تک بسمہ کی محبت میں، تصور میں، لڑکپن کی معصومیت تھی اُس نے اِس پہلو پہ کبھی کہاں سوچا تھا۔ وہ اور گھبرا گئی

”اسلم چھوڑو ۔۔

Read more

جہیز اور بری کا سامان، نئے بننے والے رشتے کی پہلی دراڑ :قسط نمبر 6

بسمہ نے تصویر پلٹ کر دیکھی ایک کونے میں شاید اس کا نام لکھا تھا۔ ”رانا عبدالباسط“ بسمہ کو ہنسی آگئی ایک اور نام جو افسانے کے ہیرو جیسا بالکل بھی نہیں۔ پھر اس نے دل میں دہرایا بسمہ باسط، اور ہلکے سے مسکرا دی۔

صورت حال تو افسانوں جیسی ہی تھی اس کا نام ایک ایسے شخص کے ساتھ جوڑ دیا گیا تھا جسے وہ جانتی بھی نہیں تھی مگر اس کی نکھری گندمی رنگت چمکیلے سیاہ بال اور سیاہ آنکھیں اس کا دل دھڑکا رہے تھے۔ اسٹوڈیو کی سوفٹ لائٹ میں وہ بالکل کسی افسانوی ہیرو جیسا ہی لگ رہا تھا۔ اس نے تصویر الماری میں رکھی کتاب میں چھپا دی۔

منگنی کی رسم دومہینے بعد رکھنے کا فیصلہ ہوا اس کے بعد سے گھر میں بحث جاری تھی کہ لڑکا آیا تو دونوں کو ساتھ بٹھانا ہے یا الگ الگ۔ دادی کا کہنا تھا کہ منگنی کوئی شرعی رشتہ نہیں ہوتی لڑکا بہرحال نامحرم ہے اور اسے الگ بٹھانا چاہیے جبکہ امی اور بہنوں کا موقف تھا کہ اب یہ سب کون دیکھتا ہے اب تو لڑکا لڑکی ساتھ ہی بیٹھتے ہیں۔ ابو کی حیثیت فی الحال ٹینس میچ کے تماشائی جیسی تھی۔ گھر میں چند دن سے کنھچاؤ کی سی کیفیت تھی۔

روز دونوں بہنیں بچوں کو ٹیوشن بھیج کر ادھر ہی آجاتیں اور رات گئے تک ادھر ہی رہتیں۔ آج پھر یہی بحث جاری تھی۔ بسمہ خود فیصلہ نہیں کرپارہی تھی کہ وہ کیا چاہتی ہے کیا اسے ساتھ بیٹھنا اچھا لگے گا یا شرم آئے گی۔ وہ اسے قریب سے دیکھنا چاہتی تھی مگر وہ برابر بیٹھ بھی جاتا تو کون سا بسمہ نے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کے دیکھ لینا تھا۔

امی دادی کی بحث جاری تھی۔ ایک پوائنٹ پہ آکر امی کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا۔ وہ غصے میں آگئیں۔
”بس اماں ۔۔

Read more

ہاتھ میں موبائل: قربِ قیامت کی نشانی، بے حیائی یا ماڈرنزم

بیوٹیشن نے آکر گھر پہ ہی بسمہ کا میک اپ کردیا۔ بسمہ تیار ہوتی رہی اور دل ہی دل میں اس کے دماغ میں کئی ماڈلز کی دلہن بنی ہوئی تصویریں آگئیں بسمہ کو یقین تھا کہ وہ بھی دلہن بن کے بہت پیاری لگے گی۔ بیوٹیشن نے اپنا کام نپٹایا بسمہ کا چہرہ آئینے کے دوسری طرف تھا اتنی دیر میں بشریٰ آپی اندر آ گئیں۔

”ہائے اللہ بسمہ میری گڑیا کتنی پیاری لگ رہی ہو ماشاءاللہ“ انہوں نے آگے بڑھ کے فوراً اس کے سر پہ پیار کیا۔ بسمہ ہلکے سے مسکرائی اس نے آہستہ سے مڑ کے خود کو آئینے میں دیکھا

”یہ میں ہوں؟ ۔“ اس کے سامنے ایک موٹے ہونٹوں والی سفید چہرے کی ایک پچیس تیس سال کی عورت نما دلہن کھڑی تھی۔

”آپی بیس بہت وائٹ نہیں ہوگیا؟“
اس نے ہچکچاتے ہوئے کہا
”ارے نہیں گڑیا برائڈل میک اپ ایسا ہی ہوتا ہے، تصویریں اچھی آتی ہیں۔“

بسمہ خاموش ہوگئی۔ کچھ دیر بعد ہی خاندان والے آنے لگے ہر کزن جس نے کبھی بسمہ سے سیدھے منہ بات بھی نا کی ہو وہ بھی اس کے روم میں آکر ایسے مل رہی تھی جیسے اس سے زیادہ قریبی دوست اور کوئی نہیں۔ سب سے پہلے تو عموماً یہی تعریف کرتیں بسمہ کتنی پیاری لگ رہی ہو ویسے تو ماشاءاللہ ہو ہی پیاری۔ بسمہ کچھ کنفیوز سی تھی اسے ایسے ٹریٹ کیا جا رہا تھا جیسے وہ کوئی جہاد جیت کے آئی ہے۔ ہر مہمان اس کا سگا بننے کی کوشش میں تھا۔ خواتین اپنے روتے بسورتے بچے لارہی تھیں کہ آؤ دلہن دکھائیں آپ کو بھی دلہن چاہیے یہ والی، پیاری ہے نا۔ وغیرہ وغیرہ۔ دولہا والوں کے آنے تک کا وقت گزارنا عذاب لگنے لگا تھا۔

آخر خدا خدا کر کے دولہا والے آئے بسمہ کے گرد لگا مجمع ایک دم سے ۔۔

Read more

امی نے دادی سے حکومت کب اپنے ہاتھ میں لی؟


بسمہ کی راتیں پھر سے تصورات میں گزرنے لگیں۔ بس یہ ہوتا کہ تصورات میں بھی وہ تھوڑا فوٹو شاپ کی مدد لے ہی لیتی۔ اسے ابھی تک باسط کی رنگت پہ تسلی نہیں ہوئی تھی۔

گھر والوں کا رویہ بدلنے کے ساتھ ہی اسے یاد آیا کہ فائزہ سے بات ہوئی تھی اس کی امی سے مشورہ کرنے کی۔ جب تک سب اچھا چل رہا تھا وہ بھولی بیٹھی تھی۔ اب اس کا ارادہ تھا کہ وہ دونوں ہی مسئلوں پہ بات کر لے گی۔ گھر والوں کا رویہ بھی اور باسط کی رنگت بھی۔ ایک دو دفعہ اس نے باسط کو مشورہ بھی دیا کہ وہ وائیٹننگ فیشل کروا لیا کرے یا پھر کوئی فئیرنیس کریم یوز کرنی شروع کردے۔ کبھی باسط مذاق میں بات ٹال جاتا اور کبھی کچھ دیر کے لیے خاموش ہوجاتا۔ پھر وہ صفائیاں پیش کرنے کی کوشش کرتی کہ اسے مسئلہ نہیں بس لوگ مذاق اڑاتے ہیں اور اسے اچھا نہیں لگے گا کہ کوئی باسط کا مذاق اڑائے۔

کئی دفعہ سوچا کہ اسے نہیں ٹوکے گی مگر پھر کسی گورے ہیرو کو دیکھ لیتی یا گھر پہ کالوں کا مذاق اڑتا دیکھتی تو شدت سے خواہش ہوتی کہ کاش باسط کا رنگ تھوڑا صاف ہوتا۔ پہلے شاید گھر والوں نے لحاظ رکھا ہو مگر اب سب گھما پھرا کر باسط کی رنگت پہ کچھ نا کچھ بولنے ہی لگے تھے۔ اس پہ اسے اور غصہ آتا کہ دیکھ کر بھی خود وہی لوگ آئے تھے اب اسے ایسے سناتے ہیں جیسے اس نے کالے دولہا کے لیے ضد کی تھی۔ اس پہ قنوطیت سی طاری رہنے لگی تھی اسے لگنے لگا ہر بری چیز جان بوجھ کے اس کے حصے میں رکھی جاتی ہے۔

ویسے بھی گھر والوں کو اس کی کوئی خاص پروا تھی نہیں کم از کم یہ ایک چیز ۔۔

Read more

منگیتر سے زبردستی، رومان، ہراسانی یا گناہ؟ قسط نمبر 9۔

”میں نیچے جارہی ہوں“ وہ باسط کی طرف دیکھے بغیر کہہ کر دروازے سے نکل آئی۔ پھر کب اس نے چائے پی کب گھر واپس آئی اسے کچھ سمجھ نہیں آیا۔ مستقل اسے محسوس ہورہا تھا کہ اس کے چہرے پہ کوئی کراہت آمیز چیز لگ گئی ہے۔ آتے ہی واش بیسن کھول کے کھڑی ہو گئی۔ بار بار چہرے پہ پانی ڈالتی بار بار صابن رگڑتی۔ Read more

میاں بیوی کی بات چیت بھی معیوب، دیور بھابھی کا فحش مذاق بھی جائز؟

باسط شاید اپنے ہار اور شیروانی وغیرہ اتار رہا تھا۔ کمرے میں اتنی خاموشی تھی کہ نیچے کی باتوں کہ ہلکی ہلکی آوازیں اور باسط کے کپڑوں کی سرسراہٹ بھی سنائی دے رہی تھی۔

”بسمہ!“
باسط نے بیڈ کے پاس آکر ہلکے سے اسے پکارا

بسمہ نے آہستہ سے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔ آج باسط کی رنگت کافی کھلتی ہوئی لگ رہی تھی۔ نقوش اس کے ویسے بھی جاذب نظر تھے، وہ مجموعی طور پہ کافی اچھا لگ رہا تھا۔

باسط سامنے بیٹھ گیا
”اچھا لگ رہا ہوں ناں؟“
باسط کے لہجے میں کہیں بھی مہینہ پہلے ہونے والے واقعے کا کوئی اثر نہیں تھا۔
بسمہ نے ہلکے سے مسکرا کر سر جھکا لیا۔

”ارے کنجوس لڑکی نئے نویلے میاں کی تھوڑی سی تعریف کردو گی تو کیا ہو جائے گا۔ مانا آپ جتنے حسین نہیں مگر ہم پہ بھی لڑکیاں مرتی ہیں“

بسمہ کو ہنسی آ گئی۔
باسط نے ہاتھ تھاما

”آج اجازت ہے ناں محترمہ؟ مجھے تو پتا ہی نہیں تھا میری اسنو وائٹ اتنی شرمیلی ہے۔“ بسمہ اپنی بدلتی کیفیت سے حیران تھی۔ اسے اب واقعی ٹھیک ٹھاک قسم کی شرم آ رہی تھی کسی بھی اور احساس کے بغیر۔

”اچھا جی پہلے اپنا گفٹ لیں گی یا میرا گفٹ دیں گی“

دلہن کو بھی کوئی گفٹ دینا ہوتا ہے؟ اف لعنت ہے۔ ۔ ۔ مجھے کسی نے بتایا ہی نہیں۔ بسمہ نے ہکا بکا ہو کر باسط کی شکل دیکھی۔ باسط اس کے چہرے پہ اڑتی ہوائیاں دیکھ کر ہنس پڑا۔

”یار تم اتنی ہی ہونق ہو یا آج کوئی خاص تیاری کی ہے؟“ پھر اٹھ کے ڈریسنگ ٹیبل کی دراز سے ایک گفٹ باکس نکال کے لے آیا۔

”یہ تمہارا گفٹ وہ کیا کہتے ہیں اردو میں؟ منہ دکھائی، ہے ناں؟ اور میرا گفٹ میں خود لے لوں گا جو اس دن آپ نے ۔۔

Read more