بھیا ڈھکن فسادی نے گاڑی خریدی

بھیا ڈھکن فسادی تڑاک سے دروازہ کھول کر کمرے میں داخل ہوئے۔ ان کا چہرہ خوشی سے تمتما رہا تھا۔ اندر آتے ہی بولے ”بس آج تو فوراً ہی منہ میٹھا کرا دو۔ ہم تو فسق و فجور میں پڑی ہوئی اور لہو و لعب میں ڈوبی ہوئی اس قوم سے مایوس ہو چلے تھے لیکن شکر ہے کہ ابھی بھی اس تن مردہ میں کچھ جان باقی ہے“۔ یہ کہہ کر وہ فوراً فرج پر ٹوٹ پڑے اور جلد ہی وہ میز پر بیٹھ کر چار کلو آموں کو تن تنہا کھانے میں مشغول ہو گئے۔ ”کیا ہوا بھیا۔ کچھ ہمیں بھی تو پتہ چلے؟ “ ”میاں تمہارے بھائی نے آخر کار گاڑی خرید ہی لی۔ اور اس پر پہلی ہی سواری بہت مبارک ثابت ہوئی“ Read more

بھیا ڈھکن فسادی پکڑے گئے

ٹررررن ٹرررررن ٹررررن۔ فون کی گھنٹی بجنے لگی۔ بمشکل آنکھیں کھول کر گھڑی پر نظر ڈالی۔ ابھی صبح کے چھ ہی بجے تھے۔ کون ہو سکتا ہے اس وقت جب اس وقت ہزاروں لاکھوں لوگ اس شہر ناپرساں میں نیند کے مزے لوٹ رہے تھے لیکن کوئی ہمیں جگانے پر تلا ہوا تھا۔ ٹررررن ٹرررررن ٹررررن۔ فون کی گھنٹی مسلسل بج رہی تھی۔ کون ہو سکتا ہے یہ مونگ پھلی جتنے دماغ والا شخص جس کو تمیز چھو کر بھی نہیں گزری۔ فون نہیں اٹھا رہا ہوں تو بند کر دے۔ کیوں جان عذاب میں ڈال رہا ہے۔ بمشکل ادھ کھلی آنکھون سے فون ڈھونڈ کر ’ہیلو‘ کہا تو دوسری طرف سے ایک درد بھری صدا آئی ’میں لیلی مجنوں ہوں‘۔ Read more

بھیا ڈھکن فسادی کی موٹر کار

”آپ کی نئی گاڑی کیسی چل رہی ہے بھیا؟“ ہم نے بھیا ڈھکن فسادی سے سوال کیا۔ ”میاں ابھی کل ہی ہم حاجی عبدالقہار کے قہاریہ بک سٹور پر کھڑے کتابوں کی ورق گردانی کر رہے تھے کہ وہاں موجود گاڑیوں کے شیشے پر لگانے والے ایک اسٹکر پر نظر پڑی جس پر لکھا تھا کہ“ مجاہدین مالی سے پیار کرتے ہو تو بھونپو بجاوَ ”۔ یہ سٹکر دیکھتے ہی ہم نے اسے خرید ڈالا اور آج صبح اپنی نئی گاڑی کے پچھلے شیشے پر چسپاں کر دیا۔ میاں کیا بتاوں کہ آج کیسا نرالا ایمان افروز تجربہ ہوا ہے۔ آج پہلی دفعہ پتہ چلا ہے کہ سات سمندر پار غاصب استعمار سے برسرپیکار مجاہدین مالی سے اس شہر کے لوگوں کو کتنی محبت ہے، حالانکہ اگر یہاں کسی سے مالی کے بارے میں پوچھو تو وہ اپنے باغبان کے بارے میں بتانے لگ جائے گا۔ اسے یہ بھی نہیں پتہ ہوگا کہ یہ مسلم امہ کا حصہ ہے جہاں مجاہدین جہاد میں مشغول ہیں“ ۔ Read more

بھیا ڈھکن فسادی نے یوم حیا منایا

بھیا ڈھکن فسادی حسب روایت نہایت غصے میں تھے۔ آتے ہی اپنے جذبات ہمارے دماغ میں منتقل کرنے کی کوشش کرنے لگے۔ بھیا ڈھکن فسادی: دیکھے تم نے اپنے کرتوت؟ قوم کس طرح تباہ ہوئی جا رہی ہے۔ ہم: بھیا اس مرتبہ ہم نے قوم کو کیسے تباہ کر دیا ہے؟ بھیا ڈھکن فسادی: سارا میڈیا ویلنٹائن ڈے منا رہا ہے۔ حالانکہ ہماری روایات کہتی ہیں کہ یوم حیا منایا جائے۔ Read more

بھیا ڈھکن فسادی کہتے ہیں کہ بھٹو اسلام دشمن تھا

بھیا ڈھکن فسادی نے قہوے کا پیالہ اٹھایا اور آنکھیں سکیڑ کر بولے ’تم جو بھی کہو، لیکن حقیقت یہی ہے کہ بھٹو اسلام دشمن تھا‘ ۔ ہم: بھیا اس نے کیا اسلام دشمنی کی ہے؟ ہمیں بھی بتائیں تاکہ ہم بھی اسے برا جانیں۔ بھیا ڈھکن فسادی: دیکھو وہ شراب پیتا تھا۔ ہم: واقعی گناہ تھا، لیکن کیا کسی کا ذاتی گناہ اس کی اسلام دشمنی سمجھی جائے گی؟ اگر آپ کسی پر بہتان لگائیں تو کیا یہ گناہ بھی آپ کی اسلام دشمنی کے لیے حجت سمجھا جائے گا؟ بھیا ڈھکن فسادی: دیکھو بہتان طرازی اور شراب پینا دو مختلف درجے کے گناہ ہیں۔ ہم: درست فرمایا۔ لیکن سنا ہے کہ دونوں پر ہی درے پڑتے ہیں۔ ویسے فی زمانہ ’میٹھا پان‘ کھانے والے مشائخ کو تو آپ اسلام دشمن قرار نہیں دیتے ہیں۔ یہ محبت بھٹو کے ساتھ ہی کیوں مخصوص ہے؟ Read more

بھیا ڈھکن فسادی اور دیوار کا معاملہ

بھیا ڈھکن فسادی سخت ناراض تھے۔ آتے ہی برس پڑے۔ بھیا ڈھکن فسادی: یہ قوم تباہ ہو جائے گی۔ ہم: بھیا اتنی قطیعت سے آپ نے یہ حکم کیسے لگا دیا ہے؟ بھیا ڈھکن فسادی: یہ نوشتہ دیوار ہے۔ تم نے دیکھا نہیں کہ بی این یو کے طلبا و طالبات نے دیوار پر کیا قبیح حرکت کی ہے؟ ہم: جناب یہ قبیح حرکت آپ مت دیکھیں اور کسی دوسری دیوار نظر ڈال لیں۔ شہر میں دیواروں کی کمی تو ہرگز بھی نہیں ہے۔ Read more

بھیا ڈھکن فسادی نے سماج سدھارا

ہم بھیا ڈھکن فسادی کے محلے میں پہنچے تو بھیا ڈھکن فسادی کو اپنے ہمسائے سے بحالت دست و گریباں پایا۔ ان کا لحیم و شحیم ہمسایہ انہیں زمین پر گرا کر ان پر چڑھا ان کی خوب دھلائی کر رہا تھا۔ بمشکل تمام انہیں چھڑا کر ان کی بیٹھک میں لایا اور پوچھا کہ کیا ماجرا ہے۔ بھیا ڈھکن فسادی: ماجرا کیا ہونا ہے۔ قرب قیامت کا زمانہ ہے۔ لوگ نیکی کی بات سنتے ہی بلا وجہ فساد پر اتر آتے ہیں۔ ہم: پھر بھی۔ اس مرتبہ کیا ہوا ہے؟ بھیا ڈھکن فسادی: بھئی ہم نے بس ان کو یہی تو کہا تھا کہ اپنے گھر میں کہہ دیں کہ مکمل طور سے مستور ہوئے بغیر صحن میں مت نکلا کریں۔ یہ درست نہیں ہے۔ Read more

بھیا ڈھکن فسادی نے غدار پکڑے

بھیا ڈھکن فسادی ہمارے سامنے بیٹھے تھے۔ روئے روشن سرخ تھا انار ہوا جا رہا تھا۔ سانسیں تیز چل رہی تھیں۔ صاف ظاہر تھا کہ حسب معمول شدید غصے میں ہیں۔ ہم نے چپ چاپ ٹھنڈے پانی کا ایک گلاس ان کے سامنے رکھ دیا جسے وہ شکریہ کہے بغیر ایک ہی سانس میں ہی چڑھا گئے۔ ہم منتظر رہے کہ اب سلسلہ کلام شروع ہو گا۔ بھیا ڈھکن فسادی: تم لبرل فاشسٹوں کی حکومت میں اب یہ دن بھِی دیکھنا تھا کہ ہماری قومی و دینی خدمات کو سراہنے کی بجائے ہمیں باعث فساد قرار دے دیا جائے؟ Read more

بھیا ڈھکن فسادی کی ڈائری: ٹرمپ کی فتح

آج عجیب دن ہے۔ امریکی عوام کی جہالت کا تو خیر ہمیں پہلے ہی سے علم تھا، مگر آج انہوں نے انتہا پسند صلیبی جنگجو ڈانلڈ ٹرمپ کو صدر منتخب کر کے ہمارے رائے پر مہر تصدیق ثبت کر دی۔ یہ وہی ٹرمپ ہے جس نے صدر بن کر مسلمانوں کو امریکہ سے نکالنے کی بات کی تھی۔ نکال دے، پھر خود ہی پچھتائے گا۔ کیا اسے سائنس پر مسلمانوں کے احسانات کا علم نہیں ہے؟ جیسے ہی مسلمان وہاں امریکہ سے نکلے تو وہ سوڈان جیسا پسماندہ ملک بن جائے گا۔ ویسے تو یہ لبرل اور سیکولر انسانی حقوق کے بہت چیمپئین بنتے ہیں مگر اب امریکہ کے باہر کے علاوہ امریکہ کے اندر بھی کھلی مسلم دشمنی پر اتر آئے ہیں۔ Read more

ڈالر والے لفافہ دانشور

بھیا ڈھکن فسادی حسب معمول نہایت ہی غصے میں تھے۔ آتے ہی گرجنے لگے۔ بھیا ڈھکن فسادی: تم لبرل فاشسٹوں کو ذرہ برابر بھی شرم نہیں آتی ہے کیا؟ ڈالر لے کر تم لوگوں پر کیا یہ لازم ہو جاتا ہے کہ ہم ایسے علما کی توہین کرو؟ ہم: بھیا ڈالر ہم نے ویسے ہی لیا ہے، جیسے آپ نے دین کی فہم لی ہے۔ یعنی ہم نے جب بھی ڈالر لیا، تو بازار سے خود ہی خرید کر لیا۔ اور آپ نے جو علما کی وضع بنائی ہے، وہ بھی خود سے ہی بنا لی ہے۔ کسی جامعہ یا مدرسے میں جا کر علم دین حاصل کئے بغیر ہی آپ نے منبر سنبھال کر امامت و خطابت کے جوہر دکھانے شروع کر دیے ہیں۔ Read more