ایسرا اور کنیسرا نے چوریوں سے مال بنایا

This entry is part 1` of 2 in the series ایسرا اور کنیسرا

ایک گاؤں میں دو دوست رہتے تھے۔ ایسرا ہندو تھا اور کنیسرا مسلمان۔ یہ دونوں ساجھے داری میں کاروبار کرتے تھے۔ کسی زمانے میں وہ بہت امیر تھے لیکن اب وقت نے پلٹا کھایا تو وہ غربت کا شکار ہو گئے تھے۔

کنیسرا ایک دن ایسرا کے گھر پہنچا اور کہنے لگا ”مجھے کچھ پیسے ادھار دو، یا کچھ غلہ یا روٹی۔ ہمارے گھر میں کھانے کو کچھ بھی نہیں ہے“۔
ایسرا نے جواب دیا ”ادھر بھی یہی حال ہے“۔

کنیسرا کے جانے کے بعد ایسرا نے اپنی بیوی کو کہا ”ہمارے پاس صرف ایک پیتل کی پلیٹ اور گلاس بچا ہے جس کی کوئی قیمت لگ سکتی ہے۔ حفاظت کے لئے اسے ہمارے بستر کے اوپر لگے چھینکے میں لٹکا دو اور پلیٹ کو پانی سے بھر دو۔ میرا خیال ہے کہ ہمارے سونے کے بعد کنیسرا اسے چرانے کی کوشش کرے گا۔ پلیٹ میں سے پانی نیچے گرے گا تو ہم جاگ جائیں گے“۔

واقعی ایسا ہوا۔ رات کو کنیسرا یہ پلیٹ چرانے آیا۔ مدہم چاندنی میں اس نے دیکھا کہ پلیٹ بستر کے اوپر چھینکے میں رکھی ہے۔ لیکن وہ ایک چالاک شخص تھا اور جانتا تھا کہ ایسرا نے ضرور کوئی چکر چلایا ہو گا۔ اس نے پلیٹ میں ایک انگلی ڈال کر دیکھا تو اس میں پانی تھا۔ وہ باہر گیا اور کچھ ریت لے کر آیا اور اسے آہستگی سے پلیٹ میں ڈال دیا۔

ریت نے سارا پانی چوس لیا۔ کنیسرا نے پلیٹ کو اٹھا کر اپنے تھیلے میں ڈالا اور اپنے گھر کی طرف چلا۔ راستے میں اس نے سوچا کہ پلیٹ بیچنے سے پہلے چند دن اسے چھپا کر مناسب موقعے کا انتظار کرنا چاہیے۔

وہ ایک تالاب کے پاس پہنچا تو اسے یہ جگہ مناسب لگی۔ وہ تالاب

۔۔
Read more