جسم میرا اور خوش گمانیاں تمہاری

مارچ جہاں ہمارے علاقوں میں بہار کی آمد کی نوید لاتا ہے۔ وہیں اس مہینے ایک دن عورت کا بھی آتا ہے۔ جو گزر گیا۔ مگر کچھ منافقوں کے دلوں کی بھڑاس ابھی تک نہیں نکل رہی۔ عورت مارچ کچھ عرصہ سے جتنے جوش و خروش سے منایا جا رہا ہے اتنا ہی متنازع ہوتا جا رہا ہے۔

کچھ مرد عورت کے حق میں لکھنے پر ہمیں اتنے جبری فتوے دے رہے ہوتے ہیں جیسے ہمارے ”مامے“ لگتے ہیں۔ جناب ہم بالغ عورتیں ہیں، اگر ہم پسند کی شادی کا حق رکھتے ہیں تو اپنی سوچ رکھنے کا بھی ایک بالغ عورت کو پورا حق ہے۔ آپ کو مسلسل مداخلت و ہماری اصلاح کی کوئی ضرورت نہیں۔ کیونکہ آپ کا اس طرح کا رویہ ہمارے خاندان کی تربیت کو مشکوک کرتا ہے۔ ہر طبقے کے اپنے نارمز (معیارات) ہوتے ہیں۔ جس پہ پتھر اٹھانے کا آپ کو کوئی اخلاقی حق نہیں۔ اور اگر ہم غلط سوچتے ہیں تو اپنے محرم مردوں کو دوزخ میں لے کر جائیں گے۔ آپ ہمارے محرم نہیں لہٰذا ہم سے دور رہیں تو اچھا ہے۔

Read more

منافق مرد

میں آپ کی بہت شکر گزار ہوں کہ آپ نے مجھے اپنے ساتھ اس سیریز پر کام کرنے کی پیشکش دی۔ گولڈن گرلز ایک بہت منفرد سیریز ہے جس کے تحت ہم دونوں وہ سب لکھ سکتی ہیں جو پہلے اپنی تحاریر میں نہیں لکھ سکیں۔ یہ سیریز دو خواتین لکھاریوں کے اشتراک سے وجود پا رہی ہے۔ ہم ایسا اشتراک عموماً مردوں کے درمیان ہی دیکھتے ہیں۔ ایسا نہیں کہ خواتین ایک دوسرے کے ساتھ کام نہیں کرتیں، کرتی ہیں پر عوام ان کے اشتراک سے زیادہ ان کے آپسی اختلاف میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔

Read more

اچھا اور گندا لمس

تم نے بات کی وی پی این کی تو بھئی وہ رال والا لال تم سے یہی تو سننا چاہتا تھا کہ ”آپ وہی دیکھتی ہیں ناں جو میں دیکھتا ہو؟ اور اگلا جواب ہوتا“ اب سے مل کر دیکھا کریں گے اور تم شرم سے سر جھکا دیتی تو وہ سارے زمانے میں نعرے لگاتا کہ تم بے حیاء ہو۔ اور جو بھی باقی کے لاحقے، سابقے عورت کے ساتھ لگائے جاتے ہیں، لگا کر دل کو قرار دیتا ہے کہ وہ عورت کو جیت کر ہرا چکا ہے کیونکہ وہ مرد ہے۔ ارے میرے منحوس ابن آ دم! یہ جو کورونا کی ویکسین بنی ہے۔ اس میں ایوارڈ حاصل کرنے والی ایک لڑکی بھی ہے۔ وہ بھی آپ کے ساتھ وی پی این پہ معلومات کا تبادلہ کرتی ہو گی۔ ہے ناں؟ شرم تم کو مگر نہیں آتی۔

Read more

گولڈن گرلز- ایک بے گھر آدمی اور ہمدرد عورت

اس تجربے سے ہم نے بہت جلدی سیکھ لیا تھا کہ آدمیوں کو اصلی یا نقلی خدا نہ سمجھیں، بلکہ اپنی طرح کا انسان ہی سمجھیں تو بہتر ہے۔ ہم سب کی ویب سائٹ پر رائٹ ونگ تبصرے دیکھتی رہتی ہوں۔ یہ شتر مرغ کی طرح ریت میں سر دبانے والے افراد ہیں۔ ان کے خیالات کو پڑھنا کہ خواتین کا کیا کردار ہونا چاہیے یا ان کو زندگی میں کیا کرنے کا اختیار ہونا چاہیے وہ بالکل غیر ضروری اور وقت کا زیاں ہیں۔ ان میں سے کئی وہ تمام کام خود کرچکے ہیں جن پر تنقید ہو رہی ہے اسی لیے وہ اس کے ذکر سے بھڑک اٹھتے ہیں۔ اس لیے میرا گولڈن گرلز کے لیے یہی مشورہ ہے کہ آپ ان سے انفرادی مباحثے پر وقت برباد کرنے کے بجائے اپنے راستے پر چلتی رہیں۔ ان کو چھوڑ کر آگے نکل جائیں۔

جب فارغ آدمی خواتین اور بچیوں کی زندگی مشکل بناتے ہیں تو ان تمام کاموں میں رکاوٹ کھڑی ہوتی ہے جو یہ خواتین نہیں کر پائیں گی۔ اس سے یہ خود اپنے پیروں پر کلہاڑی مارتے ہیں۔ ایک دن ان کو ہارٹ اٹیک ہوتا ہے اور ان کے گرد کسی میں اتنی تعلیم نہیں ہوتی کہ مدد کرسکے۔ جہاں خواتین خوف و ہراس میں زندگی گزاریں تو وہ اپنی تعلیم میں اضافہ کرنے اور اپنی پروفیشنل زندگی میں ترقی کرنے کے بجائے واقعی ایک سبزی بن جاتی ہیں جس کو اپنی اور اپنے بچوں کی بقا کے لیے چڑیل کی طرح سوتیلی ماں بننا پڑتا ہے۔

Read more

گولڈن گرلز: ڈیجیٹل بہن چارہ

رابعہ، عورتوں کے اسی غصے کا اظہار وہ گروپ ہے جہاں آپ کی سہیلیاں اور آپ ’فرشتوں‘ کے نمونے شیئر کر کے انہیں اکٹھے بلاک کیا کرتے تھے۔ عورتیں اب مردوں کی ایسی حرکتیں برداشت نہیں کرتیں۔ انہوں نے انٹرنیٹ پر اپنے لیے سپورٹ گروپ بنا لیے ہیں جہاں وہ ایک دوسرے کو مردوں سے خبردار کرنے کا کام کرتی ہیں۔ میں اسے ڈیجیٹل بہن چارہ کہتی ہوں۔ ایک گروپ تو خاصا بڑا ہے۔ اس میں لڑکیاں ایسے مردوں کی پروفائلز شیئر کرتی ہیں جن کی طرف سے انہیں دوستی، محبت یا شادی کی دعوت آئی ہوتی ہے، وہ دوسری عورتوں سے پوچھتی ہیں کہ کیا وہ انہیں جانتی ہیں۔

Read more

جعلی ریاست مدینہ اور اس کی حقیقت

عمرانی ریاست مدینہ میں رہنے والی رابعہ الربا کو عوامی جمہوریہ چین میں عارضی طور پر مقیم تحریم عظیم کا سلام قبول ہو۔

رابعہ نے اپنے خط میں جعلی ریاست مدینے کے زبردستی کے خلیفہ اول کے اس بدنام زمانہ بیان کا ذکر کیا ہے جو دنیا کے ہر خبر شائع کرنے والے ادارے نے چھاپا۔ رابعہ، صرف خلیفہ وقت نہیں بلکہ پاکستان کے ہر شہر، گاؤں، قصے کے ہر چوک، ہر تھڑے پر بیٹھا آدمی یہی سوچ رکھتا ہے۔ وزیراعظم تو بس یہ ثابت کر رہے ہیں کہ تعلیم اور شعور بھی ایسی سوچ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔

Read more

ایک عورت کی نظرمیں مردانگی کیا ہے؟

کیوٹی سی تحریم تمہیں جو اندھیرا اپنی طرف بلا رہا ہے مجھے اس میں چمکتے جگنو دکھائی دے رہے ہیں۔ مجھے اس کے پیچھے سے نکلتا سورج بھی سنائی دے رہا ہے کہ زندگی میں کچھ بھی مستقل نہیں ہو تا۔ رات لمبی ہی سہی سورج بھی اپنی حق تلفی برداشت نہیں کرتا۔ گولڈن گرلز…

Read more

میری نظر میں مردانگی کیا ہے؟

ڈیر رابعہ! میں ایک اینڈوکرنالوجسٹ ہوں۔ اینڈوکرنالوجسٹ میڈیکل سائنس کی وہ شاخ ہے جس میں ہم ہارمون سے متعلق بیماریوں کا علاج کرتے ہیں۔ میڈیکل سائنس، اینڈوکرنالوجی، دنیا کی تاریخ، اس کے مذاہب اور مختلف ممالک کی تہذیبوں کے مطالعے اور مشاہدے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچی ہوں کہ صنف بائنری (دو رخہ) نہیں ہے بلکہ ایک اسپیکٹرم (کثیر جہتی) ہے۔ جس طرح سفید روشنی منشور (پرزم) میں سے گزر کر قوس و قزح کے مختلف رنگوں میں بٹ جاتی ہے بالکل اسی طرح ڈی این اے ( ڈی این اے ) سے لے کر فینوٹائپ تک انسانوں کے خدوخال، جسمانی ساخت یا ان کی صلاحیت کو دو خانوں میں نہیں بانٹا جا سکتا ہے۔

Read more

گولڈن گرلز: مردانگی چند انچوں کا نام نہیں

آپ کو مردوں کی طرف سے سوال موصول ہو رہے ہیں، مجھے اعتراض موصول ہو رہے ہیں۔ ایک محترم ساتھی دو بار میرے گولڈن گرلز کا حصہ بننے پر اعتراض کر چکے ہیں۔ انہوں نے اپنے پہلے اعتراض میں مجھے کہا کہ اپنے لیے بر ڈھونڈو، گولڈن گرل نہ بنو۔ دوسری بار میرے ایک بلاگ پر تبصرہ کیا کہ پہلی بار اچھی لکھاری لگی ہو ورنہ گولڈن گرلز جیسی تحاریر سے تو پراپیگنڈسٹ رائٹر لگتی ہو۔

میں ان کا احترام کرتی ہوں پر وہ میرا احترام نہیں کرتے۔ اگر وہ میرا احترام کرتے تو اتنے سخت جملے نہ کہتے۔ اچھا خاصا لکھتے ہیں۔ یقیناً اپنی بات کو بہتر طریقے سے کہنا اور لکھنا جانتے ہیں۔ آزادی اظہار رائے سب کا حق ہے۔ میں جو چاہے لکھوں۔ میں نے کبھی کسی کے اظہار کے حق پر اعتراض نہیں کیا تو کوئی میرے اظہار کے حق پر اعتراض کیوں کرے؟

Read more

میری نظر میں مردانگی کیا ہے؟ سوالات کے جواب

نسل در نسل سے خواتین کو مکمل انسان نہ سمجھنے اور ان کو ملکیت کی طرح استعمال کرنے کی وجہ سے وہ اس بات پر مجبور کر دی گئیں کہ اپنے باپ، بھائی، شوہر اور پھر بیٹے پر بوجھ بنی رہیں۔ جب خواتین اپنے پیروں پر کھڑی ہوں، ان کی اپنی جاگیر اور ملکیت ہو اور اپنا گھر چلانے کے لیے ان کو کسی سے پیسے مانگنے کی ضرورت نہ پڑے تو پھر وہ اپنی بہو کو ایک مخالف کے طور پر نہیں دیکھیں گی۔ میں نے تو نوید کی ہری آنکھوں والی گرل فرینڈ کے ساتھ کبھی کوئی بدتمیزی نہیں کی۔ہمیشہ اس کو مہنگے تحفے دیے۔ ہمیشہ اس کو اچھی طرح سے پڑھائی کرنے کا مشورہ دیا۔ ظاہر ہے کہ وہ اب میرے خاندان کا حصہ ہے۔ اگر وہ پڑھی لکھی ہو گی، دنیا کے حالات جانتی ہو گی تو اس میں ہمارا اپنا فائدہ نکلتا ہے۔ اپنے بچوں کو کمزور بنا کر ہم خود کو کمزور بناتے ہیں۔ نوید کی پرانی گاڑی بھی اس کو دے دی۔ حالانکہ اس کو بیچ کر چند ہزار ڈالر میں اپنی جیب میں بھی رکھ سکتی تھی۔ ایک دن اس نے مجھے اپنی گاڑی میں لفٹ دی تھی تو میں نے دیکھا کہ اس کی گاڑی کتنی بدحال ہے اور اس کی سائیڈ ٹھکی ہوئی ہے۔

Read more