ڈاکٹر قدیر خان نے کیا راز فاش کر دیا؟


17اگست 1988 کے بعد 12 اکتوبر 1999 کا خوانِ نعمت گیارہ برس کی تشنگی بجھا چکا تھا۔ وزیر اعظم اپنی حکومت سمیت لقمہ تر بن چکا تھا۔ اگلے برس 2000 کے آغاز میں خوئے شکار نے انگڑائی لی تو اعلیٰ عدلیہ کے جج صاحبان کے لئے پی سی او کا ہانکا لگایا گیا۔ چیف جسٹس سعید الزمان صدیقی سمیت متعدد خودسر ججوں کا لہو دلوں کو گرما گیا۔ اب 2001 گزرا جا رہا تھا اور شکار گاہ سونی پڑی تھی۔

میرزا سوداؔ کے الفاظ میں ’’ناوک نے تیرے صید نہ چھوڑا زمانے میں‘‘ والا نقشہ تھا۔ وزیراعظم، کابینہ، پارلیمنٹ، اسمبلیاں،ا سپیکر، چیئرمین سینٹ، آئین، عدلیہ سب خون آلود پروں اور چھلنی جسموں کے ساتھ شکار گاہ میںبکھرے پڑے تھے۔ ایک دن دربار آراستہ تھا۔ نو رتن اسی مسئلے کی گتھیاں سلجھا رہے تھے۔

شریف الدین پیرزادہ نامی بزرگ، کہنہ مشق، تیز نگاہ اور دور بین شکاری نے کہا ’’ میں نے اونچے آشیانے میں ایک ’’مرغ قبلہ نما‘‘ کو دیکھا ہے اس کا شکار بھی کچھ مشکل نہیں‘‘۔ بادشاہ سلامت اور اہل دربار کے دل باغ و بہار ہوگئے۔

میں ان دنوں صدر رفیق تارڑ کے ساتھ بطور پریس سیکرٹری کام کر رہا تھا۔ یہ ایک سرکاری ذمہ داری تو تھی ہی لیکن صدر کی خصوصی شفقت کے طفیل مجھے ان سے گہری قربت کا اعزاز بھی حاصل رہا۔ میرا قیام صدارتی کالونی میں تھا، جہاں سے صدر کی رہائش گاہ تین چار منٹ پیدل فاصلے پر تھی۔ اکثر شام کو وہ بلا لیتے اور سبزہ زار میں نشست جمتی

۔ آج انیس برس بعد پیچھے پلٹ کر دیکھتا ہوں تو یادوں کے غبار سے ایک کارواں سا ابھرتا ہے اور دیر تک گھنٹیاں بجتی رہتی ہیں۔ تماشا گاہ سے دور بیٹھے مورخ یا صحافی کی پرواز تخیل اکثر بکھرے ہوئے واقعات کی قیاسی پیوند کاری تک محدود رہتی ہے۔ ۔۔

Read more

19برس پہلے: اس پراسرار فائل میں کیا تھا؟

صورتحال یہ تھی کہ صدر تارڑ کی فراغت اور ان کے منصب پر قبضے کا حتمی فیصلہ کر لینے کے باوجود چیف ایگزیکٹیو کا کیمپ رسمی طور پر سب اچھا کی خبر دے رہا تھا۔

21 اپریل 2001 کو عمان کے بادشاہ سلطان قابوس کے استقبالیہ گارڈ آف آنر کے لئے جنرل مشرف کچھ لمحے پہلے آ گئے۔ پرنسپل سیکرٹری سعید احمد صدیقی اور میں باہر ہی کھڑے تھے، جنرل صاحب پریس پہ برسنے لگے ’’بھلا یہ کوئی موقع ہے افواہوں کا، یا تو یہ لوگ سمجھتے نہیں یا جان بوجھ کر قومی مفاد کو نظر انداز کرتے ہیں‘‘۔ ان کا اشارہ واضح طور پر صدر تارڑ کی رخصتی کی خبروں کی طرف تھا۔

26 اپریل کو چیف ایگزیکٹیو نے صدر تارڑ کے اعزاز میں اپنے گھر پر فیملی ڈنر کا اہتمام کیا۔ صدر تارڑ محبت کی اس فراوانی پر مسکراتے ہوئے کہنے لگے ’’ساقی نے کچھ ملا نہ دیا ہو شراب میں‘‘۔

عشائیے میں آئی ایس آئی کے ڈی جی جنرل محمود اور چیف ایگزیکٹو کے پرنسپل سیکرٹری طارق عزیز بھی مدعو تھے۔ بہت سی باتیں ہوئیں۔ آرمی ہائوس میں ہونے والے عشائیے میں اسی آرمی ہائوس میں ہونے والی نہایت اہم میٹنگ کا کوئی اشارہ تک نہ تھا۔

صدر کو یہ خاموشی بہت کھٹک رہی تھی۔ دو دن بعد جنرل محمود ایوانِ صدر آئے، مسئلہ جو بھی تھا صدر نے دبے لفظوں میں آئے روز کی افواہوں کا ہلکے پھلکے انداز میں تذکرہ کیا تو جنرل محمود نے انہیں پریس کی ہوائیاں قرار دے کر مسترد کر دیا۔

یہ 2 مئی 2001ء کا ذکر ہے۔ شام کو مجھے معروف خاتون صحافی عروسہ عالم کا فون آیا جو ان دنوں زاہد ملک مرحوم کے انگریزی اخبار پاکستان آبزرور سے وابستہ تھیں۔ پوچھنے لگیں ’’کیا آپ کے علم میں ہے کہ راولپنڈی میں اعلیٰ فوجی قیادت کا ایک اجلاس ہوا ۔۔

Read more

جب صدر رفیق تارڑ نے جرنیلوں کو استعفیٰ دینے سے انکار کیا

فائل میں سجی سمری اور منسلک آرڈیننس کا موضوع صدرِ مملکت کی تنخواہ، پنشن اور مراعات میں خاطر خواہ اضافہ تھا۔ یہ ایک طویل فہرست تھی جس میں درج نہایت ہی اشتہا انگیز مراعات و سہولیات کا تعلق صدرِ مملکت کی فراغت کے بعد سے تھا۔

صدر کا رویہ بے لچک تھا، طارق عزیز سے ملاقات سے قبل انہوں نے ہم سے اس فائل پر بات کرتے ہوئے کہا تھا۔ ان لوگوں نے مجھے گھر بھیجنے کی ٹھان ہی لی ہے تو ان نوازشات کی کیا ضرورت ہے ؟اگر یہ اپنے لئے چاہتے ہیں تو میرے کندھے پر کیوں بندوق رکھتے ہیں ؟

سو انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں طارق عزیز کو بتا دیا کہ اس آرڈیننس کی منظوری نہیں دے سکتا ( منصب سنبھالنے کے کوئی آٹھ ماہ بعد 27فروری 2002ء کو صدر مشرف نے اس کی منظوری دیدی)۔

فائل کا قضیہ تمام ہوا تو صدر تارڑ نے طارق عزیز سے کہا ’’مجھے بھی بہت سی اطلاعات ملتی رہتی ہیں اتنا بے خبر نہیں ہوں اچانک پیٹھ میں خنجر گھونپنا اچھی بات نہیں جو بھی ہے مجھے صاف صاف بتا دیا جائے۔ صدر نے آرمی ہائوس والی میٹنگ کا ذکر بھی کر دیا۔

طارق عزیز کے واپس جاتے ہی چیف ایگزیکٹو آفس میں ہا ہا کارمچ گئی۔ سرِ شام ڈاکٹر قدیر خان دفتر سے گھر جا رہے تھے کہ جنرل غلام احمد کا فون آ گیا۔ گھر پہنچے تو شریف الدین پیرزادہ کی کال آگئی۔

ڈاکٹر صاحب نے جو مناسب سمجھا کہہ دیا لیکن ہونٹوں نکلی کوٹھوں چڑھ چکی تھی۔ طارق عزیز اگلے ہی دن ، 8جون کو وقت لے کر ایک بار پھر صدرتارڑ سے ملنے آ گئے، کہنے لگے ’’میں نے آپ کی تمام باتیں چیف ایگزیکٹیو تک پہنچا دی ہیں، ان کا کہنا ہے کہ صدر صاحب کے ہاں کھانا کھائے بہت دن ہوگئے ،اگر ۔۔

Read more

سید زادی کا کنگن اور واجپائی کی مبارکباد

14جون 2001کو، ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل محمود، ساڑھے آٹھ بجے شب، صدر محمد رفیق تارڑ کی رہائش گاہ پہنچ گئے۔ سلام دعا کے بعد انہوں نے گفتگو وہیں سے شروع کی جہاں گزشتہ شب ٹوٹی تھی۔ ’’سر بےحد ندامت ہے۔ سخت شرمندگی محسوس ہو رہی ہے…‘‘

صدر نے اُنہیں یہیں ٹوک دیا۔ بولے، کل بھی میں یہی سنتا رہا ہوں۔ آج بھی آپ نے آتے ہی شرمندگی کا اظہار شروع کر دیا ہے۔ جب کربلا میں قیامت بپا ہو گئی۔ سادات کے خیمے جلا دیے گئے تو ایک ننھی سید زادی پناہ کی تلاش میں بھاگی جا رہی تھی۔ اس کے پائوں میں سونے یا چاندی کا کنگن تھا۔ ایک کوفی کی نظر پڑی تو جا لیا۔ وہ اونچی آواز میں گریہ و زاری کرتے ہوئے سید زادی کا کنگن اتارنے لگا۔

معصوم شہزادی نے پوچھا ’’بابا رو کیوں رہے ہو‘‘ کوفی نے اور زیادہ اونچی آواز میں روتے ہوئے کہا ’’کیا کروں بی بی نبیﷺ کی آل پر یہ ظلم ہوتے دیکھ کر کلیجہ پھٹ رہا ہے‘‘۔ سید زادی بولی ’’تو پھر میرا کنگن کیوں اتار رہے ہو؟‘‘ کوفی ہچکیاں لیتے ہوئے بولا ’’بی بی میں نے نہ اتارا تو کوئی اور اتار لے گا‘‘۔ جنرل محمود چپ چاپ سنتے رہے۔ تارڑ صاحب کہنے لگے ’’کوفی کے پاس کوئی دلیل تو تھی کہ کنگن کوئی اور اتار لے گا۔ آپ کے پاس وہ بھی نہیں، سو یہ شرمندگی اور ندامت والی باتیں رہنے دیں۔ وہ بتائیں جس کے لئے آئے ہیں‘‘۔

جنرل محمود بولے ’’سر چیف ایگزیکٹیو جنرل پرویز مشرف اگلے بدھ، 20 جون کو صدارت کا منصب سنبھالنا چاہتے ہیں۔ یہ فوجی ہائی کمان کا فیصلہ ہے‘‘۔ سپریم کمانڈر نے اپنی فوجی ہائی کمان کا حکم تحمل سے سنا اور کہا ’’ٹھیک ہے‘‘۔ جنرل نے ایک بار پھر استعفیٰ کا ذکر چھیڑا تو صدر تارڑ ۔۔

Read more

مشرف کی حلف برداری پر جسٹس ارشاد حسن خان نے کیا پھڈا ڈال دیا؟

ایوان صدر ”جمہوریت کی آخری نشانی“ کے آسیب سے پاک کر دیا گیا تو ساری توجہ جنرل پرویز مشرف کی رسم تاج پوشی پر مرکوز ہو گئی۔ میں نے پہلی بار پانچویں منزل پر کتوں کو بھی دیکھا جن کی باگیں اہلکار تھامے ہوئے تھے اور وہ کونوں کھدروں میں لمبی تھوتھنیاں آگے بڑھائے کچھ سونگھتے پھر رہے تھے۔ سیکورٹی کے ایسے سخت انتظامات تھے جیسے آج پہلی بار کوئی صدر اس ایوان میں داخل ہو رہا ہو۔ میں پرنسپل سیکرٹری سعید احمد صدیقی کے کمرے میں جا بیٹھا۔ فیکس پر ایک فرمان موصول ہوا۔ اس کا سرنامہ تھا ”چیف ایگزیکٹیو کا آرڈر نمبر 3 مجریہ 2001 ء“ اس کا اہم ترین حصہ تھا: ”خود کو حاصل تمام تر اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے، اسلامی جمہوریہ پاکستان کا چیف ایگزیکٹیو بصد مسرت و انبساط اس فرمان کا اجرا کرتا ہے کہ کسی بھی وجہ سے صدر مملکت کا عہدہ خالی ہو جانے پر اسلامی جمہوریہ پاکستان کا چیف ایگزیکٹیو، اسلامیہ جمہوریہ پاکستان کا صدر بن جائے گا“ ۔ Read more

’جمہوریت کی آخری نشانی‘ اور آزاد عدلیہ کی ’ضرورت‘ شناس فعالیت

صدر محمد رفیق تارڑ کو ’’جمہوریت کی آخری نشانی‘‘ خود جنرل پرویز مشرف نے قرار دیا تھا۔ ابتدائے عشق کی ایک دو بےتکلف محفلوں میں جنرل صاحب نے صدر تارڑ سے کہا ’’سر صحافیوں کے شوشوں پر نہ جایا کریں۔ آپ ’جمہوریت کی آخری نشانی‘ ہیں۔ آپ کی وجہ سے ہمیں سفارتی محاذ پر بڑی مدد ملتی ہے۔ آپ کو ہم کہیں نہیں جانے دینگے‘‘۔ ایک دن اپنے دو رفقاء کی موجودگی میں جب جنرل مشرف نے تیسری بار صدر تارڑ کو ’’جمہوریت کی آخری نشانی‘‘ قرار دیا تو اُنکی رگِ ظرافت پھڑکی۔

بولے جنرل صاحب! بادشاہ فوت ہو گیا تو اسکا جواں سال شہزادہ تاج و تخت کا مالک ٹھہرا۔ ایک دن بادشاہ نے حکم دیا کہ مجھے جیل خانہ دکھائو۔ ایک پرانا وزیر، جیل کا داروغہ اور متعلقہ عملہ ساتھ ہو لیا۔ جیل کی کھولی کا دروازہ کھلتا، قیدی کا جرم اور سزا کا عرصہ بتایا جاتا۔ بادشاہ حکم دیتا ’’اسے رہا کر دو‘‘۔ یہاں تک کہ جیل خانہ خالی ہو گیا۔ آخری کھولی میں ایک بوڑھا قیدی زنجیروں میں جکڑا، نیم جاں پڑا تھا۔ بادشاہ نے اُسکے بارے میں پوچھا۔ سب ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے۔ آخر بزرگ وزیر بولا۔ ’’جہاں پناہ اسکے جرم کا پتا ہے نہ سزا کا۔ ایک دن آپ کے والد گرامی نے حکم دیا کہ اسے جیل میں ڈال دو تو ڈال دیا‘‘۔ نوجوان بادشاہ نے کہا ’’اسکی زنجیریں کھول دو اور رہا کر دو‘‘ ایسا ہی ہوا۔ قیدی نے سلام کیا۔ وہ گرتا پڑتا آٹھ دس قدم ہی چلا ہوگا کہ بادشاہ نے مڑ کر قیدی کی طرف دیکھا اور بولا ’’اسے پکڑو اور کوٹھڑی میں ڈال دو‘‘ سب قیدی کی طرف لپکے پکڑ جکڑ کر کوٹھڑی کو لے چلے۔ بادشاہ نے آسمان کی طرف نگاہیں اٹھائیں۔ عقیدت و محبت سے سرشار لہجے میں بولا ’’یہ ہمارے والد گرامی خُلد ۔۔

Read more