”بھٹو نے قتل کا منصوبہ بنایا تھا“

آٹھ فروری 1986 ء مس نرگس نے آج کلاس میں کہا ”لڑکیو! تم ڈائری لکھا کرو“ ، انھوں نے ڈائری لکھنے کے بہت سے فائدے بتائے، مجھے فائدوں سے کیا، مس نرگس نے کہہ دیا یہی کافی ہے۔ مجھے اپنے اسکول کی ساری ٹیچرز میں سب سے اچھی وہی لگتی ہیں، بلکہ لگتا ہے ان سے اچھا کوئی ہے ہی نہیں، ہاں بس امی کو چھوڑ کر، اور زہرہ باجی کو بھی۔ مس نرگس مجھے ایک تو اس لیے اچھی لگتی ہیں کہ وہ بہت پیاری سی ہیں۔ بڑی بڑی آنکھیں ریکھا جیسی، گورا رنگ، اور آواز اور لہجہ۔ ۔ ۔ لگتا ہے خالدہ ریاست بول رہی ہے۔ پھر وہ دوسری ٹیچرز کی طرح نہیں کہ بس کتاب میں جو ہے وہی پڑھا دینا، بات بات پر ڈانٹنا، ذرا سی غلطی پر اسکیل سے ہاتھ لال کر دینا۔ مس نرگس تو ہم سے جانے کہاں کہاں کی باتیں کرتی ہیں۔ ۔ ۔ مسکرا مسکرا کر۔ اسی پر تو ان کی شکایت ہو گئی تھی کہ لڑکیوں سے جمہوریت اور بھٹو کے بارے میں باتیں کرتی ہے، اور صدر ضیاء الحق کے خلاف بھی۔ خیر یہ پرانی بات ہے جب میں چھٹی کلاس میں تھی۔ مجھے شکایت والی بات کچھ دنوں پہلے ہی پتا چلی، نویں جماعت میں آنے کے کچھ عرصے بعد۔ Read more

نوشابہ کی ڈائری: اب راج کرے گا مہاجر

ہاں بھئی ڈائری، کیسی ہو۔ معاف کرنا اتنے دن بعد تم سے ملاقات ہو رہی ہے۔ کراچی سے چھوٹی خالہ آ گئی تھیں اپنی دونوں بیٹیوں کے ساتھ۔ بس پھر پورے دس دن ہلاگلا کرنے اور باتوں میں گزر گئے۔ شائستہ اور شگفتہ کی یہ بات مجھے بہت بری لگتی ہے کہ اتنی خاطرداری کرو، گھماؤ پھراؤ، پھر بھی کہتی ہیں ”تمھارے میرپورخاص میں کچھ ہے ہی نہیں، بوریت ہو رہی ہے۔“ پھر ہمارے شہر کا مذاق اڑائیں گی، ہماری بول چال، لوگوں کا مذاق اڑائیں گی۔

یہ کوئی بات ہوئی۔ ان کراچی والوں کا یہی ہے۔ ہم میرپورخاص، حیدرآباد، سکھر والوں کو اپنے سے کم تر سمجھتے ہیں۔ اور یہاں کے لوگ کتنے فخر اور اپنائیت سے کراچی کا ذکر کرتے ہیں، جیسے کوئی مقدس مقام ہو۔ پچھلی بار شاید کوئی تین سال پہلے آئی تھیں۔ ہم لوگ انھیں فروٹ فارم لے کر گئے تھے۔ تصویرمحل سنیما میں فلم بھی دکھائی تھی، ”خوب صورت“ ، ندیم اور شبنم کی۔ پہلے کتنا فلمیں دیکھنے جاتے تھے، ہر پانچ چھے مہینے بعد۔

”بندش“ ، ”منزل“ ، ”حیدرعلی“ ، ”سسرال“ ․․․کتنی ساری فلمیں دیکھیں، کوئی تصویرمحل میں دیکھی، کوئی ”فردوس“ میں کوئی ”پاشا“ میں۔ کتنا مزا آتا تھا۔ ویٹنگ روم میں شو شروع ہونے کا انتظار، پھر ہال کے اندھیرے میں اپنے نمبر کی کرسی تلاش کرکے بیٹھنا، اتنی بڑی اسکرین، ”ٹھنڈی بوتل، ٹھنڈی بوتل“ کی آوازیں، ہمارے سب گھر والے کوکاکولا پیتے تھے، مجھے ”آر سی“ پسند تھی۔ اب تو ان سنیما گھروں کو بس باہر سے دیکھتے ہیں۔

کوئی اچھی فلم آہی نہیں رہی۔ کبھی کبھی بھائی جان وی سی آر کرائے پر لے آتے ہیں تو ایک ہی رات میں کئی فلمیں دیکھ لیتے ہیں، آخری فلم تو سوتے جاگتے ہوئے ہی دیکھتے ہیں۔ جب بھی ایسا ہوتا ہے بھائی جان بے چارے ساری رات وی سی آر کے ۔۔

Read more

ہماری منیا کو دیکھے ہو؟

آج دہلی سے بڑے ابو کے بیٹے کا خط آیا۔ لکھا تھا بڑے ابو کا انتقال ہوگیا۔ ایک ہفتے پہلے جو خط آیا تھا اس میں ان کے شدید بیمار ہونے کا بتایا گیا تھا، مگر وہ خط بہت دیر سے ملا تھا، بھیجے جانے کے مہینہ بھر بعد۔ ابو نے فوراً انڈیا جانے کی ٹھان لی تھی، تیاری بھی شروع کردی تھی اور آج یہ خط آ گیا۔ میں نے پہلی بار ابو کو روتے دیکھا۔ خط ہاتھ میں پکڑے دیر تک روتے رہے۔ کہہ رہے تھے بھیا نے کتنی بار بلایا کہ آکر چہرہ دکھا جاؤ مگر میں نہ جاسکا۔ ابو سرکاری نوکری کی وجہ سے جا ہی نہیں سکتے تھے، اب ریٹائر ہوئے ہیں تو جا سکتے ہیں۔ آج سارا گھر دکھی تھا۔ محلے والے تعزیت کے لیے آتے رہے۔ ہم بہن بھائی بس ابو کی وجہ سے غم زدہ تھے۔ بڑے ابو کو تو ہم نے کبھی دیکھا تک نہیں۔

ارے ہاں، باجی کا رشتہ آیا تھا، شاہ ولی اللہ اسکول میں ماسٹر عزیز شیخ صاحب ہیں نا ان کے بیٹے شکیل کا۔ شکیل بھائی بینک میں کیشیئر ہیں۔ پہلے یہ لوگ ہمارے ہی محلے میں رہتے تھے روز کا آناجانا تھا۔ اب سیٹیلائٹ ٹاؤن چلے گئے ہیں۔ مجھے یاد ہے امی کو جب بھی ضرورت پڑتی مجھے ان کے ہاں پیسے لینے بھیج دیتیں۔ انھوں نے کبھی انکار نہیں کیا۔ امی ہمیشہ کہتی ہیں بڑے اچھے بہت شریف لوگ ہیں۔

مجھے تو جیسے ہی پتا چلا باجی کو چھیڑنا شروع کر دیا کہ باجی چلو تمھارا بینک میں کھاتا کھل گیا۔ امی نے سنا تو ہنسنے لگیں پھر بولیں، چل میں اپنی بیٹی کی شادی جولاہوں میں تھوڑی کروں گی۔ ابو نے سنا تو ”ہنہ سالے جولاہے“ کہہ کر بات ختم کردی۔ کہنے لگے ”یہاں تو اشراف اور اجلاف کا فرق ہی ختم ہوگیا ہے۔ ۔۔

Read more

مس مارگریٹ نعت پڑھتیں تو لگتا پکی مسلمان ہیں

نوشابہ کی ڈائری

بڑی خالہ کراچی چلی گئیں۔ انھیں جانا ہی تھا۔ خالو کے ریلوے سے ریٹائر ہونے کے بعد وہ لوگ اور کتنے دن سرکاری مکان میں رہتے۔ پھر شہاب بھائی کی ملازمت بھی تو کراچی میں ہے۔ خالہ کتنے دکھ کے ساتھ کہہ رہی تھیں ”دلی چھٹنے کے بعد یہاں آئے، کس مشکل سے دل لگا، اور اب یہ شہر اپنا ہوگیا تو کراچی جانا پڑ رہا ہے۔“ بڑی خالہ امی سے یہ بھی کہہ رہی تھیں کہ ”کیا کریں! لڑکیوں کے رشتے اور لڑکوں کی نوکری سب کراچی میں ہیں۔

یہاں نہ اچھے خاندان نہ ڈھنگ کی نوکری۔“ شہاب بھائی کی نوکری تو کراچی می ہوگئی اب اللہ کرے شاہانہ باجی کی شادی بھی وہاں جاکر ہو جائے، وہ تو باجی سے بھی بڑی ہیں۔ کراچی تو ہمیں بھی چلے جانا ہے۔ امی ابو یہی کہتے ہیں کہ سارے رشتے دار وہاں پر ہیں۔ شہاب بھائی تو چلتے چلتے بھی کہہ گئے، ”خالوجان! مہاجروں کے لیے کراچی ہی محفوظ ہے یہاں تو پتا نہیں کب کیا ہو جائے۔“ ابو نے جواب دیا تھا، ”بیٹا! دعا ہے کہ کم ازکم کراچی میں مہاجر حفاظت سے رہیں۔

مجھے تو وہ منظر اب تک یاد ہے جب ایوب خان کا بیٹا جلوس کے ساتھ کراچی والوں کو سزا دینے نکلا تھا، فاطمہ جناح کو ووٹ دینے کی سزا۔“ آپ اس دن وہیں تھے؟ ”،“ کیا ہوا تھا ابو ”شہاب بھائی اور میں نے ایک سات سوال کیے تھے۔ ابو بتانے لگے“ میں لالوکھیت میں ماموں کے گھر بیٹھا تھا۔ فاطمہ جناح کی ایوب خان سے شکست پر ہم سب افسردہ تھے۔ دروازہ کھلا ہوا تھا، فراٹے دار ہوا آ رہی تھی۔ اچانک شور ہوا، گلی میں لوگ بدحواسی کی حالت میں بھاگ رہے تھے۔

ماموں نے پوچھا کیا ہوا ہے تو ایک شخص نے بھاگتے بھاگتے چلا کر کہا حملہ ۔۔

Read more

نوشابہ کی ڈائری: مشرقی پاکستان اور کنفیڈریشن کا ذکر

دل کی عجیب حالت ہے، خوش بھی افسردہ بھی۔ باجی جو شادی ہوکر حیدرآباد جارہی ہیں۔ مجھے سمجھا رہی تھیں ”ارے یہ تو رہا حیدرآباد، جب ملنے کو دل چاہے امی کے ساتھ صبح آنا شام کو واپس چلی جانا۔“ کتنا بھی قریب ہو ہے تو دوسرا شہر نا، پھر ہمارے گھر میں ٹیلی فون بھی نہیں کہ جب بات کرنے کو دل کیا فون ملالیا۔ چھوٹی خالہ کے ہاں فون ہے، کتنا مزا آتا ہے رانگ نمبر ملاکر بات کرنے میں۔ ہم لوگ جب کراچی جاتے ہیں تو میں، شائستہ اور شگفتہ رات کو یہ سب کرتی ہیں جب خالہ خالو سوجاتے ہیں۔ ہمیں بھی کراچی میں جا بسنا ہے، وہاں سے حیدرآباد جانا ہوا کرے گا۔ ابو بس میرے میٹرک کرنے کا انتظار کر رہے ہیں، پھر ہم چلے جائیں گے۔ میں دسویں میں آہی گئی ہوں، بس امتحان ہوئے اور ہماری روانگی۔

اگلے مہینے باجی چلی جائیں گی تو گھر کا سارا کام مجھے کرنا پڑے گا۔ اب بھی کتنے دن ہو جاتے ہیں ڈائری لکھنے میں، تین مہینے بعد لکھ رہی ہوں، باجی کے جانے کے بعد تو گھر کے کام، پڑھائی، مگر لکھتی رہوں گی جب بھی وقت ملا۔ مس نرگس نے کہا تھا اپنی پرانی ڈائری پڑھنے میں بڑا مزا آتا ہے، واقعی، ابھی میں نے چند صفحے ہی لکھے ہیں لیکن انھیں پڑھتی ہوں تو اچھا لگتا ہے۔

آخر سعید کا خط آہی گیا، میں جواب نہیں دوں گی، چلو دوں گی تو مگر بہت انتظار کروا کے۔ موصوف ”مہاجر قوم“ کے غم میں ہلکان ہیں۔ پورا خط انھی باتوں سے بھرا ہے۔ ایک ہفتے سے تھے کراچی میں، جلسے کی تیاریوں میں مصروف تھے۔ مہاجرقومی موومنٹ کا جلسہ جو کراچی میں ہوا ہے، بہت بڑا جلسہ تھا۔ سعید نے لکھا ہے کہ ”پورا نشتر پارک بھرا ہوا تھا، بارش ہوئی مگر سب ۔۔

Read more

نوشابہ کی ڈائری: ٹی وی فریج بیچ کر اسلحہ خریدنا ہوگا 28 دسمبر 1986

اتنے دنوں میں جانے کیا کچھ ہوگیا، سب سے بڑا واقعہ تو باجی کی شادی ہے۔ باجی کے پیادیس جانے کا افسوس تو تھا لیکن مزہ بہت آیا۔ شادی تک کئی دس بارہ دن پورا خاندان ہمارے گھر پر تھا۔ پھر محلے کی عورتیں لڑکیاں، میلہ لگا تھا گھر پر، روز ڈھول بج رہا ہے گانے ہورہے ہیں، پھر مہندی اور ابٹن۔ ہم گا بجا اور رسمیں کر رہے ہوتے اور خاندان کے بزرگ کمرے میں بیٹھے باتیں بنا رہے ہوتے ”ارے یہ سب فاطمہ ثریا بجیا کی مہربانی ہے، اپنے ڈراموں کے ذریعے ان ساری خرافات کو زندہ کر دیا ورنہ یہ ہندوانہ رسمیں ختم ہوچکی تھیں۔“ ابو، چھوٹے ماموں، بڑے ابو سب کے سب سارا الزام بے چاری معصوم سی بجیا پر دھر رہے تھے، لیکن شکر ہے کسی نے منع نہیں کیا ورنہ سارا مزہ کرکرا ہوجاتا۔

اب نہ باجی ہیں نہ بھائی جان، گھر میں بس میں امی اور ابو۔ جب سے پٹھان مہاجر فسادات شروع ہوئے ہیں امی بھائی جان کے لیے بہت پریشان رہتی ہیں۔ بھائی جان تو شہاب بھائی کے ساتھ اکتیس اکتوبر والے جلسے میں بھی حیدرآباد گئے تھے، وہاں سے دونوں یہاں آگئے تھے۔ جب انھوں نے بتایا کہ جن بسوں پر سہراب گوٹھ پر فائرنگ ہوئی ان میں سے ایک پر وہ بھی تھے، تو میری اور امی کی تو جان ہی نکل گئی۔ امی نے دونوں کو ڈانٹا اور فوراً شکرانے کی نماز ادا کی۔

شہاب بھائی کہہ رہے تھے ”خالہ! الطاف بھائی صحیح کہتے ہیں، مہاجروں کو ٹی وی فریج بیچ کر اسلحہ خریدنا ہوگا، دیکھیں کیا ہوا ہمارے ساتھ۔“ شہاب بھائی اور بھائی جان رات کو بیٹھے یہی باتیں کرتے رہے، ”ٹی ٹی کتنے تک کی آ جائے گی، ماؤزر کتنے میں پڑے گا، کلاشنکوف لیں یا چھوٹا سامان۔“ اب تو مجھے بھی ان ہتھیاروں کے نام ۔۔

Read more

نوشابہ کی ڈائری: کیا ہر وقت دہلی کی باتیں، چھوڑیں نہ یہ دہلی دہلی


20 مئی 1987

ڈائری! شکر ہے تم مل گئیں۔ تم کھو گئی تھیں تو تمھارے کھونے کے افسوس کے ساتھ یہ ڈر بھی تھا کہ کسی کے ہاتھ نہ لگ جاؤ۔ جانے کیا کچھ کھوگیا، وہ گھر جہاں بچپن گزرا، شہر، محلہ، اسکول، سہیلیاں، مس نرگس، زہرہ باجی۔ ہجرت کرنے میں یہ سب تو ہوتا ہے۔ میں جو کچھ ساتھ لے کر چلی تھی اس میں سب سے قیمتی تم ہو، اور یہاں پہنچ کر ڈھونڈا تو تم غائب۔ میرپورخاص سے جانے کتنی بار کراچی آنا ہوا مگر اس بار دل کٹے جا رہا تھا آنکھیں پونچھ پونچھ کر گزرتے منظر دیکھتی رہی۔

شاہی بازار، گاما اسٹیڈیم، سڑک کنارے وہ پھولوں سے لدا چھوٹا سا مزار، حیدرآباد کو جاتی سڑک پر بچھے پیڑوں کے سائے، لدی پھندی شاخیں زمین پر ڈالے دور تک پھیلے آم کے باغ۔ پتا تھا میرے میٹرک کا امتحان دیتے ہی کراچی جانا ہے مگر یہ نہیں سوچا تھا کہ اتنا دکھ ہوگا۔ امی ابو کے منہ سے دلی چھٹنے کا ذکر سنا بہت سمجھ میں اب آیا۔

ملیر بھی کچھ کچھ میرپورخاص جیسا لگتا ہے۔ لیاقت مارکیٹ سے ملیر سٹی تک چلنے والے تانگے دیکھ کر تو لگتا ہے جیسے میں میرپورخاص ہی میں ہوں۔ جس طرح مجھے ملیر میرپورخاص جیسا لگتا ہے اسی طرح انیس کو یہ خیرپور جیسا لگتا ہے۔ انیس لوگ ہم سے کچھ پہلے ہی کراچی آئے ہیں۔ پوری کلاس میں میرے اور انیس سمیت چار لڑکیاں اندرون سندھ کی ہیں۔ اس لیے ہم چاروں کی بہت اچھی دوستی ہوگئی ہے۔ میں اور انیس میرپورخاص اور خیرپور کو یاد کریں تو کراچی کی لڑکیاں ہمارا مذاق اڑاتی ہیں، کہتی ہیں ”کراچی میں آ گئیں اب بھول بھی جاؤ میرپورخاص اور خیرپور، کب تک اپنے شہروں کی رٹ لگائے رکھو گی۔

“ میں، بھائی جان اور باجی بھی امی اور ابو سے ۔۔

Read more

نوشابہ کی ڈائری ( 8 ) ”آئندہ الطاف بھائی کے خلاف ایک لفظ بھی نہیں بولیے گا“

۔7 اگست 1987 اف کتنے خوف ناک لمحات تھے۔ سوچتی ہوں تو لرز جاتی ہوں۔ دھماکے کی اطلاع ملی تو ابو صدر ہی گئے ہوئے تھے، اپنی دکان کے لیے سامان لینے۔ رضیہ بھابھی کوئی چیز مانگنے آئی تھیں تو انھوں نے بتایا صدر میں دھماکا ہوا ہے۔ میرے اور امی کے تو پیروں سے زمین نکل گئی تھی۔ میں رونا شروع ہو گئی اور امی جائے نماز پر بیٹھ گئی تھیں۔ ابو جب گھر آئے تو جان میں جان آئی۔ امی نے فوراً صدقہ دیا۔ کتنا خوف ناک دھماکا تھا دو سو سے زیادہ زندگیاں ایک لمحے میں ختم ہو گئیں۔ ضیا الحق نے تو دھماکے کا ذمے دار افغانستان کے ایجنٹوں کو قرار دے دیا اللہ اللہ خیر صلا۔ یہ آدمی تو اب مجھے بہت برا لگنے لگا ہے۔ اقتدار چھوڑ ہی نہیں رہا۔ بے چاری بے نظیر کو پکڑ کر جیل میں ڈال دیا تھا۔ بہت کچھ پڑھنے اور جاننے کے بعد احساس ہوا ہے کہ جنرل ضیا کے بارے میں میری سوچ غلط تھی۔ لوگ کہہ رہے ہیں دھماکا الذوالفقار نے کیا ہے۔ ہو سکتا ہے، وہ طیارہ اغوا کر سکتے ہیں تو دھماکا بھی کر سکتے ہیں۔ ظہور الحسن بھوپالی کو بھی الذوالفقار والوں ہی نے شہید کیا تھا۔ Read more

نوشابہ کی ڈائری: وہ کسی اسامہ نام کے مجاہد سے بہت متاثر ہوا


10 فروری 1988

بھابھی کے آنے سے میں خوش ہوئی تھی کہ باجی کی کمی پوری ہوگی مگر یہاں تو کچھ اور ہی کھچڑی پک رہی ہے۔ امی کبھی پڑوسن، کبھی کسی جاننے والی اور کبھی خالہ اور ممانی سے باتیں کرتے ہوئے اپنے نزدیک بڑے دھیرے سے کہہ چکی ہیں ”نوشابہ کے لیے کوئی ہو تو بتائیے گا۔“ اس ”کوئی ہو تو“ کا مطلب مجھے اچھی طرح پتا ہے۔ پچھلے جمعے کی شام جب کہا تھا ”ذرا تیار ہوجاؤ کچھ لوگ آرہے ہیں“ تب بھی میں سمجھ گئی تھی کہ یہ کچھ لوگ کیوں آرہے ہیں۔ آتا رہے جسے آنا ہے میں تو بی اے کرنے سے پہلے شادی نہیں کرنے والی۔ چار خواتین تھیں پورے بارہ کے بارہ سموسے کھا گئیں میرے لیے ایک بھی نہیں بچا۔ بعد میں امی نے بتایا کہ ہمارے حلقے کے کونسلر کی والدہ اور بہنیں تھیں۔ واہ بھئی ننھے میاں کی شادی ہوئی نہیں اور کونسلر بن گئے۔

ایک یہ کیا ایم کیوایم کے زیادہ تر کونسلر انھی کی عمر کے ہیں۔ اور تو اور میئر ڈاکٹرفاروق ستار صرف اٹھائیس سال کے ہیں، دنیا کے کم عمرترین میئر۔ کسی نے بھی نہیں سوچا تھا کہ بلدیاتی انتخابات میں ایم کیوایم اتنی زبردست کام یابی حاصل کرے گی۔ جب پتا چلا کہ شہاب بھائی کو بھی ٹکٹ ملا ہے میں نے کہا تھا ”شہاب بھائی! اس سے اچھا تھا آپ ایم کیوایم سے ٹرین کا ٹکٹ لے کر کہیں گھوم آتے اس ٹکٹ کا تو کوئی فائدہ نہیں۔“ یہ سن کر میں حیران رہ گئی کہ وہ نہ صرف جیتے ہیں بلکہ کئی ہزار ووٹوں کے فرق سے جیتے ہیں۔

ہمارے ابو کو دیکھو ایم کیوایم پر تنقید کرتے رہتے تھے کہ مہاجروں کو اس سے لڑا دیا اس سے لڑا دیا اور جب میں نے پوچھا ابو کسے ووٹ دیا تو جھینپے ۔۔

Read more

نوشابہ کی ڈائری: ڈر تھا کہ حیدرچوک کے مسئلے پر کوئی ہنگامہ نہ ہو جائے


27 اگست 1988

کتنے دنوں بعد ٹرین کا سفر کیا۔ میرپورخاص جا کر بیتے دن یاد آگئے۔ کب سے بھائی جان سے کہہ رہی تھی لے چلیں ہمیشہ ٹال دیتے تھے۔ زہرہ باجی کی شادی کا کارڈ نہ آتا اور امی چلنے کو نہ کہتیں تو اب بھی ٹالتے رہتے۔ یہ سن کر تو میں خوشی سے نہال ہوگئی کہ زہرہ باجی بیاہ کر کراچی آ رہی ہیں۔ مگر ان کا سسرال کتنی دور ہے رضویہ سوسائٹی میں، چلو شہر تو ایک ہی ہے نا۔ زہرہ باجی کی قسمت کتنی اچھی ہے، شوہر ڈاکٹر اور پھر اتنا اسمارٹ، خیر ہماری زہرہ باجی بھی کسی سے کم ہیں کیا۔

اچھا ہوا سفیان کی سال گرہ بھی انھی دنوں میں تھی تو واپسی پر باجی کے ہاں بھی چلے گئی۔ سفیان کتنا پیارا لگ رہا تھا چوڑی دار پاجامہ کرتا اور شیروانی میں جیسے ننھا منا سا دولہا۔ شکر ہے سال گرہ خیریت سے ہو گئی ورنہ سب ڈر رہے تھے کہ حیدرچوک کے مسئلے کی وجہ سے کوئی ہنگامہ نہ ہو جائے۔ امی اور بھائی جان کی ساس منع کرتی رہ گئیں مگر غنی بھائی مجھے اور بھابھی کو حیدرچوک دکھانے لے گئے۔ دور سے دیکھا مگر وہاں لکھا ”مہاجرچوک“ اور سرسید، لیاقت علی خان، مولانا محمد علی جوہر اور ٹیپوسلطان شہید کی تصویریں صاف نظر آ رہی تھیں۔

وہاں کھڑی میں سوچ رہی تھی سرسید، لیاقت علی، مولاناجوہر، حسرت موہانی، ٹیپو سلطان یہ تو ہم سارے پاکستانیوں کے سانجھے ہیرو ہیں، انھوں نے جو بھی جدوجہد کی صرف اردو بولنے والوں کے لیے تو نہیں تھی، پھر ایم کیوایم والے انھیں صرف مہاجروں کا ہیرو کیوں کہتے ہیں، یہ صرف ہمارے کیوں رہ گئے؟ اردو کے ساتھ بھی تو یہی ہوا۔ پورے ہندوستان کی زبان تھی ورنہ کرشن چندر اور پریم چند اردو میں افسانے کیوں لکھتے! پھر یہ مسلمان ۔۔

Read more