کامیاب نیوز چینل کے اجزا، ترکیبِ استعمال و ہدایت نامہ


nasreen ghoriناظرین، اوہ سوری قارئین کیسے ہیں آپ، امید ہے کہ ہمارے گزشتہ بلاگز سے آپ کو خاطر خواہ افاقہ ہوا ہوگا۔ تو حاضرین، آج ہم آپ کو سکھائیں گے کہ ایک نیا نیوز چینل کیسے کھولا جاسکتا ہے، اس کی کامیابی کے لیے کیا اجزاء درکار ہوں گے، انہیں کس ترتیب سے استعمال کرنا ہے اور کیسے استعمال کرنا ہے۔ کہ آپ ایک تازہ ترین کامیاب نیوز چینل کے بانی بن کر معاشرے میں مزید فساد برپا کرسکیں، عوام کو ہائی بلڈ پریشر کا مریض بنا سکیں اور ڈاکٹروں کی آمدنی میں اضافے کا باعث بن سکیں، کیونکہ خدمت خلق عین عبادت ہے۔ تو نوٹ کیجئے:

چار عدد نیوز ریڈر:

دو مرد، دو خواتین جو نوجوان لڑکیاں ہوں تو زیادہ بہتر ہے۔ یہ چاروں سانس پھول جانے کی حد تک انتہائی اونچی آواز میں بغیر کسی بریک کے مسلسل بریکنگ نیوز پڑھ سکیں۔ انداز ایسا ہونا چاہیے کہ لگے ابھی اسکرین توڑ کر باہر نکل آئیں گے اور ناظرین کا کاندھا ہلا ہلا کر ان کے کان میں بریکنگ نیوز انڈیل دیں گے۔ خبریں پڑھنے کے درمیان سانس لینا منع ہے۔

بریکنگ نیوز کسی بھی نیوز چینل کی کامیابی کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ تو یاد رہے کہ خواہ آپ کوئی خبر سب سے آخر میں ہی کیوں نہ نشر کر رہے ہوں، ناظرین کو یہ بتانا نہ بھولیں کہ یہ خبر سب سے پہلے آپ نے بریک کی تھی۔ ناظرین کو کونسا یاد رہنا ہے کہ سب سے پہلے یہ خبر کس چینل پر نظر آئی تھی۔ وہ تو خود اس واحد بریکنگ نیوز سے جو ہر چینل پر اس کا پیچھا کر رہی ہوتی ہے، جان بچانے کے لیے چینل بدلنے کی مشق میں مصروف ہوتے ہیں۔ یہ تو آپ کو بتانے کی ضرورت نہیں ہوگی کہ بریکنگ نیوز کا مطلب ہے خبر کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا۔

ایک ساتھ ہی پوری خبر نہ بریک کردیں، “سہج پکے سو میٹھا ہو” اس لیے صبر سے، رک رک کر تھوڑی تھوڑی کر کے مطلب بریک کر کر کے نیوز بریک کریں۔ جیسے کہ کوئی مشہور ماڈل جب اپنے گھر سے عدالت جانے کے لیے روانہ ہو تو کوشش کریں کہ بالکل ابتدا سے خبر بریک کرنی شروع کریں، مثلاً ان کے بستر سے اٹھنے سے اسٹارٹ لیں کہ ناظرین مشہور ماڈل عدالت میں پیش ہونے کے لیے جاگ گئی ہیں۔ اگر ضرورت پڑے تو ماڈل کے گھر میں نقب لگانے سے بھی پرہیز نہ کریں، پڑوسیوں کی چھتوں پر اپنے کیمرہ مین چڑھا دیں، کوئی موقع جانے نہ دیں۔ کیونکہ آپ نے جہاں کہیں گنجائش چھوڑی، مخالف چینل والا وہیں سے وار کرے گا اور بریکنگ نیوز لے اڑے گا۔

پھر ان کے گاڑی میں بیٹھنے سے لے کر عدالت جانے اور واپس گھر پہنچ جانے تک ہر ہر جائز اور ناجائز زاوئیے سے ان کی فوٹیج لینے کی کوشش کریں اور درجہ بدرجہ اپنے چینل پر انڈیلتے جائیں۔ یاد رہے میڈیا کوریج میں اخلاقیات نامی کوئی چڑیا نہیں ہوتی جو آپ کے سامنے پر بھی مار سکے، یاد نہیں جب ماڈل جیل سے رہا ہوئی تھی تو کیسے نمبر ون نیوز چینل کے رپورٹر نے اس کا باقاعدہ عدالت سے گھر تک کار میں پیچھا کیا تھا یہاں تک کے ماڈل کا ڈرائیور نیوز چینل کے رپورٹر کو جل دے کر گاڑی و ماڈل سمیت کہیں غائب ہوگیا تھا۔

کیونکہ میڈیا کوریج میں کسی قسم کی اخلاقیات کا گزر نہیں ہوتا تو بے شرمی کی آخری حدوں تک ہٹ دھرمی کے ساتھ کسی بھی واقعے کی موبائل ویڈیو جو بھیجنے والے نے بھی ہر چینل کو ہی واٹس ایپ کردی تھی، اس پر اپنا لوگو واٹر مارک کر کے “ایکسکلوسیو” ویڈیو کے نام سے اپنے چینل پر چلا دیں۔ آخر دوسرے چینل بھی تو یہی کر رہے ہیں۔ اب یہ ویڈیو اتنی بار چلائیں کہ لوگ بور ہوکر ٹی وی بند کردیں یا پھر کسی نام نہاد پاکستانی ڈرامہ چینل سے انڈین سوپ دیکھنا شروع کردیں۔ بریکنگ نیوز سے اگر وقت بچ جائے تو دیگر غیر ضروری خبریں بھی عوام کو سنا دیں ۔

ہر شہر میں ایک رپورٹر: 

جس کا کام کسی بھی واقعے کے بعد متاثرہ شخص سے یہ معلوم کرنا ہوگا کہ “آپ کیسا محسوس کر رہے ہیں”۔ اس کے علاوہ اس رپورٹر کی دوسری ذمہ داری پولیس کو انٹرویو میں الجھا کر تفتیش کرنے سے حتی الامکان روکے رکھنا ہے یہاں تک کہ آپ کے رپورٹر سے فارغ ہونے کے فوراً بعد کسی اور چینل کا نمائندہ اسے پھڑ لے، اور پھر یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہے۔

اینکر برائے ریسلنگ پروگرام :

ہر نیوز چینل پر روز شام ٹاپ فور سیاسی جماعتوں کے رہنماوں کے درمیان ریسلنگ کا مقابلہ پابندی سے پیش ہوتا ہے۔ اس کے لیے آپ کو چاہیے ہوگی ایک عدد خاتون اینکر۔ کوئی پٹاخہ قسم کی نوجوان خاتون ہوں تو زیادہ بہتر ہے، لیکن نیوز ریڈر کی نسبت ذرا سینئر لگنی چاہیے۔ کیونکہ آپ ایک نیا چینل کھول رہے ہیں تو زیادہ توجہ اور اشتہار حاصل کرنے کے لیے خاتون اینکر زیادہ فائدہ مند ہوتی ہے۔

اس اینکر کا کام روز شام کو چار عدد متحارب سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو ایک میز پر جمع کرنا اور ان کے درمیان روز پیش آنے والے کسی سیاسی تنازع پر ایک آگ لگانے والا سوال اس طرح پیش کرنا ہوگا کہ چاروں افراد ایک ساتھ اپنی اپنی سنانا شروع کردیں۔ اس جنگ میں معرکہ وہ جیتے گا جو سب سے زیادہ اونچی آواز میں ریکارڈنگ کروا سکے گا۔ اینکر کو خاص ہدایت دیں کہ اگر کوئی آف ٹریک ہونے لگے تو اسے گھیر گھار کر اسی مدعے پر لانا بھی اسی کی ذمہ داری ہوگی۔ حلق پھاڑ پھاڑ کر چلانے کے انداز میں بولنا ایک اضافی خوبی ہوگی۔ ورنہ پروگرام کے شرکاء کی آوازوں میں اینکر کی آواز کوئی نہیں سن پائے گا۔

ایک عدد جرائم رپورٹر:

مشہور بھارتی چینل کے مقبول پروگرام “سی آئی ڈی” کے چربے پر مشتمل ایک عدد جرائم انویسٹی گیشن پروگرام ہر نیوز چینل کا خاصہ ہے، جس کے بغیر نیوز چینل ادھورا ہے۔ اس پروگرام میں مختلف قسم کے جرائم کی داستانوں کو تفصیل سے پیش کیا جاتا ہے۔ کہ کس طرح مجرم اغوا، ڈکیتی، راہزنی کی وارداتیں پلان کرتے ہیں، پھر ان پر عمل درآمد کرتے ہیں اور کن خامیوں کی بنا پر پکڑے جاتے ہیں۔ جرائم رپورٹر شکل سے خود بھی مجرم لگتا ہو تو پروگرام زیادہ پر اثر ہوتا ہے۔ اس رپورٹر اور پروگرام کا کام جرائم کی تفتیش اس طریقے سے پیش کرنا ہے کہ بے روزگار نوجوان دھوکہ دہی اور لوٹ مار کے نئے نئے طریقے سیکھ کر برسر روزگار ہو سکیں اور مجرم با آسانی سمجھ سکیں کہ کن غلطیوں کی بنا پر وہ پولیس کی پکڑ میں آسکتے ہیں، لہٰذہ آئندہ ایسی غلطیاں نہ کریں۔

اینکر کو خاص ہدایت دیں کہ کسی بھی قتل، ریپ یا خودکشی کے واقعے کی تحقیقات کے سلسلے میں پولیس پر بالکل بھی بھروسہ نہ کرے۔ اپنی تحقیقات خود کرے، واقعے میں ملوث و متعلق ہر شخص سے انٹرویو کرے، ان سے اس ضمن میں وہ وہ ثبوت مانگے جن کے بارے میں دریافت کرنا صرف اور صرف تفتیشی اور تحقیقاتی اداروں کا حق ہے۔ کیا ہوا جو آپ کے رپورٹر کے پاس ثبوت مانگنے کا کوئی اخلاقی اور قانونی جواز نہیں۔ اس سے یہ سوال کوئی بھی نہیں کرے گا، الیکٹرانک مافیا، معاف کیجئے گا میڈیا کی طاقت سے سب ڈرتے ہیں۔ کوئی نہیں چاہتا کہ اس کی عزت چینل چینل اچھالی جائے۔

ریپ کے کیس میں متاثرہ خاتون کے علاوہ اس کے ہر رشتہ دار اور پڑوسی کا انٹرویو تفصیل سے نشر کریں۔ بس ایک خاتون کی شناخت سے پرہیز کریں، اب اس کے رشتہ داروں یا پڑوسیوں سے کوئی خاتون کو پہچان لے تو یہ اس کی اپنی ذہانت۔

فالتو وقت میں یہی جرائم رپورٹر شہر کے ریسٹورنٹ، پرائیوٹ ہسپتال، میڈیکل پریکٹشنرز و بیوٹی پارلرز کو بلیک میل کرنے کے بھی کام آئے گا۔ ہاں البتہ پراپرٹی اور چائنا کٹنگ والوں سے ہوشیار رہیں۔ یہ لوگ خطرناک ہوتے ہیں۔ بندہ صاف کروا دیتے ہیں، پھر تاریخ پہ تاریخ پڑتی رہتی ہے بس۔

 بھانڈ پروگرام:

آپ اسے میگزین پروگرام بھی کہہ سکتےہیں۔ ایک بھانڈ پروگرام کے بغیر نیوز چینل کا چلنا ناممکن ہے۔

بھانڈ پروگرام کے اجزا: ایک اینکر جو مرد ہو، بہتر ہے کہ کوئی صحافی نما چیز ہو، لیکن کوئی ایسا مقبول ٹی وی ہیرو جو اب اوور ایج ہوچکا ہو اور دانشوری کی حدوں میں داخل ہورہا ہو وہ بھی چلے گا۔ ایک یا دو گلوکار یا ابھرتا ہوا کوئی میوزیکل بینڈ، جسے اور کوئی سننے کو تیار نہ ہوتا ہو، ایک عدد چھمک چھلو ٹائپ کی لڑکی جس کو پروگرام کے دوران بے تحاشہ ہنسنا ہوگا اور چند بھانڈ جو اس پروگرام میں کی جانے والی کسی بھی بات کی، پروگرام میں شریک کسی بھی فرد کی بھد پیٹ سکیں۔

بھانڈوں کا انتخاب آپ کی مرضی اور فنڈز کی فراہمی پر منحصر ہے، اگر آپ افورڈ کرسکتے ہیں تو کوئی مشہور بھانڈ اکیلا ہی ہائر کرلیں وہی دو تین قسم کے رول بیک وقت ادا کر لے گا، یا پھر اس سے کم فیس میں چار پانچ بھانڈ ایک ساتھ ہائر کرلیں، بوقت ضرورت وہی خواتین بھانڈوں کی کمی بھی پوری کردیں گے۔ بھانڈ شکل سے ایسے ہوں کہ بچے دیکھیں تو ڈر جائیں، زبان ایسی بولیں کہ کسی کی سمجھ نہ آسکے۔

اس قسم کے پروگراموں کا واحد مقصد پنجاب کے تھیٹروں میں ہونے والی تھرڈ کلاس واہیات کامیڈی کو نیشنل اور انٹرنیشنل لیول پر روشناس کروانا ہے۔ کچھ عرصہ بعد مزید ترقی ہو کر اداکارہ نرگس یا دیدار کے ہوش ربا رقص بھی ان پروگراموں کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اگر آپ کا چینل ہمت کرے تو یہ سعادت آپ کے حصے میں بھی آسکتی ہے۔

انعامی شو:

کچھ عرصے سے انعامی شوز بھی نیوز چینل کا ایک لازمہ بن گئے ہیں۔ انعامی شوز کا آغاز تو چند برس قبل رمضان میں ہوا تھا لیکن اب یہ باقاعدہ چینلز کی معمول کی نشریات کا حصہ بن گئے ہیں۔ بطور ایک ملک تو ہم کب سے عالمی بینک کے سامنے دامن پھیلائے بیٹھے ہیں، اب قوم کو بھی مانگنے اور نہیں ملتا تو چھین لینے کی عملی تربیت دینے کے لیے ہر چینل پر ایک عدد انعامی شو کا انعقاد کیا جارہا ہے جس میں اچھے خاصے کھاتے پیتے گھرانوں کے افراد مال مفت کو دل بے رحم کے ساتھ لوٹتے اور ایک دوسرے سے چھینتے نظر آتے ہیں۔ بعض جی دار تو منہ کھول کر اپنے مطلب کا انعام مانگ بھی لیتے ہیں، اور رحم دل اینکر سے انکار نہیں ہو پاتا۔

پھر ملٹی نیشنل کمپنیوں کو بھی زکوٰۃ خیرات نکالنی ہوتی ہے۔ لگے ہاتھوں مشہوری یعنی Advertisement بھی ہو جاتی ہے، رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی۔ تو ایک عدد چلتا پرزہ قسم کے اینکر کا بندوبست کیجئیے جو سیکنڈز میں یہاں سے وہاں حرکت کر سکتا ہو، شرکاء کو موٹر سائیکل یا موبائل فون کے انعام کے لیے کسی بھی احمق ترین حرکت پر آمادہ کرسکتا ہو۔ اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کی زکوٰۃ میں سے اپنے چینل اور ناظرین کا حصہ لینے کے لیے آج ہی رابطہ کر لیں، کہیں دیر نہ ہوجائے۔

مارننگ شو:

ایک عدد اینکر جو عموماََ خاتون ہوتی ہے لیکن اگر آپ افورڈ کر سکتےہیں تو مشہور عالم مرد اینکر جو رمضان شوز، انعامی شوز اور اب مارننگ شوز میں بھی اپنا ثانی نہیں رکھتے، نمبر ون چینل چھوڑ کر آپ کو جوائن کر سکتے ہیں۔ جتنا گڑ ڈالو اتنا ہی میٹھا ہوگا۔ لیکن اُن خاتون سے پرہیز ہی کیجیے گا جو سویرے سویرے پارکوں میں جاگنگ کرنے والوں سے نکاح نامے طلب کرتی ہوئی پکڑی گئی تھیں۔

خیر مارننگ شو ایک جمعہ بازار ہوتا ہے جس میں آپ ہر قسم کا مال بیچ سکتے ہیں۔ سال میں چھ ماہ تو باآسانی شادی شادی کھیل کر گزر جاتے ہیں، اینکر بھی خوش، مہمان بھی خوش، اور ناظرین بھی خوش۔ باقی چھ ماہ میں آپ جنات بلانے اور اتارنے والے، تعویذ کرنے والے، ان تعویذات کے اثرات ختم کرنے والے، پانی سے کار چلانے والے، رنگوں، روشنیوں، نگینوں، پتھروں سے علاج کرنے والے، خواتین کا حسن نکھارنے کے ماہرین، رشتہ کروانے والی خواتین و حضرات، کھانا پکانا سکھانے والے اور پھر ان کھانوں کے نتیجے میں وزن بڑھ جانے کی صورت میں ورزش سکھانے والے اور وزن کم کرنے کے طریقے بتانے والوں کو بلا کر پروگرام کا پیٹ بھر سکتے ہیں۔

یاد رہے مارننگ شو میں مہمان جو بھی آئے، پروگرام کے درمیان اور آخر میں مجرے کا آئٹم لازمی ہے۔ سب مہمانوں کو مع اینکر مقبول بھارتی گانوں پر ڈانس لازمی کرنا ہوگا۔ مارننگ شو میں شائستہ اور شائستگی سے بھی پرہیز ہی کریں۔

کامیڈی شو:


کامیڈی شوز کے لیے یا تو “چار حضرات” پر مشتمل کامیڈینز سے رابطہ کر لیں، اس صورت آپ کو کچھ نہیں کرنا ہوگا۔ وہ خود ہی پروگرام تیار کر لیتے ہیں، آپ کو ان کا پروگرام صرف پلے کرنا ہوگا۔ وہ لوگ ویسے بھی ایک کے بعد دوسرا چینل آزما رہے ہیں، شاید آپ کے چینل کو بھی رونق بخش دیں۔

دوسرا آپشن یہ ہے کہ ایک کامیڈی پروگرام خود تیار کریں جس کے لیے ایک عدد پٹاخہ قسم کی میزبان خاتون درکار ہوگی، جو ہر اداکارہ اور خاتون سیاستدان کی بھدی پیروڈی کر سکتی ہوں، ان کے ساتھ دو عدد مزید بھانڈ درکار ہوں گے۔ ایک عدد رائیٹر جو تھوک کے حساب سے جوکس اور مقبول بھارتی گانوں کی دھنوں پر پیروڈی گانے لکھ سکے۔ ڈائریکٹر نہ بھی ملے تو بھی کام چلتا رہے گا، یہ چاروں مل کر کچھ نہ کچھ کر ہی لیں گے۔


ویسے اکثر نیوز چینل اب کامیڈی پروگرام کا تکلف نہیں کرتے کیوں کہ بھانڈ پروگرام سے ہی یہ مقصد پورا ہوجاتا ہے۔

اسپورٹس شو:

اسپورٹس سے مراد صرف اور صرف کرکٹ لیا جاوے۔ کیونکہ ہمارے نوجوانوں کو کھیل کے مواقع نہ ہونے کے برابر ملتے ہیں تو وہ ٹی وی پر کرکٹ دیکھ کر ہی خوش ہوجاتے ہیں نیز کبھی کبھی ناراض ہوکر ٹی وی توڑ بھی ڈالتے ہیں پر اس کی ذمہ دار آپ پر نہیں کرکٹ ٹیم پر عائد ہوتی ہے۔

آپ کو یہ کرنا ہوگا کہ دو عدد اسپورٹس اینکرز کا بندو بست کریں، ایک مرد اور ایک لڑکی، ان کے لیے ہر میچ / سیریز سے میچنگ کرکٹ کٹ کا بندوبست کریں۔ اور دو یا تین سابقہ ناکام کرکٹرز سے معاہدہ کرلیں جو ہر میچ کے وقفے میں کرکٹرز کو ماہرانہ مشورے دے سکیں۔ جس سابق کرکٹر نے خود کسی انٹرنیشنل میچ میں سینچری تو کیا ففٹی بھی کبھی نہیں بنائی وہ آپ کے چینل پر بیٹھ کر نوجوان کھلاڑیوں کو بیٹنگ کے گُر بتایا کرے گا۔ ناظرین کو کون سا ان کا پروفیشنل شجرہ نسب زبانی یاد ہے۔

خاص ہدایت برائے کامیابی نیوز چینل :

1۔ ایک خاص بات جس کا آپ کو خیال کرنا ہے وہ یہ کہ آپ کے چینل کی اسکرین پر ہمہ وقت تین چار قسم کی پٹیاں چل رہی ہوں، دائیں سے بائیں، بائیں سے دائیں، ممکن ہو تو اوپر سے نیچے اور نیچے سے اوپر بھی۔ ابھی نیوز ریڈر کے دائیں بائیں کسی پٹی یا فیتہ چلنے کا رواج نہیں، آپ کا چینل ایک نئی روایت کا آغاز کر سکتا ہے۔

نیوز ریڈر کے پیچھے کی اسکرین پر کچھ نہ کچھ ہر وقت فلیش اور fluctuate ہوتا دکھائی دیتا ہو، ایک آدھا اشتہار بھی وقتاً فوقتاً اسکرین پر فلیش ہوتا رہے۔ آپ کے چینل کی اسکرین پلٹنا جھپٹنا، جھپٹ کر پلٹنا کی عملی تصویر ہونی چاہیے۔دیکھنے والے کی نظر ٹکنی نہیں چاہیے، نہ ہی توجہ ایک جگہ مرکوز ہونی چاہیے۔ ویسے بھی آپ نے سنا ہوگا کہ “حرکت میں برکت ہے”۔ اب اتنی متنوع قسم کی آن اسکرین “وائبریشنز” سے ناظرین کی نظر خراب ہوتی ہو تو ہوتی رہے، ارتکاز توجہ میں خلل پڑتا ہو تو پڑتا رہے، آپ کا اس سے کیا لینا دینا۔

2۔ راولپنڈی کے مشہور ناکام سیاستدان سے ابھی سے اپنے چینل کے لیے وقت بک کروالیں، بعد میں شاید ان کے پاس وقت نہ ہو، خاصے مصروف ہیں، چینل پر مستقل رونق لگی رہے گی۔ یہ بھی طے کر لیں کہ آپ کا چینل کپتان کی سائیڈ پر ہوگا یا مخالف سائیڈ پر۔ غیر جانبداری تو کبھی پی ٹی وی نے بھی نہیں برتی۔

3۔ جب آپکا نیوز چینل کامیابی سے چل پڑے تو فوری طور پر ایک اینٹر ٹینمنٹ چینل کھول لیں، اس چینل کا پیٹ بھرنے کے لیے زی ٹی وی، اسٹار پلس اور سونی ٹی وی کے دس سے بیس سال پرانے ڈرامے ناموں میں ترمیم کے ساتھ دوبارہ نشر کرنا شروع کردیں۔ سستے مل جائیں گے اور نئی نسل کو ان ڈراموں کے بارے میں علم بھی نہیں۔ اب تو مارکیٹ میں ترکی ڈرامے بھی آگئے ہیں۔ ایک آدھ پاکستانی ڈرامہ بھی برکت کے لیے شامل کر لیجیے گا۔ ہاں انڈین ایوارڈ شوز اور کامیڈی شوز کو اپنے تفریحی چینل پر نشر مکرر کرنا نہ بھولیں۔ یہ قوم ایک ہی ڈرامہ دن میں چار بار بھی اسی ذوق و شوق سے دیکھ سکتی ہے تو بھارتی ایوارڈ شو دوبارہ کیوں نہیں۔

4۔ قومی تہواروں مثلاً یوم آزادی، یوم دفاع وغیرہ پر نیوز چینل پر جی ایچ کیو یا پریڈ گراونڈ سے براہ راست سپہ سالار کے خطابات نشر کرتے رہیے، جس میں وہ دشمن کے دانت کھٹے کردینے والے دعوؤں اور ہتھیاروں کا ذکر خیر کر رہے ہوں۔ لیکن دوسری جانب تفریحی چینل پر اتنے ہی جوش و خروش سے پڑوسی ملک کے ڈرامے اور کامیڈی شوز نشر کرنا جاری رکھئے، کیونکہ بہت پہلے کوئی دل والا یہ کہہ گیا تھا کہ “چوری میرا پیشہ ہے، نماز میرا فرض”۔ پھر آپ نے یہ بھی سنا ہوگا کہ “گھوڑا گھاس سے دوستی کر لے گا تو کھائے گا کیا”۔

5۔ مذہبی تہواروں جیسے عید بقر عید وغیرہ پر فی یوم دو سے تین بھارتی فلموں کی نمائش اپنے تفریحی چینل پر جاری رکھیے، لیکن کبھی بھول کر بھی کوئی پاکستانی فلم نشر نہ کیجئے، ورنہ لوگ کسی دوسرے میڈیا ہاؤس کے تفریحی چینل سے رجوع کرلیں گے۔ اور آپ کے چینل کے اشتہار بھی کم ہو جائیں گے۔ آفٹر آل جب آپ کا چینل دبئی سے براڈ کاسٹ ہوگا تو آپ ایک پاکستانی چینل نہیں بلکہ انٹر نیشنل چینل چلا رہے ہوں گے، جس پر آپ جو مرضی پیش کریں کوئی پوچھنے والا نہیں۔

یاد رکھیے کہ معاشرے بالخصوص نوجوانوں کی تربیت و رہنمائی کرنا میڈیا اور خاص کر نیوز چینل کی ذمہ داری نہیں ہے۔ اس کا کام خبریں دینا ہے نیز جس طریقے سے بھی زیادہ اشتہار اور ریٹنگ مل سکے۔


Comments

FB Login Required - comments

3 thoughts on “کامیاب نیوز چینل کے اجزا، ترکیبِ استعمال و ہدایت نامہ

  • 25-04-2016 at 3:02 am
    Permalink

    اس بات پر کافی ریسرچ ہو چکی ہے۔ لوگ جتنا زیادہ ٹی وی دیکھتے ہیں ان کی صحت اتنی ہی خراب ہوتی ہے۔ یعنی جتنے گھنٹے ہم ٹی وی کے آگے بیٹھیں‌ اتنا ہی بیماریوں‌کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ ٹی وی دیکھنے میں‌ ہمارا دماغ جتنا کام کرتا ہے وہ اس سے کم ہے جتنا سونے کے دوران کرتا ہے۔ جو لوگ یہ الٹے سیدھے فاکس نیوز جیسے چینل دیکھتے ہیں‌ ان کی معلومات کا دائرہ سکڑ جاتا ہے۔ باقائدہ ٹیسٹ کرکے یہ دیکھا گیا کہ ان کی جرنل نالج کتنی خراب تھی۔

    • 25-04-2016 at 8:41 pm
      Permalink

      ڈاکٹر صاحبہ یہاں تو ہر چینل ہی فاکس نیوز بنا ہوا ہے ۔ وہ چنیلز بھی جن کے اخبار نستعلیق اخبارات ہوا کرتے تھے ۔

  • 26-04-2016 at 3:59 am
    Permalink

    بی بی نسرین غوری، آپ کی یہ شرارت بھری، مسکراہٹیں بکھیرتی اور اس پہ طرہ یہ کہ بڑی سنجیدہ تحریر بیحد اچھی لگی ۔ لطف آگیا ۔ آپ نے رہنمائی کا حق ادا کردیا ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ موجودہ چینل جو پہلے ہی سے بہت حد تک آپ کے مشوروں کو اپنائے ہوئے ہیں وہ انہیں مزید بہتر بنانے کے لیے آپ کی جانب سے ’’ بین السطور دئے گئے پیغام ‘‘ پر کیسے عمل کرتے ہیں ۔
    خوش رہیں اور اسی طرح لکھتی رہیں۔

Comments are closed.