پاکستان میں سیاحت کا ایک جائزہ


nasreen ghori

کچھ گھومنے اور گھمانے والوں کے بارے میں

گو کہ پاکستان میں سیاحت کو انڈسٹری / صنعت کا درجہ دیا گیا ہے لیکن تاحال پاکستان میں قومی سیاحت کے حوالے سے کوئی ایسا ادارہ نہیں جو سیاحوں کے سفر اور منزل یا مقصد سفر کا ڈیٹا یا اعداد وشمار جمع یا مہیا کرتا ہو ۔ سیاحت سے متعلق ایک صوبائی محکمے سے ملکی سیاحوں کے اعداد و شمار کے بارے میں استفسار پر جواب ملا کہ امیگریشن اور ایف آئی اے سے رجوع کریں۔ بھلا اندرون ملک سیر و تفریح کی غرض سے سفر کرنے والوں کا امیگریشن سے کیا تعلق۔ جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہوا کہ ملکی و قومی سیاحت سے حکومت کی دلچسپی کا عالم یہ ہے کہ پاکستان اکنامک سروے 2014/15 میں لفظ سیاحت کا گزر صرف ایک بار گوادر پورٹ کے تذکرے میں ضمنی سرگرمیوں کے حوالے سے آیا ہے ۔ جبکہ سالانہ ورک پلان 16-2015 میں سیاحت کا لفظ کہیں بھی نہیں ہے ۔ تو ہم ایسا ڈیٹا جمع کر کے کیا کریں گے جو کسی کام نہیں آنا۔

اس قسم کے ڈیٹا کی تلاش کے سلسلے میں صرف ایک پاکٹ بک 2006 کا پی ڈی ایف ورژن دستیاب ہوسکا جس کے مطابق پاکستان میں سن 2002 میں 23 لاکھ 80 ہزار پاکستانیوں نے اندرون ملک سیاحت کی غرض سے سفر کیا اور مختلف میوزیم یا آرکیالوجیکل مقامات وزٹ کیے ۔ سن 2004 میں یہ تعداد کم ہوکر تقریباً 19 لاکھ رہ گئی۔ ان 19 لاکھ قومی سیاحوں میں سے بھی 14 لاکھ 80 ہزار پاکستانیوں نے پنجاب میں مختلف مقامات کا دورہ کیا ۔ سندھ میں تین لاکھ 79 ہزار پاکستانیوں نے، صوبہ سرحد میں تقریباً 38 ہزار نے اور صوبہ بلوچستان میں صرف 737 افراد نے کوئٹہ میوزیم کا دورہ کیا۔ ان قومی سیاحوں کے سلسلے میں یہ کہیں درج نہیں کہ یہ لوگ ان ہی صوبوں/شہروں سے تعلق رکھتے تھے یا کسی دوسرے صوبے یا شہر سے ان جگہوں پر آئے تھے۔ گلگت بلتستان یا ملک کے شمالی علاقے جو سیاحت میں سب سے زیادہ پاکستانیوں کی ترجیح ہوتے ہیں انکا کوئی ذکر نہیں بشمول راولپنڈی و اسلام آباد ۔ 2004 کے بعد کا کوئی اور ڈیٹا بہت کوشش کے باوجود میسر نہ آسکا ۔

دوسری جانب سوشل میڈیا خصوصاً فیس بک اور انسٹا گرام کی آمد کے ساتھ ہی ایک دوسرے کی تصاویر اور کارناموں کی دیکھا دیکھی نوجوانوں میں پاکستان کو ایکسپلور کرنے میں د لچسپی کئی گنا بڑھی ہے ۔ سرکاری طور پر سیاحوں کی عدم سرپرستی ور سیاحت کے شعبے میں حکومت کی عدم دلچسپی کو دیکھتے ہوئے نوجوانوں نے معاملات خود اپنے ہاتھوں میں لے لیے۔ پہلے پہل کچھ نوجوان تن تنہا ہی پاکستان کی خوبصورتی کو دریافت کرنےنکل کھڑے ہوئے، جیسے دانیال شاہ ، سید مہدی بخاری وغیرہ۔ کچھ نے دوستوں کے ساتھ مل کر وطن میں نئی دنیائیں دریافت کیں اور پھر دوسروں کو بھی پکڑ پکڑ کر دکھایا اور آخر کار آج وہ ایک کامیاب ٹور آپریٹر ہیں۔

سوشل میڈیا کے آغاز کے ساتھ ہی سیاحت سیکٹر میں پرائیویٹ ٹور آپریٹرز کی ایک فصل اگ آئی ہے جو دھڑا دھڑ پاکستانیوں کو پاکستان کی سیر کروا رہے ہیں۔ لیکن ان میں رجسٹرڈ ٹور آپریٹرز کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ اس وقت پاکستان میں سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستانSECP ، فیڈرل بورڈ آف ریونیوFBR اور ڈیپارٹمنٹ آف ٹورزم سروسز لاہورDTS ٹور آپریٹرز کو رجسٹر کرتے ہیں۔ کچھ بطور سوسائٹیز بھی رجسٹرڈ ہیں ۔ حکومت اس ضمن میں صرف ٹیکس جمع کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے، سیاحوں کی سہولت و ضروریات سے اسے کوئی غرض نہیں ۔ ٹور آپریٹرز کی اکثریت کا سارا بزنس ہی فیس بک اور موبائل فونز پر چلتا ہے، نہ کہیں دفتر ہے نہ کوئی ویب سائیٹ اور نہ کسی شکایت کی صورت میں کہیں داد رسی۔

یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں رجسٹرڈ ٹور آپریٹرزیا کل ٹور آپریٹرز کی درست تعداد بھی معلوم نہیں۔ نہ ہی اس سیکٹرز سے براہ راست منسلک افرادی قوت کے بارے میں کچھ یقین سے کہا جاسکتا ہے۔ پنجاب میں تو صورت حال کچھ بہتر ہے لیکن دیگر صوبوں میں ڈیٹا کے حوالے سے حالات خاصے ناگفتہ بہ ہیں۔ دوسری جانب پرائیویٹ ٹور آپریٹرز رجسٹریشن کے سلسلے میں طریقہ کار اور معلومات کے حصول میں خوار ہیں لیکن کوئی ایسا مرکزی یا صوبائی ادارہ نہیں جو ان کو مناسب رہنمائی فراہم کر سکے۔

اسی وجہ سے ایک ہی مقام کے ٹور کی قیمت مختلف ٹور آپریٹر ز کے ہاں مختلف ملتی ہے ۔رجسٹرڈ ٹور آپریٹرس کی قمیتیں غیر رجسٹرڈ کی نسبت زیادہ ہوتی ہیں کیونکہ رجسٹرڈ ٹور آپریٹرزکوٹیکس بھی دینا ہوتا ہے، لہذا ان کی خدمات مہنگی ہوتی ہیں۔ عام لوگ معیار کو قیمت پر ترجیح دیتے ہیں۔ پاکستان میں کوالٹی سروس مہیا کرنے والوں کا المیہ یہ ہے کہ مقامی سیاح اکانومی کو پرسنل سیفٹی پر ترجیح دیتا ہے۔ جبکہ غیرملکی سیاح امن و امان کی مخدوش صورت حال اور سہولیات نہ ہونے کی بنا پر پاکستان کا رخ ہی نہیں کرتے ۔ لیکن دوسری جانب رجسٹرڈ ٹورآپریٹرز کے ریٹس میں بھی زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے جیسے اس سیزن میں کے ٹو بیس کیمپ کا ٹور ایک آپریٹر 75000 فی سیاح کروا رہا ہے تو وہی ٹور دوسرا آپریٹر دو لاکھ میں کروارہا ہے۔ کوئی سرکاری ریگیولیٹری ادارہ نہیں جو ٹور آپریٹرز کے ریٹس طے کرتا ہو، یا انہیں کسی قسم کے رولز آف بزنس کے ماتحت کام کرنے کا لائسنس دیتا ہو۔

رجسٹرڈ ٹور آپریٹرز کو شکایت ہے کہ غیر رجسٹرڈ آپریٹرز ان کا بزنس لے جاتے ہیں، جبکہ ان کے پاس قراقرم ہائی وے کے لیے خصوصی تربیت یافتہ ڈرائیورز بھی نہیں ہوتے، غیر تربیت یافتہ یا میدانی علاقوں کے ڈرائیورز کو قراقرم ہائی وے پر لے جانا سیاحوں کی جان سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ کیونکہ قراقرم ہائی وے پر ٹورز کے دوران زیادہ تر ڈرائیونگ رات کے اوقات میں ہوتی ہے، جس کے لیے علاقے سے واقف اور تربیت یافتہ ڈرائیور ناگزیر ہے۔

رجسٹرڈ اور غیر رجسٹرڈ دونوں طرح کے ٹور آپریٹرز کے مطابق وہ کسی سرکاری سرپرستی کے بغیر ملک میں سیاحت کو فروغ دے رہے ہیں لیکن سرکاری سرپرستی اور نگرانی کےبغیر کافی مشکلات کا شکار ہیں۔ اس وقت چند پی ٹی ڈی سی موٹلز کے علاوہ تمام تر سیاحتی انفرا اسٹرکچر نجی شعبے کے ہاتھ میں ہے جو اپنی مرضی سے ریٹس طے کرتے ہیں اور جب چاہے ریٹس میں اضافہ کر دیتے ہیں، ایک ٹور آپریٹر کے مطابق ہوٹلز کے کرائے میں 2016 میں سو فیصد اضافہ کر دیا گیا ہے، جس کے باعث ٹور کی فیسوں میں اضافہ ناگزیر ہے لیکن فیسوں میں اضافے سے صارف یعنی سیاح بدک جاتے ہیں اور کم قیمت میں قرب وجوار کی جگہوں سے گھوم پھر کر واپس چلے جاتے ہیں۔ ٹور آپریٹر کو ایک جانب قیمتیں مناسب رکھنی پڑتی ہیں دوسری طرف ہوٹلز اور ٹراسپورٹ کے کرائے آئے دن بڑھا دئیے جاتے ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت فوری طور پر سیاحتی پالیسی تیار اور نافذ کرے۔ سیاحوں کی تعداد، ان کے رہائشی اور سیاحتی منزلوں،پسندیدہ موڈ آف ٹرانسپورٹ وغیرہ کے بارے میں ڈیٹا جمع کرنے کا جامع میکنزم تیار کیا جائے۔ جس کی بنیاد پر سیاحت کے شعبے میں سائنسی بنیادوں پرکام کیا جاسکے، خاص کر پالیسی بنانے کے لیے یہ معلومات بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔

PEMRA یا PTA کی طرز کا ایک ریگیولیٹری ادارہ یا باڈی تشکیل دے جو تمام ٹور آپریٹرز کو یکساں رولز کے تحت رجسٹر کرے، لائسنس دے، ریٹس طے کرے، خدمات پر ٹیکس کی شرح متعین کرے اور کسی شکایت کی صورت میں ٹور آپریٹرز کے خلاف کاروائی بھی کرے۔ دوسری جانب نیم فعال پی ٹی ڈی سی کو مکمل طور پر فعال کیا جائے، اور انفرا اسٹرکچر کی تعمیر، بحالی اور مرمت کی ذمہ داریاں پی ٹی ڈی سی کے حوالے کی جائیں۔


Comments

FB Login Required - comments