نواز شریف! سوات تہ پہ خیر راغلے


fazle rabiآج 19  مئی ہے۔۔۔ کل یعنی 20 مئی کو پاکستان کے منتخب وزیراعظم اہل سوات کو شرفِ باریابی بخش رہے ہیں۔۔۔  ان کا دورۂ سوات پاناما پیپرز کے تحت ان کے خاندان پر لگائے جانے والے الزامات کے نتیجے میں ظہور پزیر ہو رہا ہے ۔۔۔  ورنہ جناب وزیراعظم صاحب کو بیرون ممالک کے دوروں سے کہاں فرصت ملنے والی تھی جس کے دوران وہ سوات اور ملک کے دوسرے حصوں کے طوفانی دوروں پر نکل پڑتے۔۔۔  یہ دورہ ان کے اس عوامی رابطہ مہم کا حصہ ہے جس میں وہ سوات کے عوام کو بھی اعتماد میں لیں گے کہ پاناما لیکس میں ان پر لگائے جانے والے الزامات کا حقیقت سے کوئی واسطہ نہیں۔ وہ پاک اور پوتر ہیں۔  قوم کا ایک پیسا بھی انھوں نے ناجائز طریقے سے لوٹا ہے اور نہ بیرون ملک منتقل کیا ہے۔ دورۂ سوات کے دوران وزیراعظم صاحب اپنے مشیر امیر مقام کی رہائش گاہ سنگوٹہ میں کچھ دیر قیام کریں گے۔ جس کے بعد وہ پنجاب حکومت کی جانب سے سنگوٹہ میں تعمیر کردہ صوبہ کے سب سے بڑے کڈنی ہسپتال کا افتتاح کریں گے۔ افتتاح کے بعد وہ سنگوٹہ میں ایکسیلسئیر کالج کے گراؤنڈ میں ایک جلسۂ عام سے خطاب کریں گے۔۔۔  یہ وہی کڈنی ہسپتال ہے جو سعودی عرب کے عطیہ سے سوات میں تعمیر کیا گیا ہے اور اس کی تعمیر کے بعد نہ اس کو مطلوبہ میڈیکل اور ٹیکنیکل سٹاف کی فراہمی ممکن بنائی جا رہی تھی اور نہ ہی اسے عوام کے لیے مکمل طور پر آپریشنل کیا جا رہا تھا۔ پاناما پیپرز کا شکریہ کہ ان کی وجہ سے سوات کی قسمت جاگ اٹھی۔ بالآخرکڈنی ہسپتال کی طرف نظر کرم اٹھ گئی۔ اور ہسپتال کے دونوں اطرف کی ٹوٹی پھوٹی سڑک ایک ایک کلومیٹر تک راتوں رات پختہ کرائی گئی۔

وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد میاں محمد نواز شریف کا یہ پہلا دورۂ سوات نہیں ہے۔ اس سے قبل بھی وہ سوات کے دورہ پر 15 جنوری 2014ء میں آ چکے ہیں جس کے دوران انھوں نے سوات میں فوجی چھاؤنی کا اعلان کیا تھا اور اس مقصد کے لیے ابتدائی طور پر دو ارب روپے مختص کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ انھوں نے اپنے اس دورہ میں سوات میں مقیم فوجی حکام سے ملاقاتیں کی تھیں اور پاک فوج کے زیرانتظام قائم کیے جانے والے ادارہ ’’سباؤن‘‘ کا دورہ کیا تھا جہاں ان افراد کی ذہنی تطہیر کی جاتی ہے جو سوات میں طالبانائزیشن میں ملوث تھے۔ اگرچہ ہمارے ملک میں یہ پختہ روایت چلی آ رہی ہے کہ جب منتخب وزیراعظم کسی علاقے کا دورہ کرتے ہیں تو وہاں کی تعمیر و ترقی کے لیے کسی بڑے منصوبے کا اعلان بھی کرتے ہیں لیکن میاں نواز شریف نے ایسا کچھ نہیں کیا بلکہ سوات کے عوام کی مرضی کے برعکس فوجی چھاؤنی کے قیام اور اس مقصد کے لیے دو ارب روپے مختص کرنے کا ’’مژدۂ جاں فرسا‘‘ سنایا تھا۔

گزشتہ عام انتخابات سے قبل بھی نواز شریف انتخابی مہم کے دوران 28 نومبر 2012ء کو سوات کے دورہ پر آچکے تھے ۔ سنگوٹہ ہی میں امیر مقام کی معیت میں انھوں نے سوات کے عوام کے ساتھ وعدہ کیا تھا کہ وہ اگر برسراقتدار آگئے تو مردان سے سوات تک موٹر وے کو توسیع دیں گے اور ترجیحی بنیاد پرمینگورہ سے کالام تک دو رویہ سڑک کی تعمیر ممکن بنائیں گے۔ وزیر اعظم منتخب ہونے کے بعد 14 نومبر 2015ء کو وہ سوات کے مختصر دورہ پر آئے تو انھوں نے پھر چکدرہ سے کالام تک سڑک کی تعمیر کا اعلان کیا اور کہا کہ یہ سڑک معیار میں کسی بھی طور موٹر وے سے کم نہ ہوگی لیکن اہل سوات ابھی تک ان کے کیے گیے وعدوں کے ایفا کے منتظر ہیں۔ ان کے مشیر امیر مقام نے بھی انھیں اہل سوات کے ساتھ کیے گئے ان کےدعوے یاد کرانے کی زحمت کبھی گوارا نہیں کی۔

سوات میں جب آخری فوجی آپریشن ’’راہِ راست‘‘ کے بعد سوات میں امن قائم کیا گیا اور سوات سے ہجرت کرنے والے لوگوں کو سوات واپس جانے کی اجازت دے دی گئی تو اُس وقت کے پیپلز پارٹی کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے سوات کا دورہ کیا تھا اور ایک عوامی تقریب میں اہل سوات کی قربانیوں کو سراہتے ہوئے ان سے براہِ راست پوچھا تھا کہ وہ مجھے سوات کا کوئی ایک بنیادی مسئلہ بتائیں جس پر میں فوری طور پر منظوری کے احکامات صادر کروں۔ اس وقت تقریب میں موجود عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی اسمبلی کے اراکین نے وزیراعظم صاحب سے درگئی سے مہوڈنڈ تک دو رویہ سڑک تعمیر کرنے کا مطالبہ کیا تھا اور اس وقت وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے ان کا مطالبہ تسلیم کرتے ہوئے چک درہ سے کالام تک دو رویہ سڑک کی منظوری دی تھی لیکن بعد ازاں ان کا اعلان نقش برآب ثابت ہوا۔ ابھی تک وہ سڑک نہ بن سکی ہے۔ موجودہ وزیراعظم میاں نواز شریف نے اپنے دوسرے دورِ حکومت میں بھی درگئی سے مہو ڈنڈ تک دو رویہ سڑک کی تعمیر کا اعلان کیا تھا لیکن انھوں نے بھی اپنے اعلان کو عملی جامہ نہیں پہنایا تھا۔ یہ ہیں ہمارے منتخب وزرائے اعظم اور ان کے قول و فعل کا تضاد۔ وزارتِ عظمیٰ ملک کا سب سے بڑا اور طاقت ور جمہوری عہدہ ہے۔ اس پہ ایسے افراد کو براجمان ہونا چاہئیں جو اپنے قول کے پکے ہوں۔ جو اعلیٰ کردار کے حامل ہوں۔ ان کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ کی ایک حرمت ہوتی ہے اور اس حرمت کی پاسداری میں وہ کوئی غفلت اور کوتاہی نہیں کرتے۔ اپنے وعدوں اور اعلانات کا پاس رکھتے ہیں لیکن افسوس وطن عزیز میں عوام کے منتخب وزیراعظم بھی اپنے وعدوں کا پاس نہیں رکھتے اور اپنے کیے گیے اعلانات کا بھرم توڑ دینے میں کوئی شرم محسوس نہیں کرتے۔

کل وزیراعظم میاں محمد نواز شریف سوات میں ایک بار پھر عوام سے مخاطب ہوں گے۔ وہ ایک بار پھر سوات کی تعمیر و ترقی کے حوالے سے (متوقع طور پر) کوئی بڑا اعلان کریں گے لیکن ایسا کوئی اعلان کرنے سے پہلے وہ اگر کچھ دیر کے لیے سوچیں، غور کریں کہ وہ شورشوں اور سیلاب کی تباہ کاریوں کے مارے ہوئے سوات کے لیے جو اعلانات کرنے والے ہیں، کیا ان پر عمل درآمد بھی ہوگا یا اب بھی وہ سوات کے عوام کو محض اپنے دل خوش کن اعلانات کے ذریعے ٹرخا رہے ہیں۔ سابقہ دورِ حکومت میں طالبانائزیشن اور سیلاب کی تباہ کاریوں کے بعد عالمی سطح پر سوات کے لیے بڑی امداد آئی تھی لیکن اس امداد کا بیس فی صد بھی سوات کی تعمیر نو اور اہل سوات کی بحالی پر خرچ نہیں کیا گیا ہے۔ اب بھی سوات کا مجموعی انفراسٹرکچر تباہی سے دوچار ہے اور بہت سے منہدم کئے جانے والے سکول، پل اور دیگر سرکاری و نجی عمارات تعمیر نو کے منتظر ہیں۔

اس موقع پر ایک بار پھر پاناما پیپرز کا شکریہ کہ ان کی وجہ سے نہ صرف وزیراعظم میاں نواز شریف سوات کا دورہ کر رہے ہیں بلکہ 22 مئی کو تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان بھی سوات تشریف لانے والے ہیں۔ وہ بھی ایک بڑے جلسۂ عام سے خطاب کریں گے۔ صوبہ خیبرپختون خوا کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک متعدد بار سوات کے دورہ پر آچکے ہیں لیکن انھیں بھی سوات کے مسائل اور عوامی مشکلات نظر نہیں آرہی ہیں۔ اگرچہ ان کی حکومت کے قیام میں سوات کے صوبائی اسمبلی کے چھ منتخب عوامی نمائندوں کا بڑا ہاتھ ہے اور اہل سوات ہی نے قومی اسمبلی میں عمران خان کی پارٹی کو دو ایم این ایز دئیے ہیں لیکن عمران خان نے بھی سوات اور اہل سوات کی محبتوں کا کوئی جواب نہیں دیا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ میاں نواز شریف کے دورۂ سوات کے اثرات کم یا ختم کرنے کے لیے پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کیا جوابی اعلانات کرتے ہیں؟


Comments

FB Login Required - comments