بہاری پاکستانی – جمہوریت کے تمنائی


ایسے وقت جب بنگلہ دیش میں عوامی لیگ کی حکومت پاکستان کے مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لا رہی ہے، پاکستان کے عوام کی \"amirنمائندہ جمہوری حکومت سراپا احتجاج ہے۔ مت بھولیں پاکستان کی مشرقی اکائی میں ریاست کی نظریاتی اساس کے خودساختہ محافظوں نے ایک عرصہ لاقانونیت کا بازار گرم کئے رکھا جو بعد ازاں بنگلہ دیش کی آزادی کی بنیاد بنا تھا۔ سقوط ڈھاکہ کے بعد پاکستان کی حکومتیں اس عظیم قومی سانحہ کے سیاسی مجرموں کو بے نقاب کرنے سے گریزا ں ہیں۔

دوسری جانب آج بھی ڈھاکہ کی گلیوں میں بھٹکتے بغیر شناخت کے بہاری جنہیں ابھی پاکستانی بھی نہیں سمجھا جاتا اپنے نظریاتی ماضی کی تلاش میں ہیں۔ پاکستانی ہونے کے سبب ان بہاری مسلمانوں کو ووٹ کا حق بھی حاصل نہیں۔ نسل درنسل گم ہوتی شناخت کے ساتھ جمہوریت کی متمنی دنیا میں خاموش اقلیت بڑی تیزی کے ساتھ اکثریت میں تبدیل ہو رہی ہے۔ اقوام متحدہ کے ایک اندازے کے مطابق یہ اعدادوشمار اس عشرہ کے اختتام تک 30 لاکھ کو پہنچ جا ئیں گے۔ یاد رہے ہندوستان کی تقسیم کے وقت صوبہ بہارسے بڑی تعداد میں مسلمان مشرقی پاکستان میں ہجرت کر کے آئےاور پھر پاکستان کے دو لخت ہونے کے بعدآج بھی اپنی نظریاتی ریاست کی جانب سے سرپرستی کے منتظر ہیں۔

بدقسمتی سے پاکستان کے بیشتر ریاستی امور چند بااثردانشور افراد کی جانب سےغالباً کسی وجدانی کیفیت میں انجام دیے جاتے ہیں۔ اور پھر نتیجتاً  آنے والے برسوں میں پوری قوم کو ایسے اقدامات کی قیمت چکانا پڑتی ہے۔ جس وقت پاکستان کی وزارت خارجہ بنگلہ دیش میں جنگی جرائم میں ملوث افراد کے لئے انصاف کے قانونی تقاضے پورے کرنے پر اصرار کر رہی ہے ، اسلام آباد میں وزارت داخلہ کو افغان پناہ گزینوں کے لئے نئی ہدایات جاری کی جارہی ہیں۔

چار دہائیاں قبل جب پاکستان کے 10 کروڑانصار کو 27 لاکھ افغان بھائیوں کے لیے اپنے گھروں کے دروازےکھولنے کو کہا جا رہاتھاتو شاید اس دور کی ریاست کے خارجہ و داخلہ امور میں دو قومی نظریہ پر قائم رہنے والے پاکستانی (بہاریوں ) کی ہجرت کے لیے کوئی گنجائش نہیں تھی۔

آنے والے برسوں میں افغان مہاجرین کی ایک غیر معمولی تعداد کو پاکستان میں پناہ گزینوں کی حیثیت حاصل رہی۔سوویت جنگ کے دوران پاکستان نہ صرف ان پناہ گزینوں کو پاکستان میں بسانے کے لیے پیش پیش رہا بلکہ سابق فوجی حکمران جنرل ضیا الحق کے دور میں عالمی برادری کو اس جانب متوجہ کرنے کے لیے قصداً متحرک کیا گیا۔ یہی نہیں افغان مہاجرین کی ایک بڑی تعداد کو اسلام آباد کے مضافات میں لا کر بسایا گیا تاکہ شوکیس میں سجی بے بسی کو دکھا کر عالمی رہنماوں سے مالی معاونت حاصل کی جا سکے۔

یقیناً جنرل ضیا الحق کی سیاسی بصیرت کو بہار سے ہجرت کرنے والے پاکستانیوں کی آبادکاری کی بجائےاسلام آباد کے نواح میں افغان بستیاں بسانے میں زیادہ منفعت نظر آئی۔ انہوں نے بھانپ لیا تھا کہ اس خطہ میں پاکستان کے مغرب سے اٹھتا سرخ طوفان روکنے کے لیے پاکستان میں سبز انقلاب لانے کے لیے مغربی طاقتوں کے پاس وافر ڈالر موجود ہیں۔

دنیا بھر میں مہاجرین کی آبادکاری کو باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ شروع کیا جاتا ہے۔ اور یہی نہیں بلکہ ان کے لیے دوران پناہ با عزت روزگار کا پروگرام بھی وضع کیا جاتا ہے۔اس کے علاوہ مہاجرین کے لیے مہاجر کیمپوں سے نکلنے کے لیے باقاعدہ پرمٹ جاری ہوتے ہیں اور ان کے لیے مختص امدادی رقوم کو بھی واضح پلاننگ کے ساتھ خرچ کیا جاتا ہے۔۔۔

بد قسمتی سے پاکستان میں ایسا کچھ بھی نہ ہوسکا۔

عالمی برادری سے ملنے والی مالی امداد نے افغان جہاد کے روح رواں قافلہ سالاروں کے شوق جہاد کو تو دوچند کیا مگر افغانستان میں کمیونزم کے خلاف امریکی مہم جوئی کے مارے مجبور اور بے بس افغان ناکافی مالی امداد کے سبب خود ہی روزگار کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے۔آنے والے برسوں میں افغان پناہ گزینوں کی ایک بڑی تعداد نے پاکستان کی معیشت میں ایک فعال کردار ادا کیا۔نہ صرف ٹرانسپورٹ کا شعبہ جو افغان جہاد کے لیے امریکی رسد کو افغان مہاجرین تک پہنچا رہا تھا بلکہ اِسی عرصہ کے دوران پاکستان میں قالین بافی کی صنعت کو بھی غیر معمولی فروغ ہوا۔

پاکستان نے سالہا سال افغان مہاجرین کی آبادکاری سے متعلق امور میں فعال کردار ادا کیا ہے۔تاہم بڑھتی ہوئی دہشت گردی کے سبب گزشتہ چند برسوں میں افغان مہاجرین کو پاکستان میں بالعموم اور صوبہ خیبر پختونخواہ میں بالخصوص سیکیورٹی صورتحال پر مورد الزام ٹھہرایا جارہا ہے۔ قسمت کی ستم ظریفی کہ آج ایک مرتبہ پھر پاکستان میں بسے افغان تاریخ کے دوراہے پر ہیں۔ آنے والے مہینوں میں پاکستان کی ریاست ایک مرتبہ پھرپاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کو پاکستان سے باہر دکھلینے کے لیے ایک اور سعی کرے گی۔

آج سرخ طوفان تھم چکا ہےاور پاکستان کی نظریاتی ریاست میں سبز انقلاب جوبن پر ہے۔اس نظریاتی مملکت میں مغربی ڈالروں کا فریب عقد ہوا۔ استعمار،باطل، ارذل ہو چکا۔ افغان قومیت کی وہ نسلیں جو پاکستانی معاشرے میں اپنے گھر بسا چ ±کیں ان کے لیے اب شوکیس میں کوئی جگہ نہیں۔مگر س ±رخ طوفان تھمنے کے بعد بھی اسلامی نظریاتی ریاست کی تلاش میں سر کردہ پاکستانی محصورین اپنی شناخت کے بحران میں ہیں اور میرے بچے پاکستان کو جدید عہد میں لے جانے کے لیے بےقرار ہیں اس حقیقت سے بے خبر کہ ان کے بھائی بنگلہ دیش میں خاموش ماضی کو لیے تاریک مگر ہنگامہ پرور مستقبل کی جانب بڑھے چلے جا رہے ہیں۔

نوٹ: 2008 میں ڈھاکہ کی ایک عدالت نے محصورین کو شہری حقوق دینے کی ہدایات دیں مگر اس فیصلہ کا اطلاق ان غیر بنگالیوں پر نہیں ہوگا جو سقوط ڈھاکہ کے وقت بالغ عمر کو پہنچ چکے تھے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عامر ذکا الدین کی دیگر تحریریں
عامر ذکا الدین کی دیگر تحریریں