سقوط ڈھاکہ کا ذمہ دار کون تھا؟
پنجابی اپنے رسم الخط سے کوئی قلبی لگاﺅ نہیں رکھتے۔ وہ بولتے پنجابی ہیں لیکن اسے لکھتے اردو میں ہیں۔ پنجابی لسانی قوم پرست نہیں بلکہ وہ لسانی قوم پرستی سے عملاً انکاری ہیں۔ فوجی اور بیوروکریٹ اشرافیہ‘ جن کی غالب تعداد پنجابیوںپر مشتمل تھی‘ بنگالیوں کے اپنی زبان سے قلبی لگاﺅ کی کیفیت کا احساس نہیںکر پائی۔ بالکل اسی طرح جیسے اس نے سندھیوں‘ پٹھانوں اور بلوچوں کے لسانی مطالبات پر کان نہیں دھرے۔ ان کے خیال میں لسانی شناخت ملک کی تباہی کا نسخہ ہے۔ درحقیقت 1971ء میں جو کچھ ہوا‘ اس کا ذمہ دار یہی ناروا رویہ تھا۔
پاکستان کی حکمران اشرافیہ کے متعلق اکثر کہا جاتا ہے کہ وہ منطقی استدلال اور معروضی تجزیہ کی صلاحیت سے عاری ہے۔ یہ اشرافیہ ہر مسئلہ کو کسی دشمن کی ”سازش“ کے تناظر میں دیکھتی ہے۔ یہ تاریخ کو ”سازش“ کے زاویے سے دیکھتی ہے۔ مثال کے طور پر بنگال میں 1757ء میں سراج الدولہ کو اس لئے شکست ہوئی کہ میر جعفر نے غداری کر کے انگریزوں کا ساتھ دیا۔ 1799ء میں میسور کا ٹیپو سلطان اس لئے شکست کھا گیا کہ میر صادق نے غداری کردی تھی۔ تکنیکی‘ معاشی‘ سیاسی عوامل کا تجزیہ نہ صرف ضروری نہیں سمجھا جاتا بلکہ اسے غیر متعلقہ تصور کیا جاتا ہے۔
مرکزی حکومت نے بنگالیوں کے سیاسی‘ معاشی اور ثقافتی مطالبات یکسر مسترد کر دیئے۔ اس کی بجائے انہوں نے ان مطالبات کو ہندو سازش کا شاخسانہ قرار دیا۔ بھارت نے بنگالی مطالبات اور اس سے پیدا ہونے والی صورتحال اپنے مقاصد کے لئے استعمال کی لیکن یہ صورتحال پیدا کرنے کا ذمہ دار بھارت نہیں تھا۔ مشرقی پاکستان کے سیاسی سٹیج پر ہونے والے سیاسی واقعات کے مخفی اور نیم مخفی کرداروں کی درست جانچ میں سب سے بڑی رکاوٹ یہی ”نظریہ سازش“ بنا۔
اصل خرابی تجزیہ کے اس طریقہ میں ہے جو اپنی حقیقت میں ریاستی مفادات کے تابع ہے۔ مرکز نے بیشتر اوقات مشرقی پاکستان کے ان عناصر کی رائے کو اہمیت دی جن کا بنگالی عوام سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ ان عناصر کے دل اپنے عوام کے مطالبات کے ساتھ نہیںدھڑکتے تھے۔ ان کے اذہان مر کزی عوامی دھارے کی امنگوں سے مطابقت نہیں رکھتے تھے۔ اس لئے اس امر میں حیرت نہیں ہونی چاہئے کہ مرکزی ریاست مشرقی پاکستان کے بدلتے ہوئے حالات اور ان کی علیحدگی کی جانب پیش رفت کی پیش بینی نہیں کر سکے۔
صرف بالغ رائے دہی کی بنیاد پر ہونے والے عام انتخابات بنگالیوں اور دوسرے محروم طبقات کے دل کی بھڑاس نکال سکتے تھے۔ اور یہی عمل ان کے مسائل کے حل کی چابی بھی ثابت ہوتا۔ یہ انتخابات بار بار ملتوی کئے جاتے رہے۔ ایوب خان نے 1965ء میں محدود حق نیابت کی بنیاد پر انتخابات کرائے۔ اس فیصلے نے مقامی آبادی کی نمائندگی اور قومی مسائل اور پالیسیوں کی بنیاد پر بحث و مباحثہ کی راہیں مسدود کر دیں۔
1950ء کی دہائی میں مشرقی پاکستان میں کئی بڑے قد آور سیاست دان تھے جن میں حسین شہید سہروردی‘ فضل الحق اور مولانا بھاشانی اپنی مقبولیت کے عروج پر تھے۔ مرکز نے‘ خصوصاً 1954ء کے انتخابات میں یونائیٹڈ فرنٹ کی بھرپور کامیابی کے بعد‘ ان سیاست دانوں کو بے توقیر اور بے اثر کرنے کی کوششیں شروع کر دیں۔ 1960ء میں ایوب خان نے جو بدنیتی پر مبنی احتساب شروع کیا‘ اس کے تحت ان سیاست دانوں پر ”ایبڈو“ کی تلوار چلائی گئی۔ اس سے سیاسی قیادت میں ایک وسیع خلا پیدا ہو گیا۔ ان لیڈروں کی جگہ جن کے ساتھ مرکز معاملات طے کر سکتا تھا‘ ایسے لیڈر آگئے جن کے ساتھ معاملات طے نہیں کئے جا سکتے تھے۔ سیاست میںخلا پیدا ہونا ایک بڑی خوفناک صورتحال ہوتی ہے۔ ایوب خان کی غیر ذمہ دارانہ اور اندھی پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان کے عوام ان سیاست دانوں کی راہنمائی سے محروم ہو گئے جنہیں ملک میں‘ صوبائی اور نسلی شناختوں سے بالاتر حمایت حاصل تھی۔
بعدازاں یحییٰ نے عوامی لیگ کا مینڈیٹ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ یحییٰ خان کی حکومت نے جو بعدازاں 1972ء میں غیر قانونی قرار پائی‘ ملک کی سب سے بڑی پارٹی کو حکومت بنانے کا قانونی حق دینے سے انکار کر دیا۔ حکومت نے عوامی حمایت کو حکمرانی کے حق کا جواز تسلیم نہیں کیا اور ملک کو اس کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑی۔
1971ء میں ملک ٹوٹنے کا ذمہ دار کون تھا؟ حمود الرحمن کمیشن رپورٹ جنگی حقائق پر توجہ مرکوز کرتی ہے۔ جبکہ اصل وجوہات حالت امن کی تھیں‘ فوج کا میدان جنگ میں کردار نہیں بلکہ یہ اس کا سیاسی کردار تھا جو 1971ء کے المیہ کی درست تفہیم میں مرکزی اہمیت رکھتا ہے۔

