منظور پشتین اور پختونوں کا مقدمہ


”پشتون تحفظ موومنٹ‘‘ قوم پرست جماعتوں عوامی نیشنل پارٹی اور پختون خوا ملی عوامی پارٹی کے لئے خطرے کی گھنٹی ثابت ہو رہی ہے۔ جو کام ان سیاسی جماعتوں کو کرنا چاہیے تھا، وہ اسے نا اہلی، خوف اور اپنے سیاسی مفادات کی وجہ سے نہیں کرسکے۔ اگر وہ پختونوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے ریاستی ظلم و ستم کے خلاف بروقت آواز بلندکرتے تو آج نہ پشتون در بدر ہوتے، ان کا اجتماعی وجود زخموں سے چور ہوتا اور نہ ہی پشتون تحفظ موومنٹ وجود میں آتی۔ اس لئے مستقبل میں اگر پشتون تحفظ موومنٹ سیاسی جماعت میں تبدیل ہوجاتی ہے تو خیبر پختون خوا اور بلوچستان کے پشتون اسے اپنی نمائندہ سیاسی جماعت تصور کریں گے۔ پشتونوں کے حقوق کی نام نہاد سیاسی جماعتوں کا مفاد پرستانہ کھیل مزید جاری نہیں رہ سکے گا۔

پشتون تحفظ موومنٹ کو اگر قومی تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان کے دوسرے صوبوں پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں جو علاقے پس ماندہ ہیں اور وہاں کے جو لوگ غربت اور پس ماندگی کا شکار ہیں اور ان کا پیہم بد ترین استحصال کیا جا رہا ہے، وہ بھی پشتون تحفظ موومنٹ کے مثبت نتائج دیکھ کر اپنے جائز قانونی اور آئینی حقوق کے لئے اٹھ کھڑے ہو سکتے ہیں اور پرامن تحریک چلا کر اپنی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لانے میں کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔

پاکستان کے مین سٹریم میڈیا نے اجتماعی طور پر ”پشتون تحفظ موومنٹ‘‘ کا بلیک آؤٹ کیا ہوا ہے۔ شاید ڈان نیوز ان کی سرگرمیوں کی رپورٹنگ کسی حد تک کر رہا ہے لیکن باقی قومی اخبارات اور نیوز چینلز انھیں نظر انداز کر رہے ہیں۔ ان کے بر عکس عالمی نشریاتی ادارے ان کو بھرپور کوریج دے رہے ہیں۔ قومی میڈیا کے اس متعصبانہ اقدام کے اثرات کسی بھی طور پر ملکی سالمیت اور قومی یک جہتی کے لئے مثبت ثابت نہیں ہوں گے۔ 1971ء میں جب بنگلہ دیش میں فوجی آپریشن کیا جا رہا تھا تو یہی میڈیا ”محبت کا زمزم بہ رہا ہے‘‘ جیسی خبریں شائع اور نشر کر رہا تھا۔ جن لوگوں نے فوجی آپریشن کی مخالفت کی تھی، انھیں غدار قرار دیا جا رہا تھا۔ لیکن ہوا کیا، وطن عزیز دولخت ہوا۔

خادم حسین رضوی کے چھوٹے سے دھرنے کو تو مین سٹریم میڈیا میں غیرمعمولی کوریج دی جاتی تھی، حالاں کہ وہ پرامن بھی نہیں تھا اور اس میں ریاستی اداروں اور شخصیات کو باقاعدہ گالیاں بھی دی جاتی تھیں لیکن ان کے ساتھ نہ صرف مذاکرات کیے گئے بلکہ ایک فوجی افسر کی موجودگی میں اس میں شرکت کرنے والے لوگوں کو کرایہ کی رقوم بھی دی گئیں لیکن پشتون تحفظ موومنٹ کے پرامن اور منظم جلسوں کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی۔

اگر پشتونوں کی آواز پر کان نہیں دھرا گیا، ان کے قانونی اور آئینی مطالبات پر توجہ نہیں دی گئی اور ان کی جائز شکایات کو رفع نہیں کیا گیا تو اس کے نتائج کیا نکلیں گے، اس کے لئے کسی بزرجمہر کی موجودگی کی ضرورت نہیں۔ اس کے تباہ کن نتائج خود ہی خطرناک حالات کا تعین کریں گے۔

اس وقت ضرورت اس اَمر کی ہے کہ پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنماؤں کے ساتھ بیٹھ کر تمام مسائل کا منصفانہ حل نکالا جائے۔ سوات اور وزیرستان میں تمام غیر ضروری چیک پوسٹوں کا خاتمہ کیا جائے اور جن چیک پوسٹوں کی موجودگی نہایت ضروری ہو، ان میں مقامی پولیس یا ایف سی کے اہل کار تعینات کیے جائیں۔ گم شدہ لوگوں کی فوری بازیابی کو ممکن بنایا جائے۔ جن بے گناہ لوگوں کو ماورائے عدالت قتل کیا گیاہے، ان کے ذمہ داروں کا تعین کرکے انھیں قانون کے حوالے کیا جائے۔ وزیرستان میں فوجی آپریشنوں کے دوران خاصی تباہی ہوئی ہے۔ عام لوگوں کے گھر اور تجارتی مراکز کھنڈرات بن چکے ہیں۔ ان کی تعمیر نو کے لئے فوج اور حکومت مالی تعان کریں۔ عام لوگوں کے ساتھ عزت اور احترام کا برتاؤ کیا جائے۔ قبائلی علاقوں کو بلا تامل خیبر پختون خوا میں ضم کردیا جائے۔ اس میں جو لوگ یا قوتیں رکاوٹ بن رہی ہیں، وہ محب الوطن نہیں ہیں۔ ان علاقوں کے خیبر پختون خوا میں فوری انضمام سے کئی مسائل فوری طور پر حل ہوجائیں گے اور قبائلیوں کے غصے اور اشتعال میں کمی آجائے گی۔

پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنماؤں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے مطالبات کے سلسلے میں بہر صورت قانون اور آئین کے دائرے میں رہیں۔ شدید جذبات کی بجائے پشتونوں کا مقدمہ ٹھنڈے دل و دماغ سے دلائل کے ساتھ پیش کریں۔ جلسوں میں بعض نعروں سے گریز کریں تاکہ انھیں پاکستان بھر سے حمایت حاصل ہوسکے۔ وہ کسی غیرملکی ایجنڈے کا حصہ نہیں ہیں، بعض نا سمجھ پشتون بھی ان پر تنقید کے تیر برساتے ہیں، انھیں یہ حقیقت سمجھ لینی چاہیے کہ منظور پشتین صرف ان کا ہی مقدمہ نہیں لڑ رہے ہیں بلکہ وہ پشتونوں کی آنے والی نسل کی بقاء کے لئے بھی برسر پیکار ہیں۔ جو لوگ منظور پشتین کے گرد دیوانہ وار جمع ہو رہے ہیں، وہ در اصل اپنے مفاد اور حق کے لئے اکھٹے ہو رہے ہیں کیوں کہ منظور پشتین کی آواز انھیں ایک مسیحا کی آواز محسوس ہو رہی ہے۔ یہ آواز اس جبر اور ظلم کے خلاف ہے جس نے قبائلی پشتونوں کو دربدر کیا ہے، جس نے باپردہ خواتین کو بے پردہ، پشتون ماؤں اور بہنوں کو بیوہ، بچوں کو یتیم اور والدین کو اپنے مضبوط سہاروں سے محروم کردیا ہے۔ اس تحریک کے پیچھے مظلوموں کی آہیں، سسکیاں اور بہتے ہوئے آنسو کار فرما ہیں۔ اس لئے ”پشتون تحفظ موومنٹ‘‘ کے ڈانڈے کسی سازش یا ملک دشمن بیرونی قوتوں سے ملانا حد درجہ کی زیادتی ہے۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2