کیا آپ اردو رسائل کا مطالعہ کرتے ہیں ؟
رسائل ہمیں بصیرت بخشتے ہیں اور وہ کچھ سکھاتے ہیں جن کو سیکھنے اور سمجھنے تک ہماری عقل اور ہماری آنکھیں نہیں پہنچتی۔ ہمیں دعوت دیتے ہیں کہ رنگ برنگے افکار کو ہم الگ الگ آنکھوں سے دیکھ سکیں اور مختلف تہذیبوں کو اپنے تہذیبی پس منظر سے۔ میں نے بہت سے ادیبوں کو ان رسائل کی نگاہ سے دیکھ کر بہت کچھ سیکھا ہے، مثلاً مجھے یہ معلوم ہوا کہ کسی ایک ادیب کی کوئی ایک شناخت نہیں ہوتی، سوچتا ہوا ذہن کسی ایک مسئلے پر صرف ایک طرح سے نہیں سوچتا، کسی خاص معاملے پر کسی بھی ذہین شخص کی رائے میں کتنا تنوع ہوتا ہے اور قبولیت کی حد تحقیق، تنقید اور تخلیق میں کتنی زیادہ بڑھی ہوئی ہوتی ہے۔ رسائل ہمیں سکھاتے ہیں کہ آنکھیں کھول کے اور دماغ کو روشن رکھ کر کس طرح جیا جاتا ہے۔ ماضی کے ادیبوں نے مختلف حالتوں میں کس طرح کے فیصلے لیے تھے، کسی متن کو انہوں نے کس طرح اپنے طرز حیات کو بے ترتیب اور غیر محدود بنانے کے ذریعے کے طور پر اپنایا تھا اور کس طرح شاعری سے نئی قوموں کی آبیاری کا سامان اکھٹا کیا تھا۔
رسائل میں نئے پرانوں کا امتراج ہمیں ماضی اور مستقبل دونوں کا درس بیک وقت دیتا ہے۔ اچھی اور بری تحریر کا سبق بھی ایک ساتھ پڑھاتا ہے اور انکار کے ساتھ اقرار کی کیا نہج ہونی چاہیے اس کا بھی سبق سکھاتا ہے۔ زندگی کے لگے بندھے اصولوں سے آزاد ہونے اور زندگی کے لامحدود نظام عمل کو پڑھانے میں رسائل بڑی حد تک معاون ثابت ہوتے ہیں۔ رسائل میں موجود دس، بارہ یا بیس تحریروں کو پڑھنے سے ہمیں مطالعے کے انتخاب کا شعور آتا ہے، کیا پڑھنا ہے اور کیا نہیں پڑھنا اس کا علم ہماری راہ کا تعین کرنے میں ممد ثابت ہوتا ہے اور ساتھ ہی افکار کے ارتباط کا فن بھی حاصل ہوتا ہے۔
میں نے اپنے مطالعہ رسائل کے ذریعے مشرق ومغرب کے انسانوں کو جانا اور بہت سے بڑوں کی چھوٹی حرکتوں کو دیکھااور بہت سے گمناموں کے کارناموں کو۔ فکر کی حقیقت کے سراغ کا پتہ لگایا اوراچھے لکھنے والے کون ہوتے ہیں اس کا ادراک حاصل کیا۔ مجھے رسائل سے ادب کو موضوعات کے خانوں سے جدا زندگی کے کینوس پر بکھرے ہوئے رنگوں کی طرح دیکھنے کا ہنر آیا اور میں نے جانا کہ ادب صرف برائے نام ادب سے نہیں، بلکہ ان مکالموں سے بھی اپنا رشتہ استوار رکھ سکتا ہے جن کے غیر ادب ہونے میں کسی کو کلام نہیں۔ حیران ہونے کا عمل اگر مطالعے کی دنیا میں سب سے زیادہ کہیں موجود ہے تو وہ ادبی رسائل و جرائد ہی کی دنیا ہے۔ رسائل ہمیں مسلمات کو توڑنے کا ہنر سکھاتے ہیں اور قاعدوں سے قاعدے وضع کرنے کا علم عطا کرتے ہیں۔ مختلف اذہان کی ایک موضوع پر لکھی ہوئی تحریریں ہمیں فرسودہ نظام فکر سے آگہی بخشتی ہیں اور مختلف موضوعات پر لکھے ہوئے ایک ادیب کے مضامین ہمیں اس کے افکار کے بکھراؤ کے راز سے آشنا کرتے ہیں۔
رسائل ہمیں بولنا سیکھاتے ہیں، محفلوں میں تخصیص بخشتے ہیں اور پڑھنے کا نیا ڈھنگ عطا کرتے ہیں۔ کون سا رسالہ اچھا ہے اور کون سا خراب اس کی تمیز کیے بنا ہمیں رسائل و جرائد کے مطالعے کی عادت ڈالنی چاہیے کیوں کہ اچھے اور برے کی پہچان وقت کے ساتھ ساتھ خود ہی ہو جاتی ہے۔ تعصب سے پاک ہو کر بہت سی باتوں سے جن سے ہمیں ذاتی طور پر دلچسپی نہیں ہوتی ان کی خرابی کاا علان کیے بنارسائل کا مطالعہ کرنا چاہیے، کیوں کہ اسی سے قبولیت کا اور عدم قبولیت کی تمیز ہم میں پیدا ہوتی ہے۔ اس کی بہت سامنے کی مثال یہ ہے کہ میں جب آج کے دوسرے شمارے کا مطالعہ کررہا تھا اور اس میں موجود ایک شاعر احمد فواد کی نظموں کے اقتباس میری سمجھ میں نہیں آ رہے تھے تو مجھے ان کو خراب کہہ دینا آسان معلوم ہورہا تھا، مگر میں نے اس خیال سے قطع نظر جب مستقل طور پر ان کا جبری مطالعہ کیا تو انہیں میں سے بہت سے اقتباسات مجھے خاصے معیاری اور با معنی معلوم ہونے لگےاور میں ایک نوع کی سطحیت سے بچ گیا۔
ادب کے متن کا معاملہ اسی طرح کا ہے کہ اس پر فیصلے دینے کا رجحان بہت زیادہ پایا جاتا ہے۔ کسی بھی ایک متن پر کسی بھی نوع کا کوئی فیصلہ حرف آخر کے طور پر تسلیم کر لیا جاتا ہے اور اس کو ٹھنڈے بستے میں ڈال دیا جاتا ہے۔ لیکن رسائل کے مستقل مطالعے سے ہم میں اس بات کی تمیز پیدا ہوتی ہے کہ کسی بھی متن پر کس وقت اور کس طرح کی رائے کا اظہار کیا جائے، اس کو کس سیاق میں دیکھنا ہےیا کسی سیاق میں دیکھنا ہے بھی یا نہیں۔ کس ادبی متن سے کس طرح کا رشتہ قائم کرنا ہے اور کون سی تحریر کو بنا کسی خانے میں فٹ کیے اپنے ذہنی ارتقا کے کام میں لانا ہے۔ رسائل کا مطالعہ ایک دلچسپ عمل ہے اور اس کی ابتدا کرنے کا راستہ بھی دلچسپی کے اعمال کے ذریعے بنانا چاہیے۔ کسی کے متعلق فیصلہ کیے بنا کہیں سے کوئی بھی تحر یر پڑھنے کے انداز سے بے تکلف ہونے کی کوشش کرنا چاہیے اور مختلف نوعیتوں کے مضامین کو پڑھ کر اس سے ہم نے کیا کچھ حاصل کیا اس کو سمجھتے ہوئے اگلی تحریر کی طرف بڑھ جانا چاہیے کیوں کہ رسائل و جرائد کا مستقل مطالعہ کئی سو کتابوں کے پڑھنے سے ہزار گنا بہتر ہے۔




