فوج اور ریاست میں فرق سمجھنا ضروری ہے
یوں تو فوج کے ترجمان کا پریس کانفرنس کے ذریعے امیج بلڈنگ کا طریقہ کار بھی ایک جمہوری نظام کی بنیادی حساسیات کے خلاف ہے لیکن چونکہ یہ کام فوج کے ترجمان نے کیا ہے ، اس لئے ملک کی سپریم کورٹ بھی اس بات کا نوٹس لینے کے لئے آمادہ نہیں ہو گی کہ فوج کا ترجمان کیوں ملک بھر کے میڈیا کو بلا کر اپنے ادارے کے لئے داد و تحسین حاصل کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ اور کیا اس طرح ملک کے جمہوری آئینی انتظام کے بارے میں شبہات کو مزید تقویت نہیں ملتی۔ اور یہ کہ کیا فوج کے ترجمان کا کام بس یہ رہ گیا ہے کہ وہ شائع ہونے والی ایک بے ضرر کتاب کو بنیاد بنا کر دھمکائے ، بنیادی انسانی حقوق کی ایک تحریک کو ہمسایہ ملک کی سازش قرار دینے کی کوشش کرے ، سیاست دانوں کو دشمن کے ہاتھوں میں کھیلنے والا بتا کر انہیں مزید مشکوک بنانے کی کوشش کرے اور ہمسایہ ملک کے ساتھ امن کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے یہ اعلان کرتا رہے کہ پاک فوج کو کمزور نہ سمجھا جائے۔ ان میں سے کوئی بھی کام فوج کے ترجمان کے کرنے کا نہیں ہے لیکن بد قسمتی سے انہوں نے آج کی پریس کانفرنس میں یہ سارے کام کئے ہیں۔
پشتون تحفظ موومنٹ کا ذکر کرتے ہوئے میجر جنرل آصف غفور نے واضح کیا ہے کہ اس تحریک کوہمسایہ ملک کی ایجنسی کی حمایت حاصل ہے اور یہ لوگ فوج کے خلاف نعرے لگاتے ہیں اس لئے قبائیلی علاقوں کی امن کمیٹی نے ان کے خلاف کارروائی کی ہے۔ لیکن وہ منظور پشتین کی طرف سے لاپتہ افراد، بارود کو ذخیرہ کرنے اور چیک پوسٹیں قائم کرنے کے مطالبات کو درست مانتے ہوئے بھی انہیں پورا کرنے کے لئے کسی ٹھوس اقدام کے بارے میں بتانے سے قاصر رہے۔ فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ملک میں لاپتہ افراد کے کمیشن کے مطابق یہ تعداد 7000 سے کم ہو کر 3000 رہ گئی ہے۔ کیا اس سے یہ سمجھ لیا جائے کہ فوج یہ تسلیم کر رہی ہے کہ اس نے اب پہلے سے کم تعداد میں شہریوں کو ’ریاست سے غداری ‘ کے الزام میں ماورائے قانون اغوا کرنے کا قصد کیا ہے۔ کیا فوج کے ترجمان اس اصول کو مانتے ہیں کہ جرم کی تعداد کی بجائے اس کی نوعیت قابل اعتراض ہوتی ہے۔ جب تک اس ملک کا ایک بھی شہری کسی غیر قانونی حراست میں رکھا گیا ہے اور فوج واضح طور سے اس قسم کی کارروائیوں کو مسترد کرنے اور ان سے کنارہ کش ہونے کا اعلان نہیں کرتی، اس پر شہریوں کے خلاف جرائم میں مرتکب ہونے کا الزام عائد ہوتا رہے گا۔ ایسی صورت میں سوشل میڈیا، دشمن اورمیڈیا فوج کا دشمن نہیں کہلائے گا بلکہ اسے خود ہی اپنی غلطیوں سے سبق نہ سیکھنے کا مرتکب قرار دیا جائے گا۔
پاک فوج کے ترجمان نے میڈیا کی بات کرتے ہوئے حاضرین کو چیلنج کیا کہ کوئی بتائے کہ فوج نے ملک میں پریس کوریج کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے میڈیا مالکان سے صرف یہ کہا ہے کہ ہمیں مل کر چلنے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلہ میں جو ہوسکتا ہے وہ کیا جائے۔ میجر جنرل آصف غفور کو یہ عجیب و غریب سوال کرنے کی بجائے خود یہ جواب دینا چاہئے کہ اگر فوج کا کوئی شعبہ میڈیا سنسر شپ میں ملوث نہیں ہے تو انہیں اس حوالے سے پریشان ہونے اور صحافیوں سے استفسار کرنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی۔ کیا پریس کانفرنس رپورٹ کرنے والے صحافیوں کو ان ہتھکنڈوں کے ثبوت ساتھ لے کر آئی ایس پی آر کی پریس بریفنگ میں آنا چاہئے جن سے یہ پتہ چل سکے کہ فوج کس طرح میڈیا پر اثر انداز ہونے کی کوشش کررہی ہے۔ اس حوالے سے سوشل میڈیا پر دشمنوں کی سرگرمیوں کو ایک چارٹ کی مدد سے واضح کرتے ہوئے پاک فوج کے ترجمان نے کہا کہ ملک دشمنوں کے ٹویٹ سے زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ انہیں ’سیاسی شخصیات‘ ری ٹویٹ کرکے فوج اور ریاست کے خلاف پروپیگنڈے کا حصہ بنتی ہیں۔ یہ الزام بلا تخصیص عائد کیاگیا ہے اور ان سیاسی شخصیات میں کوئی بھی شامل ہو سکتا ہے اور سب ہی سیاست دانوں کے بارے میں لوگوں کے شبہات اور تشویش میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ آئی ایس پی آر کے سربراہ کو بتانا چاہئے کہ انتخابات کے سال میں سیاست دانوں کے بارے میں اس قسم کی افواہ سازی سے فوج کیا مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہے۔

