جمہوریت کے بارے میں دماغ کے جالے صاف کرنے کی ضرورت ہے
سیاست اور جمہوریت کے جو مباحث ٹی وی ٹاک شوز، اخباری کالموں اور مضامین میں دکھائی دیتے ہیں، ان کا اس حد تک تو زمینی حقائق سے کوئی تعلق نہیں ہو تا کہ حلقوں میں لوگ صرف انہی امید واروں کی طرف رجوع کرتے ہیں جنہوں نے ماضی میں ان کی مدد کی ہوتی ہے اور جو آئیندہ بھی ہر قیمت پر اپنے حلقے کے لوگوں کو خوش کرنے کے لئے ہر قسم کی قربانی دینے یعنی ملک کے مسلمہ طریقہ کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے حامیوں کی مقدور بھر خدمت کرنے پر تیار رہتے ہیں۔ اس حقیقت حال کو تبدیل کئے بغیر ملک میں جمہوریت کا وہ ماحول پیدا کرنا ممکن نہیں ہے جس کے تحت ایسا نظام قائم ہو سکے جہاں لیڈر کو عوامی احتساب سے گزرنے کا خوف ہو اور سیاسی پارٹیوں کو اس بات کی فکر ہو کہ اگر انہوں نے اپنے منشور کے مطابق قومی معیشت یا نظام کو درست کرنے میں کامیابی حاصل نہ کی تو وہ آئیندہ انتخاب میں لوگوں کو منہ دکھانے اور ووٹ مانگنے کے قابل نہیں ہوں گے۔ اس حد تک ملک میں جاری انتخابی نظام اور اس میں منتخب ہونے والے نمائیندے دراصل نیم جمہوری کلچر کی نمائیندگی کرتے ہیں۔ کیوں کہ وہ منتخب تو لوگوں کے ووٹوں سے ہوتے ہیں لیکن منتخب ہونے کے بعد کوئی سیاسی ایجنڈا ان کے پیش نظر نہیں ہوتا بلکہ وہ ان وعدوؤں کو پورا کرنے کے بارے میں زیادہ فکر مند ہوتے ہیں جو انہوں نے اپنے حلقے کے عوام سے کئے ہوتے ہیں۔
اسی طرح سیاسی پارٹیوں اور ان کے لیڈروں کو اس بات سے غرض نہیں ہوتی کہ وہ ا نتخاب جیت کر کیوں کر اپنے سیاسی منشور پر عمل کریں گے بلکہ یہ فکر دامن گیر ہوتی ہے کہ وہ ان الیکٹ ایبلز یا فصلی بٹیروں نما ارکان اسمبلی کو خوش رکھ سکیں جن کی بنیاد پر کوئی پارٹی اسمبلیوں میں اکثریت حاصل کرتی ہے یا سیاسی فائدے کے لئے بارگیننگ پوزیشن میں آتی ہے۔ یہ بات نوٹ کی جاسکتی ہے کہ حکومت سازی کے عمل میں چھوٹی پارٹیاں ترقیاتی فنڈز اور وزارتوں میں حصہ پر لین دین کرتی ہیں تاکہ وہ زیادہ قوت حاصل کرکے اپنے اپنے حلقہ اثر کو مطمئن کرنے کے اقدامات کرسکیں۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو جو طریقہ کار ایک امید وار اور اس کے ووٹروں کے درمیان حلقہ کی بنیاد پر اختیار کیا جاتا ہے وہی طریقہ اسمبلیوں کے منتخب ارکان اور ان کی پارٹیوں یا اقتدار کی بساط پر حصہ لینے والے دوسرے گروہوں کے ساتھ لین دین میں اختیار ہوتا ہے۔ اس سارے عمل میں اصول، قومی مسائل یا سیاسی ایجنڈا سیاسی معاہدوں کی بنیاد نہیں بنتا۔ نہ ہی میرٹ یا صلاحیت اور مساوی سلوک کا اصول کسی کے پیش نظر ہوتا ہے۔ کیوں کہ ملک میں جمہوریت کے نام پر ایک ایسا نظام مروج کرلیا گیا ہے جو صرف انفرادی یا گروہی مفادات کی بنیاد پر استوار ہے۔ اس میں اصول اور میرٹ کی گنجائش نہیں رہتی۔
جمہوری تفہیم کی اسی خرابی یا اس پر عمل کرتے ہوئے اختیار کی گئی کج روی کے سبب ہی سیاسی لیڈروں کو نعرے لگاتے ہوئے یہ بتانے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی کہ وہ اپنے وعدے پورے کرنے کے لئے وسائل کیسے فراہم کریں گے۔ ملک کو کسی ترقی یافتہ ملک کی سطح پر لانے کے لئے ٹیکس لئے اور آمدنی میں اضافہ کئے بغیر وہ معاشی اور سماجی اصلاحات کیسے متعارف کروا سکیں گے۔ کیوں کہ نعرہ لگانے والوں کو ہ وعدے پورا کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ یہ نعرے تقریروں کو خوشنما بنانے کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔ نہ کوئی ان پر یقین کرتا ہے اور نہ کوئی یہ توقع کرتا ہے کہ کوئی بھی سیاسی پارٹی جو وعدے کررہی ہے، انہیں پورا کرنے کا اہتمام بھی کیا جائے گا۔ کیوں کہ مطمح نظر جمہوریت کا نفاذ، نظام کی اصلاح اور مساوات کا حصول نہیں ہوتا بلکہ اقتدار حاصل کرنا ہوتا ہے۔ ملک کے اکثر ووٹر بھی اس صورت حال سے اپنے اپنے حلقے میں سودے بازی کرتے ہوئے سمجھوتہ کرچکے ہوتے ہیں، لہذا ان کی طرف سے بھی نہ قومی سطح پر احیا کے لئے امیدیں قائم کی جاتی ہیں اور نہ ان کے پورا ہونے پر کسی پارٹی یا لیڈر کو سزا ملنے کا امکان ہوتا ہے۔ یہ سارا نظام کسی قومی پراجیکٹ کی تکمیل کی بجائے مختلف سطح پر ذاتی مفادات کے دائروں میں گھومتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جب جمہوریت کو استعمال کرتے ہوئے مرضی ٹھونسنے کی کوشش کی جاتی ہے تو اسے مسترد کرنے والا طبقہ نہایت محدود اور بے بس دکھائی دیتا ہے۔ 2018پاکستان میں انتخابات کا سال ہے اور عوامی حکمرانی کی باتیں زبان زد عام ہیں لیکن سیاست کے پارکھ اور تجزیہ نگار یہ سنہری اصول سامنے لاتے ہیں کہ وہی سیاست دان کامیاب ہو ں گے جو ملک کے طاقتور اداروں کو قابل قبول ہوں گے۔ اسی لئے سیاسی جماعتیں اور لیڈر اپنے اپنے طور پر اسی مقصد کو حاصل کرنے کی کوشش کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ جب ووٹر سے لے کر ارکان اسمبلی، سیاسی پارٹیوں اور قومی لیڈروں کی سوچ مفادات کی لڑی کی صورت اختیار کرچکی ہو تو اس معاشرے میں جمہوریت کی بات کرنا واقعی بھینس کے آگے بین بجانے کے مترادف ہے۔

