کیا خدا موجود ہے؟
خدا ہماری عقول میں کیسے آسکتا ہے، ایک مؤحد فلسفی یعنی متکلم سے اس کے شاگرد نے کہا کہ استاد جی، یہ دعوا تو بظاہر محل۔ نظر ہے! عقل میں ہر چیز آ سکتی ہے تو خدا کیوں نہیں سما سکتا، شاگرد ہونہار تھا اس لئے استاد اسے ساحل سمندر پر لے گئے اور فرمایا کہ یہاں ریت ہٹا کر ایک گڑھا کھودو، شاگرد نے ایک بڑا سا گڑھا کھود دیا، تب استاد بولے، “اب سمندر کا سارا پانی اس گڑھے میں ڈال دو، بولا، یہ نہیں ہوسکتا سارا پانی اس گڑھے میں کیسے آ سکتا ہے؟ ، بولے تو اسی طرح محدود عقول میں لامحدود ذات۔ مطلق کیسے سما سکتی ہے۔ اور جناب امام۔ اعظم امام ابو حنیفہ رح کا عباسی خلیفہ المنصور کے دربار میں ایک ملحد فلسفی عالم سے ہونے والا مناظرہ تو بہت مشہور و معروف ہے، جس میں آپ نے اس کے ان تین سوالوں کا عقلی جواب دیا تھا جن سوالوں سے وہ بہتوں کو ذات واجب الوجود کے بارے میں شک میں ڈال چکا تھا۔ 1) خدا سے پہلے کیا تھا؟ 2) اگر کوئی خدا موجود ہے اس کی جہت کیا ہے یعنی کہ اس کا رخ کس طرف ہے؟ 3) اگر کوئی خدا ہے تو وہ اس لمحے میں کیا کررہا ہے؟ آپ نے اس کی ایسی عقلی تسلی کی اور لاجواب مشاہداتی دلائل دیے کہ وہ خجل و خوار ہوکر بھاگ گیا۔ جوابات نہیں بتاؤں گا وہ آپ خود تلاش کر کے ذرا علمی جستجو کی لذت سے آشنائی تو پیدا کریں۔
ii۔ اسی طرح ایک روایت یہ بھی ملتی ہے گو وہ ذرا سا موضوع سے ہٹ جاتی ہے مگر منطق کے دلدادوں کے لئے شاید کچھ سامان تسکین بہم پہنچا سکے کہ ایک شکی نے تین سوال بنائے اور عقلی جواب مانگا، ایک خدا ہے تو نظر کیوں نہیں آتا؟ ، دوم، اگر ہر شئے خدا کی مرضی کے تابع ہے تو ہم کس بات کا آخرت میں حساب دیں گے؟ یعنی ہم گناہ بھی تو پھر نعوذ باللہ خدا کی مرضی سے ہی کرتے ہیں، اور تیسرا یہ کہ اگر شیطان آگ کا بنا ہوا ہے تو پھر جہنم کی آگ اس پر کیسے اثر کرے گی؟ القصہ المختصر اسے کہیں تسلی بخش جواب نہ مل پایا تو کسی نے ایک مجذوب کا بتایا کہ وہاں جا، تھے جوابات مل جائیں گے، وہ وہاں پہنچا، اور مجذوب صاحب سے تینوں سوال کیے، انہوں نے غور سے یہ تینوں سوال سنے اور اطمینان سے ایک مٹی کا بھاری ڈھیلا اسے دے مارا اور اس اچانک چوٹ سے وہ درد سے کراہ اٹھا اور طیش میں آکر سیدھا قاضی کے پاس پہنچا اور مقدمہ کردیا، قاضی صاحب نےاس درویش مجذوب کو عدالت میں بلالیا اور وضاحت طلب کی، وہ بولے کہ جناب قاضی صاحب میں نے تو پتھر مار کر اس کے تینوں سوالات کے جوابات دیے ہیں، کوئی جرم تھوڑی نا کیا ہے، قاضی صاحب نے حیران ہوکردریافت کیا کہ وہ کیسے؟ وہ بولے، اس سے پوچھیں کہ جب میں نے اسے ڈھیلا مارا تو اسے کیا محسوس ہوا، شکی نے جواب دیا کہ درد ہوا اور کیا ہوتا؟ آپ نے فرمیا کہاں ہے درد دکھاؤ؟ وہ بولا، درد دکھائی تھوڑی نا دیتا ہے، محسوس ہوتا ہے، آپ نے فرمایا کہ ایسے ہی خدا دکھائی نہیں دیتا پر محسوس ہوتا ہے، پھر فرمایا، کہ جب تیرا یہ دعوی ہے کہ ہر فعل خدا کی مرضی سے ہے تو پھر تو قاضی کے پاس کیوں آیا، مرضیء رب سمجھ کر برداشت کر لیتا، اللہ پاک نے بندوں کو کچھ اختیار اپنی اجازت سے دیا ہے اور اسی کے استعمال کا حساب ہوگا۔ مزید کہا کہ ابلیس کو آگ کا بناہوا ہونے کے باوجود جہنم کی آگ اسی طرح تکلیف دے گی جیسے مٹی کا پتلا ہونے کے باوجود مٹی کے ڈھیلے کے لگنے سے درد ہوا۔ وہ شکی دنگ رہ گیا۔
iii۔ سوم۔ باب العلم حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے بھی ایک منکر و دہریے اور طبعی علوم کے ماہر ملحد فلسفی نے اسی امکان۔ وجود باری تعالی اور آخرت پر عقلی جواب کچھ یہ کہتے ہوئے مانگا تھا کہ میں دہریہ ہوں، اس لئے میری تسلی عقلی جواب سے ہوگی نقلی ( یعنی نقل شدہ علوم قرآنِ پاک اور احادیثِ مبارکہ کے علوم ) جواب سے نہیں کہ یہ قبر حشر آخرت، خدا سب گھڑی ہوئی کہانیاں ہیں، مر کر ہم بھی ختم، مٹی، اور تم خدا پرست بھی مٹی، ختم، کچھ نہیں ہے آگے، تو شیرخدا باب العلم حضرت علی کرم اللہ وجہ نےجو فرمایا تھا اس کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ“ تیرے سوال کے دو عقلی جواب ہو سکتے ہیں ایک یہ کہ تو جویہ کہتا ہے کہ خدا، حشر، آخرت، جنت دوزخ سب کہانیاں ہیں وہ درست ہے اور دوسرا جو ہم کہتے ہیں کہ یہ سب اسی طرح سے موجود ہے جیسے الہامی تعلیمات میں بتایا گیا ہے وہ درست ہے، کیا کوئی تیسری صورت بھی تیری عقل میں آتی ہے؟ ، وہ بولا نہیں! یہ دو ہی باتیں عقلی طور پر ہوسکتی ہیں یا سب نہیں ہے یا ہے۔ حضرت امیر المومنین باب العلم حضرت علی کرم اللہ وجہ نے فرمایا، تو سنو، اگر تم درست ہو تو مرنے کے بعد تم بھی ختم ہم بھی ختم، کسی کا کچھ نقصان نہ فائدہ۔ لیکن آدھا امکان تو تمھارے ”ہی“ مطابق بھی یہ ہے کہ ہم جو کہتے ہیں وہ درست ہے تو پھر اگر یہ سب ہوا تو ہم تو اس رب کریم کے فضل اور رحمت سے بچ جائیں گے اور تھمارے جیسے منکر دائمی سزاؤں میں پھنس جائیں گے۔ اتنا بڑا خطرہ مول لے سکتے ہو؟
وہ سوچتا رہا اور پھر بولا نہیں اتنا بڑا خطرہ مول نہیں لیا جاسکتا، واقعی اگر یہ سب ہوا تو میں تو مارا جاؤں گا۔ اور مسلمان ہوگیا!
آخر میں ایک سوال برائے ملحدان“ آپ کے پاس کیا ثبوت ہے کہ خدا نہیں ہے؟ “
ماخذات:
1) القرآن الکریم
2) روایات و درایات
3) THE BLIND WATCH MAKER، BY Dr۔ R Dowkinz
4) EVOLUTION:The theory in crisis، byM Deaten
5) In The bigning was Information، by john۔ w۔ gitt۔
6) رد۔ فلاسفہ، حجتہ الاسلام امام ابو حامد غزالی۔

